﻿
A. Beg
03-07-02
Urdu
(201) 1

در اصل دل کے مرض مےں مبتلا ہونے والے تھے اس دوا کی مدد سے روحانی طاقتوں نے 
بےماری کے 
جود کو دل کے مقام سے اٹھا کر دور ٹخنے مےں چھوڑ دےا آہستہ آہستہ وہاں سے بھی 
وہ دفع ہو
جاتا حاجی صاحب باقاعد گی سے مےرے پاس آتے لےکن مےں انھےں صبر کی تلقےن کرتا 
رہا وہ درد وےسے 
بھی کچھ زےادہ نہےں تھا۔ لےکن حاجی صاحب شاےد ےہ سمجھے کہ ہمارے پاس درد کی 
کوئی دوا نہےں ہے 
لہزا انھوں نے مجھے سے رابطہ ہی نہ رکھا۔

اس سلسلے مےں اےک اور اہم دوارہ گئی ہے جو دل کے ہر قسم کے عوارضات مےں 
اکے 
نہاےت مفےد ٹانک کی حےثےت رکھیت ہے، اور جسے بلا کھٹکے استعمال کےا جا سکتا ہے 
خاص
طور سے دل کے ان مرےضوں مےں جن کا دل انتہائی ضعےف ہوچکا ہو دوا کا استعمال 
مدرٹنکچر
مےں پانچ سے دس قطرے حسب ضرورت ےا اےک قطرہ صبح شام 
دوا کا نام کراٹےگس ہے۔
دل دھڑکنا : اور دل دھڑکنے کا سبب وہ تےری ےاد تھی .... اےک مثال کے ذرےعہ 
سمجھ لےجئے۔ ےہاں اےک ڈاکٹر خود مرےض تھا۔ ےہ کےس مجھے لاکھوں روپے کی 
خوشی سے زےادہ کی 
قےمت رکھتا ہے مجھے اپنی فےس سے کوئی دلچسپی نہےں ہوتی۔ مرےی خوشی کی 
انتہا اس وقت اپنے 
عروج پر ہوتی ہے کہ جہ مےں پےچےدہ کےسوں کی گتھی سلجھا لےتا ہوں اور پھر 
اپنی خوشی کے ان لمحات کو 
اپنے قائئےن کے ساتھ بانٹ لےتا ہوں۔

حکمت ےعنی دانائی، سمجھ تو خدا کی طرف سے نازل ہوتی ہے۔ اس خدانے جو 
تھوڑی سی سمجھ 
مجھے بھی دے رکھے ہے اس سے ان مسائل کا حل ڈھونڈلےتا ہوں۔ خدا کا ےہ احسان ہے 
اور اسی کی 
دےن ہے ہے۔ ہاں تو وہ ڈاکٹر نوجوان شادی شدہ سخص تھا۔ دل کے اےک مشہور اور 
ماہر ڈاکٹر کا اسسٹنٹ 
تھا۔ دل کے ڈاکٹر کا اسسٹنٹ لےکن خود دل کے مرض مےں مبتلا ہوگےا تھا۔ اسے دھڑکن 
اور گھبراہٹ
ہوتی۔ دل کے ڈاکٹر کا اسسٹنٹ لےکن خود دل کے مرض مےں مبتلا ہوگےا تھا۔ اسے سانس 
لےنے مےں 
وقت ہوتی تھی گوےا سانس کی نالی تنگ ہوگئی ہو۔ اس کو ےہ دورے اچانک ہی 
شروع ہوتے تھے۔ مگر 
ای۔سی۔جی رپورٹ نارمل تھی۔ ےہ رپوٹ کئی بارلی جا چکی تھی۔ اس کے باس کا 
خےال تھا کہ ان نے کسی 
بات کا ٹےنشن لے لےا ہے اس لئے اےسا ہوتا ہے۔ لےکن ٹےنشن کا علاج دےئے جانے کے باوجود 
بھی اسے 
آرام نہ آتا تھا۔ وہ بہت پرےشان تھا۔ اس کے والد کا انتقال ہوچکا تھا۔ اس کی شادی 
ہوئے
(202) 2

اےک عرصہ ہوگےا تھا۔ اس کے بچے بھی تھے اس لئے اور بھی زےادہ پرےشان تھا کہ اگر 
اس کو کچھ ہوگےا
تو بچوں کا کےا ہوگا؟ وہ واقعی پرےشان تھا اسی لئے اےک ہومےوپےتھ سے رجوع ہونے کے 
لئے آےا 
تھا اور نہ اکثر ڈاکٹر قوہومےوپےتھی کا مذاق اڑاتے ہےں۔

اس کی داستان دلچسپ تھی۔ اس نے بتاےا کہ کچھ دموں قبل تک وہ بالکل ٹھےک 
تھا۔ وہ اپنے 
باس کے چےمبر مےں بےٹھا ہوا تھا کہ اس کے اےک پرانے شناسا وہاں آئے وہ اس کے باس 
سے اپنا
علاج کروانے کی غرض سے وہاں آئے تھے۔ اس کو ےہاں دےکھ کر ان کو حےرت اور خوشی 
دونوں ہوئی 
سلام و دعا اور رسماََ بات چےت کے بعد وہ وہاں سے چلے گئے لےکن اس کو بےمار کر گئے۔ 
ان کے جانے 
کے بعد ہی سے اس کے دل مےں وسوسے پےدا ہونے لگے وہ سوچنے لگا کہ اب اس کے اےک 
پرانے 
واقف کاروہاں ضرور آئےں گے۔ وہ اس کے رشتہ.داروں مےں سے تھے۔ اور اےسا ہوا بھی۔ 
دوسرے 
روز وہ دوسرے صاحب بھی وہاں وارد ہوگئے۔ ان سے بھی رسماََ بات چےت ہوئی۔ لےکن 
ان کے جانے 
کے بعد ہی اس نوجاون ڈاکٹر کے دل کی ےہ حالت ہوئی۔ وہ بےمار ہوگےا۔ 
اہم بات ےہ ہے کہ ان دونوں صاحبان سے اس کی کوئی سشمنی نہےں تھی نہ ہی 
ان کی طرف سے کی 
طرح کے نقصان کا امکان ہی تھا۔ وہ لوگ اس کے پرانے شناسا و رشتہ.دار عزےزوں مےں 
سے تھے 
پھر کےا بات تھی۔ ےہی اےک معمہ تھا۔ 
اکثر مرےض اپنے دل کی بات نہےں بتاتے اس لئے معالج کو اپنی اٹکل لگانا پڑتی 
ہے۔ ہومےوپےتھی 
کا معاملہ ےہ ہے کہ جب تک تمام بتےں صاف نہ ہوجائےں تشخےص ادھوری رہتی ہے۔ 
کافی دےر تک اس سے بات چےت کرن ےکے بعد بھی جب کوئی سراغ ہاتھ نہ آےا تو 
ےہ بولا کہ جب 
ان دونوں صاحبان سے کسی طرح کی پرےشانی کا امکان نہےں تو پھر آخر کےا بات ہے کہ 
ان کے آنے سے 
کوئی پرانا زخم ہرا ہوگےا۔ ےہ سن کر وہ اےک لمحے کے لئے خاموش ہوگےا اور اےک گہری 
سانس لے کر بولا۔
آپ نے شاےد ٹھےک ہی کہا۔ اتنا کہہ کر وہ پھر خاموش ہوگےا۔

مےں اب اصل سبب جاننا چاہتا تھا۔ کچھ دےر بعد وہ بولا کےا اس کا تعلق مرےی 
موجودہ بےماری 
سے ہوستا ہے؟ اور واقعی ےہی تو وہ سبب تھا کہ جس نے اس کو بےمار کر دےا تھا۔

وہ جو صاحب بعد مےں آئے تھے ان کی بچی سے ان کا رشتہ طے ہوا تھا لےکن 
ان دنوں ےہ 
ڈاکٹر نہےں تھے۔ ان کے والد کے انتقال سے وہ صاحب ےہ سمجھے کہ لڑکا ےتےم ہوگےا اس 
لئے ان 
(203) 3

کی سچی کا مستقبل خطرے مےں پڑسکتا ہے۔ لہذا انھوں نے رشتہ توکی سچی کا مستقبل خطرے مےں پڑسکتا ہے۔ لہذا انھوں نے رشتہ توڑدےا۔ اور ےہ 
نوجوان ڈاکٹر من 
ہی من مےں ان کی بچی کو پسدن کرتا تھا۔ اس کا دل ٹوٹ گےا اور اتنے سالوں بعد 
جب ان عزےزوں کا سامنا
ہوا تو پرانا زخم ہرہوگےا۔

اگنےشےا طاقت اےک ہزار کی اےک خوراک نے اس نوجوان ڈاکٹڑ کو شفاےاب کر دےا۔
(204) 4

6دل کا درد

بعض اوقات ےہ مرض جان لےوا ثابت ہوتا ہے کےونکہ کمزور اعصاب والے اشخاص اس 
کا اےک جھٹکا تک برداشت نہےں کر پاتے۔ اور اگر ےہ درد زےادہ دےر تک قائم رہا تو دل 
مےں چھالہ پڑ 
جاتا ہے۔ اکثر اموات اسی وجہ سے ہوتی ہےں۔ جب چھالر پڑنے کا خطرہ لاحق ہوےا 
پڑچکا ہو۔
تو اس کو ہارٹ اٹےک کہتے ہےں۔ لےکن اگر تھوڑی دےر کے لئے درد کی لہر اٹھ کر غائب 
ہوجاتی ہو
تو اےجنائنا کہتے ہےں۔ 
ےہ مرض بہ نسبت عورتوں کے ماروں کو زےادہ ہوتا ہر اور عموماََ جالےس، 
پےنتالےس برس کی عمر
کے بعد ہوا کرتا ہے۔ بالعموم نقرسی مزاج کے اشخاص اس مرض مےں زےادہ مبتلا ہوا کرتے 
ہےں۔ عام 
وجوہات زےابطےس، ہائی بلڈ پرےشر، بہت زےادہ ورزش، گرم سرد ہوجانا، رنج و غم، 
شراب نوشی 
پےٹ مےں گےس، قبض اور بدہضمی کے علاوہ بعض امراض قلب وغےرہ ہےں۔

ےہ درد اےک دم شروع ہوتا ہے اور سےنہ کے کسی حصہ تک ےا گردن کے نچلے حصے، 
کندھے 
اور بائےں بازوتک اس کی لہرےں اٹھی ہےں۔ درد اتنا شدےد ہوتا ہے کہ بعض اوقات 
مرےض کا 
بے.ہوش تک ہوجاتا ہے ےا اس کا پاخناہ پےشاب خطا ہوجاتا ہے۔ درد کی شدت سے مرےض 
کا 
رنگ زرد پڑجاتا ہے۔ اور پسےنہ سے اس کا جسم تربتر ہوجاتا ہے۔ اکثر اس کا دورہ چند 
منٹوں تک 
رہتا ہے لےکن اگر اس سے زےادہ قائم رہے تو دل مےں چھالے پڑنے کا امکان رہتا ہے۔ 
اےسی 
صورت مےں رمےض کو انٹےنےو مےں داخل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ےعنی اس کی ہر لمحے 
تمےاداری لےکن 
اس کے باوجود اموات واقع ہوجاتی ہےں۔ مرض کے نہاےت شدےد حملوں مےں اصےل 
نائےٹراےٹ
نامی دوا کا استعمال ہوتا ہے۔ ےہ دوا عموماََ سنگھائی جاتی ہے۔

آج سے دو سو سال پہلے جب ڈاکٹر ہانی.من نے قلےل ترےن دوا ےعنی کم.سے.کم 
خوراک 
کا نظرےہ پےش کےا تھا تب ان کے ہمعصروں نے ان کا مذاق اڑاےا تھا۔ لےکن ان کے انتقال 
کے 
کچھ عرصہ بعد ہی ےہ بات ثابت ہوگئی اور اےمل فائٹراےٹ اس کی اےک مثال ہے۔ اج 
بھی اس 
(205) 5

دوا کا استعمال اےلوپےتھک طرےقہ علاج مےں رائج ہے ےہ کےپسول کی شکل مےں ملتی ہے 
اور اس
کےپسول کو رومال مےں توڑ کر سنگھاتے ہےں۔ ہومےوپےتھی مےں ےہ مدرٹنکچر کی شکل 
مےں استعمال ہوتی 
ہے اس کے تےں چار قطرے رومال پرڈال کر سنگھاتے ہےں ےہ دوا بہت جلد آرام لاتی ہے۔

اےمل نائےٹرےٹ کے علاوہ دےگر کئی ادوےات ہےں جو اپنی علامتوں کے اعتبارسے 
استعمال کرائی 
جاسکتی ہےں اور دل کے مرےض ان سے فائدہ اٹھاسکتے ہےں۔ مثلاََ موت کا خوف اور شدےد 
بے.چےنی
ہوا اور گھبراہٹ بہت زےادہ ہو۔ درد عموماََ ٹھنڈا کی وجہ سے شروع ہوا ہو مرےض 
سردی محسوس کرتا ہو۔
درد کی لہرےں جسم مےں دوڑجاتی ہوں اور جھنجھناہٹ محسوس ہوتی تو اےسے وقت 
اےکونائےٹ
کا استعمال کےا جائے اےکنوائےٹ کی خاص.الخاص علامت
موت کا خوف اور شدےد بے.چےنی دھےان مےں رکھےں۔ خوراک ہر دس ےا پندرہ منٹ کے 
وقفے سے 
30 قوت مےں۔ دور چار خوراکوں مےں فائدہ ہوجائے گا۔

دوروں کے مےعاد کو کم کرنے کے لئے مےگنےشےا فاس چھ اےکس کا استعمال کےا جاتا 
ہے۔ اگر 
نقاہت کی وجہ سے رمےض بے.ہوش کی طرف مائل ہو تو کالی.فاس کے ساتھ باری باری 
دےں۔
مےگفاس (مےگنےشےا فاس) اور کای فاس دونوں چھ اےکس طاقت مےں استعمال کرےں۔

مےگ فاس کی خاص علامت ےہ ہے کہ چھاتی سکڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے، اور 
درد دل
تشنجی دوروں کی شکل مےں تمام اطراف مےں جاتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اس دوا کو 
گرم پانی کے ساتھ
استعمال کرےں آٹھ دس گولےاں تھوڑے سے گرم پانی مےں ملادےں پھر ہر دس پانچ 
منٹ کے وقفہ 
سے مرےژ کو اےک اےک چمچہ دےں۔

اگر دورے کے دوران اےسا محسوس ہوتا ہو کہ وئی فولادی ہاتھ دل کو جکڑے 
ہوئے ہے 
کبھی کسی وقت دےا دےتا ہے اور کسی وقت چھوڑ دےتا ہے۔ سےنہ کسا ہوا محسوس ہوتا 
ہے۔
اور سانس تکلےف سے آتی ہے تو دوا ہوگی کےکٹس۔

کےکٹس کی خاص علامات دل کو جےسے کوئی بھےنچ رہا ہو اور بائےں جانب لےٹنے 
سے تکلےف 
زےادہ۔ خوراک 6 ےا 30 طاقتوں مےں۔ ہر پندرہ منٹ ےا آدھے گھنٹے سے دےں۔ آرام ملنے 
کی 
صورت مےں دوا کا وقفہ بڑھادےں۔ اگر آدھی رات کے بعد دل کا درد شورع ہوا اور سخت 
بےچےنی 
اور گھبراہٹ ہورہی ہو تو دوا ہوگی۔ آرسنک طاقت 30 مےں۔
(206) 6
اگر دل کے درد کے ساتھ تمام جسم دھڑکتا ہوا محسوس ہوتا ہو تو گلونائن سے 
فائدہ 
ہوگا ےہ دوا بھی اس مرض مےں آزمودہ ہے۔ گلونائن کی خاص.الخاص علامات اچھی 
طرح 
ذہن نشےں کرلےں وہ ےہ کہ جسم کے ہر حصے پر رگےں دھڑکتی ہوئی محسوس ہوں۔ 
طاقت 30 قوت
عموماََ اےک ہی خوراک کافی ہے۔

دےگر ادوےات مےں اسپائی جےلےا، سمی سی فےوگا، کالمےا اور نکس.وامےکا وغےرہ 
خاص ہےں۔
ان کی تشخےص اس طرح کرسکتے ہےں ہ سپائی جےلےاں کے کےس مےں دل کی شدےد 
دھڑکن ہوتیہے 
اور ےہ دھڑکن کپڑوں سے باقاعدہ نظر آتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ آواز بھی سنائی دےتی 
ہے۔
ذرا سی حرکت سے تکلےف بڑھتی ہے۔ خاص.الخاص علامت مرےض صرف دائےں جانب
اور سر کو اونچا کر کے لےت سکتا ہے۔ خوراک 30 طاقت مےں۔

اگر رحم کی خرابےوں کی وجہ سے دوہ پڑتا ہو ےا جب عورت مےں بائی کے دوروں 
کی 
علامات پائی جائےں، اور شدےد سر درد جےسے کہ سرکی چوتی اڑجائے گی۔ اےسی 
صورت مےں 
سمی سی فےوگا اہم دوا ہے۔

اگر جوڑوں کے درد کے دب جانے کی وجہ سے دل کا درد شروع ہوا ہو تو کالمےا 
ذہن مےں 
رکھےں۔ کالمےا کی خاص علامات، باےاں بازو سن۔ جبکہ تمباکو نوشی کے بد اثرات کی 
وجہ سے درد ہوتا ہو
تو نکس.وامےکا سے فائدہ ہوگا۔ ان دواوں کی خوراک بھی 30 طاقت۔ حسب ضرورت اس 
کے علاوہ لکےےس بھی اےک خاص داو ہے۔ اس دوا کی خاص علامات ےہ ہے کہ نےند مےں 
تکلےف بڑھتی ہے اور سےن ےپر کپڑے کا بوجھ بھی ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ خوراک 
طاقت 3۔ ےا 200 مےں صرف اےک خوراک۔

دل کے پرانے مرےصوں مےں اگر بائےں طرف سےنے مےں اچانک اور غصبناک درد شروع 
ہوا ہو ارو ےہ درد بائےں بازور تک پھےلتا ہوا محسوس ہوتا ہو۔ مرےض زندگٔ سے 
ماےوس ہو 
تو دوا ہے کراٹےگس۔ خوراک مدر ٹنکچر مےں 5 سے 10 قطرے۔ ہر دس پندرہ منٹ
کے وقفے سے۔ بعد ازاں بطور دل کے ٹانک کے طور پر صبح و شام استعمال کرےں۔
لےکٹڑ و ڈےکٹس اور آکزےلےک اےسڈ بھی ( اےنجائےنا) کل کا درد کے لئے مفےد ہےں
لےکٹےردڈےکس مےں درد بائےں بازو کی طرف کھنچتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
(207) 7

جبکہ آکرزےلےک اےسڈ مےں سےنے کے بےچوں بےچ دوسری خاص بات ےہ کہ اکزےلک اےسڈ 
کی 
تکالےف اس وقت زےادہ محسوس ہوتی ہےں کہ جب مرےض کو اس کے مرض کا علم ہوگےا 
ہو۔

اس طرح کئی دوائےں ہےں۔ ہر دوا اپنی خاص علامات کے مطابق ہی اثر دکھاتی 
ہے۔ اگر 
آپ کی تشخےص صحےح ہے تو فائدہ ےقےنی ہوگا۔

اےلوپےھتی مےں اسطرح کے مرےضوں کو آپرےشن کا مشورہ دےا جات اہے اور ےہ آج 
کے دور کی سب 
سے مقبول سر جری ہے اس اپرےشن کو کورنری بائی پاس کہت ےہےں۔ بےس برس پہلے 
جاب ےہ آپرےشن 
شروع ہوا تو پہلے پانچ سالوں مےں ہر طرف سے بڑے شدومد سے اسے قبول کےا گےا اور اب 
ہزارہا افراد اس کے لئے قطار باندھے کھڑے رہتے ہےں۔ ان مےں اکثر تو شک و شبہات 
مےں 
مبتلا رہتے ہےں۔ حالانکہ اب ےہ بات اپنے پاےہ ثبتو کو پہنچ چکی ہے کہ آپرےشن اےسا 
کوئی کام 
نہےں کرتا جےسا کہ ڈاکٹروں کی خواہش ہے۔ آج بھی دل کی بےمارےوں سے مرنے.والوں 
کی تعداد 
سب سے زےادہ ان ہی ممالک مےں ہے کہ جہاں ےہ سرجری زےادہ مقبول ہے۔

اس آپرےشن سے کسی اےک نالی کو کھول دےنا ےہ مطلب نہےں ہوجاتا کہ اپ نے اس 
مرض 
سے نجات حاصل کرلی۔ ےہ تو ہر سمجھ.دار آدمی جان سکتا ہے کہ دو تےن انچ چربی 
والی رکی ہوئی 
نالی کو بدل دےنے سے کےا فائدہ ہوسکتا ہے۔ جب کہ 99 فےصد نالےاں سب ہی چربی سے 
رکی 
ہوئی ہوں۔ مطلب ےہ کہ بتدےل شدہ نالےوں مےں بھی چربی جم جاتی ہے۔ اور مرےض 
بالآخر اسی 
بےماری سے مرتا ہے۔ اگرچہ بعض مرےضوں مےں دل کے درد سے نجات حاصل ہوجاتی ہے 
مگر
اس کی وجہ ےہ بھی تو ہوسکتی ہے کہ اپرےشن کے عمل سے محسوس کرنے والی نسوں 
کی کاٹ 
چھانٹ ہوجاتی ہے اس وجہ سے مرےض کو درد نہےں ہوتا۔

در اصل ہوتا ہے کہ کہ اس طرح کے آپرےشن کی لمبی چوڑی فےس ادا کرنے کے بعد 
مرےض 
پابندےوں مےں رہنے کی عادت ڈال لےتے ہےں۔ ازحد زےادہ پرہےز اور پابندےاں۔

ےہ وہ اہم وجواہات ہےں کہ پھر مرےض دوبارہ بےمار نہےں پڑتا۔ اس مےں اس 
آپرےشن کو 
کوئی دخل نہےں۔
(208) 8

6بچے کا نےند مےں چونکتا ےا پےشاب کردےنا

مالےگاوں کے کے اےک صاحب کا ےہ سوال تھا کہ ان کی دوسالہ بچی کو نےند مےں 
چونکنے کی عادت
ہے، انھوں نے پوچھا تھا کہ اےسا کےوں ہوتا ہے۔ اور اس کا حل کےا ہے مالےگاوں ہی کے 
اےک اور 
صاحب کا مسئلہ تھا کہ ان کی بچی جس کی عمردس بر کی ہے وہ اکثر بستر پرپےشاب 
کردےتی ہے۔
اور اسے پتہ بھی نہےں چلتا اور صبح وہ شرمندہ ہوجاتی ہے۔

دونوں صاحبان کے ےہ سوالات اردو ٹائمز کے حوالے سے کئے گئے ارو ان کو جو جوابات 
دئےے گئے انھےں مزےد اضافے کے ساتھ ےہاں درج کر رہاہوں کےونکہ اکثر بےشتر لوگوں کے 
لئے بھی 
ےہی مسائل ہےں۔

جہاں تک بچے کے نےند مےں چونکنے کا تعلق ہے تو اس کی وجہ وہ خوف ہے جو آپ 
بچوں کے 
ذہن مےں داخل کرتے رہتے ہےں۔ مثلاََ انھےں شرارت سے باز رکھنے کے لئے ےا روتے ہوئے 
بچے 
کو چپ کرانے کے لئے مائےں اور دادی مائےں اکثر کہا کاتی ہےں کہ بلی آئی شےر آےا۔ ےا 
بڑے بالوں والا 
رےچھ آکر پکڑلے جائے گا۔ اس کے علاوہ دوسرے اسباب بھی ہےں۔ جےسے چھوٹے بچے کے 
سامنے بڑے بچے کی پٹائی کی جائے ےا انھےں ڈراےا دھمکاےا جائے۔ معصوم بچوں کا ننھا 
سا ذہن 
ان تمام باتوں کا اثر قبول کرتا ہے۔ اور ےہ خوف ان کے لاشعور مےں پشےدہ رہتا ہے۔ 
جس کی وجہ 
سے وہ نےند مےں سوتے سوتے چونک کر اٹھتے ہےں اور لاشعوری طور پر ہر اس شے سے 
ڈرنے 
لگتے ہےں۔ مثلاََ، اندھےرا، بھوت پرےت، اجنبی لوگوں سے، اور کےڑے مکوڑوں سے۔ اس 
قسم کے تمام خوفوں کی روک تھام کے لئے اکثر ڈاکٹر نےدن و سکون اور دواوں کا استعمال 
کرواتے
ہےں جو کہ صحےح نہےں ہے۔ اس قسم کے مرےصوں کے لئے نفسےات مندرجہ ذےل اصول 
پےش کرتی 
ہے۔ مثلاََ بچوں کو کبھی ڈرا دھمکا کر پڑھانے کی ےا وئی بات سکھانے کی کوشش نہ 
کےجئے بچہ 
سچ اور چھوٹ اور غلط اور صحےہ مےں تمےز نہےں کرپاتا۔ اس سے محبت اور خلوص سے 
پےش آئے 
اس کی غلطےوں پر اسے سزا نہ دےجئے بلکہ بڑے پےار سے سمجھائےے۔ بچے کے سامنے کسی 
خوف کا 
(209) 9

مظاہرہ نہ کےجئے۔ کسی دوسرے سے ابھی اپنے خدشات کا ذکر نہ کےجئے بچہ بظاہر نہ 
دےکھنے اور نہ 
سننے کے باوجود آپ کی اےک اےک بات کو دےکھتا اور سنتا رہتا ہے۔ گھر کا ماحول 
خوشگوار رکھئےے
لڑائی جھگڑوں سے پاک و صاف۔ نفرت اور تشدد سے خالی بے ضرر چےزوں سے آپ خود 
بھی نہ 
ڈرےے۔ بےلوں، کتوں سے ڈرنا ےکا اس طرح اندھےرے سے بھی نہ ڈرےئے۔

اگر بچہ خواہ.مخواہ کسی چےز سے ڈرتا ہے تو اسے اس بات کا موقع دجئے کہ وہ 
اس چےز کے 
بے.ضرر ہونے کا ےقےن کرلے۔ اگر بچہ اندھےرے سے ڈرتا ہے اور آپ سے چمٹ کر سونا چاہتا 
ہے 
تو کمرے مےں اندھےرا نہ کےجئے۔ روشنی رہنے دےجئے اور اسے ےقےن دلائےے کہ آپ اس 
کی حفاظت کے
لئے موجود ہےں۔ جب بچہ کچھ بڑا ہوجائے تو آپ اسے اندھےرے کی ضرورت اور اہمےت 
سمجھائےے
ےہاں مےں اےسے بچے کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔ جو سوتے سوتے چےخ پڑتا تھا۔ کےونکہ وہ 
خواہب مےں 
اےک بڑے چےتے کو اپنی طرف بڑھتے ہوئے دےکھا کرتا تھا۔ ماں باپ نے پرےشان ہو کر اسے 
اےک 
معالج سے رجوع کےا۔ ڈاکٹرنے اسے گود مےں لے کر اس خےالی چےتے کی کہانی سنائی جو 
ہر روز خےال ہی خےال 
مےں اس کی طرف آتا تھا اس نے بچہ کو بتاےا کہ جو چےتا آتا ہے وہ تو پالتوں چےتا ہے 
اس کا دوست ہے 
اور اب کی بار جب وہ آئے تو اسے چےتے کو اےسے ہی چمکارنا چاہےے جےسے کتے کو 
چمکارتے ہےں
اس تات جب بچہ سونے کے لئے لےٹا تو والدےن کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر بھی وہےں موجود 
رہا۔ جب 
نےند گہری ہوئی تو انہوں نے بچے مےں خوف کی کےفےت دےکھی لےکن اےک لمحہ مےں 
ہی ےہ کےفےت بدلنے 
لگی اور کا ہاتھ تکےہ کو تھپتھپانے لگا۔ اس کے فوراََ بعد بچے کے ہونٹ ہلے اس نے کہا۔ 
تم آگئے
مےرے دوست۔ اور اس کے بعد اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھےل گئی پھر وہ گہری نےدن 
سوگےا۔

اےسے بچے جو بستر مےں پےشاب کر دےتے ہےں لےکن انھےں اس کا احساس نہےں 
ہوتا اور وہ اےسی 
حالت مےں بھی سوئے رہت ےہےں تو ان بچوں کی دوا ہے کرےا زوٹ۔ اسے دو سو قتو 
مےں اور بےس 
نمبر گولےوں مےں دےجئے۔ اور چار سے چھ گولےوں کی اےک خوراک صبح و شام اس 
طرح دوچار روزتک 
ہی دوا دےجئے۔ اور اس دوا کے بعد دوا بند کردےجئے۔ انشائ.اللاّ بالکل آرام 
ہوجائے گا۔

اس سلسلے کی دےگر دوائےں اپنی اپنی علامات کے اعتبار سے چنی جا سکتی ہےں 
مثلاََ اگر بچہ
(210) 10

بے.خَوابی مےں نےند کی پہلے حصہ مےں پےشاب کر دےتا ہے ےا سوتے سوتے کھانسی آنے پر 
ےا چھےکنکے پر ےا 
زور سے ناک چھنکنے پر، ےا زور سے ہنسی آنے پر اس کا پےشاب خطا ہوجاتا ہو تو ان 
جملہ صورتوں مےں 
کاسٹےکم مفےد و کار آمد دوا ہے اسے تےس قوت مےں استعمال کراےا جائے۔ اور کل دو 
خوراک 
اس سے زےادہ نہےں۔ پھر اس کے بعد حسب ضرورت۔

اگر بچہ سونے کے فوراََ بعد دو گھنٹے کے اندر اندر پےشاب کر دےتا ہو تو سےپےا دوا 
ہوگی 
سےپےا کی مرےضہ عموماََ دبلی پتلی اور لاغر قسم کی بچےاں ہوتی ہےں۔ 
اس سلسلے کی اےک اور اہم دوا نبزوئےک اےسےڈ ہے لےکن اس کی تمما علامات صرف 
اےک علامات کی 
محتاج ہےں وہ علامات ہے پےشاب کی سدےد و تےز بو اور ےہ بو اس قدر تےز ہوتی ہے 
کہ تمام کمرے 
کو پےشابی بوسے بھردےتی ہے۔ بچہ کیئ کئی بار پےشاب کر دےتا ہے اور چادر اس قدر 
خراب ہوجاتی ہے 
کہ پھر صاف نہےں ہوتی۔

بغےر کسی سبب کے محض عادت کی بنائ پر اگر پےشاب کر دےتا ہے تو دوا ہے 
اےکےوسٹےم

پےشاب کی تکالےف : پےشاب کی دےگر تکالےف مےں پےشاب کا جل کر آن ےا رک جانا۔ 
علاوہ 
ازےں عورتوں مےں وضع حمل کے بعد نےز نوزئےدہ بچے کا پےشاب بند ہوجانا۔ پھتری کی 
وجہ سے پےشاب 
ہند ہوجاتا ےا رک رک کر آتا۔ اس کے علاوہ پےشاب مےں خرن آنا۔ جس کی وجہ 
عموماََ پتھری ہوتی ہے 
ار مثانہ کی کمزوری سے پےشاب کا قطرہ قطرہ گرتے رہنا ےہ وہ باتےں ہےں کہ جو روز 
مرہ کے عوارض مےں 
شامل ہےں۔ پہلے اےڈےشن مےں ان کا تذکرہ رہ گےا تھا۔ کچھ قائےن نے امراض کی طرف 
بھی توجہ دلائی 
اس لئے مختصراََ ان کا بےان ضروری سمجھتا ہوں۔

ان مےں سے اکثر کے اسباب کوئی کہنہ مرض بھی ہوسکتا ہے۔ اس لئے ان کا تذکرہ 
مےں نے جان 
بوجھ کر نہےں کےا تھا لہذا ےہ بات دھےان مےں رکھےں کہ اگر فاقہ نہ ہوا تو اپنے معالج 
سے مشورہ 
بھی کر لےں اور پھر اس کی نگرانی مےں ان دواوں کی روشنی مےں علاج کرائےں۔

ےہاں مےں روزہ مرہ کی استعمال ہونے والی ادوےہ کا ذرک کروں گا۔ مثلاََ اگر 
نوزائےدہ بچے 
کا پےشاب بن ہوگےا ہے تو فوراََ اےکونائےٹ طاقت تےس کی ےک ےا دو خوراکےں کافی ہوں 
گی۔ اور 
خدانے چاہا تو آپ دےکھں گے کہ آپ بہت بری پرےشانی سے بچ گئے ہےں۔
(211) 11

اگر اےکونائےٹ سے پےشاب نہ کھلے تو اےپس دےں۔ اےپس مےلی فےکا پورا نام ہے۔ 
عورتوں مےں 
واضع حمل کے بعد اگر پےشاب رک گےا ہے تو کاسٹےکم دےں۔ طاقت 30 ےا دو سو مےں 
اےک دو خوارکےں 
دےں۔ اور اگر پےشآب رکنے کی وجہ باوگوکہ ہے تو اگنےشےا کے بارے مےں سوچےں۔

اگر مثانہ کے فالج کی وجہ سے پےشاب نہےں آرہا ہے تو اوپےم سود مند ہوگی۔ 
اوپےم کی خاص 
علامت ےہ ہے کہ مرےض کا مثانہ پےشاب سے بھر کر پھولا ہوا ہوت اہے لےکن اسے اس بات
احساس ہی نہں ہوتا اور نہ ہپ پےشاب کی حاجت ہی ہوتی ہے۔ زےادہ جسمانی محنت 
ےا چوت کے
سے پےشاب کا بند ہونا واقع ہوا ہے تو آرنےکا مفےد رہے گی۔ اور اگر ڈرےاخوف کی وجہ 
سے 
ہے تب اےکونائےٹ۔

تےز بخار کی وجہ سے اگر پےشاب رک گےا ہے تو فےرم فاس، طاقت 30 ےا چھ 
اےکس مےں 
اگر موسم باراں مےں بھےگنے کی وجہ پےشاب رک گےا ہے تو ڈلکا مارا اور اگر سردی 
لگنے کی وجہ سے 
تو ڈرکا مارا ےا اکےونائےٹ۔

پےشاب کا جل کو آفا : اگر بوجہ انفےکشن پےشاب گرم اور جلتا ہوا نکلے، بمشکل 
قطرہ قطرہ 
اور مرےض کی حاجت ختم ہونے ہی مےں نہ آتی ہو۔ مرےض درد اور جلن کی شدت 
ناجانا چا پھرتا ہو۔
اکثر ےہ حالت سوزاک مےں ہوتی ہے تب دوا ہے کےنھترس طاقت 30 مےں چند خوارکےں 
کافی ہےں۔

دوسری دوا مرک کور مےں بھی اسی طرح کی سوزش اور شڈےد جلن اور ختم نہ 
ہونے والی پےشاب 
کی حاجت پائی جاتی ہے، لےکن مرک کور مےں ساتھ ہی ساتھ پاخانے کی حاجت اور 
مقعد مےں جلن 
بھی رہتی ہے۔ 
اگر از حد شراب نوشی کی وجہ سے پےشاب مےں جلن واقع ہوئی ہے ےا اےلوپےتھک 
دواوں 
کے ری.اےکشن سے اےسا ہوا ہے تب نکس.وامےکا کے بارےمےں سوچےں، نکس.وامےکا مےں بھی 
پاخانے 
کی بار بار اور ناکما حاجت بھی ساتھ مےں ہوتی ہے اور مرےض چڑ چڑا اور بد دماغ 
ہوجاتا ہے 
چھوٹے بچوں مےں پےشاب مےں جلن اور بار بار حاجت کے لئے نےٹرم مےور ےاد 
رکھےں اور 
پےشاب کرنے سے قبل اور دوران چےختا ہے کےونکہ اس کی وجہ اکثر پےشاب مےں پتھری 
ےا رےت
ہوتی ہے۔ پتھری ورےگ کی شکاےات کے لئے بربےرس و لگےرس بھی اےک اہم دوا ہے۔
(212) 12

اس کی علامتوں مےں خاص بات ےہ ہے کہ پےشاب کرتے وقت کمر مےں درد ہوتا ہے اور 
مےں سرخ ذرّات آتے ہےں، نےز خلش بھی ہوتی ہے۔ 
پےشاب مےں سرخ ذرّات لائکوپوڈےم مےں بھی ہےں۔ بچہ پےشاب کرتے وقت درد 
کی 
وجہ سے بہت چلاتا ہے اور کافی مقدار مےں رےت خارج کرتا ہے اور پےشاب دن کی نسبت 
رات کو زےادہ آتا ہے۔

اس کے علاوہ اور بھی کئی دوائےں ہےں لےکن جےسا کہ مےں بتا چکا ہوں کہ 
عموماََ اس کے اسباب 
گہرے ہوتے ہےں۔ لہذا بہتر ےہی ہے کہ کسی اچھے معالج کی نگرانی مےں مکمل علاج 
کرواےا جائے 
تاکہ پتھر بنانے کی فےکٹری بند ہوجائے۔

اگر مرےض آپرےشن کرواکے پتھر نکلواتا ہے۔ تب بھی اس کو ہومےوپےتھک علاج 
کروان چاہےے
تاکہ پتھری دو بارہ نہ بنئے پائے۔

پےشآب مےں خون آن۔ اکثر پتھری ےا انفکےشن اس وجہ ہوتے ہےں۔ اگر پےشاب 
کا 
رنگ خون کی وجہ سے سےاہی مائل مانند دھوئےں کے ہوگےا ہے۔ نےز چلنے مےں اےک 
گردے مےں 
درد ہوتا ہو اور مرےض گردے کی جگہ پر ہات رکھ کر چلتا ہوا اور جس سے اس کو 
آرام ملتا ہو تو 
دوا ہوگی ٹےری بن تھےنا۔ طاقت 30 مےں چند خوراکےں کافی ہےں۔ گردے کی سوزش 
کو بھی 
آرام مل جائے گا اور پتھری ہوئی تو اس کو بھی نکال دےگی۔

اگر پےشاب مےں خون کی آمےزش کسی چوٹ کی وجہ سے واقع ہوئی ہے۔ تب 
آرنےکا دوا 
ہے۔ اگر بوڑھوں کو ےہ تکلےف ہے بالخصوص مردوں کو تو چما فےلا اور ڈبی ٹےلس اور 
سےبل
سےراہم ہےں کم قوت مےں استعمال کی جائےں۔ بالخصوص اس کا سبب بنائے کے غدود کی 
سوجن 
ہوتی ہے۔ سےبل سےر اس مےں بڑی مفےد ثابت ہوتی ہے۔

اور اگر پےشاب مےں خون کی آمےزش گردوں مےں انفےکشن کی وجہ سے ہوئی ہے 
تب سائی 
ڈےگرمدرٹنکچر مےں استعمال کرانے سے فائدہ ہوگا۔
(213) 13

6نکسےر پھوٹان اور ہائی بلڈپرےشر

بچوں مےں اکثر نکسےر پھوٹنے کے واقعات ہوتے ہےں۔ بعض اوقات کھلےتے ہوئے ناک 
مےں معمولی چوٹ سے اےسا ہوجاتا ہے۔ موسم گرما مےں زےادہ دےر تک دھوپ مےں 
پھرنے سے
اکثر نکسےر پھوٹ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بھاگتے ہوئے ےا شدےد ورزش کے دوران بھی ےہ 
واقعات ہوتے ہےں۔ بعض اوقات چھےنکنے ےا کھانسنے سے ےا کسی دوسرے مرض کے دوران 
ےا 
اس کی خاتمے پر ےہ واقع ہوسکتی ہے۔ علامتوں کے اعتبار سے دواوں کا انتخاب اس طرح 
کےا جاسکتا ہے۔ مثلاََ 
اگر ناک چھنکنے سے نکسےر پھوٹے تو کاربوےج 
لےکن اگر کھانسنے سے اےسا ہو تو آرنےکا
ناک ےا سر پر چوٹ آنے کی وجہ سے ہو تب بھی آرنےکا 
جب خون بکثرت اور زےادہ مقدار مےں خارج ہوتا رہتا ہو تو فاسورس 
اگر بواسےر کے دب جان ےکی وجہ سے نکسےر واقع ہوئی ہو تو نکس.وامےکا دےں
حےض کے بند ہوجانے کی وجہ سے ہو تو برائےونا
بخار کے دوران آرنےکا، ہےماملس ےا ملی فولےم 
جب سر مےں اجتماع خون ہو، سردرد اور چہرہے سرخ ہوتو بےلاڈونا 
نکسےر پھوٹنے کے بعد سر درد کو آرام ہوجاتا ہو تو مےلی لوٹش 
خون کا رنگ سےاہ اور دھاگے کی طرح لٹکے تو کروکس

خود کا رنگ سرخ اور چمکدار ہو تو اےکونائےٹ لےکن اگر سےاہ ہو تو ہمےامےلس
اگر علامتےں، صاف نہ ہوں تو بطور مجرب ملی فولےم کا استعمال کرےں۔ اسے مدرٹنکچر 
مےں 
لےں چار، پانچ قطرے پاو کپ پانی مےں ملا دےں۔ اور ہرپندرہ منٹ سے اےک گھونٹ دےں 
نکسےر کے حملے کے بعد اگر مرےض مستقل طور پر نکسےر کا مرےش ہو تو صبح شام فےرم 
فاس 
دےں خوارک چھ اےکس مےں۔ اشوتھا ےعنی پےپل کے پتےوں کا عرق نکسےر فوراََ روک 
دےتا ہے
(214) 14

اگر زےادہ نکسےر آن سے کمزوری آئی ہو تو چانا دےں۔ خوراک تےس طاقت مےں 
صبح شام اےک ہفتہ تک۔
وقتی طور پر نکسےر بند کرن ےکے لئے کچھ دےگر تدابےر بھی اپنائی جائےں۔ مثلاََ 
کچھ دےر کے لئے 
دونوں ہاتھ سر سے بلند کرائےں۔ سر پر برف رکھےں ےا رےڑھ کی ہڈی پر ٹھنڈا پانی 
گرائےں اگر 
اس طرح بند نہ ہو تو تھوری دےر تک دنونوں نتھنوں کو ہات سے بند کر کے رکھےں 
اور منھہ سے 
سانس لےنے کے لئے کہےں۔ اگر اس طرح بھی خون کا اخراج بند نہ ہو تو پلگ کرنا لازمی 
ہے
اس کے لئے کسی ڈاکٹر سے رابطہ قائم کرےں ےا اسپتال لے جائےں۔

6	ہائی بلڈ پرےشڑ

اکثر اوقات اچانک نکسےر پھوٹنے کی وجہ ہائی بلڈپرےشر ہوسکتا ہے۔ بظاہر ہائی 
بلڈ پرےشر
کوئی بےماری نہےں ہے۔ البتہ ےہ اےک علامت ہے لہذا اس کا علاج ماہر معالج کی نگرانی 
مےں 
کےا جانا چاہےے۔ اکثر لوگوں نے ےہ سوال کےا کہ کےا ہومےوپےتھی مےں ہایئ بلڈ پرےشر کا 
علاج ہے۔

بلڈ پرےشڑ خون کی نالےوں پر پڑنےوالا دباو ہوتا ہے اگر خون کا دباو کسی وجہ سے 
بڑھ گےا ہے۔ تب ےہ پرےشر
ناپنے والا آلہ اس کی رےڈنگ کو زےادہ بتائے گا۔ مطلب ےہ کہ محض اس آلے سے بلڈپرےشر 
دےکھ 
کر ہائی بلڈپرےشر ےا لو بلڈ پرےشر کا مرش کہنہ کہہ مرےضوں کو پرےشانےوں مےں ڈال 
دےنا ڈاکٹروں کی 
انتہائی زےادتی ہے۔ مرےض بےچارہ اسے بےماری سمجھ کر راتوں کی نےند اڑا لےتا ہے۔

ہائی بلڈ پرےشر پر تفصےل سے بحث مےں نے اپنی اےک دوسری کتاب علاج زحمت 
ےا رحمت ؟
مےں کی ہے لہذا ےہاں ان باتوں کو دہرانا نہےں چاہتا۔ ہاں قائےن اتنا جان لےں کہ خون 
کا دباوں 
گھٹنا ےا بڑھان ہائی بالڈ پرےشر ہے اور ےہ کوئی نئی بےماری نےہں ہے البتہ دوسری 
جسمانی 
خرابی ےا بےماری کے نتےجہ مےں اس پر اثر ہوتا ہے۔ انسانی جسم کے شرائےن چونکہ 
ربک کی طرح پھےلنے 
والی ہوتی ہےں۔ اس لئے خون کے دباو سے پھےلتی ےا سکٹرتی ہےں۔ مختلف دماغی 
حالتوں۔ مختلف
شےا کا استعمال ےا مختلف جگہوں کی اونچائی وغےرہ ےہ وہ باتےں ہےں کہ جہاں خون 
کا دباو گھٹتا 
بڑھتا رہتا ہے مناسب غذا اور آرما سے بھی اس مےں تبدےلی آتی ہے۔

اس کے علاوہ بعض بےمارےاں مثلاََ گردے کی بےماری۔ دل کی بےماری شراب نوشی 
و تمباکو نوشی
(215) 15

ےا ہارمون کی کمی بےشی ےہ وہ اسباب ہےں کہ جہاں بلڈ پرےشر متاثر ہوتا ہے۔ لہذا 
علاج کا مقصد اس 
کے اسباب کا علاج کرنا ہونا چاہئے۔

ہائی بلڈ پرےشر کی اس علامت کے مطابق ہومےوپےتھی کی جو دوائےں سود مند 
ہوسکتی ہےں 
ان مےں براٹا کارب بےلاڈوان کو نےم، گلونائن، سنگونےرےا اور جسلمےم وغےرہ خاص ہےں۔ 
ان کا استعمال ان کی خاص خاص باتوں کے مطابق ہی ہو۔ اگر آپ کی تشخےص صحےح 
ہے تو سمجھئے
کہ مرےض اس دوا کی اےک خوراک سے اس کے اسباب سے چھٹکارا پاسکتا ہے۔ جبکہ 
اےلوپےتھی معالج 
زندگی بھر اس کا علاج کرتے رہتے ہےں۔

ےہاں اےک نوجوان مرےض کا کےس ےاد آرہا ہے افسردہ اور بالکل ماےوس اور اس شکل 
بنائے وہ مےرے 
پاسے آےا تھا اس کے ہمراہ اس کے عزےز و اقارب بھی تھے۔ کےونکہ داکٹروں کے مطابق اس 
کا 
کسی بھی وقت ہارٹ فےل ہوسکتا تھا۔ 
ڈاکٹروں نے آپرےشن کا مشورہ دےا تھا آپرےشن نہ کرناے کی صورت مےں اس کی 
زندگی کا کوئی 
بھروسہ نہ تھا کےونکہ اس کے گردے کے پاس کے غدود جو بلڈپرےشر کو کنٹرول کرتے ہں) 
کی رسوی
ہوگئی تھے اور اس ٹےومر کی وجہ سے بلڈپرےشر بڑھانے والے ہارمنو زےادہ پےدا ہوتے 
تھے۔ اس 
کا بلڈپرےشر بہت زےادہ رہتا تھا۔

ےہ مرےض ہومےوپےتھی کی اےک دوا گلونائےن طاقت دوسو مےں صرف اےک خوراک 
مےں اچھا 
ہوا۔ اس کی کاص علامات ےہ تھی کہ جسم کے سارے حصہ مےں گوےا دل دھڑکتا ہوا 
محسوس ہوتا تھا
گلوناےن کی دےگر علامتوں مےں، تےز درد س، تحرےک، سر مےں خون کی زےادتی اور 
ےوں معلوم 
ہونا جےسے دماغ بڑا ہوگےا ہو۔ کانوں مےں ٹپکن، دل کی دھڑکن محسوس ہوتی ہے۔ 
عورتوں مےں 
حےض کے بند ہوجانے سے شدےد ہائی بلڈ پرےشر کے ساتھ شدےد بمےاری کی علامتےں رونما 
ہوئی ہوں 
تب ےہ دوا اور اس کی اےک ہی خوراک کافی ہے۔

ہومےوپےتھی کی دوسری دوا کو نےم مےں سرکا چکر زےادہ ہے اور ےہ سرچکرانا، 
سرہلانے ےا ےہاں 
وہاں دےکھنے سے بڑھتا ہے۔ مرےضہ مےں ےادداشت کی کمزوری رہتی ہے اور وہ دماغی 
محنت
کرن ےکی طاقت نہےں رکھتی۔ کلےجہ دھڑکنا اور ےپےر کانپنا اس دوا ک دےگر علامتےں 
ہےں۔ اکثر 
بڑی عمر کی بےواوں کی ےہ اہم اور خاص دوا ہے۔
(216) 16

جبکہ بےلاڈونا کے کےس نوجوانوں مےں دےکھنے مےں آتے ہےں۔ اس دوا مےں سر چکرانا اور 
سردرد کے ساتھ سر کا بالائی حصہ گرم اور چہرہ سرخ ہوتا ہے۔ آنکھےں سرخی مائل۔ 
جےسے 
آنکھوں مےں خون اتر اےا ہو۔ نبض بہت تےز اور طاقت.ور ہوتی ہے۔

اور جےلسےمم مےں خوان کی زےادتی کی وجہ سے سردرد اور سر مے بوجھ معلوم 
ہوتا ہے۔
زبان کانپتی ہے۔ غضی اور تشنج کی علامتےں بھی ہوسکتی ہےں۔ سنکتی ہےں۔ سنگو 
نےرےا مےں سر کا درد 
طلوع آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور غروب آفتاب کے وقت گھٹنا شروع ہوتا ہے۔
(217) 17
6بچوں مےں منہ کے چھالے

بچوں مےں عموماََ زبان پر اور گالوں کے اندر چھالے پڑجانے کی وجہ سے بچہ دودھ 
نہےں پےتا۔ بچے کا منہ بہت گرم اور خشک ہوتا ہے جسے ماں دودھ پلاتے وقت محسوس
کرتی ہے۔ بچہ دودھ پےتے وقت پستان چھوڑدےتا ہے، اور رونے لگتا ہے ےانےند
کے دوران بچہ چونک پڑتا ہے۔ اسے دن رات سبز رنگ کے پاخانے ہوتے ہےں۔ ےہ وہ 
علامتےں ہےںجن مےں اکثر بچے مبتلا ہوجاتے ہےں۔ ان جملہ باتوں کے لئے بورےکس خاص 
و اہم 
دوا ہے۔ تےس طاقت مےں اس کا استعمال کرےں۔ دوسے چارخوراک بس۔ اےک خوراک 
اےک ننھی سے گولی کی۔ بورےکس کا استعمال اےلوپےھتک طرےقئہ علاج مےں بھی ہوتا ہے 
لےکن ےہاں 
ےہ خارجی طور پر استعمال کی جاتی ہے بورےکس کو گلسےرےن مےں ملا کر بورو 
گلسےرےن کا استعمال عام ہے 
ننھے بچوں مےں منہ مےں چھالوں کی وجہ سے بے تحاشا رال بہبتی ہے تو 
دواوئےں ذہن 
مےں رکھنا چاہےے۔ اےک مرک سال اور دوسری سلفےورک اےسڈ۔ لےکن ان دونوں دواوں 
مےں 
علامتوں کے فرق کو اچھی طرح سے ذہن نشےں کرلےنا چاہےے، اور وہ ےہ کہ مرک سال کا 
بچہ 
منہ سے بے.تحاشا رال گراتا ہے۔ اس کی گردن کی غدود بھی عام طورسے جے ہوئے
ہوتے ہےں ےا سبز رکنگ کے اسہال ہوت ےہےں اور بچہ پاخانہ کرتے وقت زور لگاتا ہے 
جبکہ 
سلفےورک اےسڈ مےں ےہ علامتےں خاص ہےں بچہ کھٹی قے کرتا ہے۔ اور ہر طرح سے صاف 
ستھرا رکھنے کے باوجود اس کے جسم سے کھٹی بو آتی ہے۔ اور وہ سوکھا روگ مےں 
مبتلا ہوجاتا 
ہے۔ خوراک تےس طاقت مےں اور صرف دو خوراک۔ صبح و شام 
اگر بچہ کا منہ انتہائی خشک ہوجاے اور خشکی کی وجہ سے بچہ دودھ نہ پےتا 
ہو۔ لےکن اگر 
پستان اور منہ کو ترکردےا جائے۔ تو پرےی رغبت سے دودھ پےنے لگتا ہے اےسے بچے کے 
لئے اس کے چھالوں کو دوا ہوگئی برائےونےا۔ ان چار دواوں کے علاوہ اےک بالےوکےمک دوا 
اور 
بھی ہے جو چھالوں کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ اس کا نام ہے کالی.مےور، کالی مےور 
کی خاص
(218) 18

0 
﻿
Anand.
03-08-01
Urdu
60(101) 1

عجےب و غرےب تخلےق کو پےش کرسکتے تھے۔ چنانچہ اس کے ڈرامے کامےابی حاصل نہ 
کرسکے لےکن 
چےخوف کی بڑی خوشی قسمتی تھی کہ اس زمانے مےں ماسکو مےں اےک مشہور اور 
قابل قدر آدمی تھا۔
جس کا نام کونسٹےنٹن اسٹےنلاوسکی (Constrantin Stanisalvsky) تھا۔

اسٹےنسلاوسکی کا اپنا ہی اےک ناٹک گھر تھا جس مےں اس کا دوست 
دانتچےنکو 
(Dantchenko) بھی شرےک تھا۔ ان کی اےک کافی لاےق اداکاروں اور اےکٹرسوں کی 
ٹولی تھی، جنہوں نے اپنی خدمات ڈرامے کے لےے وقف کردی تھےں۔ اس نے اپنے ناٹک 
گھر
کا نام ماسکو آرٹ تھےٹر رکھا تھا۔ ےہاں وہ اےکٹنگ کے نئے طرےقوں کا تجربہ کےا کرتا 
تھا۔ 
ےہ اکثر نہ معلوم ےا غےر معروف ڈرامے چنتا تھا۔ اور پھر جب اس کی ملاقات چےخوف 
سے ہوئی 
تو اس کو محسوس ہوا کہ اس کو اےک اےسا ڈرامہ نوےس مل گےا ہے جس کے ڈراموں کے 
ذرےعہ
وہ اپنے خےالات کی ترجمانی کرسکتا ہے۔

بحری مرغابی اسٹےنسلاوسکی کا اےک اےسی ہی پےشکش ہے جس کو جدےد 
تھےٹر مےں 
سنگ مےل کہا جاسکتا ہے۔ ےہاں پہلی بار ڈرامہ دےکھنے والے ےہ بھول جاتے تھے کہ وہ 
تھےٹر 
مےں بےٹھے ہےں۔ ےہ لوگ محسوس کرتے تھے کہ وہ حقےقی زندگی کا مشاہدہ کررہے 
ہےں
اےکٹنگ کے جدرد طرز مےں ےہی بنےادی نکتہ ےا اندازہے جس کی ابتدائ اسٹےنسلاوسکی نے 
کی 
اس نے کوشش کی کہ اےکٹنگ اور لوگوں کو روزمرہ زندگی کے فطری انداز مےں مطابقت
پےدا ہوجائے۔

فطرت سے وابستگی والے اس انداز کا آغاز ادکاروں سے ہوا جنہےں نے خود کو 
ان کرداروں سے مطابق کردےا، جن کا رول وہ ادا کرتے تھے، انہوں نے کوشش کی کہ 
ان کے احساسات، خےالات، طور طرےقَے اور اعمال اس کردار کے مطابق ہوجائےں جس کے 
60(102) 2

رول کا عکاسی ان کو کرنا ہے۔ اس کام کے لےے دماغی ےکسوئی اور گہرے مشاہدہ کی 
ضرورت 
تھی زندگی کی تصوےر مےں بے شمار لوازمات کو سمجھ کر کسی کردار کی تخلےق کی 
جاتی تھی۔

اسیفطرت پسندی کو وسعت دے کر ان کے مناظر مےں اس طرح دکھاےا گےا 
کہ ےہ 
رورمرہ زندگی کا ہی اےک حصہ نظر آنے لگے۔ کمروں، باغوں، ہال وغےرہ مےں ہر پہلو 
سے 
فطرت پسندی نماےاں ہونے لگی تھی۔ بس اےک چوتھی دےوار کی کمی تھی۔ ناظرےن و 
سامعےن اےک 
طرف کو چھپ کر گوےا زندگی کی حقےقی منظر کا مشاہدہ کرنے لگے تھے۔ لباس وضع 
قطع مےں بھی
بڑی احتےاط و بارےک بےنی سے کام لےا جاتا تھا۔ جب اسٹےنسلاوسکی نے اےک تارےخی 
ڈرامہ کی 
پےشکش کو تو وہ پہلا ڈرامہ نگار تھا جس نے تارےخی لباس اور خصوصےات پر زور دےا۔

اسٹےنسلاوسکی کو ےاد رکھنا اس لےے اہم ہے کہ اس کی تربےت ےا طرےقہ کو 
دنےا مےں 
بہت سے ملکوں مےں اےکٹر کی تربےت کی اولےن بنےاد کا درجہ دےا گےا ہے۔ جن لوگوں نے 
اس کی مکمل طور سے تقلےد نہےں کی وہ بھی اس سے بہت سے مفےد اور قابل اور قدر 
سبق سےکھتے
تھے۔ اب اےکٹنگ مےں شوروغل، جذباتی ہےجان، بناوٹ نخرے بازی کے طور طرےقے 
اچھے نہےں سمجھ جاتے تھے۔ اب اداکاروں کے صرف اسٹےج پر اترانے ےا اشاروں، ہاتھ پےر 
کی حرکتوں سے ہی ناظرےن خوش نہےں ہوپاتے تھے۔ اےکٹروں نے محسوس کےا کہ ان کو 
محنت 
سے کام کرنا ہوگا۔ چھوٹی سے چھوٹی چےز پر نظر رکھنا ہوگی۔ اسٹنےسلاوسکی جس 
چےز کو بنےادی
چےز مانتا تھا وہ ےہ تھی کہ اےکٹر کو پورے خلوص اور نےک نےتی کے ساتھ کام کرنا 
ضروری ہے۔
ادکاروں نے محسوس کےا کہ ڈرامے مےں صرف اےکٹنگ کافی نہےں۔ ان کو اچھا اداکار بننے 
کے لےے 
پہلے سےکھنا پڑھ گا، ےعنی تربےت حاصل کرنا ہوگی۔ بالکل اسی طرح جس طرح ڈاکٹر 
اپنا پےشہ
شروع کرنے سے پہلے تربےت پاتے ہےں۔ اس مناسب اور ہر طرح سے مکمل طرےقئہ تربےت 
کو 
60(103) 3

اب تھےٹر مےں تسلےم شدہ اصول کا درجہ دےا جاتا ہے۔ اس کام کی تربےت اس مشہور و 
معروف روسی 
نے شروع کی تھی جو ادکار بھی تھا اور ہداےت کار بھی اور جس کو ہم کونسٹےنٹن 
اسٹنےسلاوسکی کے 
نام سے ےاد کرتے ہےں۔

بہت بعد مےں اسٹےنسلاوسکی کا طرےقئہ تربےت ےو، اےس، اے (امرےکہ) لے 
جاےا گےا۔ اس کو 
لے جانے والے وہی لوگ تھے جنہوں نے اس کے ساتھ ماسکو آرٹ تھےٹر مےں کام کےا تھا۔
تم نے بہت سے اےسے مشہور معروف فلم اسٹاروں کو دےکھا ہوگا جنہوں نے سب سے پہلے
اسٹےج کی پہلی تربےت اسی طرےقہ سے حاصل کی ہے۔ کچھ اےسے مشہور و معروف اےکٹر 
جو 
اسی طرےقئہ تربےت سے فلم اسٹار بنے ان مےں مارلن برےنڈو (Marlon Brando) 
پال نےومےن (Paul Newman)، جوانی ووڈواڈ (Joanne Woodward)، والٹر 
بےٹی (Walter Beatty)، اور بےن غازارا (Ben Gazzara) شامل ہےں۔
60(104) 4

63010

60احتجاج کی آوازےں
2 
ہماری اس صدی کا ابتدائی حصہ اےک عظےم دور تھا۔ سائنس کی تحقےقات 
کا نتےجہ ہماری 
نئی دنےا کی شکل مےں نمودار ہوا۔ صنعتی انقلاب نے زندگی کے قدےم رواےتی طور 
طرےقوں مےں اےک 
تباہی اور ابتری پےدا کردی۔ بڑی جاگرےں اور رےاستےں ختم ہوگئےں آبادی شہروں 
مےں سمٹ گئی 
تجارت اور تربےت اب ٹرےڈ گلڈ کی گرفت سے باہر نکل گئےں۔ بےوسی صدی کی شہرےت 
اور مشےنوں سے بھرپور تہزےب پےدا ہوچکی تھی۔ شرؤ مےں جو چےز بھاپ سے چلائی 
جاتی تھی
صرف پچاس سال کے عرصے مےں جےٹ سے چلنے والی چےزوں کی شکل مےں نظر آنے لگی، 
جنہوں نے 
چند گھنٹوں مےں ساری دنےا کو اپنے گھےرے مےں لے لےا اور باہری فضائے بسےط
مےں گھومنے لگےں۔

اب پرانے خےالات نے تو انسانی تصور مےں آتے تھے اور نہ ان سے انسان کا ذہن 
مطمئن
ہوتا تھا۔ اب انسان کو عقےدہ و اعتقاد کی خواہش نہےں تھی بلکہ اس کو علم کی تلاش 
تھی۔ اب 
اسے صرف عقےدہ پر اعتماد نہےں رہا تھا بلکہ اس کو اپنی تحقےق پر بھروسہ تھا۔ لےکن 
پرانے 
خےالات مشکل سے ختم ہوتے ہےں او بہت سی ذہنی اور جسمانی لڑائےاں لڑنا پڑتی ہےں،
60(105) 5

اس کے بعد کہےں رواےتی اور پرانے طور طرےقوں کا خاتمہ ہوپاتا ہے۔

گنجان آباد شہروں نے مختلف ذاتوں اور طبقوں کے لوگوں کو بڑے بڑے 
علاقے مےں 
جمع کردےا۔ قانونی اور شہری ذمہ داری مےں باقاعدگی اور نظم و ضبط پےدا ہونے سے 
پہلے ہر ممکن 
طرےقے سے غرےبوں کو ذاتی مفاد کے لےے استعمال کےا جاتا تھا۔ غرےب لوگ خراب مکانوں 
مےں 
رہتے تھے، کام حد سے زےادہ کرتے تھے، بہت سے حقوق سے محروم تھے اور ان کے 
ساتھ کسی قسم کی رعاےات نہےں کی جاتی تھےں۔ تعلےم کی سہولت انہےں حاصل نہےں 
تھی اور حالات
کے بہتر ہونے کی امےد بھی انہےں نہےں تھی۔ بہت زےادہ امےروں کی دولت اور محنت 
کش اور 
مزدور کی انتہائی غرےبی نے فلسفےوں، مصنفوں اور نوجوان لوگوں مےں اےک تحرےک سی 
پےدا
کردی تھی۔ ان لاکھوں مظلوم و ستم رسےدہ محنت کش لوگوں کے حقوق کی جنگ کے 
لےے احتجاج 
کی اوازےں اٹھےں جو امےروں کے عےش و آرام کے سامان اور بےسوےں صدی کی آرامدہ 
زندگی 
کے لےے اپنی محنت سے سامان پےدا کرتے تھے۔

عام طور پر تھےٹر جانا اعلے طبقے کے لوگوں کی تفرےح کا ذرےعہ تھا۔ ےہ 
تعلےم ےافتہ اور سمجھ دار
قسم کے سامعےن چاہتے تھے کہ ان کی تفرےح طبعی ےا دلچسپی کے سامان مےں ان کے 
عزت و 
احترام کو مدنظر رکھا جائے۔ ےہ لوگ تھےٹر مےں عبادت کرنے ےا غورو خوض کرنے نہےں 
آتے تھے
بلکہ سکون حاصل کرنے آتے تھے۔ ےہی وجہ ہے کہ جےسا ہم نے دےکھا انہےں ابسن کے 
ڈراموں 
مےں سکون نہےں مل سکا۔ لےکن اب کچھ ملکوں مےں بہت سے ڈرامہ نوےسےوں نے اشتعال 
انگےز
ڈراموں کی تصنےف کا آغاز کردےا تھا۔

ان ڈراموں مےں جارج برنارڈشا سب سے زےادہ مشہور ہے۔ ےہ آئرلےنڈ کا 
باشندہ
تھا۔ ےہ انتہائی ذہےن اور اےک زبردست ظرےفانہ جس کا مالک تھا۔ اس نے بہت سے ڈرامے
60(106) 6

لکھے جن سے برطانےہ کے ناظرےن کے ذہنوں کو دلچسپی کے باوجود زبردست جھتکا سا لگا۔ 
اس کے 
Widower's Houses نامی ناٹک مےں اےسے امےر جاگےرداروں کو نشانہ بناےا گےا تھا جن 
کے 
شکستہ و فرسودہ رہائشی مکانات شہروں کی تنگ و تارےک گلےوں و کوچوں مےں ہوتے 
تھے اور 
ان مےں غرےب طبقہ کراےہ دار کی حےثےت سے رہتا تھا۔ غرےب کراےہ داروں سے کراےہ کی 
بڑی 
بڑی رقمےں وصول کی جاتی تھےں۔ دوسرا ڈرامہ Arms And The Man ےعنی (ہتھےار
اور انسان) ہے، اس مےں سپاہی کی بہادری اور قوموں کی تنگ نظر جب الوطنی پر طنز 
کےا گےا ہے۔

برنارڈشا کے اےک ڈرامے کی تو تم نے فلم بھی دےکھی ہوگی۔ اس کا نام 
Pygmalion 
ےعنی بونا ہے جس کو سنگےت ناٹک کی شکل دی گئی تھی اور اس کا نام My Fair 
Lady 
ےعنی مےرا حسےن خاتون رکھا گےا تھا۔ اس مےں سماج کے اس تضنع کا مزاق اڑاےا گےا 
ہے 
جس مےں لوگوں کو ان کے لب و لہجے سے جانچا جاتا ہے۔ اس ڈرامہ مےں علم الاصوات کا 
اےک پروفےسر اےک لندن کی رہنے والی گل فروش لڑکی کو اتنی اچھی انگرےزی بولنا 
سکھاتا ہے
کہ اعلے طبقے مےں اس کو غےر ملکی شہزادی کی حےثےت سے مقبولےت مل جاتی ہے۔

1914ئ ۔۔ 1918ئ کی عالمی جنگ نے جدےد زندگی مےں اور بھی زےادہ 
تبدےلےاں 
پےدا کردےں۔ بہت سی فوموں نے ےہ محسوس کےا کہ ان کی خوشحالی دوسری اقوام کی 
خوش حالی 
پر منحصر ہے۔ لوگوں مےں اب بےن الاقوامی نظرےات پےدا ہونے لگے تھے۔ بےن الاقوامی 
نظرےہ 
ہی دنےا کو تباہ کن لڑائےوں سے نجات دلا سکتا تھا۔ اب محنت کش اور مزدور بھی 
سمجھ گئے تھے۔
کہ ان کو تحفظ حاصل کرنے کے لےے اپنے حقوق کی خاطر جنگ کرنی ہوگی اور ےہ جنگ 
ےونےنےوں 
کے ذرےعے کی جائے گی اور ان کی ےونےن ہی ان کا تحفظ کرے گی۔
60(107) 7

کارل مارکس اےک جرمن مفکر نے پچھلی صدی کے خاتمے پر کمےونزم کے خےالات 
کی تخلےق
کی اور انہےں فروغ دےا۔ ےہ اپنی موت کے بعد نئی نسل کا راہ نما بن گےا۔

روس مےں اس کے خےالات کو عملی جامہ پہناےا گےا اور ےہ ملک 1917ئ کے 
انقلاب کے 
بعد اےک کمےونسٹ ملک بن گےا۔ ہر جگہ کوگ اےک اےسی دنےا کے بارے مےں غوروفکر 
کرنے لگے
جہاں اےک طبقہ اپنے ذاتی مفاد و اغراض کے لےے دوسرے طبقے کا خون نہ چوس سکے۔

لازمی طور پر اےسے خےالات تھےٹر پر بھی اثر انداز ہوئے۔ سب سے پہلے 
جرمنی متاثر ہوا۔
جہاں 1918ئ کی شکست کے بعد لوگوں کو ہےبت ناک دشوارےوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 
ارنسٹ
ٹولر (Ernst Toller) جےسے مصنفوں نے عوام اور آدمی (Masses and Men) 
جےسے ڈرامے لکھے۔ ان ڈراموں کے ہےرو افراد نہےں بلکہ عوام تھے۔ ٹولر کے علاوہ ہاپٹ 
مےن
(Heupt man) اےک دوسرے جرمن ڈرامہ نوےس نے اےک زور دار ڈرامہ لکھا جس کا نام 
جلاہا (The Weavers) رکھا گےا تھا۔ اس ڈرامے مےں سےلسےا کے جولاہوں کے 
دردناک حالات لکھے گئے تھے۔ جارج کےسر نے گےس I- اور گےس II- ڈرامہ لکھا جس 
مےں 
جنگ کے خوفناک حالات کا نقشہ کھےنچا گےا تھا۔ ان ڈراموں نوےسےوں کو اظہارےت پسند 
(Expressionists) کہا جاتا ہے۔ ان کا اپنا الگ اسلوب تھا۔ ان ڈرامہ نوےسےوں نے اپنے 
زمانہ کے مسائل کو واضح اور بڑے پختہ انداز مےں ڈرامائی شکل دی۔

روس مےں اےک نئے احساس نے لوگوں نے جوش وولولہ اور ترغےب پےدا کردی 
تھی۔ 
مےکسم گورکی (Maxim Gorky) نے اپنے تصنےف نچلی گہرائےاں (The Lower-
depths) مےں غرےبوں کی زندگی اور ان کے جدوجہد کو بےان کےا اور اپنی مشہور 
تصنےف
60(108) 8

ماں (Mother) مےں انقلاب کی تصوےر کھےنچی۔

خےالات اور موضوع مےں مطابقت پےدا کرنے کے لےے تھےٹر مےں کام کرنے والوں 
نے تخلےق کا نےا تکنےکی طرےقہ نکالا۔ تھےٹر کا سامان، ڈےزائن، روشنی کے انتظام اور منظر 
کشی کا 
نےا بندوبست کےا۔ انہوں نے اسٹےج کی سجاوٹ کے سلسلے مےں فوٹو کے فرےم جےسی ترتےب 
و 
تکمےل کے خلاف احتجاج کےا اور سادہ منظر کشی کو ترجےح دی جس مےں اکثر اشاروں 
اور علامتوں 
سے کام لےا جاتا تھا۔ چھپے ہوئے پردوں کے ذرےعے منظر کشی، اور سجاوٹ کے غےر ضروری 
سامان اور پردوں کو تصنع ےا بناوٹ سمجھ کر رد کردےا گےا۔ منظروں کے ڈےزائن تےار 
کرنے کے 
سلسلے مےں اےک قابل ذکر نام گروڈون کرےگ (Gordon Craig) کا ہے۔ دوسرا نام 
مےکس رےن ہارڈ (Max Rheinhardt) کا ہے جس نے کچھ اےسے اسٹےج پر ڈرامے کروائے
جو تماشائےوں کے بےچ مےں ہی گھسا ہوا سا ہوتا تھا اور اس مےں عمارتی ڈھانچوں کی 
طرح
ےا جےومےٹری کی شکلوں سے مشابہ قسم کا اسٹےج ہوتا تھا۔

ےوروپ سے بہت دور امرےکہ مےں اےک علےحدہ علےحدہ تھےٹر ابھر رہا تھا 
جس کے اپنے علےحدہ
ڈرامہ نوےس تھے۔ اب تک امرےکی لوگ صرف ےوروپی ڈراموں پر ہی قناعت کےے ہوئے 
تھے، 
اور شاےد ہی کسی قابل ذکر ڈرامہ نوےس نے کوئی ڈرامہ امرےکی اسٹےج کے لےے لکھا تھا۔ 
اب 
آہستہ آہستہ امرےکی اداکار اور تھےٹر کے دوسرے کارکن اےک دوسرے کے قرےب آنے لگے
اور انہوں نے مل کر اےک ملا جلاےا، گروپ تھےٹر، قائم کرلےا۔ ےہ اےک بڑا مثالی قسم کا 
گروہ تھا
جو ساتھ ہی رہتا تھا اور مل جل کر کام کرتا تھا۔ اسے تم آرٹسٹو کا کمےون 
(Commune) 
کہہ سکتے ہو۔ اس گروپ کے بہت سے ممبروں نے احتجاج ڈرامے لکھے۔ ان ڈرامہ 
نوےسےوں مےں سب سے زےادہ مشہور کلفرڈ اوڈےٹس (Clifford Odets) تھا۔ اس نے بھی 
60(109) 9

محنت کش اور کامگاروں کے متعلق ڈرامے لکھے اور مزدوروں کو اےک انسان کے روپ
مےں دےکھے جانے پر زور دےا۔ اےک اور ڈرامہ نوےس اےلمر رائس (Elmer Rice) تھا جس 
کا 
ڈرامہ ےوم انصاف (Judgement Day) ہٹلر کی نازی، پارٹی کے ظلموں اور 
نانصافےوں کے خلاف لکھے جانے والے چند پہلے ڈراموں مےں سے اےک تھا۔

پھر بھی امرےکی تھےٹر مےں سب سے بڑا نام ےوجےن اونےل (Eugenen O' 
Neill) 
کا ہی ہے جس کے ڈراموں کی حدود مےں سےدھے سادے احتجاج موضوع۔ جےسے 
جھےرابندر
(The Hairy Ape) ےا All Gods Chillun تھے، لےکن اس کے شاہکار ےا اہم ترےن ڈرامے
کچھ اےسی گہرائی کے حامل تھے کہ ہمےں ان کے متعلق اگلے باب مےں تفصےل سے لکھنا 
ضروری 
ہے۔
60(110) 10

6011

60داخلی دنےا کی تلاش
2 
پچھلے باب مےں ہم نے تھےٹر مےں جن احتجاجی آوازوں کا ذکر کےا تھا وہ 
پورے سماج کی برائےوں 
اور کمزورےوں سے تعلق رکھتی تھےں۔ ان آوازاوں مےں بےرونی برائےوں کے خلاف احتجاج 
کےا گےا
تھا۔ لےکن ڈرامہ نوےس صرف سماج کی بےرونی خرابےوں پر ہی توجہ نہےں دےتے بلکہ وہ 
انسانوں کے 
انفرادی مسئلوں پر بھی نگاہ رکھتے ہےں۔

ہم نے دےکھا تھا کہ ےونانی دور مےں ےوری پائےڈس بھی فرد کی زندگی سے 
دلچسپی رکھتا تھا اور 
اس کے ڈراموں مےں اس بات کو دےکھنے کی کوشش کی گئی تھی کہ کوئی انسان کوئی 
عمل کےوں کرتا
ہے۔ پھر اس کے کافی بعد شےکسپےر بھی خود اپنے ہی تخلےق کےے ہوئے کرداروں کے عمل 
کی
تحرےکوں کو جاننے اور سمجھنے مےں بڑی کاوش اور دلچسپی رکھتا تھا۔

ہمارے زمانے مےں انسان کی شخصےت کے متعلق معلومات اور اس کا تجرےہ 
اور چھان بےن 
سائنس کی اےک باقاعدہ بن گئی ہے جسے علم نفسےات کا نام دےا جاتا ہے اور اس علم 
مےں بہت
تےزی سے ترقی بھی ہوئی ہے۔ تم لوگوں نے سگنڈ فرائڈ (Sigmund Freud) کا نام 
ضرور 
سنا ہوگا۔ اس غےر معمولی انسان نے ےہ راز افشا کےا کہ کسی انسان کے طور طرےقوں اور 
انداز کو ہم ان
60(111) 11

حادثات اور واقعات مےں تلاش کرسکتے ہےں جو اس کے بچپن مےں گذرے تھے، لےکن اس 
وقت
ےہ اس کے ذہن مےں دب گئے تھے ےا انہےں وقتی طور پر گھونٹ دےا گےا تھا۔ چونکہ ےا 
تو ےہ ناخوشگوار 
واقعات تھے ےا ان کے اظہار سے اسے خوف محسوس ہوتا تھا۔ بعد مےں ےہ حقےقتےں ےا 
واقعات 
ذہن سے محو ہوگئے ےا بھلا دےے گئے۔ لےکن ہےجانی ےا اضطرابی موقعوں پر مختلف 
طرےقوں اور 
انداز مےں ان ان کا اظہار ہوجاتا ہے۔ اسی شخص نے اس اس بات کو بھی محسوس کےا 
کہ ہمارے دماغ 
ہمےشہ صرف اسباب اور دلےلوں کی گرفت مےں ہی نہےں ہوتے۔ کچھی کبھی تو ہمےں 
شعور طور پر 
اس کا احساس بھی نہےں ہوتا کہ ہمارے کسی عمل کے لےے کےا چےز تحرےک پےدا کررہی 
ہے۔ 
اور چونکہ ڈرامے انسانوں سے ہی تعلق رکھتے ہےں اس لےے فرد کا مطالعہ۔ 
ےعنی 
نفسےات کا علم۔۔ ڈرامہ لکھنے والے کے لےے بنےادی اہمےت رکھتا ہے۔ بہت سے
ڈرامہ نوےسےوں نے اپنے کردار کے دماغ مےں ابھرنے والے خےالات، احساسات اور تحرےکوں
کو تلاش کرنے اور پےش کرنے کی کوشش کی اور ےہ بتانے کی کو کوشش کی ہمارے 
شعوری
طور طرےقوں اور ظاہری اندازلاشعور اور چھپے ہوئے محرکات کی کتنی گرفت ہوتی ہے۔ 
اےسا اےک ڈرامہ نوےس سوےڈن کا اگست اسٹےرنڈ برگ (August Atrindberg) 
تھا۔ ےہ خود بھی اےک بدنصےف اور رنجےدہ انسان تھا۔ چونکہ اس کی بہت سی شادےوں 
کی 
ناکامےوں نے اس پر عورت اور مرد کی محبت کا اےک خوف وہراس سا پےدا کردےا تھا۔ اس 
کے 
بہت سے ڈرامے ناخوشگوار تعلقات کے موضوعات سے ہی تعلق رکھتے ہےں اور ان سے
اس کی زندگی کے ذاتی تجربات کا اظہار ہوتا ہے۔

لوئگی پرپنڈےلو (Luigi Pirandello) اےک دوسرا ےورپےن اےک دوسرا ےورپےن 
مصنف تھا۔ ےہ اٹلی 
کا باشندہ تھا۔ اسے انسانی نفسےات دل فرےب معلوم ہوتی تھی ۔ پھر اس کے علاوہ اسے
60(112) 12

زندگی عمومی طور پر، غےر حقےقی سی لگتی تھی۔ اس نے سوال کےا، حقےقت کےا ہے؟ 
اور دھوکہ اور فرےب
کےا ہے؟ اس کے اےک ڈرامہ کا موضوع ہے اگر آپ سمجھتے ہےں تو آپ ٹھےک 
ہے۔ (Right 
If you think you are) اس نے اس ڈرامہ مےں اس مسئلہ کو پےش کےا ہے۔ اس کا 
مشہور ڈرامہ اےک مصنف کی تلاش مےں چھ کردار مےں حقےقی اور غےر حقےقی حد 
فاصل قائم کرنا
مشکل ہے۔ اس ڈڑامے مےں چھ کردار اےک تھےٹر مےں آتے ہےں جہاں اےک ناٹک کا 
رےہرسل 
ہورہا ہے۔ ےہ لوگ مصنف ڈائرےکٹر اور ادکاروں پر الزام لگاتے ہےں کہ انہوں نے حقےقت 
کو جھوٹ بنا کر پےش کےا ہے ۔ وہ کہتے اور اداکاروں پر الزام لگاتے ہےں کہ انہوں نے 
حقےقت 
کو جھوٹ بنا کر پےش کےا ہے وہ کہتے ہےں کہ وہ ظاہر کردےں گے کہ واقعی ان کےا 
گذری تھی اور 
اےسا کےوں ہوا تھا۔ لےکن ہر کردار واقعات کو صرف اپنے ذاتی نظرےہ کہ مطابق دےکھتا ہے۔ 
کوئی دو نظرےات ےکساں نہےں ہےں۔ کون ٹھےک کہتا ہے؟ بہرحال ساری داستان اتنی 
گھٹےا
اور حقارت آمےز نظر آنے لگتی ہے کہ ڈائرےکٹر اور ادکاروں نے اےسا کرداروں کو ڈرامائی
روپ ےا زندگی دےنے سے انکار کردےا اور ان کو تھےٹر سے باہر نکال دےا۔

ےوجےن اونےل کا ذکر پچھلے باب مےں ہوچکا ہے۔ اس ڈرامہ نوےس نے بھی اپنے 
ڈراموں
مےں نفسےاتی تجزےہ کا انداز چنا ۔ اس نے اپنے ذاتی تجربوں کا اظہار نہےں کےا بلکہ اس 
نے کوشش
کی کہ زندگی کی مختلف حصوں اور کےفےتوں کے ذرےعے اس کا تجزےہ ہوجائے۔ چےخوف 
کی طرح
اونےل بھی دق کے مرض مےں مبتلا تھا ۔ لےکن اس کا معاملہ بدقسمت سے مختلف 
تھا۔ وہ سےنی ٹورےم چلا گےا اور اس کا علاج ہوگےا۔

اپنی طوےل صحت مندی کی مدت مےں اونےل کو انسانوں کے مطالعہ اور ان کے 
مسائل
سمجھنے کا وقت مل گےا تھا ۔ اس کو ڈرامہ کی شکل کا بھی بڑا خےال تھا ۔ اس کو 
قدےم ےونانی دےوی،
دےوتاوں کی کہانےاں دل فرےب لگتی تھےں ۔ چنانچہ اس نے اےچ ممےمنان کی کہانی کو 
جدےد زبان مےں 
60(113) 13

ڈرامائی روپ دےا۔ اس ڈرامہ مےں اونےل نے اصلی دےوی دےوتاوں کی رواےتوں سے مطابقت 
کو قائم رکھا ہے۔ اس ڈرامہ کا نام Mourning Becomes Electra رکھا 
گےا تھا۔

اےج مےمنان کی طرح اس کا جنرل مےنن (Mannon) اےک جنگجو ہے جو 
مےدان 
جنگ سے اپنے گھر واپس آتا ہے۔ اس کی بےوی کرسٹاےن (کلےٹمنسٹرا) کو اپنے شوہر کے 
رشتہ کے بھائی سے عشق ہوجاتا ہے۔ آڈم (اےحستھبس) اور ےہ دونوں ساتھ مل کر 
جنرل کو مار ڈالتے ہےں۔ اس کی بےٹی لےوےنےا (الےکٹرا) نے اپنے بھائی اور رےن (ےعنی 
اورلسٹےس)
کو ترغےب دی کہ وہ رشتہ کے بھائی اور ماں کو مارڈالے۔ اورےن بعد مےں اپنے گناہ کے 
بوجھ
سے پاگل ہوجاتا ہے اور خود کشی کرلےتا ہے ۔ الےکٹرا اپنے بدقسمت خاندان کی مصےبتوں 
پر ماتم کرنے لے لےے اکےلی باقی رہ جاتی ہے۔

اونےل نے اپنے دوسرے ڈرامہ مےں مصنوعی چہرے کا بھی استعمال کےا۔ اس 
کے تمام 
کردار جب اےک دوسرے سے ملاقات کرتے ہےں تو نقلی چہرہ پہنے ہوتے ہےں جس سے 
ظاہر ہوتا ہے کہ جب سماج مےں کوئی عمل کررہے ہوتے ہےں تو انسان اےک جھوٹا چہرہ 
پہنے 
ہوتے ہےں، ےعنی اےک خاص طور طرےقے سے کام کرتے ہےں ۔ لےکن جب ےہ کردار اکےلے 
ہوتے
ہےں ےا اپنے دل کی گہرائی کے خےالات کا اظہار کرتے ہےں تو ان نقلی چہروں کو 
ہٹادےا
کرتے ہےں ۔

اونےل بلاشبہ امرےکہ کا پہلا عظےم ڈرامہ نوےس تھا۔ اس کے بعد بہت سے 
مصنف
ہوئے ہےں اور ان مےں سے بہت سے مصنفوں نے انسان کے دماغ اندرونی کےفےت
اور گہرائی کی کھوج کی کوشش کی جاری رکھا ہے ۔ اےک ڈرامہ نوےس ٹےنسی ولےمس 
(Tenne-
60(114) 14

-ssee Williams) بھی ہے۔ اس کی تصنےفوں مےں اعلی قسم کی ڈرامائی خصوصےات 
پائی جاتی 
ہےں اور مکالمہ مےں جذبات کی شدت اور شاعرانہ حسن پاےا جاتا ہے ۔ بہت سی تربےت 
ےافتہ
( "Method") ادکار اس کے شہاکار ڈراموں مےں حصہ لے کر ہی مشہور ہوگئے۔

اگر آپ زمانہ حال کے ڈراموں کا موازنہ ان ڈراموں سے کرےں جن کو ےونانی 
ڈرامہ 
نوےسےوں نے لکھا ہے۔ ےا جو ڈرامے شےکسپےر کے تصنےف کردہ ہےں تو کم سے کم ےہ 
حقےقت سب سے
پہلے ظاہر ہوگی کہ جدےد ڈراموں مےں ہمےں دلےر اور جنگجو قسم کے ہےرو اور اعلی 
طبقہ کی ہےروئےنےں 
نہےں ملتی ہےں۔ عام طور سے آج کل ڈراموں مےں معمولی قسم کے مرد اور عورتوں کے 
کردار ملتے 
ہےں جو عام زندگی مےں شجاعت وجواں مردی کا اظہار کرتے ہوئے نظر نہےں آتے۔ اس 
بات
سے اپ کو حےرت ہوگی اور آپ خود ہی سوال کرےں گے ۔ کےا جدےد انسان دلےر اور 
جنگجو ہےرو ہونے 
کی صلاحےت ہی نہےں رکھتا ؟ کےا جدےد ڈرامہ نوےسی مےں عظےم المےہ ممکن ہے ؟ 
ےہ اےک اےسا
سوال ہے جس کو تھےٹر کے علمائ اور طلبہ بھی پوچھا کرتے ہےں۔ ےہ اےک اےسا سوال ہے 
جس کی 
تفصےل کی ہمےں کھوج کرنی چاہئےے۔
60(115) 15

6012

60غداری اور ٹکراوئ 
2 
زردی مائل چاند ، چٹےل مےدان مےں اےک مڑے تڑے اور پت جھڑ کے مارے 
پےٹر کی طرف تک رہا ہے۔ پےڑ کے نےچے دو آوارہ گرد بےٹھے ہےں۔ اےک تو اداس اور 
ماےوس بےٹھا 
ہوا چوکےداری کررہا ہے اور دوسرا اچٹی اچٹی نےدن مےں سورہا ہے۔ ےہ کون لوگ ہےں 
؟ ےہ 
لوگ ےہاں کےوں ہےں ؟ کس کا انتظار کررہے ہےں ؟ ےہ لوگ گوڈو کے منتظر ہےں ۔ 
(Wai-
-ting For Godot) اسی نام سے اےک ڈرامہ سےمول بےکےٹ (Samuel Beckett) 
نے لکھا ہے۔ بےکےٹ آئرلےنڈ کا باشندہ ہے جو پےرس مےں رہتا ہے۔ گوڈو کون تھا ؟ ےہ 
لوگ 
نہےں جانتے۔ کےونکہ ےہ اس سے کبھی ملے نہےں ہےں۔ وہ خدا ہوسکتا ہے ۔ ےہ لوگ اس 
کا انتظار 
کےوں کر رہے ہےں ؟ ممکن ہے وہ ان کے سوالات کا جواب دے دے۔ ہوسکتا ہے وہ ان کی 
زندگی کے مسائل کا حل پےش کردے ۔ اس لےے ےہ لوگ اس کا مستقل انتظار کررہے ہےں 
، 
لےکن گوڈو کبھی نہےں آتا ہے۔ انہےں صرف اےک پاگل سا غنڈ اور اس کا بےوقوف سا
غلام ملتا ہے ۔ کبھی کبھی اےک چھوٹا سا لڑکا انہےں خبر دےنے کے لےے بھاگتا ہوا آتا ہے 
۔ گوڈو ، 
آج نہےں آئے گا ۔ وہ کل آئے گا ۔ چھوٹا لڑکا بھاگتا ہوا چلا جاتا ہے ۔ آوارہ گرد 
انتظار
60(116) 16

کرتے رہتے ہےں ۔ 
دوسری جنگ عظےم کے بعد جب اس ڈرامہ کو پہلی بار اسٹےج پر لاےا گےا تو 
لوگوں کو ےہ بڑا
ناگوار معلوم ہوا تھا ۔ کےا احمقانہ ڈرامہ ہے ؟ ےہ حقےقت مےں ڈرامہ ہے ہی نہےں 
۔ بےکار 
لغو اور مہمل ۔ لےکن ےہ ڈرامہ گوڈو کے منتظر ہےں پےرس ، لندن اور نےوےارک 
مےں باربار 
پےش کےا گےا۔ ےہاں ہندوستان مےں بھی پےش ہوا ۔ ےہ بے معنٰی ، اور لغو ، ڈرامہ 
، جس مےں نہ
کہانی ہے نہ کام نہ پلاٹ کا پھےلاوئ ، کچھ بھی نہےں ہے ، سےدھے سپاٹ کردار ہےں ، 
ہمارے
زمانے کے تھےٹر مےں سنگ مےل کےوں بن گےا ۔ ؟

دوسری جنگ عظےم اےک غم ناک تنبےہ پر ختم ہوگئی ۔ دو اےٹمی بموں 
نے جاپان کے 
دو شہروں کو تباہ برباد کر ڈالا تھا ۔ سائنسداں بم کو اور بہتر بنانے مےں لگے تھے ۔ 
ہائےڈروجن
60(117) 17

بم بناےا گےا۔ کےا انسان دنےا کی تباہی اور بربادی کے لےے خوفناک اےجادات کو ختم نہ 
کرسکے گا ؟

کےا دو عالمی جنگےں اس لےے لڑی گئےں تھےں کہ تےسری اور بھی زےادہ خوفناک جنگ 
کا راستہ 
ہموار ہوجائے ؟ کےا انسان اس بات کو کبھی سےکھےں گے کہ لڑائےوں سے جھگڑا طے
نہےں ہوتا ہے ؟

1945ئ سے ہم جنگ کے اےک مسلسل خوف و ہراس مےں زندگی گزار رہے 
ہےں ۔ 
کورےا مےں شمال و جنوب الگ الگ کردےے گئے ۔ ےہاں ہندوستان کی تقسےم ہوئی ۔ 
انسانوں 
کو کشت و خون ، قتل و غارت کری اور مصائب سے دو چار ہونا پڑا ۔ وےت نام مےں 
برسوں
جنگ چلی ۔ جرمنی کی راجدھانی دو دشمن علاقوں مےں تقسےم ہوگئی ۔ پرےشانےوں 
کا خاتمہ ہوتا نظر نہےں آتا اور نہ کوئی حل دکھائی پڑتا ہے ۔ مفکر لوگ پوچھتے 
ہےں ہم اس طرح
کےوں مصےبت مےں گرفتاری ہےں جس کی کوئی انتہا ہی نہےں ہے ۔ کےا کوئی طاقت 
نہےں ہے 
کےا کوئی دےوتا نہےں ہے جو بنی نوع انسان کو بچا لے ؟ اگر کل دنےا کو نےوکلےر 
جنگم مےں تباہ 
برباد ہی ہونا ہے تو پھر زندگی بالکل لغو اور مہمل نظر آنے لگتی ہے ۔

پانچےوےں صدی قبل مسےح مےں سولن (solon) نامی ےونانی فلسفی نہ کہا 
تھا اس 
وقت تک کسی آدمی کو خوش مت کہو جب تک وہ مرنہ جائے ۔ سوفو کلےس نے اپنے 
ڈرامے 
اوڈی پس رےکس مےں اس کہاوت کا تذکرہ کےا ہے ۔ اس طرح خوشی اور رنج کے 
بارے مےں 
سوالات کوئی نئی بات نہےں ہےں لےکن ان کے متعلق انسان کا روےہ اور سوچنے کا دھنگ 
نےا
بم بناےا گےا۔ کےا انسان دنےا کی تباہی اور بربادی کے لےے خوفناک اےجادات کو ختم نہ 
کرسکے گا ؟

کےا دو عالمی جنگےں اس لےے لڑی گئےں تھےں کہ تےسری اور بھی زےادہ خوفناک جنگ 
کا راستہ 
ہموار ہوجائے ؟ کےا انسان اس بات کو کبھی سےکھےں گے کہ لڑائےوں سے جھگڑا طے
نہےں ہوتا ہے ؟

1945ئ سے ہم جنگ کے اےک مسلسل خوف و ہراس مےں زندگی گزار رہے 
ہےں ۔ 
کورےا مےں شمال و جنوب الگ الگ کردےے گئے ۔ ےہاں ہندوستان کی تقسےم ہوئی ۔ 
انسانوں 
کو کشت و خون ، قتل و غارت کری اور مصائب سے دو چار ہونا پڑا ۔ وےت نام مےں 
برسوں
جنگ چلی ۔ جرمنی کی راجدھانی دو دشمن علاقوں مےں تقسےم ہوگئی ۔ پرےشانےوں 
کا خاتمہ ہوتا نظر نہےں آتا اور نہ کوئی حل دکھائی پڑتا ہے ۔ مفکر لوگ پوچھتے 
ہےں ہم اس طرح
کےوں مصےبت مےں گرفتاری ہےں جس کی کوئی انتہا ہی نہےں ہے ۔ کےا کوئی طاقت 
نہےں ہے 
کےا کوئی دےوتا نہےں ہے جو بنی نوع انسان کو بچا لے ؟ اگر کل دنےا کو نےوکلےر 
جنگم مےں تباہ 
برباد ہی ہونا ہے تو پھر زندگی بالکل لغو اور مہمل نظر آنے لگتی ہے ۔

پانچےوےں صدی قبل مسےح مےں سولن (solon) نامی ےونانی فلسفی نہ کہا 
تھا اس 
وقت تک کسی آدمی کو خوش مت کہو جب تک وہ مرنہ جائے ۔ سوفو کلےس نے اپنے 
ڈرامے 
اوڈی پس رےکس مےں اس کہاوت کا تذکرہ کےا ہے ۔ اس طرح خوشی اور رنج کے 
بارے مےں 
سوالات کوئی نئی بات نہےں ہےں لےکن ان کے متعلق انسان کا روےہ اور سوچنے کا دھنگ 
نےاٹے سے اعلی طبقہ کا اقتدار
تھا ۔ اچھی اور اعلی تعلےم صرف امےر لوگوں کے بچے ہی حاصل کر سکتے تھے ۔ جنگ 
کے بعد 
برطانےہ کی مملکت ختم ہوگئی اور ےہ بڑی طاقت نہےں رہا ۔ مال دار ےو ۔ اےس ۔ اے 
( امرےکہ)
اور طاقتور ےو ۔ اےس ۔ اےس ۔ آر (روس) نے لےڈر شپ کے لےے جدوجہد کی ۔ برطانےہ
مےں مزدور اور محنت کش لوگوں نے مانگ کی کہ اچھی تعلےم اور اچھی ملازمتےں تمام 
لوگوں کو بغےر کسی 
طبقائی امتےاز کے ملنا چاہئےں ۔ اےک ڈرامہ نگار جان اوسبورن (John Osborne) 
نے اےک ڈرامہ لکھا جس کا نام تھا غصہ مےں پےچھے دےکھو (Look Back in Anger) 
60(118) 18

ےا پھر اےک شاندار اور باوقعت موت حاصل کرسکتا ہے۔ لےکن جدےد انسان ان بنےادی عقاےد
سے مطمئن نہےں ہے ۔ وہ ےہ محسوس کرتا ہے کہ اگر خدا کا وجود ہے تو وہ انسان سے 
بے تعلق اور 
بے خبر ہے اور انسان بھی اتنا اندھا اور خود غرض ہے کہ وہ اپنی زندگی مےں کوئی 
اعلے معےار
اور شرےفانہ کام نہےں کرتا ۔ انسان نے خود کو گمراہ کردےا ہے ۔ 
ےہی وہ تکلےف دہ صورت حال ہے جس مےں بےکٹ کے آوارہ گرد کردار خود 
کو آزاد
کرنے کی کوشش مےں لگے ہےں ۔ وہ مجبور ہےں ۔ شاےد گوڈو ، ان کی مدد کرے ۔ 
لےکن 
کےا گوڈو ، کبھی آئے گا ؟
اس نئے قسم کے ڈرامہ کو لغوےات کا تھےٹر کہہ کر پکارا گےا ۔ لےکن اس 
قسم کے ناٹک نے 
بہت سے مصنفوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کی ۔ زندگی کی خرابےوں کے خلاف صرف
ےہی اےک قسم کا احتجاج نہےں تھا ۔ برطانےہ مےں برہم نوجوان لوگوں (Angry 
Yound ۔ 
Men) نے وہاں کے محنت کش اور مزدور لوگوں کے بارے مےں لکھا جو زندگی کی عمدہ 
اور اچھی چےزوں سے محروم تھے ۔ گوکہ دوسری جنگ عظےم سے پہلے برطانےہ دنےا کی 
سب سے 
بڑی طاقت تھا لےکن اس کی ہکومت اور دولت پر بہت چھوٹے سے اعلی طبقہ کا اقتدار
تھا ۔ اچھی اور اعلی تعلےم صرف امےر لوگوں کے بچے ہی حاصل کر سکتے تھے ۔ جنگ 
کے بعد 
برطانےہ کی مملکت ختم ہوگئی اور ےہ بڑی طاقت نہےں رہا ۔ مال دار ےو ۔ اےس ۔ اے 
( امرےکہ)
اور طاقتور ےو ۔ اےس ۔ اےس ۔ آر (روس) نے لےڈر شپ کے لےے جدوجہد کی ۔ برطانےہ
مےں مزدور اور محنت کش لوگوں نے مانگ کی کہ اچھی تعلےم اور اچھی ملازمتےں تمام 
لوگوں کو بغےر کسی 
طبقائی امتےاز کے ملنا چاہئےں ۔ اےک ڈرامہ نگار جان اوسبورن (John Osborne) 
نے اےک ڈرامہ لکھا جس کا نام تھا غصہ مےں پےچھے دےکھو (Look Back in Anger) 
60(119) 19

اس سے برطانےہ مےں مصنفوں کو رہنمائی ملی جنہوں نے پختہ ارادہ کرلےا وہ لوگ عوام 
کے 
حقوق کے لےے جنگ کرےں گے ۔ بےکٹ کے ، آوارہ گرد ، کی طرح زندگی کی معنوےت کے 
بارے مےں 
فلسفےانہ سوال پوچھنے سے ان مصنفوں کو کوئی دلچسپی نہےں رہی ۔ ےہ لوگ زندگی 
سے ٹکرانا
چاہتے تھے اور اس سے انہےں بہتر سلوک حاصل کرلےنے کے توقع تھی ۔ 
اس طرح آج کل ہمارے پاس اےک طرف لغوےات تھےٹر کے مکتب خےال کے 
تصنےف کردہ اےسے ڈرامے ہےں جو پر معنی زندگی کے امکان پر ہی شبہ کا اظہار کرتے 
ہےں اور 
دوسری طرف اےسے بھی مصنف ہےں جو زندگی کے چےلنج کو قبول کرتے ہےں اور کہتے 
ہےں ہمےں 
زندگی سے کوئی اچھی قابل قدر چےز پےدا کرنی چاہئےے ۔ 
اےک دوسرے مکتب خےال کا سب سے اہم مصنف جرمنی کا باشندہ تھا جس 
کا نام برتولت
برےخت (Bertolt Brecht) تھا ۔ اس نے دوسری جنگ عظےم سے پہلے لکھنا شروع کےا ۔ 
جرمنی 
نےا نےا فاشٹ ڈکٹےٹر ہےٹل کے زےر اقتدار آرہا تھا ۔ برےخت نے ہٹلر کے خلاف گےت ، 
ڈرامے اور نظمےں لکھےں ۔
اس نے اپنی تصانےف مےں ہٹلر کے ان مظالم کا تذکرہ کےا جو ہٹلر نے ےہودےوں پر کےے 
تھے ۔ اس کو جرمنی سے 
بعد وہ جرمنی واپس آگےا اور اس نے مشرقی جرمنی مےں رہنا پسند کےا کےونکہ وہ 
کمےونسٹ تھا ۔ 
برےخت تھےٹر کا اےک مشہور آدمی تھا ۔ اس نے خود اپنے ڈرامے لکھے اور 
نہاےت لاےق
کام کرنے والے لوگوں کے ساتھ انہےں پےش کےا ۔ اس کے تھےٹر کو برلنےر اےنسےمبل
(Berliner Ensemble) کہتے تھے۔

اسٹےنسلاوسکی کی طرح برےخت بھی اس کا قآئل تھا ادکاروں کو اپنے پےشے 
کی تربےت
حاصل کرنا چاہےے ۔ لےکن اس کے خےال روسی مصنف سے بالکل مختلف تھے ۔ وہ اس

306۔۔۔۔۔۔۔۔۔
0 
﻿
A.Parwez
03-07-02
Urdu
(17) 1

6 اماوس کی رات

دےوالی کی شام تھی۔ سری نگر کے گھوروں اور کھنڈروں کے بھی نصےب جاگ گےئ
تھے۔ گاوئ ں کے لڑ کے لڑکےاں ہنستے کھےلتے چمکتی ہوئی تھالےوں مےں چراغ لےئ ہوےئ 
#مندروں 
کِ جاتے تھے۔ چراغوں سے زےادہ ان کے چہرے روشن تھے۔ ہر درو دےوار روشنی سے 
#جگمگا
رہا تھا۔ صرف پنڈت دےودت کا ہفت منزلہ محل تارےکی مےں کالی گھٹا کی طرح خاموش 
#اور 
ناک کھڑا تھا۔ خموش اس لےئ کے اےام رفتہ کی ےاد سے دل بھرا ہوا تھا اور خوفناک 
اس لےئ کہ جگمگاہٹ گوےا اسے چڑارہی تھی۔ اےک زمانہ وہ تھا کہ حسد بھی اسے دےکھ 
#کر ہاتھ 
ملتا تھا اور اےک زمانہ ےہ ہے کہ حقارت بھی اس پر مسکراتی ہے۔ دروازے پر وردی 
#پوش
دربانوں کے بناےئ اب مدار اور ارنڈ کے درخت کھڑے تھے۔ دےوان خانہ مےں اب اےک 
عاشق تن سانڈ اےنڈا کرتا تھا۔ اور بالا خانوں پر ماہرےن فن کے نغمہ دلآوےز کے بجاےئ اب 
جنگلی کبوتروں کی مستانہ آوازےں سنایئ دےتی تھےں۔ کسی انگرےزی مدرسے کے طالب 
#علم کے 
اخلاق کی طرح اس کی بنےادےں ہل گیئ تھےں اور اس کی دےوارےں کسی بےوہ کے جگر 
#کی طرح چاک 
تھےں۔ بےدارِ زمانہ کا شکوہ کرنا فضول ہے۔ ےہ کج فہمی اور کم اندےشی کی عبرتناک 
#داستان

(18) 2

#تھی۔ 	اماوس کی رات تھی۔ روشنی کے مقابلے کی تاب نہ لاکر تارےکی نے اسی عالی شان 
#محل
مےں پناہ لی تھی۔ پنڈت(ےودت اپنے نےم تارےک کمرے مےں خاموش اور متفکر بےٹھے 
#ہوئے
تھے۔آج اےک مہےنے سے ان کی بےوی گرجا زندگی بے رحم موت کا کھلونا بنی ہوئی 
#تھی۔ وہ
غربت، افلاس کی مصےبتوں کو جھےلنے کے لئے تےار تھے۔ فلسفئہ تقدےر انھےں تشفی دےتا 
#تھا لےکن
ےہ نئی مصےبت قوت برداشت سے باہر تھی۔ بے چارے دن کے دن گرجا کے سرہانے بےٹھے 
#اس کے
مرجھائے ہوئے چہرہ کو دےکھ دےکھ کر گُڑھتے اور روتے تھے۔ گرجا صاحب اپنی زندگی 
#سے ماےوس ہوکر
روتی تو وہ اسے سمجھاتے۔۔گرجا نہ رو۔ تم بہت جلدی اچھی ہو جاوئ گی۔

پنڈت دےو دت کے بزرگوں کا کاروبار بہت فروغ پر تھا۔ وہ لےن دےن کےا کرتے تھے
اور زےادہ تر ان کے بےوپار بڑے بڑے تعلقہ داروں اور راجاوئ ں کے ساتھ تھے۔ اس زمانے
مےں اےمان اتنا ارزاںنہے. بکتا تھا۔ سادے رقعوں اور پرزوں پر لاکھوں کی باتےں ہوجائےں
مگر 57ئ کی ےورش نے کتنے ہی علاقوں اور رےاستوں کو مٹا دےا اور ان کے ساتھ 
#دےوارےوں کا ےہ 
متموں گھرانہ بھی خاک مےں مل گےا۔ اثاثہ لت گےا۔ ےہی کھاتے پنسارےوں کے کام 
#جب ذرا
امن و امان ہوا، رےاستےں پھر سنبھلےں تو زمانہ پلٹ چکا تھا۔ قول تحرےر کا محتاج ہو 
#چکا تھا اور 
تحرےر مےں سادہ اور رنگےن کی تمےز پےدا ہوگیئ تھی جب دےودت نے ہوس سنبھالا تو 
#اس کے پاس
اےک کھنڈر کے سوا اور کویئ جانداد نہ تھی۔ اب گزران کی صورت مفقود تھی۔ 
#کاشتکاری مےں 
محنت اور پرےشانی تھی۔ تجارت کے لےئ سر ماےہ نہ تھا، نہ دماغ۔ علمی استعداد اتنی 
#نہ تھی کہ کویئ 
ملازمت کرتے۔ خاندانی وقار خےرات لےنے مےں حارج تھا۔ بس سال مےں دو تنے بار اپنے 
#بےوپارےوں
کے ےہاں بن بلاے مہمان کے طرح جاتے اورجو کچھ رخصتانہ اور زاراہ ملنا اسی پر گزران 
#کرتے
خاندانی حشمت کی ےادگار کچھ باقی تھی تو وہ ان رقعوں اور ہنڈےوں کا اےک پلندہ 
#تھا، جن کی 
سےاہی بھی حرف باطل کی طرح مت چکی تھی۔ پنڈت دےودت انھےں جان سے زےادہ 
#عزےز رکھتے

(19) 3

تھے۔ دوج کے دن جب گھر گھر لکشمی کی پوجا ہوتی ہے، پنڈت جی اس پلندے کی 
#بہت اہتمام 
کے ساتھ پرستش کرتے۔ لکشمی نہ سہی لکشمی کی ےادگار تو تھی۔ دوج کا دن ان کی 
#ثروت کے 
شرادھ کا دن تھا۔ اسے چہے بو الہوسی کہو چاہے کمزوری۔ مگر پنڈت ممدوح کو ان 
#پرزوں
پر بڑا ناز تھا۔ آےئ دن کی مناقشات مےں ےہ بوسےدہ کاغزی فوج بڑا کام کرتی اور فرےق 
مخالف کو اپنی ہار ماننی پڑتی۔ اگر ستر پشتوں سے ہتھےار کی صورت نہ دےکھنے پر 
#لوگ چھتری ہونے
کا فخر کر سکتے ہےں تو بنڈت دےودت کو ان نوشتوں پر فخر کرنا زےادہ بے موقع نہےں 
#معلوم ہوتا جن 
مےں ستر لاکھ کی رقم چھپی ہویئ تھی۔

6(2)

وہی اماوس کی رات تھی مگر چراغ اپنی مختصر زندگےاں ختم کر چکے تھے اور 
#رات کی تارےکی 
مےں زےادہ اخلاقی تارےکی کا غلبہ تھا۔ چوروں اور جوارےوں کے لےئ ےہ شگون کی رات 
#تھی کےوں کہ 
آج کی ہار سال بھر کی ہار ہوتی ہے۔ لکشمی کی امد آمد تھی اس لےئ ان کا پےش 
#خےمہ آچکا تھا۔ جا بجا
کوٹےوں پر اشرفےاں لٹ رہی تھےں۔ پےر مغاں بھی آج نخرے کر رہا تھا۔ مےخانے مےں 
#شراب کے 
بدلے پانی بک رہا تھا۔ پنڈت دےودت کے سوا قصبے مےں کویئ اےسا شخص نہ تھا جو 
#دوسروں کی کماںئ 
سمےٹنے کی فکر مےں نہ ہو۔ آج صبح ہی سے گرجا کی حالت خراب تھی اور سر شام 
#سے اس پر غشی 
طاری تھی۔ ےکاےک اس نے چونک کر آنکھےں کھولےں اور نہت مدزم آواز سے بولی۔۔ آج 
#تو 
دےوالی ہے

دےودت پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ گرجانے پھر اسی لجہے مےں کہا۔۔دےکھو آج 
#برس

(20) 4

برس کے دن گھر مےں اندھےرا رہ گےا۔ مجھے اٹھا دو۔ مےں اپنے گھر مےں دےے جلاوئ ں 
#گی۔

ےہ باتےں دےودت کے دل مےں چبھی جاتی تھےں۔ انسان کے آخری لمحے خوشےوں 
#اور 
آرزورں کے خےال مےں کٹتے ہےں۔ گرجا موت کے منھ مےں تھی مگر آرزوئ وں کا خواب 
#دےکھ رہی 
تھی۔

اس قصبہ مےں لالہ شنکرداس مشہور دےد تھے۔ ضلع کی آےوروےدک سوسائٹی کے 
#روح رواں
اوشدھا لےے مےں ادےہ کے بجاےئ چھاپنے کی پرےس رکھے ہوےئ تھے۔ دوائےں کم بنتی 
#تھےں مگر
اشتہار زےادہ چھپتے تھے۔ جرک اور سشرت پر قانع نہ ہو کر انھوں نے نئے طبئی اصولوں 
#کی 
تلقےم شروع کی تھی۔ تندرستی انسان کا طبعی حق ہے۔ بےماری صرف اےک رتسےانہ 
#تکلّف ہے
اور پولٹےکل اکانومی کے مسئلہ کے مطابق نکّافات سے جس قدر زےادہ ممکن ہو ٹےکس لےنا 
#چاہےئ
اسی اصول پر وہ مرےضوں کے ساتھ مطلق رورعاےت نہےں کرتے تھے۔ اگر کویئ غرےب ہو 
#تو ہو 
اگر کویئ مرتا ہے تو مرے۔ اسے کےا حق ہے کہ وہ بےمار پڑے اور مفت مےں علاج کرائے۔ 
#ہندوستان 
کی ےہ حالت نہت کچھ مفت علاج کے ہاتھوں ہویئ ہے۔ اس نے آدمےوں کو بے احتےاط اور 
#کمزور 
بنادےا ہے۔ دےودت مہےنہ بھر سے روز ان کے ےہاں دوا لےنے آےا کرتا تھا۔ لےکن زےد جی 
#کبھی اےسی 
ہمدردی سے مخاطب نہ ہوےئ کہ اسے عرض حال کا حوصلہ ہوتا۔ ان کے دل کے کمزور 
#حصّے تک 
پہنچنے کے لےئ اس نے بہت ہاتھ پےر چلائے۔ انکھوں مےں انسو بھرے آتا مگر دےد جی 
#کا دل مضبوط
تھا۔ اس مےں کمزور حصہ تھا ہی نہےں۔

وہی اماوس کی ڈراوئنی رات تھی۔ آسمانی شمعےں آدھی رات گزرنے پر اب اور 
#بھی زےادہ 
روشن ہوگیئ تھےں۔ گوےا وہ سری نگر کے بجھے ہوےئ چراغوں پر فاتحانہ مسرت کے 
#ساتھ مسکرا
رہی تھی۔ دےودت اےک عالم اضطراب مےں گرجا کے سرہانے سے اٹھے اور دےد جی کے مکان 
#کی 
طرف چلے۔ وہ جانتے تھے کہ لالہ اتنی رات گئے بلا اپنا حق خدمت لےئ ہر گز نہ آئےں گے 
#لےکن 
ماےوسی مےں بھی امےد پےچھا نہےں چھوڑتی۔ دےودت قدم آگے بڑھاتا چلا جاتا تھا۔

(21) 5
6 (3)6

حکےم جی اس وقت اپنی مجرب تےر بہدف امرت بندو کا اشتہار لکھنے مےں محو 
#تھے اور 
اس اشتہار کی پرتا ثےر عبارت، مصورانہ رنگےنی اور پرزور کشش کے اعتبار سے ےہ فےصلہ 
#کرنا دشوار 
تھا کہ وہ حکےم حاذق تھے ےا ناثر جادو طراز۔

ناظرےن آپ جانتے ہےں کہ مےں کون ہوں؟ آپ کا زرد چہرہ آپ کا تن لاغر۔ آپ 
#کا 
ذرا سی محنت مےں بے دم ہو جانا۔ آپ کا لذّات دنےا سے بے فےض رہنا۔ آپ کی خانہ 
#تارےکی۔ ےہ 
سب اس سوال کا نفی مےں جواب دےتے ہےں۔ سننے مےں کون ہوں۔ مےں وہ شخص ہوں 
#جس نے 
امراض انسانی کو پردہ دنےا سے معدوم کر دےنے کا بےڑہ اٹھاےا ہے۔ جن نے اشتہار باز جو 
#فروش 
گندم نما۔ نام نہاد حکےموں کو بےخ و بن سے دھود کر پاک کر دےنے کا عزام بالجزم کر لےا 
#ہے۔ مےں وہ 
حےرت انگےز انسان ضعےف البےان ہوں جو ناشاد کو دل شاد، نا مراد کو با مراد، بگوڑے کو 
#دلےر،
گےدڑ کو شےر بناتا ہوں۔ اور ےہ کسی جادو سے نہےں منتر سے نہےں۔ ےہ مےری اےجاد 
#کردہ امرت
بندو کے ادنیٰ کرشمے ہےں۔ امرت بندو کےا ہے اسے کچھ مےں ہی جانتا ہوں۔ مہرشی 
#اگست نے 
دھنونتری کے کان مےں اس کا نسخہ بتلاےا تھا۔ جس وقت آپ وی۔پی۔پارسل کھولےں 
#گے آپ 
پر اس کی گقےقت روشن ہو جاےئ گی۔ وہ آب حےات ہے۔ وہ مردانگی کا جوہر۔ 
#فرزانگی کی 
اکسےر عقل کا منبع اور ذہن کا صےقل ہے۔ اگر برسوں کے شعر بازی نے بھی آپ کو شاعر 
#نہےں بناےا
اگر شبانہ روز کی رٹنت سے بھی آپ امتحان مےں کامےاب نہےں ہو سکے۔ اگر دلالوں کی 
#خوشامد
رموکلوں کی ناز برداری کے باوجود آپ احاطہ عدالت مےں بھوکے کتّے کی طرح چکّر لگاتے 
مرتے ہےں۔ اگر آپ گلا پھاڑ پھاڑ کر چےخنے اور مےز پر ہاتھ پےر پٹکنے پر بھی اپنی 
#تقرےر مےں کویئ
پےدا نہےں کر سکتے تو آپ امرت بدو کا استعمال کےجےئ۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ جو 
#پہلے
ہی دن معلوم ہو جاےئ گا، ےہ ہوگا کہ آپ کی آنکھےں کھل جائےں گی اور آپ پھر 
#کبھی اشتہار باز حکےموں 
(22) 6

کے دام فرےب مےں نہ پھنسےں گے۔

وےد جی اس اشتہار کو ختم کر کے بے آواز بلند پڑھ رہے تھے ان کی آنکھوں مےں 
#غرور 
کا جائزہ اور آنے والی کامےبابی کی امےد جھلک رہی تھی کہ اتنے مےں دےودت نے باہر 
سے آواز دی۔ وےدجی بہت خوش ہوےئ۔ رات کے وقت ان کی فےس دوگنی تھی۔ لالٹےن 
#لےئ ہوےئ باہر 
نکلے تو دوےدت روتا ہوا ان کے پےروں سے لپٹ گےا اور بولا۔ وےد جی اس وقت مجھ پر 
#رحم 
کےجےئ۔ گرجا اب کویئ دم کی مہمان ہے۔ آپ ہی اس بچا سکتے ہےں۔ ےوں تو مےرے 
#نصےب مےں 
جو کچھ لکھا ہے وہ ہو کر رہے گا مگر اس وقت آپ چل کر ذرا اسے دےکھ لےں تو مےرے 
#آنسو پچھ
#جائےں گے۔ مجھے تسکےن ہو جاےئ گی کہ اس کی خاطر مجھ سے جو کچھ ہو سکتا 
تھا وہ مےں نے کےا۔
اےشور جنتا ہے۔ مےں اس قابل نہےں ہوں کہ آپ کی کچھ خدمت کر سکوں لےکن جب 
#تک 
جےوںگا آپ کا جس گاوئ ں گا اور آپ کے آساروں کا غلام بنارہوں گا۔

حکےم جی کو پہلے تو ترس آےا۔ مگر ےہ جگنو کی چمک تھی جو بہت جلد خود 
#غرضی کی تارےک 
دسعت مےں غائب ہوگیئ۔

6 (4)

وہی اماوس کی رات تھی۔ پھڑوں پر بھی ےFBا$OOLجRگKٔ0	ے8	ٔ $ٔEj#لک$:ڑ
ن STٔجگج کر$انعام دے رMے تھے۔ ہارؐIّ 2	ّ9"AمCٔۆ]e\ACئdAIdA{sDAEتئتئی
﻿
Dilshad
03-07-02
Urdu
60(217) 1

دباوئ ڈالنے کے لےے ان کے اشتہارات بند کردےے۔ اس کے برعکس ملک 
کی اقتصادی ترقی بھی اخبارات کی مالی حالت پر گہر اثر ڈالتی ہے۔ 
اقتصادی ترقی کا مطلب ہے کاروباری سرگرمےوں مےں اضافہ 
اور صنعتی ترقی کے نتےجہ مےں باہمی مسابقت کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور 
ہر ادارے اور کارخانے کی ےہی کوشش ہوتی ہے کہ اس کا مال زےادہ سے
زےادہ فروخت ہو۔ چنانچہ ےہ ادارے اور کاخانے زےادہ سے زےادہ صارفوں 
کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہےں اور اس طرح اپنی تشہےری 
سرگرمےوں کو زےادہ وسعت دےتے ہےں۔ اس کے نتےجے مےں اخبارات کی طرف 
رجوع کےا جاتا ہے اور ان مےں زےادہ سے زےادہ اشتہارات شائع کرائے جاتے 
ہےں۔ اس طرح اخبارات کی آمدنی بڑھتی ہے اور ان کی مالی صورت حال 
مستحکم ہوتی چلی جاتی ہے۔ اخبارات مےں اشتہار دےنے کا اےک فائدہ تو 
ےہ ہوتا ہے کہ ےہ اشتہارات مستقل حےثےت اختےار کرلےتے ہےں۔ رےڈےو اور 
ٹےلی وژن کے اشتہار کی حےثےت وقتی ہوتی ہے اور وہ دےر پا اثر نہےں 
ڈالنے جب کہ اخبارات مےں چھپنے والا اشتہار اس وقت موجود رہتا ہے
جب تک خود اخبار پرزے پرزے نہ ہوجائے۔ جس قدر بھی لوگ اخبار 
پڑھےں گے وہ کم از کم اےک مرتبہ اشتہار پر نظر ضرور ڈالےں گے۔ 
اس کے علاوہ اخبارات کے ذرےعے اشتہار دےنے مےں ےہ فائدہ بھی ہوتا
ہے کہ ان اشتہارات کو علاقائی ضرورتوں سے ہم آہنگ کےا جاسکتا 
ہے۔ مثلاََ ملک کے شمالی علاقوں مےں سردی جلد شروع ہوتی ہے اس لےے
ان علاقوں مےں شائع ہونے والے اخبارات ےا ان علاقوں مےں بھےجنے
جانے والے اےڈےشنوں مےں گرم کپڑوں اور کوئلے وغےرہ کے اشتہارات 
اکتوبر، نومبر مےں شائع کرائے جاسکتے ہےں اور پنجاب، سندھ
اور کراچی کے اخبارات مےں ان اشےا کی تشہےر بعد مےں شروع کی جاتی 
ہے۔ اس کے علاوہ ےہ طرےق کار نئی مصنوعات کی تشہےر کی خاطر بھی 
سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔ جےسا کہ بتاےا جاچکا ہے کہ جو نئی اےجاد 
کی فروخت اور تشہےر ابتدا مےں محدود پےمانے اور تجرباتی طور پر شروع
کی جاتی ہے اور اس مقصد کی خاطر علاقائی اخبارات اور مقامی اےڈےشنوں 
مےں اشتہارات دےے جاتے ہےں جب کہ دوسرے ذرائع تشہےر صرف
دباوئ ڈالنے کے لےے ان کے اشتہارات بند کردےے۔ اس کے برعکس ملک 
کی اقتصادی ترقی بھی اخبارات کی مالی حالت پر گہر اثر ڈالتی ہے۔ 
اقتصادی ترقی کا مطلب ہے کاروباری سرگرمےوں مےں اضافہ 
اور صنعتی ترقی کے نتےجہ مےں باہمی مسابقت کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور 
ہر ادارے اور کارخانے کی ےہی کوشش ہوتی ہے کہ اس کا مال زےادہ سے
زےادہ فروخت ہو۔ چنانچہ ےہ ادارے اور کاخانے زےادہ سے زےادہ صارفوں 
کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہےں اور اس طرح اپنی تشہےری 
سرگرمےوں کو زےادہ وسعت دےتے ہےں۔ اس کے نتےجے مےں اخبارات کی طرف
سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔ جےسا کہ بتاےا جاچکا ہے کہ جو نئی اےجاد 
کی فروخت اور تشہےر ابتدا مےں محدود پےمانے اور تجرباتی طور پر شروع
کی جاتی ہے اور اس مقصد کی خاطر علاقائی اخبارات اور مقامی اےڈےشنوں 
مےں اشتہارات دےے جاتے ہےں جب کہ دوسرے ذرائع تشہےر صرف
دباوئ ڈالنے کے لےے ان کے اشتہارات بند کردےے۔ اس کے برعکس ملک 
کی اقتصادی ترقی بھی اخبارات کی مالی حالت پر گہر اثر ڈالتی ہے۔ 
اقتصادی ترقی کا مطلب ہے کاروباری سرگرمےوں مےں اضافہ 
اور صنعتی ترقی کے نتےجہ مےں باہمی مسابقت کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور 
ہر ادارے اور کارخانے کی ےہی کوشش ہوتی ہے کہ اس کا مال زےادہ سے
زےادہ فروخت ہو۔ چنانچہ ےہ ادارے اور کاخانے زےادہ سے زےادہ صارفوں 
کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہےں اور اس طرح اپنی تشہےری 
سرگرمےوں کو زےادہ وسعت دےتے ہےں۔ اس کے نتےجے مےں اخبارات کی طرف
رجوع کےا جاتا ہے اور ان مےں زےادہ سے زےادہ اشتہارات شائع کرائے جاتے 
ہےں۔ اس طرح اخبارات کی آمدنی بڑھتی ہے اور ان کی مالی صورت حال 
مستحکم ہوتی چلی جاتی ہے۔ اخبارات مےں اشتہار دےنے کا اےک فائدہ تو 
ےہ ہوتا ہے کہ ےہ اشتہارات مستقل حےثےت اختےار کرلےتے ہےں۔ رےڈےو اور 
ٹےلی وژن کے اشتہار کی حےثےت وقتی ہوتی ہے اور وہ دےر پا اثر نہےں 
ڈالنے جب کہ اخبارات مےں چھپنے والا اشتہار اس وقت موجود رہتا ہے
جب تک خود اخبار پرزے پرزے نہ ہوجائے۔ جس قدر بھی لوگ اخبار 
پڑھےں گے وہ کم از کم اےک مرتبہ اشتہار پر نظر ضرور ڈالےں گے۔ 
اس کے علاوہ اخبارات کے ذرےعے اشتہار دےنے مےں ےہ فائدہ بھی ہوتا
ہے کہ ان اشتہارات کو علاقائی ضرورتوں سے ہم آہنگ کےا جاسکتا 
ہے۔ مثلاََ ملک کے شمالی علاقوں مےں سردی جلد شروع ہوتی ہے اس لےے
ان علاقوں مےں شائع ہونے والے اخبارات ےا ان علاقوں مےں بھےجنے
جانے والے اےڈےشنوں مےں گرم کپڑوں اور کوئلے وغےرہ کے اشتہارات 
اکتوبر، نومبر مےں شائع کرائے جاسکتے ہےں اور پنجاب، سندھ
اور کراچی کے اخبارات مےں ان اشےا کی تشہےر بعد مےں شروع کی جاتی 
ہے۔ اس کے علاوہ ےہ طرےق کار نئی مصنوعات کی تشہےر کی خاطر بھی 
سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔ جےسا کہ بتاےا جاچکا ہے کہ جو نئی اےجاد 
کی فروخت اور تشہےر ابتدا مےں محدود پےمانے اور تجرباتی طور پر شروع
کی جاتی ہے اور اس مقصد کی خاطر علاقائی اخبارات اور مقامی اےڈےشنوں 
مےں اشتہارات دےے جاتے ہےں جب کہ دوسرے ذرائع تشہےر صرف
60(218) 2

ملک گر بنےادوں پر بھی تشہےر کا کام کرسکتے ہےں۔ اخبارات کے ذرےعے 
تشہےر کا کام جدےد مصروف دور مےں اس قدر اہمےت اختےار کرچکا ہے کہ 
صارفےن اپنی ضرورت کا مال خرےدنے کی خاطر اشتہارات منڈی کے مجموعی 
رجحان کا اندازہ کرنے مےں بھی معاون ثابت ہوتے ہےں اور ان کے ذرےعے 
اندازہ لگا کر ہی تاجر و کارخانہ دار اپنی فروخت و پےداوار کی 
منصوبہ بندی کرتے ہےں۔

تاہم تشہےر کے صرف اخباری اشتہارات پر انحصار کرنا زےادہ 
سود مند ثابت نہےں ہوسکتا کےونکہ اےسے اشتہارات کی عمر کم اور 
اس طرح اثر بھی تھوڑا ہوتا ہے۔ کےونکہ اخبار کا اےک قاری اسے بار بار 
نہےں پڑھتا اور ہر روز اخبار پڑھنے کے بعد وہ اس کی طرف دوبارہ توجہ
نہےں دےتا اور اگلے روز کے اخبارا کا منتظر رہتا ہے۔ اس لےے اخبارات 
مےں شآئع ہونے والے اشتہارات بھی اگلے روز ہی اس کے لےے غےر اہم 
ہوجاتے ہےں۔ دوسرے اس جدےد دور مےں جب کہ مصروفےت بہت 
بڑھ چکی ہے۔ قاری اخبارات پر سرسری نظر ڈالتے ہےں اور صرف خبروں
سود مند ثابت نہےں ہوسکتا کےونکہ اےسے اشتہارات کی عمر کم اور 
اس طرح اثر بھی تھوڑا ہوتا ہے۔ کےونکہ اخبار کا اےک قاری اسے بار بار 
نہےں پڑھتا اور ہر روز اخبار پڑھنے کے بعد وہ اس کی طرف دوبارہ توجہ
نہےں دےتا اور اگلے روز کے اخبارا کا منتظر رہتا ہے۔ اس لےے اخبارات 
مےں شآئع ہونے والے اشتہارات بھی اگلے روز ہی اس کے لےے غےر اہم 
ہوجاتے ہےں۔ دوسرے اس جدےد دور مےں جب کہ مصروفےت بہت 
بڑھ چکی ہے۔ قاری اخبارات پر سرسری نظر ڈالتے ہےں اور صرف خبروں
اور اشتہارات کی طرف قدرے توجہ دےتے ہےں جن مےں ان کو کچھ
کرنے کی کوشس خاص کامےاب ثابت نہےں ہوتی۔ اس کے علاوہ اخبارات 
مےں شائع ہونے والے اشتہارات اس قدر خوبصورت اور جاذب نظر نہےں 
ہوتے جتنے رسائل، ٹےلی وژن اور فلموں کے ذرےعے پےش کےے جانے والے 
اشتہارات ہوتے ہےں۔

اخبارات مےں اشتہارات شائع کراتے وقت ان کے حلقہ اشاعت کو 
بھی مد نظر رکھا جاتا ہے۔ عام طور پر صبح کو شائع ہونے والے 
اخباروں کے حلقہ اشاعت زےادہ وسےع ہوتا ہے ےہ اخبار نہ صرف مقامی 
ضرورےات پوری کرتے ہےں بلکہ دور دراز علاقوں کو بھی روانہ کےے
جاتے ہےں۔ اس کے علاوہ ان کی طباعت رات گئے شروع ہوتی ہے اس لےے
ان مےں تازہ ترےن خبرےں شامل کردی جاتی ہےں۔ ظاہر ہے کہ ان 
اخبارات کی پہنچ زےادہ لوگوں تک ہوتی ہے۔ اس لےے ان مےں اشتہار 
دےنا زےادہ سود مند ثابت ہوتا ہے اور تشہےر کے ادارے زےادہ تر ان 
60(219) 3

اخبارات کی طرف ہی رجوع کرتے ہےں اور ظاہر ہے کہ ان اخبارات مےں 
اشتہار شائع کرنے کے اخراجات بھی زےادہ ہوتے ہےں۔ اس کے برعکس 
شام کو شائع ہونے والے اخبار کا حلقہ اشاعت محدود ہوتا ہے اور اس کے 
قارےوں کی تعداد کم ہوتی ہے چنانچہ اےسے اخبارات مےں اشتہار شائع 
کرانے کی لاگت کم ہوگی۔

تمام کاروباری اور صنعتی ادارے اخبارات کو اپنا اشتہار دےتے وقت
اس بات کا خاص طور پر خےال رکھتے ہےں کہ ان اخبارات کے قاری کس 
قسم کے اور کس نوعےت کے ہےں۔ سامان آرائش اور گھرےلو استعمال کی 
اشےا تےار اور فروخت کرنے والے اےسے اخبارات و رسائل مےں اپنا 
اشتہار شائع کرانے کو ترجےح دےں گے جو خواتےن مےں زےادہ مقبول ہوں 
ےا صرف خواتےن کے لےے مخصوص ہوں۔ مثلا ہمارے اخبار خواتےن، 
اخبار جہاں ، ماہنامہ زےب النسا اور حور وغےرہ کی ورق گردانی 
اشےائ سامان آرائش (کرےم پوڈر وغےرہ) اور اشےائے مثلاََ بناسپتی گھی اور 
کپڑے وغےرہ کے اشتہارات زےادہ ہوتے ہےں۔ اس کے برعکس جو 
اخبارات و رسائل مردوں کے زےر مطالعہ آتے ہےں ان مےں ہر قسم کی اشےا 
سرکاروں سے لے کر جوتوں تک کے اشتہارات موجود ہوتے ہےں۔

اشتہارات شائع کرنے کا اےک اہم ذرےعہ اخبارات کے خصوصی 
ضمےمے بھی ہوتے ہےں۔ در حقےقت اخبارات ےہ ضمےمے شائع ہی اشتہارات 
حاصل کرنے کے لےے کرتے ہےں۔ ابتدائی دور مےں ہمارے ہاں صرف اتوار 
کو ضمےہ شائع کےا جاتا تھا۔ جس مےں اشتہارات کے علاوہ مخصوص 
قسم کے مضامےن شائع کےے جاتے تھے۔ تاہم چند سال بعد کچھ اخبارات 
نے جمعتہ المبارک کے روز ضمےہ شائع کرنا شروع کےا۔ اب تو ےہ حال 
ہے کہ ہر اخبار کے روز ضمےہ شائع کرنا شروع کےا۔ اب تو ےہ حال 
ہے کہ ہر اخبار اےک ماہ مےں کم از کم دس خصوصی ضمےمے شائع کرتا 
ہے کےونکہ ےہ طرےق کار اخبار کو عوام سے روشناس کرانے، اشتہارات 
حاصل کرنے اور آمدنی مےں اضافے کا اےک اہم ذرےعہ ثابت ہوئے ہےں 
اس وقت ہمارے ہاں اہم اخبارات نہ صرف اتوار اور جمعتہ المبارک کو 
خصوصی ضمےمے شائع کرتے ہےں بلکہ خصوصی تقرےبات کے موقع پر اور 
خاص مقامات کے متعلق بھی ضمےمے شائع کےے جاتے ہےں۔ مثلاََ عےدےن اور
ضمےمے بھی ہوتے ہےں۔ در حقےقت اخبارات ےہ ضمےمے شائع ہی اشتہارات 
حاصل کرنے کے لےے کرتے ہےں۔ ابتدائی دور مےں ہمارے ہاں صرف اتوار 
کو ضمےہ شائع کےا جاتا تھا۔ جس مےں اشتہارات کے علاوہ مخصوص 
قسم کے مضامےن شائع کےے جاتے تھے۔ تاہم چند سال بعد کچھ اخبارات 
نے جمعتہ المبارک کے روز ضمےہ شائع کرنا شروع کےا۔ اب تو ےہ حال 
ہے کہ ہر اخبار کے روز ضمےہ شائع کرنا شروع کےا۔ اب تو ےہ حال 
ہے کہ ہر اخبار اےک ماہ مےں کم از کم دس خصوصی ضمےمے شائع کرتا 
ہے کےونکہ ےہ طرےق کار اخبار کو عوام سے روشناس کرانے، اشتہارات 
حاصل کرنے اور آمدنی مےں اضافے کا اےک اہم ذرےعہ ثابت ہوئے ہےں 
اس وقت ہمارے ہاں اہم اخبارات نہ صرف اتوار اور جمعتہ المبارک کو 
خصوصی ضمےمے شائع کرتے ہےں بلکہ خصوصی تقرےبات کے موقع پر اور 
خاص مقامات کے متعلق بھی ضمےمے شائع کےے جاتے ہےں۔ مثلاََ عےدےن اور
60(220) 4

محترم الحرام، مختلف مےلوں اور نمائشوں کے موقع پر خصوصی نمبر شائع 
کرنے کے علاوہ فےصل آباد سپلےمنٹ، سرگودھا سپلےمنٹ، ٹےکسٹائل 
سپلےمنٹ اور مشروبات نمبر شائع کرنے کا رواج بھی بڑھ چکا ہے۔ ادھر 
فن طباعت کی ترقی نے ان ضمےموں کو خوبصورت تصاوےر اور حسےن 
رنگوں سے مزےن کرنے کی راہ بھی کھول دی ہے۔

0براہ راست خط و کتابت :

طبع شدہ تشہےر کا اےک اور ذرےعہ براہ راست خط و کتابت بھی ہے۔ 
بلکہ اسے اشتہارات پر اےک طرح سے فوقےت بھی حاصل ہے کےونکہ ہر 
کاروباری ادارہ اپنے کاروبار کا آغاز ہی براہ راست خط و کتابت کے 
ذرےعے کرتا ہے اور ڈاک کے ذرےعے اپنے متوقع صارفوں سے رابطہ قائم 
کرتا ہے اور بعد مےں جب دوسرے ذرائع تشہےر سے رجوع کےا جاتا ہے۔
امرےکہ اور ےورپ مےں ےہ طرےق کار اس قدر سود مند ثابت ہوا کہ اب 
وہاں تمام ذرائع تشہےر مےں اہمےت کے لحاظ سے تےسرے درجے پر رکھا 
جاتا ہے۔ امرےکہ مےں تو اس طرےق کار کو 1775ئ مےں بنجامن فرنےکلن 
نے رائج کےا مگر برصغےر مےں ےہ طرےقہ صدےوں پہلے رائج تھا۔ مختلف 
شہروں اور علاقوں کے درمےان ڈاک کا اےک موثر نظام قائم تھا۔
پندرہوےں اور سولہوےں صدی عےسوی مےں جب مسلمانوں نے برصغےر مےں
اےک مضبوط اور پائےدار سلطنت قائم کی اور ےہاں کے عوام کی اقتصادی 
زندگی کا معےار بلند کےا تو ےہاں کروبار اور تجارت نے بھی نماےاں طور پر 
ترقی کی۔ چنانچہ، دہلی، آگرہ، لاہور، پشاور اور ڈھاکہ کے تاجروں کے
مابےن براہ راست خط و کتابت کے ذرےعے ہی کاروبار ہوتا ہے۔ ےہ تاجر 
نہ صرف اےک دوسرے کو انھی ضرورےات سے آگاہ کرتے تھے بلکہ اپنے 
خطوط مےں اس مال کی تفصےل بھی بےان کرتے تھے جو وہ دوسری منڈےوں 
کو روانہ کرنے کے قابل ہوتے۔ اس کے ساتھ ہی ان تاجروں نے تمام 
اندرون ملک کے قائل ہوتے۔ اس کے ساتھ ہی ان تاجروں نے تمام 
اندرون ملک مےں اپنی تجارتی کوٹھےاں قائم کر رکھی تھےں جہاں ان کے 
گاشتے مقامی مال خرےد کر روانہ کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی وہ تمام 
منڈی کی کےفےت سے بھی اپنے مالکوں کو آگاہ کرتے اور بتاتے کہ ان
بلکہ اسے اشتہارات پر اےک طرح سے فوقےت بھی حاصل ہے کےونکہ ہر 
کاروباری ادارہ اپنے کاروبار کا آغاز ہی براہ راست خط و کتابت کے 
ذرےعے کرتا ہے اور ڈاک کے ذرےعے اپنے متوقع صارفوں سے رابطہ قائم 
کرتا ہے اور بعد مےں جب دوسرے ذرائع تشہےر سے رجوع کےا جاتا ہے۔
امرےکہ اور ےورپ مےں ےہ طرےق کار اس قدر سود مند ثابت ہوا کہ اب 
وہاں تمام ذرائع تشہےر مےں اہمےت کے لحاظ سے تےسرے درجے پر رکھا 
جاتا ہے۔ امرےکہ مےں تو اس طرےق کار کو 1775ئ مےں بنجامن فرنےکلن 
نے رائج کےا مگر برصغےر مےں ےہ طرےقہ صدےوں پہلے رائج تھا۔ مختلف 
شہروں اور علاقوں کے درمےان ڈاک کا اےک موثر نظام قائم تھا۔
پندرہوےں اور سولہوےں صدی عےسوی مےں جب مسلمانوں نے برصغےر مےں
اےک مضبوط اور پائےدار سلطنت قائم کی اور ےہاں کے عوام کی اقتصادی 
زندگی کا معےار بلند کےا تو ےہاں کروبار اور تجارت نے بھی نماےاں طور پر 
ترقی کی۔ چنانچہ، دہلی، آگرہ، لاہور، پشاور اور ڈھاکہ کے تاجروں کے
مابےن براہ راست خط و کتابت کے ذرےعے ہی کاروبار ہوتا ہے۔ ےہ تاجر 
نہ صرف اےک دوسرے کو انھی ضرورےات سے آگاہ کرتے تھے بلکہ اپنے 
خطوط مےں اس مال کی تفصےل بھی بےان کرتے تھے جو وہ دوسری منڈےوں 
کو روانہ کرنے کے قابل ہوتے۔ اس کے ساتھ ہی ان تاجروں نے تمام 
اندرون ملک کے قائل ہوتے۔ اس کے ساتھ ہی ان تاجروں نے تمام 
اندرون ملک مےں اپنی تجارتی کوٹھےاں قائم کر رکھی تھےں جہاں ان کے 
گاشتے مقامی مال خرےد کر روانہ کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی وہ تمام 
منڈی کی کےفےت سے بھی اپنے مالکوں کو آگاہ کرتے اور بتاتے کہ ان
60(221) 5

منڈےوں مےں کس قسم کے مال کی کھپت ہوسکتی ہے اور کس قسم کا 
مال باہر روانہ کےا جاسکتا ہے۔ دوسرے الفاظ مےں ان منڈےوں مےں 
فروخت کے لےے موجود سامان کی اطلاع خط و کتابت کے ذرےعے ہی دی 
جاتی تھی۔ اس طرےق کار نے اتنی ترقی کرلی کہ انگرےزوں کو اسے
برقرار رکھنا پڑا اور بعد ازاں اسی طرےقے کو ترقی دے کر ڈاک کے 
موجودہ نظام کی صورت دے دی گئی۔

جدےد دور مےں براہ راست خط و کتابت کے ذرےعے تشہےر کو 
خاص اہمےت حاصل ہے۔ ےورپ و امرےکہ کا ہر اہم اور قابل ذکر کاروباری 
اور صنعتی ادارہ اپنے اےجنٹوں اور پرچون فروشوں سے براہ راست خط و 
تازہ ترےن مال کی خصوصےات سے آگاہ کرتا رہتا ہے۔ پھر ادارہ اےک محدود 
پےمانے پر خبرنامہ چھاپ کر اپنے متوقع صارفوں کو روانہ کرتا رہتا ہے
درج ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ےہ ادارے اپنے دےدہ زےب اشتہارات، پوسٹ 
کارڈ، کےلنڈر، اور سٹےشنری وغےرہ بھی اپنے متوقع صارفوں مےں تقسےم 
کرتے رہتے ہےں۔ ےہ تمام سرگرمےاں براہ راست کوشش کے ضمن مےں ہی 
عےد ےا ےوم آزادی کے موقعہ پر تہنےتی کارڈ بھی روانہ کرتے ہےں جب کہ
خاص اہمےت حاصل ہے۔ ےورپ و امرےکہ کا ہر اہم اور قابل ذکر کاروباری 
اور صنعتی ادارہ اپنے اےجنٹوں اور پرچون فروشوں سے براہ راست خط و 
تازہ ترےن مال کی خصوصےات سے آگاہ کرتا رہتا ہے۔ پھر ادارہ اےک محدود 
پےمانے پر خبرنامہ چھاپ کر اپنے متوقع صارفوں کو روانہ کرتا رہتا ہے
درج ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ےہ ادارے اپنے دےدہ زےب اشتہارات، پوسٹ 
کارڈ، کےلنڈر، اور سٹےشنری وغےرہ بھی اپنے متوقع صارفوں مےں تقسےم 
کرتے رہتے ہےں۔ ےہ تمام سرگرمےاں براہ راست کوشش کے ضمن مےں ہی 
عےد ےا ےوم آزادی کے موقعہ پر تہنےتی کارڈ بھی روانہ کرتے ہےں جب کہ
قابل فروخت مال کی فہرست بزرےعہ ڈاک ارسال کرنے کا طرےقہ بھی 
روز بروز مقبول ہوتا جارہا ہے۔

اس طرےق کار کے تحت زےادہ وقت اور سرماےہ ضائع کےے بغےر ہی 
متوقع نتائج حاصل کرنے مےں کامےابی ہوتی ہے۔ کےونکہ ڈاک کے ذرےعے 
صارفوں سے رابطہ قائم کرنے کا خاطر خواہ نتےجہ برآمد ہوسکتا ہے
اس لےے وسےع پےمانے پر تشہےر شروع کرنے اور بھاری رقم صرف کرنے 
کی ضرورت ہی پےش نہےں آتی۔ اس کے علاوہ رابطہ صرف ان لوگوں سے
ہے اس لےے کامےابی کا امکان زےادہ ہوتا ہے اور پھر صارفوں سے رابطہ 
قائم کرنے مےں وقت بھی تھوڑا لگتا ہے کےونکہ ڈاک اےک دو روز مےں 
صارفوں تک پہنچ جاتی ہے۔ جب کہ اشتہارات اخبار مےں شائع کرنے 
60(222) 6

اور پھر عوام تک پہنچنے مےں طوےل عرصہ صرف ہوجاتا ہے۔ براہ راست 
خط و کتابت کا اےک فائدہ بھی ہے۔ کہ اس کے ذرےعے صارفوں کو مال 
مکمل تفصےلات سے آگاہ کےا جاسکتا ہے اور صارفوں کو ضرورت 
پڑنے پر بعض ذاتی امور کی وضاحت بھی کی جاسکتی ہے۔

تشہےر مےں نشانات، علامتےں اور تجارتی نشان کے نمونے 
60(223) 7

اس طرےقہ کے مخالفوں کا اےک اہم ترےن اعتراض ےہ ہے کہ ےہ فن 
تشہےر کے بنےادی اصولوں کے ہی خلاف ہے کےونکہ فن تشہےر کا مقصد 
زےادہ سے زےادہ لوگوں کی توجہ حاصل کرنا ہے۔ جب کہ براہ راست
خط و کتابت کے ذرےعے بہت تھوڑے لوگوں سے رابطہ قائم کےا جاسکتا 
ہے۔ اس کے علاوہ ہر مکتوب الےہ کو متاثر کرنے کے اس کی ذاتی 
ضرورےات اور ذہنی کےفےت کو مد نظر رکھنا لازمی ہوتا ہے۔ اس طرح 
ضروری ہے کہ ہر متوقع صارف کی طرف فرداََ فرداََ توجہ دی جائے لہذا 
ےہ طرےقہ وقت کے ضےاع کا باعث بن جاتا ہے اور پھر اس طرےق کار کی 
کامےابی کا انحصار بڑی حد تک اس امر پر ہے کہ لوگوں سے خط و 
کتابت کا سلسلہ کسی صورت بھی ٹوٹنے نہ پائے۔ اگر اس کے ربط مےں 
تھوڑی سی بھی رکاوٹ پےدا ہوجائے تو صارفوں کے ذہن مےں موجود 
تھوڑا بہت اثر بھی مٹ جاتا ہے۔

603۔۔۔۔۔۔۔۔۔
0 
﻿
MHusain
03-07-02
Urdu
(65) 1

6 باب پنجم 
6 (بےضہ مرغ)

01۔ انڈے کا سالن

انڈا ہلکی اور طاقت بخشنے ولای غذا ہے چنانچہ اس کا استعمال ہر صاحب
مقدور کے ےہاں ہر روز ہوتا ہے ناشتہ مےں ان لوگوں کے ےہاں انڈا جزو اعظم 
ہے۔ کوئی آدھا ابلا تو کوئی پورا ابلا ہوا کھاتا ہے۔ کوئی نےم برشت تو کوئی پورا تلا 
ہوا انڈا پسند کرتا ہے جس کو غذائےت زےاد مطلوب ہوتی ہے وہ آملےٹ کھاتا 
ہے۔ مختصرے ےہ کہ متعدد طرےقےوں سے انڈا کا استعمال ہوتی ہے وہ املےٹ کھاتا 
ہے۔ مختصرے ہے کہ متعدد طرےقوں سے انڈا کا استعمال ہوتا ہے اور اےے تمام 
طرےقے رائج اور واضح ہےں۔ اس فصل مےں انڈوں کا غذاوں کی صورت سے تذکرہ 
پےش کےا جارہا ہے۔ سب سے زےادہ عام غذا انڈے کا سالن ہے اور اس کے 
پکانے کا پرانے زمانے مےں جو طرےقہ تھا وہ درج ذےل ہے۔

سالن ہمےشہ دو ےا زےادہ غذاوں کے شمول سے پکتا ہے اس کا مفصل تذکرہ 
سالن کے باب مےں آئے گا اس مقام پر صرف اتنا عرض کر دےنا کافی ہوگاہ کہ سالن 
گوشت ےا ترکاری کے ساتھ پکتا ہے اس لےے انڈے کا سلان بھی گوشت اور ترکاری 
کے ساتھ پکاےا جاتا تھا لےکن گوشت مےں بوٹےوں کے بجائے قےمہ اور ترکاری مےں 
صرف آلو استعمال ہوتے تھے سالنوں کے مسالوں مےں نفاست کا ےہ خےا رکھا جاتا 
تھا کہ جتنے خشک اجزا ہوتے تھے وہ سب کوٹ پےس کے استعمال ہوتے تھے اور ان کو 
چھان بھی لےا جاتا تھا تاکہ اچھا لعاب تےاری پر آجائے۔

قےمہ کے ہمراہ انڈا دو طرح سے پکتا ہے اےک تو قےمہ خشک پکاےا جائے اور اسکے 
بعد انڈے شامل کردےے جائےں دوسرے ےہ کہ کبابوں کے ہراہ انڈے کا سالن
(66) 2

شوربے.دار تےار ہو۔ دونوں صوروتوں مےں انڈے ابال کے چھےل لےے جاتے اور تےل لےے 
جاتے ہےں۔ قےمہ ہلدی کے مسالے مےں پکتا ہے تےاری کے قرےب ہر انڈا دو ٹکڑے 
کر کے شامل کر دےا جاتا ہے۔ کبابوں کے ساتھ پہلے قےمہ کبابوں کے مسالے مےں پےسا 
جاتا اور کباب بنا کے تل لےے جاتے ہےں۔ پھر سادہ قرومہ کے مسالے مےں کباب بھون کر 
گلائے جاتے ہےں۔ تےاری پر ابلے اور تلے ہوئے انڈے دو دو کر کے شامل کر دےے 
جاتے ہےں۔ آخر مےں ہرادھنےا ےا گرم مسالہ چھڑک دےنا کافی ہوتا ہے۔ ان غذاوں کے 
لےے آدھ سےر قےمہ اور تےن چھٹانک گھی کافی ہوگا۔ بعض نفاست طبع تلےن کے پہلے 
انڈوں 
کے دو دو ٹکڑے کرالےنے کے قائل ہےں اور بعض صاحبان مسلّم انڈے برقرار رکھان پسند 
کرتے ہےں۔

انڈے کا سالن آلو کے ساتھ پکانے کے لےے بھی پہلے انڈے ابل کر تل لےان چاہےے
بعدازاں گھی مےں پےاز داغ کر کے ہلدی کا مسالہ بھون لےنا چاہےے پھر آلو ڈالے جائںے 
اور پانی دے کر گلا لےے جائےں۔ آلو پکانے کے قبل ان کو دو دو ٹکڑے کرکے تل لےان 
بہت ضروری ہے۔ آلووں کے گل جانے کے بعد ابلے، تلے اور دو ٹکڑے کےے ہوئے 
انڈے شامل کر کے تھوڑی دےر اور پکا لےنے پر ےہ ہانڈی تےار ہوجائے گی۔ آلووں 
کی مقدار حسب خواہش پاوبھر ےا آدھ سےر ہو، گھی تےن چھےٹانک کافی ہوگا۔

62۔ انڈوں کا قلےہ

انڈوں کے قلےہ مےں انڈوں کے ساتھ گوشت شامل ہوتا ہے انڈوں کو پہلے 
ابال اور چھےل کر تل لےا جاتا ہے پھر گھی مےں پےاز داغ کر کے ناکل لی جاتی ہے اور 
اس گی مےں۔ لونگ الاےچی داغ کر کے گوشت بھون لےا جاتا ہے۔ بھونتے وقت 
نمک بھی دے دےا جاتا ہے بھوننے مےں لہسن کے پانی کے چھےنٹے دےنا مناسب ہے۔ گوشت
سرخ، ہوجائے تو سادہ قورمہ کا مسالہ جوز جوتری کی مقدار کم کر کے پےش کر شامل 
کر کے 
پھر بھونا جائے اور پانی دے کر گوشت گلا لےا جائے گوشت گل جائے تو ابلے اور تلے ہوئے 
انڈے دو دو ٹکڑے کر کے ےا مسلم ہی شامل کردےے جائےں۔ تلی ہوئی پےاز دہی مےں 
پےس 
کر ڈال دی جائے اور شوربے.دار قلےہ تےار کر لےا جائے۔ اوپر سے گرم مسالہ چھڑک
(67) 3

دےنا کافی ہوگا۔ اس کھانے مےں دس انڈوں کے ساتھ آڈھ سےر گوشت تےن چھٹانک 
گھی اور آڈھ پاو دہی کی ضرورت ہوتی ہے۔

63۔ انڈے کا قےمہ 
اےک درجن ناڈے ابلد اور چھےل کر تل لےے جائےں پھر ان کے سفےدی اور 
زردی علاحدہ علاحدہ کر دی جائے۔ سفےدی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ لےے جالےں 
تےن چھٹانک گیھ مےں پےاز تل کے ناکل لی جائے اور پھر اسی آدھ پاو گی مےں ونگ
الاےچی داغ کر کے سادہ ہلدی کا مسالہ بھون لےا جائے بھونتے وقٹ نمک بھی شمل 
کر دےا جائے سلہ بھن جاے تو اسی مےں سفےدی کے کٹے ہوئے ٹکڑے ڈال کر ذرا دےر 
بھونے جائےں پھر تلی ہوئی پےاز آڈھ پاو دہی مےں پےس کر شامل کر لی جائے اور 
اسی سالن 
سالن 
مےں مالدی جائے اسی وقت زردےاں بھی ژھوڑ کر پتےلی کو آہستہ آہستہ چلا ےا جائے 
تکاہ 
زردوں محفوظ مزاج کے لوگوں کو مرغوب ہوتی ہے جو ہر طرےقہ پر پکائے انڈوں 
کے شائق ہوتے ہےں۔ کم سے کم راقم کو اس کی طرف کبھی توجہ نہےں ہوئی۔

64۔ کباب نرگسی

ےہ کباب بہت مشہور ہےں اور اچھے ہوٹلوں مےں بھی فروخت ہوتے ہےں ےہ نام اس
لےے رکھا گےا کہ نرگس کی آنھک کا نمونہ سامنے آجاتا ہے ان کے پکانے کی ترکےب ےہ ہے 
کہ پہلے 
سےر بھر قےمہ مےں کبابوں کا بارےک پس ہوا مسالہ شامل کر کے ہاتھوں سے کافی دےر 
تک ملاےا جائے
ےہ ضرورت قےمہ مےں مسالہ ملاکر پےس لےنے سے بھی پوری ہوجاتی ہے لےکن ان کبابوں 
کا پورا 
لطف ملنے کے لےے۔ ےہی بہتر ہے کہ قےمہ مےں مسالہ ہاتھوں سے خوب مل مل کر ملاےا 
جائے قےمہ 
کباب بنناے کے قربل ہوجاے تو اس مےں اےک انڈے کی پھٹی ہوئی سفےدی ملا کر 
کباباس 
طرح بنائے جائےں کہ ہر کباب مےں ابلا ہوا آدھا انڈا بھرا ہو اور اس کے اےک رخ سے 
انڈے کی سفےدی جھلکتی ہوئی نظر آئے جس کو ہم نرگسی کہہ سکےں۔ ان کبابوں کو 
پاو بھر گی 
مےں تل کر پتےلی کے باہر نکال لےا جاے پھر اسی گھی مےں پےاز داغ کر کے نکلا لی 
جائے۔
(68) 4

باقی ماندہ گھی مےں سدہ قرومہ کا مسالہ بھونا جائے۔ مسالہ بھن جائے تو کباب ڈال 
کر بھونے جائےں اور تھوڑا پانی دے کر گلا لےے جائےں۔ کباب گل جائںے تو داغ کی
ہوئی پےاز اڈھ پاو دہی مےں پےس کر شامل کر کے اےک بار اور بھون کر کباب 
تےار کر لےے جائںے اوپر سے گرم مسالہ چھڑک دےا جائے ےہ کباب لعاب پر تےار ہوجائےں گے

65۔ کباب بےضادی

ان کبابوں کا نام ہی واضہ کر دےتا ہے کہ ان کی شکل وصورت انڈے کی طرح 
ہوتی ہے۔ ان کے پکانے کے دو طرےقے تھے۔ اےک وہ تھام جو عام طور پر رئےس کے ےہاں 
رائج تھا اور دوسرا ہمارے خاندان سے مخصوص تھا۔ رائج طرےقہ ےہ تھا کہ پہلے آدھ 
پاوں 
قےمہ مےں دارچےنی، جوز جوتری، لونگ الائچی، نمکم مرچ پےاز اور ادرک کے مسالے 
ےعنی کبابوں کے مسلے قےمہ کے وزن کے مطابق مالائے جاتے تھے عنی پورے وزن 
کے بقدر چاہرم۔ مسالے پےس لےے جاتے ھپر قےمہ ےں شامل کر کے تھوڑا پپےتہ دے کر 
پھر پےسا جاتا۔ اس کے بعد بھی قےمہ کو مل مل کر ہاتھ سے ملائم کےا جاتا تھا۔ اس 
کے 
بعد دس انڈوں کی نوک مےں سوراخ کر کے آہستہ آہستہ ہلا ہال کر تمام زردی و 
سفےدی نکالی 
جاتی تھی پانچ انڈوں کی سفےدی و زردی علاحدہ استعمال ہوتی لےن پانچ کی سپےدےی 
و 
زردی اچھی طرےح قےمہ مےں ملادی جاتی تھی اور ےہ قےمہ بڑی فن کاری سے دسوں 
انڈوں کے 
چھلکوں مےں انھےں سوراخوں سے جو کر دےے گئے تھے بھر دےا جاتا اور سوراخ گندھے 
ہوئے آتے سے اس طرح بھر دےے جاتے کہ اندر پانی جان امحال ہو جاتا۔ پھر ان قےمہ 
بھرے 
انڈوں کی کھولتے پانی مےں پندرہ بےس منٹ تک جوش کر کے کباب بھون کر انڈے کی 
شکل مےں تےار کر لےتے تھے بعد ازاں چھلکے جدا کر کے کبابوں کو نکالتے اور اس طرح 
درمےان مےں سوراخ کرتے کہ پتےلی سےخ پر چڑھ جائےں۔ ان بےضادی کبابوں کو سےخ 
پر نرم آگ دے کر پاکتے، تھوڑی تھوڑی دےر کے بعد رخ بلدتے رہتے رور دہی اور
گھی باری باری اسی وقت تک ٹپکاتے رہتے تھے جب تک کہ کباب تےار نہ ہوجاتے
اس کارروائی مےں بہت دےر نہےں لگتی تھی۔

دوسرا طرےقہ جو ہمارا خاندانی تھا بہت مشکل تھا جس کے لےے فن کاری اور مہارت
(69) 5

کی ضرورت تھی۔ پہلے دس انڈوں مےں سوراخ کر کے زردی و سپےدی نکال لی جاتی 
تھی۔
پھر بہت بارےک پسی اور چھنی ہوئی اےک ماشہ دارچےنی، الاےچی اور لوگن تھوڑی 
تھوڑی ادرک اور پےاز بہت مہےن کتری ہوئی اور حسب ضرورت نمک، ےہ سب مسالے 
ان آنڈوں کی زردےوں اور سپےدےوں مےں اس طرح لت کےے جاتے تھے کہ سپےدی پھنے نہ 
پائے۔ اسی لت کرنے مےں ہمارا باورچی کمال دکھاتا تھا۔ ھپر انھےں ماسلوں مےں لت کی 
ہوئی سپےدےوں اور زردےوں کو انھےں چھلکوں کے سوراخوں کے راستے بھر دےا جاتا اور 
گندھے ہوئے آتے سے بند کر دےا جاتا اور متزکرہ بلا طرےقہ پر کھولتے ہوئے پانی مےں 
جوش دےا جاتا رو جب انڈے پک جاتے تو اسی طرح سوراخ کر کے سےخ پر چڑھا 
دےا جاتا۔ ہوسکتا ہے کہ ان انڈوںمےں پوری سپےدی بھری نہ جاسکتی ہو لےکن سپےدی 
کے اندر سے زردی بالکل اپنی اصلی شکل مےں پکی ہوئی نکلتی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ 
پوٹلی دے کر پاو بھر گوشت کی ےخنی تےار کرلی جاتی تھی۔ ےخنی تےار ہونے پر 
گوشت 
علاحدہ کر دےا جاتا اور دو تولہ بادام کی گری مےں گھی اچھی طرح بھون کر اور آدھ 
پاو
دہی مےں پےس کر اس مےں ملادی جاتی تھی۔ اس طرح ےخنی کا بہت گاڑھے شوربے 
سے سےخ پر چڑھے کبابوں کو اس وقت تک پوچارا دےا جاتا کہ کباب تےار ہوجاتے اور 
شوربا انھںے مےں جذب ہو کر ختم ہوجاتا۔ ےہ کباب غےر معمومی طور پر لزےز ہوتے 
تھے،
جن کی لذت کو ےاد کر کے اب کلےجہ ہل جاتا ہے۔
(70) 6

6 باب ششم

0 (خاصگی غذائےں
)
01۔ بادام کا قورمہ

بادام کا قورمہ بہت مقوی اور لزےز غذا تھی لےکن س کا پےٹ بھر کے کھانا آسان 
نہےں تھا کےونکہ بہت دےر ہضم اور ثقےل کھانا تھا۔ دوسری غذاوں کے ساتھ دو چار لقمے 
منہ 
کا ذائقہ اور غذا کا فائدہ حاصل کرنے کے لےے کھالےنے مےں کوئی قباحت نہےں ہوتی تھی۔
لےکن مرے نانا نواب حکےم شفالدولہ بہادر مرحوم قثےل غذاوں کے خو گر تھے اور ان کا 
عمدہ 
اس قدر باصلاحےت تھا کہ ان کے دسترخوانوں پر ان کی آخری عمر تک بادام کا قورمہ 
حاضر 
رہتا اور وہ بلا تکلف کھالےتے تھے۔ انھوں نے تقرےباََ سو برس کیمر ع پاکر انتقال کےا 
تھا دونوں 
وقت ان کے سترخوان پر بادام کا قرومہ، تال مھانا کا سالن پستے کا سلان اور کوفتہ 
معالئے عجمی مےں سے کوئی اےک کھان ضروری رہتا تھا۔ بادام کا قورمہ پکانا بھی 
کوفتہ معلا کی 
طرح وقت طلب تھا۔ اس کے لےے تےن پتےلےاں علاحدہ علاحدہ چڑھائی جاتی تھےں۔

بادام کا گلانا سب سے بڑا مرحلہ ہوتا تھا۔ اس کے لےے پہلے پانی تےار کےا جاتا جس 
مےں 
بادام گلاےا جاتا تھا۔ کافی مقدار مںے پانی ہوتا تھا اور اس مےں بہت سی ڈھک کی 
لکڑی کی راکھ گھول دی جاتی تھی۔ تھوڑ ی دےر کے بعد خوب اچھی طرہلح ا کے 
پانی چھان لےا 
جاتا تھا اور قلےل مقدار مےں دہی شامل کر دےا تھا۔ اسی پانی مےں چھلکا اترے بادام کی 
ڈےڑھ پاو گری تقرےباَ تےن گھنٹے تک جوش کی جاتی تھی۔ پہلے ہی ےہ دےکھ لےنا 
ضروری تھا کہ بادام 
شےرےں ہوں اور کئی اےک بادام بھی تلخ نہ ہو۔ ہر بادام کو کھٹک کر پرکھ لےا جتا تھا۔
تےن گھنٹوں مےں بادام نہ گلنے اور پانی سوکھنے لگتا تو اسی پانی کا پھر اضافہ کر دےا 
جاتا 
زےادہ سے زےادہ چئر گھنٹے مےں بادام گل جاتے اور علاحدہ کر کے محفوظ کر لےے جاتے
(71) 7

تھےدو۔ سری پتلےی مےں ساتھ ہی ساتھ دھ پاو گھی مےں اےک سےر گوشت کا قلےہ 
سادہ، لہسن، ادرک، دھنےا اور کالی مرچ کے پسے ہوئے مسالہ مےں نمک دے کر تےن 
گھنٹہ تک پکاےا جاتا تاکہ گوشت بالکل حلوا ہوجائے۔ پانی زےادہ مقدار مےں رکھا جاتا 
تھا تاکہ قلےہ کی ےخنی کی صورت مےں آجائے۔ گوشت خَوب گل جان ےپر چھان کے 
ناکل دےا 
جاتا تھا اور چھنی ہوئی ےخنی کو تھوڑے گھی سے لون، الاےچی داغ کر کے بگھار دےا 
جاتا 
تےسری پتےلی مےں آدھ سےر بہترےن گوشت سادہ قرومہ پکاےا جاتا تھا۔ سادہ قرومہ 
پکانے کا طرےقہ اسی کے بےان مےں پےش کےا جا چکا ہے فرق صرف اتنا ہوتا تھا کہ اس 
قورمہ 
مےں پاوبھر گھی اور پاو بھر دہی استعمال ہوتا تھا۔ قرومہ تےار ہوجانے کے بعد اس 
مےں ےخنی 
اور گلی ہوئی بادام کی گی شامل کر کے پاو بھر بالائی چھان کر ملا دی جاتی تھی اور 
انگاروں 
پر دم کے لےے لگا دےا جاتا تھا۔ تخےناََ آدھ گھنٹہ مےں قورمہ تےار ہوجاتا تھا۔ اس 
مدت مےں پانی 
نہ سوکھتا تو آنچ دے کر سکھا لےا جاتا کےونکہ قورمہ کا گھی، دہی اور بالائی کے لعاب 
پر تےار 
ہونا ضروری تھا۔ آخر مےں اےک ماشہ زعفران، دو تولہ عرق کےوڑہ مےں حل کر کے 
چھڑک دی 
جاتی تھی۔ بادام کا قورمہ سفےد پھول دار چےنی کی تاب مےں نکال کر دسترخوان پر 
رئےس
کے حضور لگادےا جاتا تھا۔

بادام کا سالن بھی پکاےا جاسکتا ہے لےکن اس مےں قورمہ کے اےسے فوائد ہےں اور نہ 
اےسا 
ذائقہ ہوتا ہے۔ بدلے ہوئے حالات مےں ہمارے خاندان ولاوں نے اس کو بادام کے قورمہ 
کا بدل بنا رکھا ہے اس کو نش کر کے والد مرحوم اپنی آکری عمر مےں ےعنی 1935ئ مےں 
فرماےا 
کرتے تے کہ گندم اگر بہم نہ رسد، بھس غنےمت است اس کو پکانے کا ےہ طرےقہ ہے کہ 
پاو بھر گھی مےں آدھ پاو پےاز کے لچھے تل کر نکال لےے جاتے اور اسی گی مےں لونگ 
الاےچی
کا دھنگار دے کر ہلدی والا مسالہ جس کا ذکر کر آچاکا ہے بقدر نصف دارچےنی اور زےرہ 
بڑھا کے پےس کے بھون لےا جاتا تھا۔ ہر سالن مےں مسالے کے ساتھ ہی نمک دےا جاتا 
ہے۔
مسالہ سرخ ہوجاتا تو آدھ سےر گوشت کا سالن تےار کر لےا جاتا تھا۔ اس سالن مےں پہلے 
شوربا 
رکھا جاتا تھا جس کی بوٹےاں نکال کر اس لےے چھان لےتے تھے کہ مسالے کی کر کراہٹ ہو 
ہو تو دور ہوجائے۔ شوربا چھان لےےن کے بعد اسی مےں وہی بوٹےاں مےَٹے بادام کی 
دو ہی 
چھٹانک بہت بارےک پسی ہوئی گری آدھ پوا دہی مےں تلی ہوئی پےاز کے لچھے
(72) 8

اور دو ماشے زعفران حل کر کے سالن کو نمر آنچ پر اتنی دےر پکاےا جاتا کہ فاضل پانی 
خشک ہوجائے۔ تخمےناََ آدھ گھنٹہ مےں سالن تےار ہوجاتا تھا پھر اوپر سے لےموں کا 
عرق 
ارو گرم مسالہ چھڑک دےا جاتا تھا۔

62۔ تال مکھانے کا سالن 
تال مکھانے کا سالن تےس چالےس برس قبل تک بہت رائج تھا۔ مرحوم راجہ صاحب
سلےم پور ار راجہ نواب علی خاں مرحوم کو بہت مرغوب تھا ہر معمولی سی معمولی 
دعوت مےں 
ضرور کھلاےا جاتا تھا۔ اس کا پکان بھی سہل ہے۔ تال مکھانے پہلے کھےل کےے 
جاتے پھر ان کو گھی مےں تل لےا جاتا تب ہی سالن پکانے کے کام مےں آتے تھے۔ ہلدی 
کا 
مسالہ اچھی طرح بہت بارےک پےس کر استعمال کرنا بہت ضروری تھا۔ اس مسالہ کو 
گھی مےں پےاز داغ کر کے بھونا جاتا۔ مسالہ سرخ ہوجانے کے بعد گوشت اسی مسالہ مےں 
بھونا جاتا تھا پھر پانی دے کر گلا لےا جاتا تھا۔ گوشت گل جانے کے بعد تلے ہوئے 
مکھانے 
ڈال کر اور تھوڑا پانی شامل کر کے سلان تےار کر لےا جات اتھا تخمناََ آدھ گھنٹہ مےں 
گوشت 
ہونننے کے بعد سالن تےار ہوجاتا تھا۔ گوشت کے ہم وزن تال مکھانوں کی مقدار ہوتی 
تھی
کےوں کہ کھےل کرنے کے بعد مکھانے سکڑ کر چھوٹے ہوجاتے تھے گھی اور مسالوں کی 
مقدار 
گوشت کے وزن کے مطابق رکھی جاتی تھی۔ سےر بھر گوشت مےں پاو بھر گی دےا جانا 
ضروری تھا۔

رقم کو اس سالن کے مقابلہ مےں کوفتوں کے ساتھ قورمہ کے مسالے مےں تال مکھانے
کا سالن مرغوب ہے، اس کے پکانے کے ےہ طرےقہ ہے کہ آدھ پاو بھر گھی دےا جانا ضروری 
تھا۔

ڑاقم کو اس سلان کے مقابلہ مےں کوفتوں کے ساتھ قورمہ کے مسالے مےں تال مکھانے 
کا سلان مرغوب ہے، اس کے پکانے کا ےہ طرےقہ ہے کہ آدھ پاو قےمہ کو کبابوں کے مسالے 
مےں تھوڑا پپےتا مال کر چسےا جائے ارو ہاتھوں سے مل کر ملائے کر لےا جائے۔ جتنا 
بارےک کٹا ہوا
صاف ستھرا قےمہ ہوگا اتنا ہی جلد ملائم ہوجائے گا۔ پھر اس قےمہ مےں تھوڑا جھنا 
ہو ابےسن 
قدرے دہی اور اےک انڈے کی پھٹی ہوئی سفےدی اچھی طرح ملا کر آتھ عدد کوفتے 
بنا 
لےے جائےں پھر آدھ پاو گھی مےں پےاز داغ کر کے نکالی جائے اور اسی گھی مےں 
الاےچی کا دھناگار دے کر سادہ قورمہ کا مسالہ جس کی تفصےل اوپر آچکی ہے نمک 
دے کر 
بھون لےا جائے۔ جب مسالہ سرخ ہوجائے تو پتےلی مےں کوفتوں کو بچھا کر بھونا جائے
(73) 9
بھوننے مےں لہسن کے پانی سے دو چار ہلکے چھنےٹے دےنا بہتر ہوگا۔ حسب کوفتے سرخ 
ہوجائں 
تو پاو بھر کھےل کےے ہوئے تال مکھانے آدھ پاو گھی مےں تل کر کبابوں مےں شامل کر 
دےے 
جائےں۔ ساتھ ساتھ آدھ پاو بالائی چھان کر اور تبلی ہوئی پےاز آدھ پاو دہی مےں 
پےس 
کر ملا دےنا چاہےے۔ تھوڑا پانی دے کر نرم آنچ پر پتےلی لگادےنے سے تقرےباََ آدھ گھنٹہ 
مےں 
سالن تےار ہوجائے گا۔

63۔ پستے کا سالن 
پستے کا سالن پکانے مےں بھی وہی طرےقہ رائج تھا جو بادام کا سالن پکانے کے سلسلہ
مےں اوپر بےان کےا جا چکا ہے۔ فرق صرف اتنا ہوتا تھا کہ بادام پےسے جاتے تھے لکےن 
پستوں 
کو پنای مےں تھوڑی دےر ابال کر ان کا چلھکا اتار دےا جاتا پھر سالن مےں شامل کر دےے
جاتے تھے۔ ہمارے خاندان مےں نہ وےسا بادام کا سالن پسند کےا جاتا تھا اور اس طرح کا 
پکا ہوا پسنوں کا سالن مرغوب تھا آئے دن پکتا تھا مگر ان کے پکانے کا طرےقہ جدا گانا 
تھا جو سےم کے بےچوں 
والے سالن سے زےادہ قرےب تھا ان کے پاکنے کا ےہ طرےقہ تھا کہ پستوں کی دال نکال کر 
پکائی جاتی تھی۔ پستے پہلے دو تےن بار پانی مےں ابال انے تک جوش دے جاتے تھے۔ 
تاکہ 
چھلکے آسانی سے نکل کر اےک اےک پستہ کے دو دو دانے ہوجائےں۔ ان دانوں کو 
لےموں کے عرق مےں ترکر کے تھوڑی در کے لےے چھوڑ دےا جاتا تھا۔

ساتھ ہی ساتھ پستوں کے ہم وزن گوشت کا مسالہ بھونا جاتا تھا، ےہ مسالہ 
ہلدی والا ہوتا تھا گھی اور مسالے کا تناسب گوشت کے وزن سے برقرار رہتا۔ مسالہ 
بھوننے مےں پےاز تل کر ناکل لی جاتی تھی اور اسی گھی مےں لونگ الاےچی داغ کر کے 
مسالہ بھونا جاتا تھا۔ حسب دستو نمک مسلاہ مےں ڈال دےا جاتا تھا۔ مسالہ سرخ ہونے 
پر گوشت بھونا جاتا اور پانی دے کر گلا لےا جاتا تھا۔ گوشت گل جانے اور پانی 
قرےب قرےب خشک ہوجانے کے بعد پستوں کے دانے جن کی شکل دال کی سی ہوجاتی 
اور ساتھ ساتھ دہی مےں تلی اور پسی ہوئی پےاز اسی گوشت مےں ملا کر سالن تےار 
کر لےا جاتا تھا تھوڑی دےر تک نرم آنچ پر پکانے سے دہی کا پانی سوکھا جاتا تھا، اور
(74) 10
پستوں کی دال بھی گل جاتی تھی۔ تےاری پر ےہ سالن گھی اور دہی کے لعاب پر 
آجاتا
تھا۔ کم گوشت کا سالن پکانے مےں دہی گھی اور مسالے کی مقدار بھی گھٹا دی جاتی 
تھی 
اور ےہ سالن عام طور سے کم مقدار مےں پکتا تھا۔ جتنی چھوٹی ہانڈی پکتی اتنی ہی 
زےادہ 
لزےز ہوتی تھی۔ ےہ اصول بہر حال اتل تھا کہ گوشت کے ہم وزن پستے ہوتے اور گوشت 
کی مقدار کے تاناسب سے گی دہی اور مسالے استعمال ہوتے تھے۔
(75) 11
6باب ہفتم

6 (ترکارےاں سالن کباب دلمہ وغےرہ)

ہمارے آباو اجداد چند کے کے علاوہ باقی ترکارےوں کو سادہ پکواتے تھے حالانکہ 
ہر ترکاری کا سالن گوشت کے ہمراہ پکتا تھا جےسا کہ بےسوےں صدی کے اوئل ہی سے
پکنا شروع ہوگےا تھا اور اب سالن ہی عام غذا ہے اجس کی اصل وجہ ہماری بڑھتی 
ہوئی
بد حالی اور مفلسی ہے۔ ہر ترکاری کے سادہ پکانے کا ےہ طرےقہ تھا کہ اےک ےا اےک سے 
زےادہ ترکارےوں کے لےے پہلے گھی مےں پےاز داغ کرلی جاتی تھی پھر ترکارےاں اسی 
گھی مےں 
مےں بھون لی جاتی تھی۔ صرف نمک اور مرچ مےں ترکارےاں تےار کلی جاتی تھےں۔ 
ہر ترکاری 
کے ذےل مےں اس کے متعلق جو مخوص تراکےب استعمال ہوتی تھےں وہ علاحدہ علاحدہ 
انھےں 
ترکارےوں کے ذزےل مےں آئےں گی۔ اس مقام پر اتنا اور عرض کر دےنا مناسب ہے کہ عہد
قدےم مےں روسا و شرفا کے ےہاں بعض ترکارےاں قطعاََ استعمال نہےں ہوتی تھی۔ مثلاََ 
ٹنڈا 
چچےنڈا، ٹماٹر وغےرہ اور بعض ترکراےاں مثلاََ لوبھےا اور دوسری بچوں والی ترکاےاں 
شاز و نادر پکوائی جاتی تھےں۔ اےسی ناپسندےدہ ترکرےوں کا تذکرہ اس تالےف مےں شامل 
نہےں ہے۔ ان کے پکانے کی ترکےب کو علاحدہ پےش کرنا ضروری بھی نہےں ہے۔ عام طرےقے
ان کے لےے بھی کارآمد ہوںگے۔

ترکارےوں کے سالن رفتہ رفتہ بہت خوش ذائقہ اور خوش رائحہ پکنے لگے تھے 
ان مےں آج پستی ضرور آگئی ہے لےکن تھوڑی توجہ سے ان کو پھر بہتر بناےا جات 
سکتا ہے اچھا 
سالن پکانے کے لےے پوری مقدار مےں مسالہ شامل کرنا اور مسالوں پر رےاض کرنے 
کی ضرورت ہے۔ خشک مسالوں کو کوٹ کر چھان لےنا چاہےے۔ کوٹنے مےں زحمت ہو تو
(76) 12
پےس کر چھان لےنا بھی کافی ہوگا۔ بعد مےں ترمسالوں کے ساتھ مثلاََ ادرک لہسن اور 
پےاز
کے ہمراہ پےس لےنا درکار ہوگا۔ دور حاضر مےں ےہ عمل ہر روز کرنا مشکل ہے۔ لہزا بڑی 
مقدار مےں کٹواےا پسوا کے اور چھان کر محفوظ کر لےان بہتر ہوگا۔ پکانے کے قبل بقدر 
ضرورت 
مسالہ لے کر تراشےائ کے ہمراہ پےس لےا جائے۔ اس طرح مسالے پےسنے مےں ہر روز 
کی زحمت کم ہوجائے گی اور کوٹنے چھانٹے کا کام اےک ہی مرتبہ کرنا ہوگا۔ ہر ہفتہ 
اےک بار 
کی زحمت سے روزانہ کی مسالہ پےسنے والی ترکےب مےںکافی کمی محسوس ہوگی۔ 
ترکاری.دار
سالنوں کے مسالوں کا اوپر تذکرہ آچکا ہے پھر بھی سہولت کے خےال سے اس مقام پر 
بھی بتا دےنا مناسب ہوگا کہ ترکاری.دار سالنوں کے مسالے کی مقدار کا تعےن شامل 
کرہ گوشت کے وزن سے مطابق ہونا چاہےے۔ سالن مےں سےر بھر گوشت والے سالن کو 
حسب ذےل مسالے مندرجہ اوز ان مےں دے جاتے تھے۔ ان پر عمل نہ کرنا بھی اےک 
وجہ ہے جو ہمارے سالنوں مےں پہلا سا ذائقہ باقی نہےں رہا۔ مسالے کے معنےہ وزن 
مےں غذا کی لذت کے کفےل ہوتے ہےں۔ اب مسالوں کی تفصےل سنئےے۔ پےاز آدھ پاو 
لہسن دو عدد، سوکھا دھنےا تےن تولہ، سرخ مرچ سولہ عدد، الائچی بڑی دو عدد مرچ
سےاہ تےن ماشہ، لونگ، سات عدد، زےرہ بھنا ہوا تنے ماشہ، دارچےنی دو ماشہ
ہلدی تےن تولہ، ادرک اےک گرہ، نکم ڈھای تولہ۔ اسی مقام پر ےہ بات بھی کہنے مےں 
آتی ہے کہ نمک ڈھائی تولہ۔ اسی مقام پر ےہ بات بھی کہنے مےں 
آتی ہے کہ نمک اور مرچ کا وزن چٹ پٹے پن مےں ہر اےک کا مذاق و مزاج ےکسں نہےں 
ہوتا اس لےے نمک اور مچ کا وزن اپنے اپنے مزاج و شوق کے ماتحت کم و بےش کےا
جاسکتا ہے۔ اسی طرح زےادہ چٹاپن مرغوب ہو تو تےز پات کا اضافہ کےا جا سکتا ہے اور 
مرچ سےاہ کی مقدار بھی قدرے بڑھائی جاسکتی ہے۔ اسی طرح نرم مزاج والے لونگ
اور دارچےنی کو ےک لخت مخدوف کر کستے ہےں۔ اس کے علاوہ مسالوں مےں کمی بےشی 
کرنا 
ذائقہ اور رائحہ کو متاثر کردے گا۔ پکانے کا ےہ پرےفہ ہونا چاہےے کہ پہلے گھی مےں 
پےاز داغ 
لر کے مسالے بھون لےے جائےں بھی کی مقدار کا تعےن بھی گوشت کے وزن سے مطابق 
ہوتا 
ہے ےعنی سےر بھر گوشت سالن کو پوا بھر گی دےنا چاہےے۔ گھی مےں مسالے شامل کر 
کے 
نمک فوراََ ملا دےنا چاہےے اور بھونے مےں برابر پانی کے چھےنٹے دےتے رہنا ضروری 
ہے۔ مسالہ بھن کر سرخ ہوجائے اور خوشبو دےنے لگے تو بوٹےاں ےا قےمہ جو بھی پکانا 
ہو
(77) 13

پتےلی مےں چھوڑ کر اتنا بھونا جائے کہ سرخ ہوجائے۔ پھر پانی دے کر گلا لےا جائے۔ 
بوٹےوں
مےں بھونتے وقت اگر دو تےن بار لہسن کے پانی کے چھنٹے دےے جائےں تو ذائقہ اور بہتر 
ہوجائےگا۔ جب گوشت گل جائے تو ترکاری شامل کر کے تھوڑے پانی مےں گلائی جائے 
آخر 
مےں پھر بھون کر اور تھوڑا پانی دے کر شوربہ.دار سالن تےار کر لےا جائے لےکن شوربا 
برائے 
نام ہونا چاہےے۔ سالن کو اور بہتر بنانا ہو تو آخر مےں تھوڑی تلی ہوئی پےاز دہی 
مےں پےس 
کر ملا دےنا بہتر ہوگا۔

بعض ترکارےوں کے کباب بھی بہت نفےس و لزےز پکتے ہےں۔ ہر ترکاری کے زےل مےں 
اس سے متعلق مخصوص تفصےلات پےش کی جائےں گی۔ اس مقام پر صرف کباب بنانے 
اور 
پکانے کا عام طرےقہ درج کےا جاتا ہے۔ ترکاری کو پہلے کبابوں کے مسالے کے ساتھ ابال 
لےنا چاہےے اور جتنا پانی ضروری ہو دےنا چاہےے۔ بعض ترکارےوں کو گلنے کے لےے زےادہ 
اور بعض
کو کم درکار ہوتا ہے۔ ترکارےاں اس طرح گلانا چاہےے کہ سب پانی خشک ہوجائے ھپر 
ترکاری کو مسالہ سمےت پےس کر کبابوں کی ٹکےاں بنانلےنا چاہےے اور ان ٹکےوں کو ماہی 
توے مےں تھوڑا گی دے کر تل لےان چاہےے۔ تلنے کے پہلے ٹےکوں کے دونوں طرف بھنے 
چنے کا 
دردرا بےسن ےا پسے ہوئے چاول لگا دےنا چاہےے تاکہ کباب ٹوٹےن نہ پائے۔ کبابوں کے 
مسالوں کا مفصل تزکرہ اوپر کےا جاچکا ہے۔ ترکارےوں کے کبابوں مےں ان کا وزن 
نصف تک کم کےا جاسکتا ہے۔ گوشت کے مقابلہ مےں ترکارےاں زےادہ مسالے کو برداشت
نہےں کر سکتےں۔ اسی مقام پر ےہ عرض کر دےنا بھی مناسب ہوگا کہ ترکارےوں کے 
کبابوں مےں 
آلو، گوبھی، گانٹھ گوبھی، شلجم اور مولی کے کباب بہت اچھے ہوتے ہےں اور مخصوص
طور پر پکانے مےں کدو کے کباب بھی اچھی لذت فراہم کرتے ہےں۔ 
گوشت اور ترکاری کے کھناوں مےں دلمہ بھی بہت لذےز غذا ہے لےکن ےہ کھانا 
گرمےوں
کی تارےکےوں مےں کرےلے اور کھےرے کا اور جاڑے کی ترکارےوں مےں صرف کرم کلے کا 
پکتا 
ہے۔ بعض خاندانوں مےں بےگن کا بھی دلمہ پکتا تھا اور پکتا ہے مگر وہ بہت ثقےل ہوا 
ہے
اس مےں صرف قےمہ استعمال ہوتا ہے۔ کرےلہ کڑوی ترکری ہے اور کھےرے مےں بھی 
کرواپن 
ہوتا ہے۔ ان دنوں ترکارےوں سے پہلے کڑواہٹ دور کی جاتی ہے۔ کھےرے کی کڑواہٹ
نکال دےان سہل ہے اور ےہ ترکےب عام ہے۔ کرےلے کا کڑواپن دور کرنا بھی سب کو معلوم
(78) 14

ہے پھر بھی اتنا بتادےنا مناسب ہے کہ دلمہ پکانے کے لےے مسلم کرےلے کو چاک کر کے اندر
سے بےج نکال کر املی کی ملائم کو نپلوں کے ہرماہ جوش دےنا کافی ہوتا ہے۔ کھےرا بھی 
مسلم چھےل 
لےا جاتا ہے اور اس کے اندر س بےچوں والا حصہ دور کر دےا جاتا ہے اےسے کسی عمل کی 
کرم 
کلے کے لےے ضرورت نہےں پکانے کی ےہ ترکےب ہے کہ پہلے سےر بھر قےمہ کم گھی دے کر 
سادہ طرز پر 
پکاےا جائے۔ ےہ قےمہ سوکھا ہوگا اس مےں کا نصف کرےلوں ےا کھےروں کے اندر بھر کے ان 
کو ڈورے 
سے باندھ دےا جائے۔ پھر تےن چھٹانک گھی مےں پےاز داغ کر کے جس ترکاری کا بھی 
دلمہ ہو اسے 
پتلےی مےں بچھا کر بھول لےا جائے قےرے کلونچی ڈال دےنا ذائقہ بڑھا دے گا جب 
ترکاری بھن کر 
سرخ ہوجائے تھوڑا پانی دے رک گلالی جائے۔ ترکاری کے بقدر نمک شامل کرنا ضروری 
ہے 
ترکاری گلنے کے قرےب آجئے تو باقی قےمہ بھی پتےلی مےں شامل کر دےا جائے اےک بار 
اور بھون کر 
دلمہ تےار کر لےا جائے، آکر مےں کتری ہوئی ادرک اور ہری مرچ ملا دےنا چاہےے۔ ےہ 
غذا 
خشک ہوتی ہے، شور باقطعاََ نہےں ہوتا۔ سرف گھی اور مسالے کا لعاب ہوتا ہے۔ اس 
مےں قےمہ 
اور ترکاری کا مزا بھیہوتا ہے اور اےک خاص قسم کا علاحدہ سے ذائقہ آجاتا ہے۔ ان 
تےنوں اقسام مےں بہترےن دلمہ کرلے کا ہوتا ہے۔ البتہ اس کی کڑواہٹ پوری طرح نکل 
جانا بہت 
ضروری ہے۔

61۔ گرمی اور برسات کی ترکارےوں کے کھانے 
6	بھنڈی

ہر سالن کے پکانے کا اےک ہی طرےقہ ہے جو اوپر تفصےل سے بےان کر دےا گےا۔ 
بھنڈی 
کے سلسلہ مےں ےہ ضروری ہے کہ تراکری کے ادھ گلے ہوجانے پر آم کی کھٹائی دے دی 
جائے 
ورنہ ترکاری لس دار رہے گی اس سلان کو اور زےاہ خوش زائقہ بنانے کے لےے پوری 
پوری بھنڈی چاک کر کے اس کے اندر بھنا ہوا دھنےا، کھٹائی اور نمک مرص کی چتنی 
بھر 
دی جائے پھر دھوپ مےں سکھا کر مسلم بنڈےوں کا سلنا پکاےا جائے تو زےادہ بہتر ہوگا۔
اےسی صورت مےں کھٹائی کی ضرورت باقی نہےں رہتی ۔ ہر دو طرےقہ سے پکانے مےں 
اس
سالن کو تھوڑا دہی دےنا چاہےے۔ آخر بار بھوننے مےں دہی شامل کر دےا جائے۔
(79) 15
6	بےگن 
بےگن کے سلان مےں بھی اچھی مقدار مےں کھٹائی دےنا چاہےے۔ ےہ سالن کبابوں 
کے ساتھ بھی پکاےا جاتا ہے۔ اس کا ے طرےقہ ہے کہ مسالہ بھوننے کے بعد بےگن کاٹ کے 
ڈال 
دےے جائےں۔ جب بےگن گل جائےں تب کباب ڈال کے تھوڑا پانی دے کر سلان تےار کرلےا 
جائے۔ کبابوں کا پہلے تل لےنا ضروری ہے۔ جو کباب ترکاری مےں ڈالے جاتے ہےں ان مےں 
پپےتہ کی مقدار قدرے بڑھادی جاتی ہے سر بھر بےگنوں مےں پاو بھر گوشت ےا قےمہ 
کے کباب 
اور پاو بھر گی کافی ہوگا۔

بےگن کی بورانی بھی لزےز غذا ہے۔ بےگن کو بھون کر اس کا نرم نرم گودا دہی 
مےں 
حل کر کے اور نمک مرچ بھنا ہوا زےرہ اور لہسن پےس کر شامل کر دےنے سے بورانی تےار 
ہوجاتی ہے۔ پلاوں کے ساتھ بہت لطف دےتی ہے۔

6کھےرا اور ککڑی

ان دونوں ترکارےوں کے سالن بھی بےگن کی طرح بوٹےوں ےا کوفتوں مےں پوائے جاتے 
ہےں۔ پکانے کا طرےقہ بھی جنےسہ دہی ہے جو بےگن کے سلسلہ مےں بےان ہوا ہے۔ البتہ 
ان 
سالنوں مےں تےاری کے بدع تھوڑا پوردےنہ کتر کے شامل کر دےنا ضروری ہے۔

6ترئی

ترائی کا سالن بھی بوٹےوں ےا کبابوں مےں پکاےا جاتا ہے۔ دو سےر ترائی کے لےے 
آدھ سےر 
بوٹےاں ےا کبابوں کا قےمہ اور ڈےڑھ پاو گھی ہونا چاہےے گوشت گل جانے پر ترئےاں 
ڈالنا
چاہےے اور اتنا بھوننا چاہےے کہ سبزی جاتی رہے۔ بھونتے وقت پاو بھر دہی مےں پاو بھر
پےاز پےس کر ملا دےنا چاہےے کبابوں مےں سالن پکانا ہو تو مسالہ بھوننے کے بعد ترئی 
شامل کر کے 
بھوننا جائے تو کباب ڈال کر بھونے جائےں اور تھوڑا پانی دے کر کباب گلالےے جائےں۔
آخر مےں دو عدد کاغذی لےموں کا عرق نچوڑ دےا جائے۔
(80) 16

6کدّو، لوکی 
کدو اور لوکی سالن بالکل سادہ طرےقہ پر صرف بوٹےوں مےں پکتے ہےں۔ ان مےں 
بھی ادھ گلے ہوجانے پر قدرے کھٹائی دےنا چاہےے اور آخر مےں تھوڑا پودےنہ دےنا 
چاہےے ان 
سالنوں مےں شوربا بالکل نہےں ہونا چاہےے۔ ان ترکارےوں کے کباب بھی اچھے ہوتے ہےں۔

6کرےلہ

ےہ ترکاری باہت کڑوی لےکن بہت مفےد ترکاریی ہے۔ ان کو پکانے کے قبل اس کی
کڑواہٹ نکال دےنا چاہےے جس کا اےک طرےقہ دلمہ کے ذکر مےں اوپر بےنا کےا جا چکا ہے۔
دوسرا طرےقہ ےہ ہے کہ کرےلہ کو چھےل کر ازر تراش کے اس کے پےٹ مےں اور اوپر کی 
طرف 
نمک اور پسی ہوئی ہلدی اچھی طرح بھر کے اور مل کے گھنٹہ ڈےڑھ گھنٹہ تک دھوپ 
مےں 
رکھ دےا جائے اور پھر اچھی طرح مل مل کے دھولےا جائے اس طرح کڑواہٹ نکالنے کے بعد 
سالن پکاےا جائے۔ ےہ سالن بھی بوٹےوں کبابوں کے ساتھ پکتا ہے اس طرح کڑواہٹ نکالنے 
کے بعد
سالن پکاےا جائے۔ ےہ سالن بھی بوٹےوں کبابوں کے ساتھ پکتا ہے اس کے پکانے کا بھی 
وہی 
طرےقہ ہے جو بےان ہو چکا ہے البتہ اس کا مسالہ بھونتے وقت توھڑی کالنچی ملادےنا 
چاہےے
گوشت گل جانے پر ترکاری ڈالی جائے اور ترکارای گل جائے تو اچھی مقدار مےں دہی دے 
کر 
بھون لی جائے۔ کبابوں کے ساتھ پکانا ہو تو مسالہ اور ترکاری بھون لےنے کے بعد تلی 
ہوئی 
پےاز دہی مےں پےس کر اور کباب ساتھ شامل کےے جائےں اور حسب مذکور بھون اور گلا 
کر 
سالن تےار کر لےا جائے۔

6اروی بنڈا

ان سالنوں کے پکانے کا اکے ہی طرےقہ ہے، ترکارےوں کو پہلے چھےل کر کسی موٹے
کپڑے سے رگڑ رگڑ کے صاف کرنا چاہےے۔ اےک اےک بنڈے کے چار ٹکڑے کر کے 
اور اروی کو مسلم پکانا بہتر ہوتا ہے پکانے سے پہلے بندوں کے ٹکڑوں اور اروی کو 
تقرےباََ اےک گھنٹہ تک نمک پانی مےں بھگودےنا چاہےے پھر گھی مےں نرم آنچ پر ڈےڑہ 
گھنٹہ
(81) 17

تک تلنا چاہےے۔ ان ترکارےوں کے سالنوں کو تلےن کی وجہ سے زےادہ گھی کی ضرورت 
ہوتی ہے۔ اس لےے سےر بھر ترکاری کو آدھ سےر گوشت اور ڈےڑھ پاو گھی دےنا چاہےے 
بھنے ہوئے مسالے مےں گوشت گلا کے ترکارےاں شامل کی جائےں۔ اروی مےں کم اور بنڈے 
کے سالن مےں زےادہ کھٹائی دےنا چاہےے ان سالنوں کو دن مےں پکاےا جائے تو رات 
کو اور رات کو پکے تو دن مےں استعمال کرنے سے زےادہ اچھا ذائقہ ملے گا۔ ےہ دنوں 
سالن صرف بوٹےوں مےں لگائے جاتے ہےں۔

6پرول

اپبا کے نزدےک پرول بہت لطےف، زورہضم اور مقلی غذا ہے اس کو زےادہ
تر مرےضوں کے لےے پکاےا جاتا ہے، ےوں تو نمک مرچ مےں سادہ طرےقہ پر پکائے ہوئے وہ 
خشک پورل زےادہ لزےز ہوت ےہےں لےن شوربے.دار سالن بھی پاکےا جاتا ہے۔ اس کے 
پکانے کا وہی طرےقہ ہے جو سالن کے سلسلہ مےں اوپر بےان کےا گےا۔

6ساگ پالک

پالک کا ساگ بھی مفےد غذا ہے معدہ اور جگر کی اصلاح کر کے خون صالح پےدا 
کرتا ہے۔ اس کا سالن بوٹےوں، قےمہ اور کبابوں مےں بھی ہر طرح سے پکتا ہے اور بہت 
لذےز ہوتا ہے اس کے پکانے کا بھی وہی طرےقہ ہے جو دوسرے بوٹےوں اور 
کوفتوں کے سالنوں کے بارے مےں اوپر بےان کےا گےا ہے۔ اس مقام پر اتنا مزےد 
عرض کرنے کی ضرورت ہے کہ پالک کے کسی سالن مےں بھی شوربا نہ رہان چاہےے۔ بھونا 
بھونا سالن ہو۔ البتہ آخری مرتبہ بونتے وقت معقول مقدار مےں 
دہی دےنا بہت ضرورت ہے۔

6کچنال کی کلی 
ےہ چےز بہت نفےس اور نازک پھول ہے جو غزا مےں داخل کر لےا گےا ہے عموماََ
کم مقدار مےں ملتا ےہ اور کم لوگوں کو اس کا ذوق ہے البتہ بعض۔ وساوں کے دلدادہ
(82) 18

تھے اور اب بھی بعض لوگ بڑے شوق سے کھاتے ہےں۔ اس کلی کا مزا بہت بکھٹا ہوتا 
ہے
اس بکھٹاہٹ کو دور کرنے کے لےے پہلے کلےوں کو پانی مےں نمک اور لےموں کا عرق شامل 
کر کے اتنی دےر 
تک جوش کرنا پڑتا ہے کہ کلےاں گل جائےں۔ بدع مےں پانی دور کر کے کلےوں کو نمک 
اور ان کے 
ہم وزن دہی مےں بھگو دےا جاتا ہے دہی کو مل کر اتنا پتلا کر لےنا چاہےے کہ کلےاں 
اس مےں ڈوب جائےں 
اس کے بعد پکانے کی تےاری کرنا چاہےے۔ ےہ سالن بوٹےوں ےا قےمہ مےں تےار ہوتا ہے۔ 
سالن کا مسالہ 
بھون لےنے کے بعد بوتےاں ےا قےمہ ڈالا جاتا ہے۔ ےہ گوشت اچھی طرح بھن جناے اور گل 
جانے 
کے بعد کنچال کی کلےوں کو معہ دہی کے شامل کر کے بھون کر سالن تےار کر لےا جاتا ہے 
سےر بھر 
کلےوں مےں پاو بھر بوٹےاں ےا قےمہ اور پاو بھر گی کافی ہوتا ہے۔

انھےں ترکارےوں مےں کچنال کی کلی کے علاوہ ہر دسری ترکاری بالکل سادی ےا 
بغےر گوشت کے ہلدی کے مسالے مےں پکائی جاتی ہے۔ لےکن بھنڈےی کھےرا لکڑی اور پرول 
کو صرف نمک مرچ ہی مےں کھٹائی شامل کر دےان چاہےے۔ لوکی کدو اروی اور بنڈا پکانے 
مےں ہلدی کا مسالہ پہلے گھی مےں بھون کر ےہ ترکارےاں دم کر کے گلا لی جائےں تو 
خوش ذائقہ 
ہوتی ہےں لےکن شوربا بالکل نہےں ہونا چاہےے ورنہ ذائقہ خراب ہوجائے گا۔ ترئی کو 
مسالے 
مےں نہ پکانا ہی بہتر ہے لےکن اس کو سادہ پکانے مےں بھی ہم وزن پےاز شامل کر دےنا 
کی ضرورت ہے۔ اس ترکاری مےں بھی کھٹائی دےنا بہت ضروری ہے۔ بےگن سادہ ہو ےا 
مسالہ 
دار کسی طرح بھی بغےر کسی دوسری ترکاری کی شمولےت کے مزا نہےں دےتا۔ سادہ 
بےگن کھانا 
ہو تو اس کو بھون کر بھرتا بنالےجے لوہی شامل کر کے بھرتا بنتا ہے اور لزےز ہوتا ہے 
ورنہ آلو 
بےگن کی ترکاری مسالے مےں پکانا رائج الوقت اچھی غذا سمجھی جاتی ہے کرےلہ سادہ 
نہےں 
پکتا اور اگر زبردستی پکاےا جائے تو لزےز نہےں ہوگا لےکن مسالہ بھرے ہوئے سادہ کرےلے 
جو بغےر گوشت کے دلمہ کی طرح پاکئے جاتے ہےں بہت لزےز ہوتے ہےں۔ ےہ غذا گھر گھر
پکتی ہے اور اس کے مسالے اور پکانے کا طرےقہ ہر اےک کو معلوم ہے۔

61۔ جاڑے کی ترکارےوں کے کھانے 
جاڑے کا موسم ہماری صحت مندی کے لےے مقابلتاََ زےادہ سازگار ہوتا ہے۔ اسی 
موسم مےں بھاری ترکارےاں پےدا ہوتی ہےں جن سے بہت لذےز اور توانائی بخش غذا 
مےں تےار
(83) 19

کی جاتی ہےں۔ پرانے لگو کہا کرتے تھے کہ کھانے کا موسم جاڑا ہی ہے۔ ان ترکارےوں 
مےں آلو، مٹر سےم کے بےج باقلہ، گوبھی، کرم کلّہ، پالک، چقندر اور شلغم ہےں ان مےں 
آلو ہر موسم مےں استعمال ہوتا ہے اور بے.شمار طرےقوں سے استعمال ہوتا ہے۔

6آلو 
فی.زمانا آلو کی غذاوں مےں بہتاتا ہوگئی۔ ےہ نئے طرز ہم نے انگرےزوں سے 
سکےھے تھے جن کی غذاوں مےں آلو جزو اعظم تھا۔ قرےب ہر گوشت کے کھاتے ہےں 
اہلے ےا تلے ہوئے آلووں کے قتلے شامل ہوتے تھے، چنانچہ آلو کی ٹکےاں، آلو چاپ
آلو کی ٹکےاں اور اسی قسم کے دوسرے مرکبات و مصنوعات جدےدےت کی پےدوار
ہےں۔ آلو کباب ہمارے ہےاں کی قدےم غذا تھی جس نے الگ روپ بدل کر آلو 
چاپ کی صورت اختےار کرلی ہے۔ آلوچاپ مےں اندر قےمہ بھرا ہوتا ہے۔ لکےن 
پرانے زمانہ مےں خالص الو کے کباب تےار ہوتے تھے ان کا طرےقہ ےہ تھا کہ پہلے 
آلو ابرل کے چھےل لےے جاتے پھر ان کو پےاز بھند ہوا دھنےا سرخ مرچ گرم مسالہ 
اور نمک کے ہراہ پےس ڈالا جاتاتھا۔ تلی ہوئی پےاز دہی مےں پےس کر شامل کر کے 
ان سب کو خوب مل کر کباب کی ٹکےاں بنالی جاتی تھےں اور ان کو شامی کباب کے 
طرز پر تل لےا جات اھا۔ ےہ کباب صرف جذبہ تنوع کی آسودگی کے لےے تےار کرائے جاتے 
تھے۔ ان کا طرےقہ ےہ تھا کہ پہلے آلو ابال کے چھےل لےے جاتے پھر ان کو پےاز بھنا ہوا 
دھنےا 
سرخ مرچ، گرم مسالا اور نمک کے ہمراہ پےس ڈالا جاتا تھا تلی ہوئی پےاز دہی مےں 
پےس 
کر شامل کر کے ان سب کو خوب مل کر کباب کی ٹکےاں بنالی جاتی تھےں اور ان کو 
شامی کباب 
کے طرز پر تل لےا جاتا تھا۔ ےہ کباب صرف جذبہ تنوع کی آسودگی کے لےے تےار کرائے 
جات ے
تھے۔ اصلی غذاوں مےں سادہ نمک مرچ مےں پکائے ہوئے آلو ناشتہ کے وقت پوری وغےرہ 
کے ساتھ کھائے جاتے تھے ےا پھر دونوں وقت والے دسترخوانوں پر آلو ناشتہ کے وقت پوری 
وغےرہ 
کے ساتھ کھائے جاتے تھے ےا پھر دونوں وقت والے دسترخوانوں پر آلو اور کوئی ترکاری 
ملا کر تےار کردہ سالن ےا گوشت اور آلو سے تےار کردہ سالن حاضر کےے جاتے تھے آلو کی 
دوسری 
ترکاری کے ساتھ سمولےت والی غذائےں عموماََ بغےر مسالے کے نہےں پکتی تھےں کےوں کہ 
اےسی
سادہ چےزےں بے.رنگ رہ کر بے مزہ قرار پاتی تھےں۔
(84) 20
آلو مےں دوسری ترکارےوں کی شمولےت سے بلا گوشت کے مرغوب سالن، آلو، بےگن 
آلو مٹر، آلو سےم، آلو گوبھی، آلوکرم کلہ اور آلو پالک تھے۔ ان مےں بھی آلو کر کلّہ 
شاز و نادر
ہی استعمال ہوتا تھا۔ ان سب کو پکانے کا اےک ہی طرےقہ تھا، گھی مےں پےاص داغ کر 
کے 
مسالا بھونا جاتا تھا پھر ترکاری بھونی جاتی اور پانی دے کر گلالی جاتی، کوئی سادہ 
سالن
شوربے.دار نہےں ہوتا تھا ہر سالن مےں آخر مےں دہی دےا جاتا، البتہ پالک آلو مےں 
دہی 
کی مقدار زےادہ دی جاتی تھی آلو بےگن، آلو گوبھی اور آلو کرم کلّہ مےں کھٹائی بھی 
شامل کردی جاتی تھی۔ آلو مٹر، آلو سےم اور آلو گوبھی مےں معقول مقدار مےں کترا 
ہوا ہرا
دھنےا ہری مرچ اور ہری ادرک چھڑک دی جاتی تھی باقی غذاوں کے لےے بارےک پسا 
ہوا گرم مسالہ چھڑک دےنا کافی تھا۔ ان ترکارےی والے سالن مےں بھی گوشت کے ہم وزن
گھی اور مسالے دےے جاتے تھے۔ ےعنی ےہ کہ ترکارےاں گوشت کے ہم وزن قرار پاتی تھےں 
البتہ کھانے والوں کے مزاج و مذاق کے تحت مسالوں مےں کمی کر دےنا مناسب سمجھا جاتا 
تھا۔

آلو کا سالن بوتےوں، کبابوں اور قےمہ کے ساتھ تےنوں طرح سے پکتا ہے اور 
تےنوں سالنوں کے کھناے کے لےے بڑے بڑے پرانے آلو پسندے کےے جاتے تھے قےمہ کے 
لےے کبابوں کاےک اےک آلو کے چار چار پےاز ٹکڑے کےے جاتے تھے بوٹےوں اور کباب 
کے سالنوں کے لےے دو ٹکڑے کر لےان کافی تھا۔ ان سالنوں مےں بڑے ٹکرَے ہی پسند 
آتے تھے پھر ان آلووں کو گود کر نمک پانی مےں کم سے کم آدھ گھنٹہ تک بھگودےا 
جاتا تھا۔ اسےک 
بدع ان کو نکال کر اور پانی پونچھ کر تل لےا جانا تھا۔ رائےسوں کے ےہاں بلا تلا ہوا آلو 
کا سالن 
گوشت والا نہےں پکتا تھا پکانے مےں مسالے کو تلی ہوئی پےاز اور گھی مےں نمک دے 
کر اتنی 
دےر تک بھونتے تھے کہ ہلدی اور دھنےے کی بو نکل کجائے اور مسالے کی خوشبور آجائے۔ 
پھر
گوشت ےا قےمہ مسالوں مےں شرےک کر کے بھونا جاتا تھا اور گوشت گلا لےا جاتا۔ گوشت
گل جانے اور قےمہ بھن جانے کے بعد آلو چھوڑ کر اتنا پانی دےا جاتا کہ آلو گل جائےں۔
آخر مےں تھوڑا دہی ڈال کر سالن کو بھون کر حسب خواہش مقدار مےں شوربے پر اتار 
لےتے تھے موسم سرما مےں ہر سالن تےار ہونے پر تھوڑا کٹا ہوا ہرا دھنےا ضرور چھڑک 
دےا جاتا 
تھا۔ آلو کبابوں کے ساتھ سالن کی شکل مےں پکائے جاتے تو پہلے قےمہ مےں کبابوں کا 
مسالہ 
دے کر ابال لےا جاتا پھر حسب دستور چھوٹے چھوٹے ےا بڑے کباب بنا کر تل کر علاحدہ 
رکھ
(85) 21

لےے جاتے تھے۔ مسالہ بھن جانے کاور آلو گل جانے کے بعد ان کوفتوں کو شامل کر دےا 
جاتا تھا۔
قےمہ آلو مےں بعض صاحبان مذاق پالک شامل کر دےنا بھی پسند کر دےتے تھے۔ ےہ 
طرقہ 
اس زمانہ مےں مستشنےات مےں شامل تھا کےوں کہ بانداق لوگ دو ترکارےاں بہ ےک وقت 
استعمال 
کرنے کے قابل نہےں تھے۔ آخر مےں ےہ عرض کر دےنا بھی ضروری ہے کہ ان سالنوں 
مےں آلووں
کے ہم وزن گوشت کےا جاتا تھا ور گوشت کے وزن کے مطابق مسالے ڈالے جاتے تھے 
گھی مےں بھون کر مٹر کے دانے بہت مرغوب غذا تھی نئی نئی مٹر کی پھلےاں بازار 
مےں 
آتی تھےں تو دانے نکلوا کے سادہ طور پر نمک مرچ مےں تھوڑا پانی دے کر گلا لےے جاتے 
اور 
کترا ہوا ادرک ہرا دھنےا ہری مرچ کا مسالا چھڑک کر بڑے شوق سے کھائے جاتے تھے 
تےاری کے بعد کہےں ہرا دھنےا کترا ہوا اور کہےں سوئے کی ہری پتےاں کتر کے چھڑک 
دےا جاتا 
تھا۔ موسم شباب پر آنے کے بعد مٹر کے دانوں کے سالن بوٹےوں، قےمہ اور کبابوں مےں 
تےنوں
طرح سے پکتا تھا۔ ان کے پکانے کا طرےقہ وہی تھا جو ہر سالن کے لےے مخصوص ہے 
روسائو 
امرا کے ےہاں بہر حال قےمہ اور مڑ زےادہ پکتے تھ۔ مٹر کی فصل آخر ہوتی تو دانوں 
کو چھل 
کر ان کی دالےں نکلوالی جاتےں اور انھےں کی شمولےت سے تنےوں طرز کے سالن پکتے 
تھے۔
ان سالنوں مےں بھی ترکاری کے ہم وزن گوشت اور قےمہ شامل کےا جاتا تھا البتہ گھی 
کی مقدار 
قدرے بڑھادےی جاتی تھی۔ پاکنے کے طرےقے ےکساں تھے۔

6سےم 
سےم صرف آلو ساتھ سادہ طور پر ےا مسالہ دے کر پاکئے اور کھائے جات ےہےں 
ان دونوں غذائوں کے پکانے کے طرےقے اوپر درج کےے جا چکے ہےں البتہ سبم کے بےج 
بہت 
پسندےدہ تھے اور بغےر گوشت نےز گوشت کے ساتھ بہت لزےز ہوتے ہےں۔ ان بےچوں کا 
سلان 
بوٹےوں، کباب اور قےمہ مےں پکتا ہے اور پکانے کا طرےقہ بجنسہ وہی ہے جو مڑ کے دانوں
کے سلسلہ مےں بےان کےا گےا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس سالن مےں تےاری کے بعد 
ہرا سوےا کتر کر ضرور شامل ہوتا تھا۔ بغےر گوشت کے سےم کے بےچوں کا سالن ہمارے 
خاندان مےں 
خاصگی طرز پر پکواےا جاتا اور بہت پسند کےا جاتا تھا۔ سےر بھر سےم کے بےچوں کے لےے 
دارچےنی چار
ماشہ لونگ دو ماشہ الائچی، چھ ماشہ، ہلدی پسی ہوئی تےن ماشہ مرچ سےاہ پانچ 
ماشہ زےرہ
(86) 22

سےاہ و سفےد دو ماشہ، مرچ سرخ دو تولہ، پےاز آدھ پاو، ادرک دو تولہ اور دھنےا 
دو تولہ کا مسالہ بارےک پےسا جاتا تھا۔ پاو بھر گھی مےں پاو بھر پےاز تل کے نکال لی 
جاتی پھر
اسی گھی مےں لونگ الائچی داغ کر مسالہ بھونا جاتا تھا۔ بھوننے مےں دو تولہ نمک دے
دےا جاتا اور جب ہلدی دھنےے کی بو دور ہوجاتی اور مسالہ سرخ ہوجاتا تو بےچ ڈال کر 
دےر 
تک بھونے جاتے تھے اور پانی دے کر گلا لےے جاتے تھے اس کے بعد تلی ہوئی پےاز پاو 
بھر دہی 
مےں پےس کر شامل کردی جاتی تھی اور اےک بار بھر بھون کر سالن تےار کر لےا جاتا 
تھا۔ آخر مےں 
کترا ہوا سوےا چھڑک دےتے تھے۔ ےہ سالن بہت خوشگوار ہوتا تھا۔

6باقلہ

باقلہ لزےز لےکن ثقےل ترکاری ہے۔ اس کا سلان بھی بجنسہ سےم کے بچوں کی 
طرح 
پکاےا جاتا ہے اور بوٹےوں نےز کبابوں کے ساتھ اچھا پکتا ہے قےمہ مےں بھی پک سکتا ہے 
لےکن قےمہ کے لےے چھوٹے قد کی پھلےوں سے دانے لےنا چاہےے۔ اس ترکاری کا بلا گوشت 
کا سالن 
بھی عمدہ ہوتا ہے پکانے کا طرےقہ وہی ہے جو سےم کے بےج بلاگوشت والا خاصگی کے لےے 
اوپر
دردج ہوا۔

6گوبھی

گوبھی بہت ثقےل لےکن پسندےدہ غذا ہے اس کا سالن بھی بوٹےوں ےا کوفتوں کے 
ساتھ
پکاےا جاتا ہے۔ قےمہ کے ساتھ پکانا مناسب نہےں ہے۔ آلو کی طرح گو بھی تل کے بھی 
پکالی جاتی 
ہے جو زےادہ خوشگوار ہوتی ہے۔ گوبھی سادہ پکائی جائے ےاتل کے دونوں کے پاکئے دی 
طرےقے جو آلو کے سلسلہ مےں بےان ہوئے۔ البتہ گوبھی مےں کھٹائی دےنا ضروری ہے 
اس کے 
لےے دور حاضر مےں ٹماٹر شامل کر دےنا بہتر ہوگا۔ گوبھی کو تلتے وقت ےہ خےال رکھنا 
چاہےے کہ 
پھول اچھی طرح سرخ ہوجائےں اس لےے اس کو دھمےی دھےمی آنچ پرتلنا چاہےے۔ 
تےاری کے بعد 
کتری ہوئی ادرک، ہری مرچ اور ہرا دھنےا شامل کر دےنا بے حد ضروری ہے۔

گوبھی کے کباب بھی بہت اچھے پکتے ہےں ان کے پکانے کا دہی طرےقہ ہے جو اوپر 
بےان 
کےا گےا۔
(87) 23

اس مقام پر گانٹھ گوبھی کا مختصراََ تذکرہ کر دےنا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے 
پرانے روساو عمائدےن کے ےہاں ےہ تراکری کبھی نہےں پکتی تھی اس کا نام بہت سے
لوگوں کو نہےں معلوم تھا ےہ ترکاری آلو کے ساتھ مسالہ.دار سادی بھی پکتی ہے اور اس 
کا 
سالن بوٹےوں اور کوفتوں کے ساتھ پکتا ہے۔ پکانے کا طرےقہ وہی ہے جو اوپر بےان 
کےا گےا البتہ اس مےں قدرے شوربا رکھا جاتا ہے۔ گانٹھ گوبھی اچھے پکتے ہےں پکانے کا 
طرےقہ 
وہی ہے جو بےان کےا گےا۔

6کرم کلّہ

کرم کلّہ بھی گوبھی کے خاندان کی ترکاری ہے۔ ثقےل غذا ہے لےن مزاہ اچھا ہوتا 
ہے اس کے پتے بارےک کتر کے پاکئے جاتے ہےں۔ سالن بوٹےوں، کوفتوں اور قےمہ کے ہمراہ 
پکتا ہے اور پکانے کے سب دہی طرےقہ ہےں جو اوپر بےنا کےے گئے۔ آلو کے ہمراہ سادہ 
کرم کلّہ بھی لزےز غذا ہے۔ اسی مقام پر چےنی کرم کلہ کا ذکر بھی بہت ضروری ہے۔ 
ہے ترکاری 
کرما کلّہ ہی کی طرح ہے لےکن مقابلتاََ بہت بہتر ہے۔ اس کو بھی کرم کلّہ کی طرح 
بوٹےوں کوفتوں 
اور قےمہ مےں پکاےا جاتا ہے۔ اس کے پتوں کو کتر کے ماشا اور مونگ کی دال کے ساتھ 
بہت لذےز ست بھتا تےار کےا جاسکتا ے اور بےسن کے ہمراہ لت کر کے بہت اچھی پلکےاں 
بھی تلی جاسکتی ہےں۔ راقم کے نزدےک اس کرم کلّہ کے اندروائلے ملائم پتوں کو قےمہ 
ےا کتاب
کے ساتھ کھانا صحت مندی کے لےے بت مفےد ہے۔

6	پالک 
پالک مختلف قسم کی ہوتی ہے اور ہر موسم مےں دستےاب ہوجاتی ہے، ہر قسم 
کی پالک اےک 
ہی طرےقہ پر پکتی ہے جس کا بےان اوپر اچکا ہے۔ اس مقام پر ےہ بات بھی کہنے مےں 
آتی 
ہے کہ ہمارے ملک مےں بے.شمار ساگ پےدا ہوتے ہےں۔ اس صورت حال کا اےک اےرانی نے 
ےہ کہہ کر مذاق آڑاےا تھا کہ ہر گےا ہے کہ ہر گےا ہے کہ اززمےن روےد۔ اہل بنگال 
ساگ می گوےند 
تےلےن لکنھوں والوں کو پالک کے علاوہ خرف سوےا مےتی بتھوا اور ربر سات مےں کے ساگ
(88) 24

ان تےنوں ساگوں کو سادہ پکانا چاہےے۔ دوسری ترکاری بھی شامل نہ ہونا چاہےے۔
صرف گھی مےں لونگ الئچی کڑ کڑا کے ساگ اور قرےب قرےب ہم وزن پےاز کے ساتھ 
نمک مرچ اور کھٹائی دے کر پکا لےنا چاہےے۔ سوےا مےتھی کا ساگ قےمہ کے ہمراہ پکتا 
ہے لےکن 
پالک کے مفابلہ مےں ےہ کم وزن مےں شامل کےا جاتا ہے۔ بتھوے کاست بھتا اچھا ہوتا ہے 
اور 
خرقہ کا ساگ مرےعضوں کی غذا سمجھی جاتی تھی۔ اس کو صرف قےمہ کے ساتھ پکاتے 
تھے اور اسی 
طرح اب بھی پکاتے ہےں۔

6چقندر

چقندر بہت مفےد غذا ہے جو تولےد خون کے لےے کارآمد ہے۔ ےہ ترکاری بھی 
بوٹےوں 
کوفتوں اور قےمہ مےں پکتی ہے ۔ پکانے کا طرےقہ بدستور ہے لےکن اس کا سالن خشک 
پکتا 
ہے۔ شوربا قطعاََ نہ ہونا چاہےے۔ ودسرے ےہ کہ ہے ترکاری ذائقہ مےں مےٹیھ ہوتی ہے 
اس 
لےے اس مےں ترشی شامل کرنا ضروری ہے۔ ٹماٹر ےہ ضرورت فراہم کر دےتا ہے۔

6شلغم (سلجم)

شلغم بھی کار آمد ترکاری ہے جو انسان کی صحت مندی اور تنو مندی کے لےے 
مفےد 
ہے۔ اس تکاری کے ساہ کباب متذکرہ بالا طرز پر، سالن بوٹےوں کوفتوں اور قےمہ کے 
ہمراہ حسب دستور ترکےبوں سے جن کا بےان اوپر آچکا ہے۔ پکائے جاتے ہےں۔ ان سب 
غذاوں سے بالا زشب دےگ ہوتی ہے اور شلغم کا سادہ سالن خاصگی ہوتا ہے شلجم 
کے سادہ بغےر گوشت والے سالن کو پکانا بھی سہل ہے۔ سےر بھر شلغم پہلے بھوےل مےں 
تھوڑی
داغ کر کے اسی پےاز مےں شلغم کے قتلوں کو تل لےا جائے تاکہ وہ اچھی طرح سرخ 
ہوجائےں
پھر درچےنی اور لونگ الائچی چار چار ماشہ، مرچ سےاہ اےک ماشہ، مرچ سرخ ڈےڑھ
تولہ، ادرک اےک تولہ، دھنےا دو تولہ، زےرہ سےاہ و سفےد دو ماشہ پےش کر اور ڈےڑھ 
پاو دہی مےں ملا کر پتلےی مےں دال دےا جائے اور دو تولہ نمک بھی شامل کر دےا جائے۔ 
ہلکی 
ہلکی آنچ پر دےر تک ےہ ہانڈی پاکئی جائے۔ مسالے پکا جائےں اور شلغم گل جائےں تو 
آہستہ
مےں تےف گےر سے چلا کر سالن تےار کر لےا جائے آخر مےں دو ماشہ زعفران دو تولہ عرق
(89) 25

کےوڑہ مےں حل کر کے ملادی جائے۔ اس کا شوربا شب دےگ کی طرح گھی اور دہی کے 
لعاب پر رکھنا چاہےے اور اس سالن کو بھی گرم گرم تندوری روٹی کے ساتھ کھانا 
چاہےے ےہ واضح رہے کہ جتنی زےادہ دےر تک ےہ سالن نرم آنچ پر پکائےا جائے گا اتنا
ہی اس کا ذائئقہ بہتر بہتر ہوجائے گا۔ دور حاضر مےں زعفران کے بجائے گئو مارکہ رنگ
استعمال کر دےا جائے تب بھی کام چل جائے گا اور ےہ سالن گراں نہےں پڑےگا۔

جاڑے کی ترکارےوں کے تمام سالنوں مےں شب دےگ سب سے زےادہ مرغوب اور 
پسندےدہ غذا تھی۔ خواص و عوام سب دلدادہ تھے۔ متوسط درجہ کے لوگوں کے ےہاں 
سال مےں اےک دو بار ضرور پکتی ہے اور دوست احباب کی توضع بھی کردی جاتی تھی 
معمولی طرز کی شب دےگ کا جو قرےب قرےب ہر گھر مےں پک سکتی تھی، ےہ طرےقہ 
تھا کہ کم سے
کم دوسےر شلغم چھےل کر دو دو ٹکڑے کر لےے جاتے تھے پھر نمک اور ہلدی پےس کر ان 
مےں 
اچھی طرح لگا کر دن بھر دھوپ مےں رکھ دےا جاتا تھا جتنے بڑے ہوتے اور دن بھر 
کی دھوپ
مےں پوری طرح خشک ہوجاتے اتنی ہی اچھی شب دےگ پکتی تھی۔ شام کو پِان ےکا 
انتظام 
ہوتا تھا، سب سے پہلے سےر بھر سوکھے اور صاف اور اچھے قےمہ کو کبابوں کے مسالے مےں 
پےس 
کر کباب تل لےے جاتے تھے پر اکے چھوٹی دےگ مےں کم سے کم تےن پاو گھی مےں کم 
سے کم 
پاو بھر پےاز کے مسلہ جتنا بقدر دوسےر گوشت کے درکار ہوتا ہے نمک کے ساتھ چھوڑ کر 
اچھی 
طرح بھون لےا جاتا تھا اس کے بعد سےر بھرگوشت کے درکار ہوتا ہے نمک کے ساتھ چھوڑ 
کر اچھی 
طرح بھون لےا جاتا تھا اس کے بعد سےر بھر گوشت کے اچھ ے پارچے اسی مسالہ مےں 
شامل 
کر کے بھون لےے جاتے تھے جب گوشت بھن جانے کے قربے آتا تو تلے ہوئے کباب اور شلغم
شامل کر کے اچھی مقدار مےں پانی دے کر اور دےگ ڈھک کر ہلکی ہلکی نرم آنچ پر 
پکاتے تھے 
رات بھر صرف اتنی حفاظت کی ضرورت تھی کہ پانی جل کر کھانا تباہ نہ کر دے ےا ےہ 
کہ دےگ 
مےں نےچے کی طرف گوشت کباب ےاترکاری جل کر لگ نہ جا اس لےے رات مےں دو تےن بار 
سالن 
کو ہلکا ہلکا چلا دےا جاتا تھا صبح تک جب گوشت اور ترکاری پک کر تےار ہونے لگتی تو 
داغ
کی ہوئی پےاز کو پوا بھر دہی مےں پےس کر ملا دےا جاتا تھا اور جوز جو تری نےز 
گرم مسالہ بارےک 
بارےک پےس کر چھڑک دےا جاتا۔ 
روسا عمائےدےن کے ےہاں متعدد طرےقوں سے شب دےگ پکائی جاتی تھی جس کو
(90) 26

ہنر مندی باورچی اپنے علم سےنہ کے سہارے پکاتے تھے ان کے مرجانے کے بعد وہ سب ہنر 
ختم ہوگئے، اس مقام پر صرف اس خاصگی طرز کو پےش کے جاتا ہے جو ہمارے خاندان 
مےں رائج تھا 
دل ےہی چاہتا ہےکہ ےہ نسخہ محفوظ ہوجائے شاےد کبھی کارآمد ہوسکے وہ طرےقہ ےہ تھا 
کہ ڈےڑھ سےر
بڑے شلغموں کو چھےل کر چار چار ٹکڑے کرلےے جاتے تھے پھر پسے ہوئے لہسن مےں 
اچھی طرح 
کٹی ہوئی ہلدی اور نمک کو لت کر کے ےہ مسالہ شلغموں مےں کاٹنے سے گود گود کے 
پےوست 
کر دےا جاتا تھا اس عمل مےں اس عمل مےں تقرےباََ آدھ گھنٹہ صرف ہوتا تھا اس کے 
بعد شلغم تل کے اچھی 
طرح سرخ کر لےے جاتے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ سےر بھر گوشت کی لہسن پےاز ادرک اور 
نمک 
کے ساتھ اےسی ےخنی تےار ہوتی تھی جس مےں گوشت گل کر حلوا ہوجاتا تھا۔ پھر 
گوشت کو اچھی 
طرح مل مل کے ےخنی چھان کر علاحدہ رکھ دی جاتی تھی تےسری طرف آدھ سےر 
قےمہ کو کبابوں کے 
مسالے مےں پےس کر اور بہت تھوڑا پپتےہ شامل کر کے کباب بناکے تل لےے جاتے تھ ےجب 
ےہ تےنوں 
اجزائے ترکےبی علاحدہ علاحدہ تےار ہوجاتے تھے توڈےگ مےں ڈےڑھ پاو گھی ڈال کر پےاز
داغ کی جاتی اور اسی مےں مسالہ دے کر سرخ کر کے آدھ سے گوشت بھونا جاتا اور 
سالن 
تےا کر لےا جاتا تھا۔ جہاں تک مےرا حافظہ کام کر رہا ہے مسالہ کی مقدار اےک سےر 
گوشٹ 
کے مطابق ہوتی تھی گوشت گل جانے پر آدھ سےر دہی اور پاو بھر بالائی چھان کے 
نےز بےٹھے 
بادام کے آدھ پاو گری پےس کر ملادی جاتی تھی۔ اسی وقت تےار کی ہوئی ےخنتی 
اور تلے ہوئے 
شلغم بھی ڈال دےے جاتے تھے جب ےہ ساری چےزےں پک جاتی تھےں تو دو کاغذی لےموں 
کا 
عرق اور تلے ہوئے کباب ڈال کر اتنا پانی دےا جاتا تھا کہ شلغم گل جائےں کبابوں 
کے ساتھ تےن ماشہ کشمےری بری بھی کوٹ کر ڈال دی جاتی تھی ر دےگ پر ڈھکنا
ڈھک کر آتے سے اچھی طرح گل حکمت کردےتے تھے۔ ڈھکنی کے اوپر اور دےک کے نےچے 
کوئلوں کی آگ دے کر رات آہستہ آہستہ پکےن دےا جاتا رات بھر صرف اتنا حال 
رھکا جاتا کہ دےگ کا منہ کسی طرف سے کھلنے نہ پئے اور بھاپ باہر نہ نکل کسے سبح 
ہوتے 
آٹا ہٹا کر دےگ کا ڈھکنا کھولا جاتا اور پکری آگ ہٹا کر نےچے آتی ہلکی آنچ کردی 
جاتی تو 
شب دےگ صرف لعاب اور گھی پر تےار ہوجائے آکر مےں دو ماشہ زعفران تنے 
تولہ عرق کےوڑاہ مےں حل کر کے چھڑک دی جاتی تھی شب دےگ کا مخصو طور پر 
شےرمالوں 
ےا تافتانوں سے ناشتہ ہوتا تھا۔
(91) 27

6مولی، گاجر اور ٹماٹر

متذکرہ بالا ترکارےوں کے علاوہ تےن ترکارےاں اور اےسی ہےں جو ہمارے صحت کے 
لےے کار آمد ہےں ےعنی مولی، گاجر اور ٹماتر، تماٹر بہت پرانی ترکاری نہےں ہے اور 
دور حاضر مےں 
لوگ ان کو کچا کھاتے ہےں نےز سلاددوں مےں بھی استعمال کرتے ہے۔ عہد قدےم مےں 
جدےد رز کے 
سلاد بنانے مےں کا ہو کلہ جرو اعظم ہے۔ ےہ نام لوگوں کو معلوم ضرور تھا لےکن اس کے 
کھانے کی 
طرف توجہ نہےں ہوتی تھی۔ جدےد طرز پر تےار کردہ سلادوں کی ترکےبےں دےنا جانتی 
ہے اس لےے
ان کو بےنا کرنے کی ضرورت نہےں البتہ اتنا عرض کر دےنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ 
پورناے 
مذاق کے تحت دہی مےں کاہو کلّہ کترا ہوا اےک انڈا ابلا اور قتلے بنائے ہواے کچھ چقندر 
ابلا 
ہوا نمک مرچ کے ہمراہ شامل کر کے اچھ اسلادےن بن جاتا ہ۔ ٹماٹر مقبول ہونے کے بعد 
صرف 
قےمہ مےں سالن کے مسالے مےں پکاےا جاتا تھا جن جن غذاوں مےں کھٹائی کی ضرورت 
ہوتی 
تھ وہاں اسی کو بدل بنالےا جاتا تھا۔

مولی اور گاجر کا بھی ہلدی کے مسالے مےں سالن پکاےا جاسکتا ہے لےکن اس کی 
طرف کبھی توجہ نہےں کی گئی۔ مولی کا استعمال کھچڑےوں کے ساتھ ہوتا تھا اور 
کچھی مولی ہی کھائی 
جاتی تھی۔ گاجر کی افادےت تسلمے تیھ لےکن اس کا مربا ےا اچار بنا کرتا تھا۔ سالن نہ 
پکانے کی 
غالباََ ےہ وجہ تیھ کہ گاجر بہت دےر مےں گلتی ہے اور اس کے ساتھ دوسری ترکاری 
کوئی اےسی 
نہےں ہے جو اتنی دےر مںے گل جائے۔ پرانے زمانے ولاے کچھی تاکارےاں کھانے کی طرف 
کبھی 
آمادہ نہےں ہوئے اس لےے گاجر کے سالن کا کوئی تجربہ نہےں ہو سکا لےکنقرےن قےا ےہ ہے 
کہ 
اس کا سالن بوٹےوں اور کبابوں مےں بھی پک سکتا ہے البتہ اس کو ابال کر شامل کرنا 
ہوگا۔
تاکہ پکانے سے پہلے ہی گاللی جائے۔ گاجر کا مراسالن کے مطابق بنانے کے لےے کھٹائی شامل 
کرنا ضروری ہوگی۔ اس کھٹائی کا بہت اچھا بدل ٹماٹر ہے۔ گاجر اےک خالص ترکاری 
والا سالن معدہ اور جگر کے لےے بہت مفےد ہوتا ہے اس سالن مےں لوکی شامل کرنا پڑتا 
ہے اس کے پکانے کی ترکےب ےہ ہے کہ گھی داغ کر کے ہلدی کا مسالہ بھون لےا جائے پھر 
اسی مسالہ مےں گاجر کے ٹکڑے بھون کر کایف مقدار مےں پانی دے کر گال لےے جائےں 
اسکے
(92) 28

بعد لوکی دے کر پھر بھونا جائے۔ اس موقع پر آم کی کھٹائی بہتر ہوگی۔ اس سالن 
کو 
خشک رہنا چاہےے، شوربے دار بدمزہ ہوجائے گا۔

مالی تنگ دستی کے زمانہ مےں جب اچھی پکائی ہوئی ترکارےاں بھی دست رس 
مےں 
نہ ہوں اچھا ذائقہ حاصل کرنے کے لےے بھرتے اور رائتے بھی کارآمد ہوتے ہےں ہے ہلکی اور 
سستی غذائےں اتنی عام ہےں کہ ان کے اوپر تبصرہ کرنا صضےع اوقات ہوگا۔ صرف اتنا کہہ 
دےنا 
کافی ہوگا کہ آلو، گانٹھ گوبھی اور بےگن کا بہت عمدہ بھرتا تےار ہوتا ہے رائےہ کے لے 
ےکھےرا
ککڑی، لوکی کا ہو کلّہ اور بعض ساگ کارآمد ہوتے ہےں موسم گرم مےں رائےہ اور موسم 
سرما مےں بھرتا مزادے جاتا ہے۔ آلو کا بھرتا اور بےگن کا رائےہ اپنا جواب ہی نہےں 
رکھتے 
بےگن کے رائتے کو بورانی قرا دےنا غلط نہ ہوگا بورانی پلاو کے ساتھ اےک اےسا جزو ہے
جس کو علاحدہ کرنا اپنے پسندےدہ ذائقہ کو مجروح کرنے کے برابر ہے۔

ترکارےوں کے علاوہ ساگوں کی افادےےت بھی صحت کے لےے مسلّم ہےں، ہر ساگ 
مےں حےاتےن ےعنی وٹامن موجود ہوتے ہےں چولائی کا ساگ سب سے زےادہ حےاتےن 
رکھتا ہے اور پالک کے ساگ مےں فولاد ہے جو تو لےدخون کے حق مےں بہت سود مند ہو 
ہے۔ ان دونوں ساگوں کا تذکرہ اوپر آچکا ہے۔ اس مقام پر صرف دو اور ساگوں
کا تذکرہ مقصود ہے جو مےرے ذاتی تجربہ مےں بہت فائدہ مند ہےں۔ ےہ ہےں 
چکوٹ بھاجی اور پوئی ساگ۔ گکوٹ بھاجی قےمہ مےں سالن کے مسالے کے ساتھ بہت
خوش گوار غذا ہے۔ اس کو مونگ اور ماش کی دالوں مےں شامل کر کے بہت اچھا 
ست بھےا پکاےا جا سکتا ہے، پوئی ساگ غالباََ ہر ساگ سے زےادہ کار آمد ہے
لےکن کم سے کم مجھے بازار مےں اچھا پوئی ساگ کبھی دسےتاب نہےں ہوا لےکن اس کا 
بو دےنا ضرورت سے زےادہ سہل ہے۔ گھر کے دے دےجئے۔ ےہ ساگ بڑھ کر بےلوں کی 
شکل
مےں پےل جائے گا اور ہر سال اسی بےل سے بےچ سے پک کر ادھر ادھر چھٹک جائےں گے
اور ہر جگہ جم جائےں گے، پوئی ساگ کے پتے اور ڈنٹھل دونوں ہلدی کا مسالا شامل 
کر کے قےمہ مےں پکتے ہےں، خوش ذائقہ اور توانائی بخش ہوتے ہےں، اس کے تپے ست 
بھتا 
پکانے کے بھی کام مےں لائے جا سکتے ہےں اور بےسن مےں لت کر کے اس کی پوڑےاں پکانا
(93) 29

بہت لذےز غذا ہے۔

ترکارےوں کی خوبےاں اور فائدے اوپر بےان کےے جا چکے ہےں اس مقام پر اےک 
بات اور عرض کر دےنا بھی ضروری ہے کہ اےک خاندان کی دو ترکارےاں اےک وقت مےں 
کھانا
معدہ پر بار ڈالتا ہے۔ ہمارے اسلاف اےک وقت مےں کوئی بھی دو ترکارےاں نہےں کھاتے
تھے۔ ےہ طرز عمل صرف ان کے شوق و مزاج کا نتےجہ تھا لےکن اس مقام پر ےہ کہان ہے 
کہ اےک 
خاندان کی دو ترکارےاں مضر صحت ہے ترکارےوں کے خاندان کے سلسلے مےں دو ہی 
خاندان خوصوصےت کے ساتھ قابل ذکر ہےں۔ اےک کرم کلہ کا خاندان ہے جس مےں گوبھی 
گانٹھ گوبھی اور شلغم بھی شامل ہےں ان چاروں تراکارےوں کا ہے ےعنی جن کے بےچ 
کھائے 
جاتے ہےں اس خاندان مےں مٹر، سےم اور باقلہ داخل ہےں۔ سےم کی خود بہت سی 
قسمےں ہےں 
وےسی اور ولاےتی ملا کر درجنوں اقسام ہےں اپنے تراکرےوں مےں بھی اےک وقت مےں 
صرف اےک کھانا چاہےے۔
6۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

0 
﻿
HAmeen
03-08-01
Urdu
(164) 1

6بابل۔ تہذےبوں کا گہوارہ

اس ےادگار صبح کو ہر اخبار نوےس صحافی کم ماہر آپار قدےمہ زےادہ بنا ہوا تھا۔
بڑے بڑے آرکےا لوجستوں نے بھی اتنی شان کبھی نہےں بگھاری ہوگی جتنی ہم بگھار 
ہے 
تھے۔ بےشتر لوگ جنےس اور آدھے آستےن والی ٹی.شرٹ مےں تھے۔ ٹورشت بےورو سے 
حاصل 
کردہ عراق کا نقشہ اور گاےڈ بک ہاتھ مےں دبائے سگرےٹ کی ڈبےاں جےبوں مےں ٹھونسے
ہوئے اور جس کے پاس کےمرہ تھا وہ اسے شآنے پر لٹائے ہوئے تھا۔ رات بھر بابل کا مطالعہ 
اس طہر کےا گےا تھا جےسے صبح پبلک سروس کمےشن کے کسی امتحان مےں جانا ہے۔ 
چنانچہ
معلومات کے خزانے لٹائے جارہے تھے۔ ےا ےوں کہے کہ نوٹس ملائے جارہے تھے۔

ڈائننگ ہال مےں ہر شخص عجل کے ساتھ ہےوی برےک فاسٹ لے کر باہر کھڑی 
ہوئی ڈی لکس کوچوں مےں سب سے اچھی سےٹ حاصل کرنے کے چکر مےں تھا۔۔۔۔
ہماری منزل مقصود وہ کھنڈرات تھے جن کے ذرے ذرے مےں اےک عہد رفتہ کی عظمت 
کی چمک آج بھی نہ صرف باقی ہے بلکہ دنےا کے لئے مشعل راہ بنی ہوئی ہے۔

اور جب ہماری کوچ ہارون.الرشےد کے الف.لےلوی شہر بغداد سے نکل 
کر بغداد۔۔حےلۃ شاہراہ 8 پر جس کے دونوں طرف کے وسےع مےدان تےز رفتاری 
کے ساتھ لمبی چوری سڑکوں اور خوبصورت کالونےوں مےں تبدےل ہونے کے ابتدائی مرحلے 
مےں تھے۔ صرف 95 کےلو مےٹر دور جنوب مےں بابل کے کھنڈرات کی طرف فراٹے بھر 
رہی تھی
تو جےسا کہ عام طور پر سفر مےں ہوتا ہے، مسافروں کی آپس مےں بات چےت اور ہنسی 
مذاق سے 
پےدا ہونے والا شور ماند پڑ چکا تھا۔ اور غالباََ اب ہر اکے کے ذہن مےں ان کھنڈرات کی
(165) 2

تارےخ کا فلےش بےک شروع ہوچکا تھا۔ کھڑکےوں کے بڑے بڑے شےشےوں پر کے اسپرنگ.دار
پلاسٹک کے خوبصورت پردے اتنے اونچے کرودئے گئے تھے کہ باہر کے مناظر بھی نظر آتے 
رہےں۔
اور اندر کی ٹھنڈک بھی متاثر نہ ہو لےکن باہر کون دےکھتا۔ ہر ذہن کے پردے پر 
تہزےبوں کے عروج
و زوال کی پکچر چل رہی تھی۔ کسی کی نظروں کے سامنے ہےنگنگ گارڈسن آف 
بےبےی لون
تھے کو کوئی ٹاور آف بےمبی لون دےکھ رہا تھا جن کی اب صرف ذہنی تصوےر ہی 
باقی 
رہ گئی ہے۔ ورنہ تو سب کھنڈر بن گئے ہےں۔ اور ماہرےن آثار قدےمہ اس بحث تکرار 
مےں 
مبتلا ہےں کہ کون سی چےز کہان پر واقع تھی۔

بابل عراق کی تارےخی کڑےوں مےں اےک اہم کڑی ہے اور جتنا پرکشش اس کا نام
ہے اتنی ہی حےرت انگےز اس کی تارےخ ہے۔ کہت ےہےں کہ بابل کا بانی تو در اصل 
نمرود بن کش 
بن حا بن حصرت نوح تھا جس نے طوفان نوح کے بعد دنےا کی سب سے بڑی سلطنت قائم 
کی تھی لےکن بابل کی عظمت کا زمانہ صدےوں بعد شروع ہوا۔ ان صدےوں کے دوران 
عراق
کے جنوب مےں نہر فات کے دائےں کنارے پر سومےر کے علاقے مےں مختلف مقامات پر 
کئی کئی سو برس کے متعدد تہذےبوں کے دور گذرے جن کو ان ہی مقامات کے نام سے 
موسوم 
کےا گےا ہے۔ ان مےں ارےدو درفا جامدت نصر ججی مہمد اور العبےد شامل ہےں۔

ےہ تہذےبی دور گوےا دنےا کی اولےن تہزےب کے جنم کا پےش خےمہ تھے۔ ہر دور 
تہذےب 
کی معےنہ تعرےف کے دائرے کے قرےب آتا جارہا تھا۔ اور بالآخر تےن ہزار دو سو برس 
قبل 
مسےح حصرت ابرہےم خلےل.اللاّ کی جائے پےدائش ار مےں سومےری تحزےب کا جنم ہوا جو 
تہذےب کی معےنہ تعرےف پر پوری اترتی تھی۔ اس کے بعد ہی مصر مےں درےائے نےل 
ہندوستان مےں وادی سند (ہڑپا) چےن مےں درےائے زرد (ہوانگ ہو) وادی 
مےکسےکو گواٹے مالا کے جنگلات اور پےرو کے ساحۆی اور کوہستانی علاقوںکی تہذےبےں
وجود مےں آئےں۔
(166) 3

نہ مائہ قےم مےں تہذےب کی تعرےف مےں وہ علاقے آتے تھے جہاں کم سے کم پانچ 
ہزار کی آبادی نوشتہ زبان سماجی ادارے ےاد گاری مرکز اور قبرستان ہوں۔
چنانچہ سومےری تہذےب سے قبل کی تہذےبوں مےں بےک وقت ےہ باتےں ےکجا نہےں تھںے 
اس لئے وہ نےم تہذےب رہےں۔ ےہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سومےری تہذےب ہی سے تارےخ 
مےں 
پہلا صنعتی ےا تکنےکی انقلاب آےا۔ اس بات کا پتہ آثار قدےمہ کی درےافتوں سے ہوتا 
ہے۔

سومےرےوں نے کئی باتوں کی پہل کر کے دنےا و بہت کچھ دےا۔ پہےہ بناےا 
نہروں کے ذرےعہ آپاشی نظام بناےا۔ دھاتوں، خصوصاََ سونے کا استعما کےا۔ ناپ تو کے 
پےمانوں کا معےار مقرر کےا۔ انگرےزی زبان ان کے کئی الفاظ سے مالا مال ہے۔ مثلاََ سفےرن 
(زعفران) نپتھا (پٹرولےم کی اےک قسم) الکوہل چپسم (کھرےا) کےن (بےد) وغےرہ 
اور ذرا غور کےجئے کہ ےورپ ابھی جنگل ہی تھا کہ عراق مےں تحرےر کا اےک کا طرےقہ 
اےجدا ہو کر فان بی ہوگےا
سومےروےں نے دنےا مےں سب سے پرانی مانی جانے والی طرز تحرےر ےعنی تقرےباََ سات سو 
توصےروں 
پر مبنی خظ مےخی (کونی فورم) کو رائج کرکے تارےخی واقعات قلمبند کئے جو انسان کی 
نوشتہ 
تارےخ کا اغاز تھا۔ چنے اور جاپان مےں اسی سے ملتا جلتا طرےقہ آج بھی رائج ہے۔

بہر حال خط مےخی کی کنی تلاش کرنے کا مسکل کام انجام دےنے کا سہرہ ےورپ
کے سر رہا۔ اور جرمنی کے اکے مےونسپل اسکول کے اسٹنٹ ٹےچر جارج فرےڈ رک گراٹفنڈ 
نے 
جو 9 جون 1775ئ کو پےدا ہوئے تھے صرف اےک شرط لگ جان ےپر کونی فورم کی کنجی 
تلاش
کرلی اور اس طرح ہمارا راشتہ ہزاروں برس قبل کے لوگوں سے جڑ گےا۔ اور تارےخ کے نہ 
جانے کتنے سربستہ اسرار ہم پر منکشف ہوگئے۔

ہمےں معلوم ہوگےا کہ رےاضی فلکےات جنوم اور دےگر علوم مےں ہمارے پےش رو 
وہ پستہ قد لمی خم دارناک کارتوس کی طرح کی کھوپڑی اور بلا مونچھ کی لمبی 
داڑھی 
والے سومےری تھے۔ ان ہی سومےروں نے جو بعد مےں اہل بابل کہلائے دن کو چوبےس 
گھنٹوں
(167) 4

مےں تقسےم کےا۔ سات دن کا ہفتہ مقرر کےا۔ لےکنڈر کا تصور دےا۔ اور ان کو بارہ 
گھنٹوں 
مےں بانٹ کر گھڑی بنائی اور ہم ےہ بھی جان گئے کہ آج صرف ہم اور آپ ہی نہےں 
بلکہ ہزاروں 
برس قبل اہل بابل بھی اس وقت اپنا راستہ بدل دےا کرتے تھے جب ملی راستہ کاٹ کر 
نکل جاتی تھی۔

دوہزار برس قبل مسےح سومےر پر بےرونی حملوں کے نجتےجے مےں ارمٹ گےا۔۔
مےسوپوٹامےہ کے شامل مےں نہر فرات کے بائںے کنارے پر جہاں سامی قوم آباد تھی
کش کے بادشاہ کا اکے ادنیٰ خادم سرجون (سوغون) اےک عظےم عرب رہنما کے روپ مےں 
اٹھا اور اس کے تخت پر قبضہ کر لےا اور کش سے ملحق شہر اکدا (عکد) کو اپنا پاےہ 
تخت 
بنا کر اکدی حکومت کی بنےاد رکھی۔ رفتہ رفتہ سرجون نے سارے مےسوپوٹامےہ پر 
تسلط
جمالےا۔ وہ 2276 ق م مےں مارا گےا ارو اس کے جانشےنوں نے بابل کو پاےہ تخت بنا 
کر 
اکدوسومےر پر حخومت کی اور سومےری تہذےب اور وہ علاقہ بابل کے نام سے موسوم 
ہوگےا۔ ےہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان مےں وادی سند مےں ہڑپا کی تہذےب جنم 
لے رہی تھی اور مصر کی تہذےب مےں وادی سند مےں ہڑپا کی تہذےب جنم لے رہی 
تھی اور 
مصر کی تہذےب وجود مےں آچکی تھی اور ان دونوں کے عراق سے تجارتی تعلقات ہوگئے 
تھے۔

بابل کی برتی کا سکّہ حمورابی اعظم (1820۔1750 ق م) نے جماےا جو حضرت 
ابراہےم خلےل.اللاّ کا ہمعصر تھا جنہوں نے 1800 ق م مےں ار کو خےر باد کہا تھا۔ 
حمورابی نے 
اپنے 43 سالہ دور حکومت مےں تعمےری تعلمےی اصلامی اور انتظآمی مےدانوں مےں 
نماےاں کام انجام دئےے۔ اور انتظامےہ کو چلانے کے لئے نورک شاہی (بےورو کرےسی) کی 
بنےاد ڈالی۔ مصنف اور ادےب حمورابی دنےا کا سب سے پہلا قانون ساز تھا جس نے 
لگ بھگ 282 قوانے و ضوابط وضع کر کے ان کو پتھروں پر کندہ کراکر مختفل جگہوں
پر وہ پتھر نصب کرادئےے۔ ان مےں سے نہ جانے کتنے قانون آج کی دنےا کےلئے مشعل راہ 
بنے
(168) 5

ےہ قوانےن خواتےن کے حقوق، مختلف جراےم، کرائے اجرت مزدروی چوری وعےرہ سے 
متعلق تھے۔ بعض معاملات مےں سخت سزائےں متعےن کی گئی تھےں۔ مثلاََ اگر مکان 
گرجانے 
سے کوئی موت ہوجائے تو معمار کے لڑکے کی جان لے لی جاتی تھی۔ فضول خرچ بےوی 
کی سزا
غلامی ےا پانی مےں دبو کر موت ہوتی تھی۔ آپرےشن کے دوران مرےض کی موت کی 
صورت 
مےں ڈاکٹر کا ہاتھ قلم کر دےا جاتا تھا۔ ان قوانےن کا اےک پتھر پرےس کے مےوزےم کی 
زےنت ہے۔

حمورابی نے جس کے زمنا ےمں گھوڑے کا استعمال شروع ہوا سومرےوےں کے 
مرتب کئے ہوئے کلےنڈر کو درست کےا۔ رےاضی اور نجوم کے لوم کو فروغ دےا۔ اسکوائر 
اور کےوب روٹس کے ٹےبل مرتب کرائے۔ اس نے کھجور کے درختوں کی حفاظت کے 
بھی اقدامات کئے تھے اہل بابل کھجور کی بہترےن غذائی خصوصےات کو سمجھتے تھے اور 
وہ اور آشوری لگو ٹےومر اور درسی بےمارےوں مےں اسے بطور دوا کے استعمال 
کرتے تھے۔

ببالےوں کے دور کے بعد 1680 سے 1157 ق م کے دوران کسےوں اور 
آشورےوں کے دور آئے جن کے ممتاز بادشاہ سخارےب (ستاخرب) اور آسورےپانےپال 
(آشرو بنی پال) تھے۔ پھر کلدانےوں کا زمانہ آےا۔ جب کلدانی شہزادہ بنو پولا سر کے 
انتقال کے بعد ستمبر 5۔6 ق م مےں بنو کے شہرئ آفاق بےٹے نوجبخت نصر (بنو خدندز) 
نے 
جس کا ذکر قرآن شرےف مےں ھبی آےا ہے بابل کو افانوی شہرت اور عظمت سے ہکمنار 
کےا۔ نبی حضرت دانےال کو اس کے دربار مےں بلند مقام حاصل تھا۔ اس کے دور مےں 
سائنس طب اور خصوصاََ مےڈےسن اور دےگر علوم و فنون نے ترقی کی اور بابل نے اکے 
زبردست علمی تجارتی اور تحزےبی مکر کی حےثےت اختےار کر لی تھی اور دنےا بھر کی 
قوموں کو 
اپنی طرف کھےنچ لےا تھا۔ بحےرہ روم کے علاقے مےں اےتھنس سمےت ےورپی تہذےب پر 
بابل کی گہرای چھاپ کا اعتراف افال طون (پلاٹو( اور ارسطو (ارسٹاٹل) جےسے عظےم 
دانشوروں
(169) 6

نے کےا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان مےں وادی سند کی تہذےب نے بھی بابل کا اثر لےا 
تھا۔

نوبخت نصر نے ےروشلم پر حملہ کر کے ہےکل سلےمانی کو نذر آتش کےا تھا اور 
ےہودےوں
کو سوسال تک بابل مےں قےد رکھا جو نہر فرات کے کنارے بےٹھ کر آہ و بکا کےا کرتے 
تھے۔ اس کے 
علاوہ نوبخت نے آسوپانےپال کے دارالحکومت نےنواپر بھی قبضہ کر لےا تھا۔ نےنواجو محبت 
کی 
دےوی تےن کے نام سے موسوم ہے بابل کی طرح اےک عظےم.الشان اور دنےا کا مضبوط ترےن
شہر تھا لےکن اس پر عذاب الہی نازل ہوا اور ہمےشہ کے لئے تباہ ہوگےا۔

قدرت نے اتنے عظےم بادشاہ کے اختتام کو اتنا عبرتناک بناےا کہ سن کر 
رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہےں۔ اور اس کی شان کبرےائی کے سامنے سر جھک جاتا ہے۔ اس 
عظےم بادشاہ نوبخت نصر کے آکری دن ان ہی جنگلی جانوروں کی طرح کٹے جن کو 
اس نے بابل کے درو دےوار پر اس لئے نقش کرا دےا تھا کہ دےکھنے والے بادشاہ کے جاہ و 
جلال
اور اس کے دبدبے کا اعتراف کئے بغےر نہ رہےں۔ اسےےہ وہم ہوگےا تھا کہ وہ جانور ہے۔
چنانچہ وہ جنگلوں مےں بھاگ جاتا اور جانورں کی طرح گھاس چرتا تھا 562 ق م 
مےں اس کا انتقال ہوگےا۔

کلدانےوں کے زوال کے ساتھ بابل کا بھی زوال آگےا۔ مےسوپوٹامےہ پر بےرونی 
حملوں کے نتےجے مےں شہر غارت ہوگےا۔ فارسی بادشاہوں مےں سائرس کو چھوڑ کر 
دوسروں
خصوصاََ اےکسےرز نے نہ صرف محلات بلکہ مشہور معلق باغات اور برج بابل کے نام دنشان 
کو مٹا دےا۔ پھر سکندر اعظم آےا۔ لےکن بابل کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کا خواب پورا 
کرنے
سے قبل قدرت نے اس کی عظتمت کو بھی اسی خاک مےں ملادےا۔ اس کا سپہ سالار 
سلکوس بھی 
بابل کی نوتعمےرنہ کراسکا، اور پھر پارتھی اور فارس کے ساسانی بادشاہوں کا تسلط رہا۔

آخر کار عراق کی سرزمےن پر سے بےرونی تسلط اس وقت ختم ہوا جب 637ئ مےں 
حضڑت سعد بند ابی وقاص کے اسلامی لشکر نے چارروزہ جنگ قاسےہ مےں آخری ساسانی
(170) 7

بادشاہ ےزد جرد سوم کو شکست دی اور اس طرح عبروں کی زمےن کو آزاد کراےا۔ اس کے 
ساتھ ہی مشرقی وسطیٰ مےں مسلمان عربوں کا دور شروع ہوا۔

۔۔ہماری ڈی.لکس کوچےں دنےا کے سب سے پرانے شہر بابل کے قلعہ نما 
پھٹک باب غشتار کے سامنے رک گئںے۔ زر خےی کی دوی عشتار کے نام سے موسوم 
اس باب کی نصف باقی رہ جانے والی تقرےباََ 42 فٹ اونچی دےواےں آج بھی مبہوت 
کردےتی 
ہےں۔ اگرچہ کوئی آرکےا لوجسٹ تو ےہی چاہے گا کہ آٹار قدےمہ کی ہر چےز کو اس کی 
اسی شکل مےں 
رکھا جائے جس مےں پائی گئی لےکن عراق حکومت اس کوشش مےں ہے کہ عام سےاح کے 
سامنے آثار چےزےں آپنی شان رفتہ مےں نظر آئےں۔ چنانچہ مرمت کر کے ان دےواروں
کو نےا کر دےا گےا ہے۔

ان دےواروں کے پےچھے حکومت کرنے والے بادشاہ کے جاہ و حشمت کی جھلک 
ہلکے نےلے رنگ کی ان دےواروں پر ابھرے ہوئے مختلف لےکن تقرےباََ اپنے اصی رنگ مےں 
وہ لگ بھگ 575 جانور پےش کرتے ہےں جو فن معماری اور صناعی کا اچھوتا نمونہ ہےں
ان مےں منھ کھولے ہوئے شےر گھورتا ہوا سانڈ (بارش کے دےوتا ارمن کا پسندےدہ جانور)
اور اس وقت کے سب سے بڑے دےوتا مردوک کا پسندےدہ جانور سّروش شامل ہےں 
جسے بابل کاڈ رےگن بھی کہتے ہےں۔ اس کی چمٹے کی طرح کی دہری زبان اور سانپ 
کی طرح 
کا چکپٹا سر واقعی بڑا ڈروانا لگتا ہے۔ ان جانوروں کو دوےار تراش کر نہےں بناےا گےا 
ہے 
بلکہ ان کے مختلف اعضائ کے سانچوں ےمں اےنٹ ڈھال کر اور انہےں جوڑ کر بناےا گےا
ہے اور اسی لئے ہر جانور اےک طرح اور سائز کا ہے۔ اب ہمارا حال ےہ تھا کہ ہنسی مذاق 
سب بن ہو چکا تھا۔ قدم قدم پر حےرت ہمارا استقابل کرنے کے لئے منتظر تھی۔

باب عشتار سے اندر داخل ہو کر پہل ہم اس شاندار موےزےم مےں آئے جہاں
قدےم دور کی بے.شمار اشےار محفوظ ہےں۔ جمورابی کے قانونوں کا سےاہ پتھر بھی ہے 
بابل کا اےک 
(171) 8

ماڈل ہے جو غالباََ مشہور ےونانی سےاح ہےرو ڈوٹس کی بےان کردہ تفصےلات کی روشنی 
مےں تےار کےا گےا ہے۔ اس نے چند سو برس قبل مسےح نوبخت نصر کے عہد کے بابل کی 
سےاحت
کی تھی اور اس کے بموجب بابل 60 مربع مےل کے رقبے مےں اےک نہاےت خوبصورت چو 
کور 
شہر تھا۔ چاروں طرف پانی سے بھری ہوئی گہری خندقوں سے گھرے ہوے شہر کی 
فصےلےں 
اتنی چوڑی تھےں کہ ان پر چار گھوڑوں والی دےو بگھےاں برابر برابر دوڑتی تھںے۔ 
فصےلوں
پر ٹھوس تانبے کی سوچو کےاں تھےں جن مےں محافظ پہرہ دےتے تھے۔ ماکنات عموماََ 
چار منزلہ 
تھے۔ وسط شہر سے ہو کر نہر فرات گذرتی تھی۔ جس کے دونوں طرف مضبوط پشتے 
تھے۔ نہر 
پر پل تھ جس کے دونوں سروں پر محل تھے۔ ان کے درمےان نہر کے نےچے سے سنگ 
کا راستہ
بھی تھ۔ شہر کیئ ضلعوں مےں منفشم تھا۔ ہر ضلع مےں کئی منزلہ زغورت (بمعنی 
بلند مقام) 
تھے جن مےں دےوتاوں کے بت رکھے جاتے ھے۔ ان ہی مےں اےک مشہور برج بابل (ٹاور 
آف
بے.بی.لون) تھا۔

شہر مےں متعدد قلعے محل اور باغات تھے جن مےں شہرہ آفاق ہنےگنگ گارڈنس
آف بے.بی.لون (بابل کے متعلف باغات) بھی تھے جن کو ےوننےوں نے ہفت عجائبات عالم 
کی فہرست مےں شمار کےا تھا۔ شہر کو رات مےں خام تےل (پٹرول) سے روشن رکھا جتا 
تھا
شہر کی خوبصورتی کی تعرےف ہر مورخ نے کی ہے۔ لےکن افسوس کہ وہ تباہ ہو کر 
پھر نہ بن سکا ۔
کہتے ہےں کہ نبےوں نے بابل کی بربادی کی پےشن گوئی کی تھی جس مےں ےہ بھی 
تھا کہ ےہ شرہ برباد
ہو کر جانوروں سے بھرا ہوا جنگال ہوجائےگا۔ سو پوری ہوئی اور اس شہر کی کل 
آبادی 
دواروں پر ابھرے ہوئے جناوروں پر مشتمل ہے بہر حال اب بابل کے لگ بھگ تےن مےل 
کے رقبے مےں اونچے نےچے ٹےلوں اور کھندروں کی شکل مےں پھےلے ہوئے کھندرات سے کچھ
دور حےلۃ کا جدےد شرہ آباد ہے۔ جس کی تعمےر مےں بابل کی قدےم اےنٹوں اور ملبے کا 
استعمال کےا گےا ہے۔ وہ شاےد اس لئے کہ بابل کی روح بھٹکتی نہ پھرے
(172) 9

شےد گرمی اور تےز ہوا کے جھونکوں کو جھےلتے ہوئے ہم اے وسےع چبوترے پر 
پہونچ
گئے جو کسی محل کا حصہ تھا۔ چار پانچ پر اسرار ٹےلے اس شان سے کھڑے نظر آئے 
جےسے ان 
کے اندر کوئی محل دفن ہو۔ ممکن ہے ہو بی۔ اےک طرف فرات کی طرف جاتی ہوئی 
اےک ڈھلوات
سڑک تھی جو آج کی بہترےن سڑکوں کو مات کر رہی تھی۔

سامنے سےکڑوں مزدرو انجنےئےر اور عراق اور بےرونی ماہرےن آثار قدےمہ پرانے
شہر کو کھود کر نکالنے اور اس کی نو تعمےر کے کام مےں مصروف تھے کئی پرانی 
عمارتےں ان ہی 
کے ملبے سے از سر نو تعمےر کی جا چکی ہےں۔ ان ماہرےن نے حال ہی مےں باب عشتار 
کے قرےب
بڑی تعداد مےں قدےم اشےائ اور زےورات بر آدم کئے ہےں اور ان کی محنت ہرروز کوئی 
نہ کوئی نئی بات سامنے لاتی ہے۔ حکومت عراق کا محکمہ آثار قدےمہ ملک بھر کے لگ 
بھگ
دس ہزار آثاری مقامات پر آثار قدمےہ کی تلاش مےں کروڑوں دےنار صرف کر رہا ہے
جس کے نتائج دنےا مےں علم اور معلومات کو ئنی دسعتےں دے رہے ہےں۔ اس کام مےں 
جدےد 
ترےن ٹکنالوجی کو بروئے کار لاےا جارہا ہے ۔

لگ بھگ 83 برس قبل ےہں کسی ٹےلے کے پاس کھڑے ہو کر 43 سالہ جرمن رابرٹ
کو لڈےوی نے اپنے پھاوڑے کی پہلی ہی ضرب مےں اس شہر کی وسےع فصےل برآمد کی 
تھی 
اور پر کئی برس کی کھدائی کے بعد نوبخت نصر کے ےعنی اپنی ہزاروں برس کی تارےخ 
مےں 
سب سے زرےں عہد کا بابل برآمد ہوا۔ جس کے اےک اہم حصے مےں اس وقت ہم کھڑے 
تھے

اس وسےع چبوترے پر ٹہلتے ہوئے آگے بڑھے تو اچانک اےک چوڑا زےنہ نےچے اترتا 
ہوا 
نظر آےا جو اپنے وقت کی دنےا کی سب سے بڑی شآرع پر ختم ہوتا ہے۔ تقرےباََ 77 فٹ 
چوڑی 
اس سڑک کے دونوں طرف متعدد بغلی سڑکےں ہےں جن کے درمےان مےں بہت چوڑی 
اور بلد دےوارےں ہےں جن پر سات سات فٹ کے لگ بھگ 120 جانوروں کے ابھرے 
ہوئے نقش ہےں۔ اس سڑک کا نام اےبورشابو تھا۔ اسے شارع جلوس پروسےنشن اسٹرےٹ
(173) 10

کہا جاتا تھا اور اس پر سے بادشاہ کی سواری گذرتی تھی جو برج بابل تک جاتی 
تھی۔

سڑک کو پار کرکے پھر زےنوں پر چرَ کر دوسری طرف اےک چبوترے پر پہونچ
کر ہماری نظرےں برج بابل چاہ بابل معلق باغات اور نوبخت نصر کے اس محل کو تلاش
کرنے لگےں جس کا آخری مکےن فاتح اعظم سکندر تھا۔ غالباََ ےہ چوبترہ معلق باغات کا 
حصہ
تھا کےونکہ اےک طرف عجےب و غرےب قسم کا ےک کنواں تھا۔ ممکن ہے وہی چاہ بابل ہو 
جس 
کے ذرےعہ باعات کو مسلسل سےنچتے رہنے کی لئے وہ پمپ بنائے گئے تھے جن پر غلاوموں 
کی 
اےک فوج ہر وقت تعنےات رہتی تھی۔ کوڑے کھاتی تھی اور پانی پمپ کرتی رہتی 
تھی۔

بادشاہ نوبخت نصر کی افسانوہی ملکہ سےمےرا مس اپنے مےکے ےک پہاڑون ان کے 
باغات اور پھلوں کو بہت ےاد کرتی رہتی تھی چنانچہ اسے خوش رکھنے کے لئے نوبخت 
نصر 
تے تلے اوپر کئی چھتوں پر باغات لگوائے تھے۔ جن مےں ملکہ کے پسندےدہ پھل اور پھول 
کے 
درخت تھے۔ باغات تک پہونچنے کے لئے زےنوں کے راستے تھے۔ 8 مےل کے رقبے مےں 
زمےن 
کی سطح سے ساڑھے تےن سو فٹ کی بلندی پر ےہ باغات اےک حےرت انگےز نطارہ تھے۔ 
بعض 
مورخےن کا خےال ہے کہ شداد کی جنت ےہی تھی۔ اور ےہ باغات اسی کے لگوائے ہوئے تھے
اب قےاس آرائےاں ہی رہ گئی ہےں۔ تب جو بھی رہا ہو اب کچھ باقی نہےں ہے۔

برج بابل کی بھی اب صرف داستانےں رہ گئی ہےں۔ بائبل کے مطابق طوفان نوح 
کے بعد لوگوں نے سناعر (شنار) مےں جمع ہوکر بادلوںکا جگر پھاڑتا ہوا آسمان سے 
باتےں کرنے والا اےک مےنار اور اپنے لئے اےک شہر بنانے کا منصوبہ بناےا تاکہ ان کا نام 
ہو
اور وہ بکھرنے نہ پائےں۔ اس وقت تمام زمےن پر اکے ہی بولی بولی جاتی تھی۔ 
چنانچہ 
خداوند نے زمنے پر اتر کر ان کی بولی مےں فرق ڈال دےا۔ تاکہ وہ اےک دوسرے کی بات 
نہ سمجھ
سکےں۔ آپ مےں صلاح و مشورہ نہ کر سکےں۔ اور ان کا ےہ غرور ٹوٹ جائے کہ وہ جو 
چاہےں کر 
سکتے ہےں۔ اور ان لوگوں کو روئے زمےن پر پراگندہ کر دےا۔
(174) 11

ےہ واقعہ اختلاف نسنہ کا واقع بھی کہلاتا ہے اور دنےا کے بختلف علاقوں 
مےں اختلاف سنہ کی رواےتےں ملتی ہےں ان مےں قدےم مےسکےن شمالی ہندوستانی کی 
تھار و قوم جو مغلولی نسل سے ہر، افرےقہ کی جھےل نگامی کے ساحلوں پر اباد قابئل اور 
قدےم 
اےستھونےہ شامل ہےں۔ اسٹرےلےا کے قدے باشدنوں مےں بھی اختلاف سنہ کی رواےت پای 
جاتی ہے اور بعض جگہوں پر طوفان ےا سےلاب کا ذکر بھی آےا ہے۔ مختلف مقامات 
پر کھدائےوں 
سے جو کتبے ملے ہےں ان مےں بھی برج بابل کے بارے مےں جو حال لکھا ہے وہ بائبل کے 
بےان سے 
بہت زےادہ ملتا جالتا ہے۔ اور اختلاف لسنہ ہی کو برج کو مکمل نہ ہو سکتے کا خاص 
سبب 
بتاےا گےا ہے۔

بائبل کے بموجب سناعر کا نما اس وق سے بابل ہوگےا جب خداوند نے 
وہاں اتر کر لوگں کو پراگندہ کےا اور ان کی زبان مےں قرق پےدا کےا۔ مصنفن بائبل نے 
لفظ بابل کو عےرانی لفظ ببل سے مستقق سمجھا جائے۔ جس کی معنی پراگندہ کے ہےں
لےکن در اصل ےہ دو آشوری الفاظ باب اور اےل کا مرکب ہے جس کے معنی ہےں خدا کا 
دروازہ 
ےعنی باب الخدا۔

برج بابل کی تعمےر کے بارے مےں ےہ رواےت بھی مشہور ہے کہ اسے نمرود نے 
تعمےر کروا ےا تھا اور اکے ےہ کہ اسے اہل کلدانےہ نے رصد گاہ کی صورت مےں تعمےر کےا 
اور اس کا 
نام ہفت منازل سےار گان رکھا۔ ےہ منزلےں علی.الترتےب آفتاب قمر ذحل مشتری مرےخ 
زہرا اور عطارد سے مسنوب تھںے۔ اور ہر منزل کا رنگ الگ تھا۔ مشہور تو ےہ بھی ےہ 
کہ 
ےہ برج بابل س ےآتھ مےل درو بمقام ےوسےپا مے ہے۔ وہاں اکے برج کا کھنڈر ہے بہر 
حال
ےہ بات طے ہے کہ اس افسانوی برج بابل کی نو تعمےر نو بخت نصر نے کرائی تھی اور اسے 
ےونانی 
سےاح ہےروڈ وئس نے دےکھا تھا۔

688 فٹ بلند برج کی پہلی منزل 105 فٹ دوری 57 تےسری
(175) 12

چھوتھی، پانچوےں اور چھتی منھلےں 19 فٹ فی منزل اور آکری 47 فٹ اونچی تھی 
اس 
مےں دےوتا مردوک کا مندر تھا۔ اس کی دوےارےں سونے کی منقش چادروں کی تھےں 
دھوپ 
مےں ےہ دےوارےں آنکھےں خےسرہ کر دےتی تھی۔ مردوک کی خالص سونے کی مورتی 
کی 
قےمت آج کے حساب سے 6 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھی۔ تمام طلائی مورتےوں اور دےگر 
سامان
مےں خالص سونے کا استعمال کےا گےا تھا۔ جس کا مجموعی وزن 23 ہزار سات سو 
کےلوگرام
تھا برج بابل کی تعمےر مےں 5 کروڑ 80 لاکھ اےنٹَےس لگی تھےں۔ مختلف بادشاہوں 
تکولتی ننورتا سرجون سخرےب اور آسورپانےپال نے بابل پر حملوں کے دوران برج 
کو تباہ کےا جسے بعد مےں نبوپولا سرنے اور پھر اگر پدرنہ تواند پسر تمام کند کے مصداق 
نوبخت
نصر نے اس کی تعمےر کرائی اور اےک بار پھر فارس کے بادشاہ اکزےکےسےنرنے اے غارت 
کر دےا۔ آخری بار سکندر اعظم نے ہندوستان سے واپسی پر برج کی تعمےر کرانا چاہا۔ 
اس نے 
ملبے کی صفائی کے کام پر اپنی ساری فوج لگا دی تھی جس نے دو ماہ مےں 6 لاکھ دن 
(ورک 
ڈےز) کے مساوی کام کےا۔ لےکن برج بابل کی نو تعمےر پھر بھی نہ ہو سکی ہاں اس کے 
ملبے سے 
کئی اور شہر آباد ہو گئے

جواں سال سکندر اعظم ہندوستان مےں راجہ پرس سے افسانوی تکر اور 
زندگی کی سب سے تلخ فوجی بغاوت کے نتےجے مےں مجبور ہو کر وطن واپس ہوتے 
وقت 
جب 
بابل پہونچا تو اہل بابل اس کے استقابل ک لئے گھروں سے نکل آئے۔ مسلسل اےک ماہ تک 
فوجوےں کی خاطر اور تواضع مےں نہ صرف شراب کے مٹکے لنڈھا دئےے بلکہ اپنی بہو 
بےٹےوں
تک کو پےش کر دےا۔ انہوں نے سکندر کو بٹومن (کول.تار) کے ذخےرے دکھائے جو گارے 
اور پلاسٹر کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ کچے تےل کے کنوےں دکھائے اور اس کی خصوصےات 
کا مظاہرہ کےا۔ اسک شام سکندر کے محل تک جانے والی سڑک کے کناروں پر تےل چھڑک 
کر 
آگ لگادی جو منٹوں مےں آگ کی سڑک بن گئی۔ سکنگر نے پہلے تو ان کے خلوص 
کو مشکوک نگاہوں
(176) 13

سے دےکھا لےکن پھر پورا اطمےنان کر لےنے کے بعد اس نے بابل کو اپنی عالمی سلطنت کا 
پاےہ 
تخت بنانے کا فےصلہ کر لےا۔

اپنی حکمت عملی سے سکندر نے اہل بابل کو اپنا گروےدہ بنا لےا۔ منہدم عمارتوں 
کی نوتعےر کرائی لےکن اسے کےا خبر تیھ کہ اس کی قضا اسے وہاں کھےجچ کر لے گئی 
تھی۔ دس برس
کی قلےل مدت مےں معلوم دےنا کا فتح جس کے لئے کہ اجات اہے کہ اپنے باپ کی ناجائز 
اولاد 
تھا کےونکہ والدےن کی شادی سے پہلے ہی (26 جولائی 356 ق م کو) اس کا جنم ہو گےا 
تھا۔
اس پر باپ کے قتل کا بھی الزام ہے۔ اچانک بےمار ہو کر چند روز مےں گھل گےا۔ وہ 
آتش مزاج 
زندگی مےں اگر مقلوب ہوا تو ناتوانی کی طاقت سے۔ 13 جون 333 ق م کو تقرےباََ 32 
برس 8 ماہ کی عمر مےں اس کا انتقال ہو گےا۔ کہتے ہےں کہ فارس کی شہزادی 
رخسانہ سے شادی 
کے بعد سکندر کی اےشَےانوازی پر برہم ہو کر اس کے استاد اور ممتاز فلسفی ارسطونے اسے 
زہر 
دلوا دےا تھا۔ موت مےلرےا سے نہےں زہر سے ہوئی۔ بہر حال قدرت کی ستم طرےفی ہے 
کہ جس سر زمےن 
کو سکندر نے دنےا پر حکومت کرنے کے لئے پاےہ تخت کے لئے منتخب کے اوہی اس کا مقتل 
بھی بنی 
اور مدفن بھی اس کا جسد خالی بعد مےں اسکندرےہ منتقل کر دےا گےا تھا۔ اس کی 
چہےتی بےوی
رخسانہ بےٹے اور ماں کو بعد مےں قتل کر دےا گےا تھا۔ برہ حال اب نہ سکندر رہے نہ ہی 
اس 
کا وہ محو نظر آےا جہاں اس نے زندگی کی آخری سانس لی تھی۔

تےز ہوا سے گردنے فضا کو مکدر کر دےا تھا اور شدےد گرمی نے بہتوں کے سارے 
جذبات ٹھنڈے کر دےئے تھے۔ حلق کو تر رکھنے کے لئے لوگ کم سے کم بول رہے تھے لےکن 
جو سرگرم تھے وہ اےک ٹےلے سے دوسرے ٹےلے پر جا کر ہراےنٹ اور پتھر کا معائنہ کرتے 
پھر رہے 
تھے۔ اےک بار تو اتنی تےز ہوا چلی کہ قدم بالکل اکھڑ گئے۔ نہر فرات اب بہت دور پر 
بہتی ہے 
اس لئے اس طرف جانے کی ہمت نہےں پڑی۔

اس قدےم شہر کی خاک چھاننے اور دھول پھانکتے ہوئے مےں اور شاہد صدےقی 
ٹےلوں
(177) 14

کونا نگتے پھلانگتے اےک بلدن مقام پر پہونچ گئے۔ دور پروہ اسد بابل نظر آےا جو 
صحےح سلامت
بچ جنے والی بابل کی شاےد واحد ےادگار ہے۔ ہم لوگ ہاہنپتے کانپتے دائمی طاقت اور 
عظمت
کی اس علامت تک بھی پہونچ گئے۔ ےہ شےر ہزاروں برس سے اےک انسان کے سےنے پر 
چڑھا
اس کا خون سوچنے مےں مست ہے۔ واہ.رے جنگل کے راجہ تم کل بھی وہی تھے آج 
بھی وہی 
ہو شاےد صاحب نے اپنا کےمرہ سنبھالا اور شےر کے پس منظر مےں مےرے کئی عدد پور 
کھےنچے پھر ےہی 
عمل مےں نے اس کے ساتھ دہراےا۔ لےکن افسوس کہ کےمرہ بغداد ہی مےں رہ گےا۔ 
کاش موسم خوشگوار ہوتا۔ تےن چار گھنٹوں مےں ہمارا تےل کافی نکل چکا تھا۔ 
اور 
ہم سب بول گئے تھے۔ کھنڈرات کا شہرےوں توبے شمار غےر ملی سےاحوں سے آباد 
تھا لےکن 
بے.چھت اور بے درودےوار کے محلوں مےں زےادہ دےر رکنے کی تاب کسی مےں نہ تھی۔ 
مغربی 
ملکوں کے کچھ سےاحوں کے لئے تو چلچالتی دھوپ زحمت مےں رحمت ثابت ہوئی 
جنہوں نے 
اپنی سفےد جلد کو غسل آفتابی کر کے جھلسانے کے لئے نےم برہند ہو کر گھومنا شروع 
کردےا 
تھا۔ ہم نے بابل کی ذہنی طور پر کھدائی کرنے کے بعد نوادرات کی دکان پر کچھ وقت 
گذارا۔ اےک دکان کی عراقی مالکہ نے ہماری استدعا پر اپنے رےفرےجےرےٹر سے ٹھنڈا پانی 
پلا دےا 
ورنہ وہاں اس کا کوئی معقول انتظام ہمےں نظر نہےں آےا۔

بابل کے صوبے مےں بھ بزےگان دےن کی مزار ہےں ان مےں امام القاسم بن موسیٰ
ابن جعفر امام الہمزہ کا مقبرہ الخضر احمد ابن موسیٰ کے مزار شامل ہےں جن پر 
گنبدوں وغےرہ
کی تعمےری کی جارہی ہے اس صوبے مےں علما کے لئے اکے دےنی مرکز بھی قائم کےا گےا 
ہے۔
بابل کے کھنڈرات دکےھ کر مجھے ےہ خوشی تھی کہ مےرا شہر لکھنو بھی اس لائےق رہا 
ہے کہ سرزےمن 
اودھ کے تاجادا نصےرالدےن عرف محمد علی شاہن ے اپنی تخت نشےنی کے بدع اسے بابل 
کے 
مثل بنانے کا خواب دےکھا تھا۔ جو اب خود بخود دےوں پورا ہو رہا ہے کہ لکنھو دنےا کے 
نقشے پر بےن.لاقوامی 
شہر تکے اےک سائنسی تحقےقی اور علمی مرکز کی حےثےت سے ابھر رہا ہے جس کے 
گواہ درمےان 
(178) 15

سے ہو کر گذرےنے والی دبی پتلی اور نازک کسی گومتی ندی کے دونوں کانرے مےں۔ 
جہاں 
سے کبھی کنکوے آسمان سے باتےں کےا کرتے تھے۔ لےکن اب وہ اےسی سر گرمےوں کے 
مرکز بنتے جارہے
ہےں جن سے علم و فراست کے چشمے پھوٹ کر ساری دنےا کے دبستان علم کی آبےاری کر 
رہے ہےں۔
لکھنو کی گومتی بابل کے درمےان سے گذرنے والی فرات اور بغداد کے درمےان سے گذرنے 
والی دجلہ دونوں کی جھلک پےش کرتی ہے۔۔۔مختلف معنوں مےں 
باب عشتار کے بائےں جانب اکے وسےع رےسٹورنٹ ہے جو باہر سے تھےڑ
لگتا ہے۔ وہاں ہمےں کچھ دم لےنے اور لنچ کےلئے جاےا گےا۔ لےکن سےاحں سے کھچا کھچ
بھرے ہوئ ےاس رےسٹورنٹ مےں ہر چہرہ پرےشان تھا۔ بجلی داغ مفارقت دے گئی 
تھی۔ چنانچہ نےم تارےکی کا راج تھا اور اےرکنڈےشنر بے جان تھا۔ کولڈڈرنک اور 
بےئر کی بوتل کی وہ زبردست مانگ تھی کہ رےسٹورنٹ کے مالک نے تنگ آکر سب 
سامان کا ونٹرپر سے ہٹا لےا تھا اور ہاتھ ہلا ہلا کر نوپلےز۔ فنش اور خلاص۔ مافش
کی صدائےں بلند کرنا شروع کردی تھںے۔ لےکن ہمارے عراقی رہبر رعدنے بھی دہی کےا 
جو اس نام کے مالک کو کرنا چاہےے۔ وہ رےسٹورنٹ کی پروپرائنٹز پر گرجے اور اسے اےک 
مشت پے.منٹ کر کے خود کاونٹر پر کھڑے ہوئے اور ہماری طرف کولڈڈرنک کی 
بوتلےں بڑھانا شروع کردےں جو اب ہاٹ ڈرنگ ہوئی تھںے۔ 
رےسٹورنت سے ہم پےٹ کو لنچ کے بجائے مشروبات سے بھرے ہوئے نکلے۔
باب عشائر اور اس کے جانوروں پر الوداعی نظر ڈالی اور اپنی معلومات مےں ٹھوس
اضافے پر دل ہی دی مےں خوش ہوتے ہوئے بغداد کی طرف چل پڑے۔ اس بار ہمارے
ذہن کے پردے پر کوئی پکچر نہےں تھی بلکہ زبان پر انسانی کارناموں کے تذکرے تھے
اور حےرت کے کلمات تھے کہ انسان کتنا پرانا فنکار ہے۔ وہ کام جو آج مشےنوں اور جدےد 
ٹکنالوجی کی مدد سے ہوتا ہے وہ اب سے ہزاروں برس قبل کے انسان نے اس نہارت 
(179) 16

کے ساتھ انجا دئےے کہ آج کا انسان ان کو دےکھ کر دنگ ہے۔ قدےم انسان کے 
کارنامے اج کہےں اہرام مصر اور ابوالہول کی شکل مےں تو کہےں طاق کسریٰ اور 
تاج محل کی شکل مےں اور کہےں پےسا کے جھکے ہوئے مےنار اور کہےں اجنتا اور رالوار
کی گپھاوں کی شنل مےں عصر حاضر کے انسان کو دنگ کئے ہوئے ہےں۔

اس بار ڈےڑھ گھنٹے کا راستہ اےک گھنٹے مےں پورا ہوگےا۔ پڑول س ے
چلنے والی گاڑےاں بھی اسی انسان کا اکے عظےم کارنامہ ہےں جس کو اگر پانچ ہزار برس 
قبل کے لوگ دےکھےں تو اسی طرح سر دھنےں اور حےرت کرےں۔ جس طرح ہم ان کے 
کارناموں پر کر رہے ہےں۔
(180) 17

6داستان اےک پرےس کانفرنس کی 
دنےا کی بڑی سے بڑی اور مصروف ترےن شخصےتوں کو قرےب سے دکھنے 
اور ان سے اکثر بے تکلف ہونے کا سب سے اچھا موقع پرےس کانفرنس کا ہوت اہے۔ چنانچہ 
ہم نے عراق پہونچتے ہی ذمہ.داروں پر زور دےنا شروع کر دےا تھا کہ صدر صدام حسےن 
سے 
ہماری ملاقات کرائی جائے جس کے جواب مےں کہا گےا تھا کہ وی ول ترائی۔

اےک روز ہمےں فارم دئے گئے کہ ان پر ہم اپنے سوالات لکھ کر دےدےں۔ اور پھر 
اےک رات کچھ افسران نے ہر صحافی کے کمرے پر پہونچ کر اس کا نام نوٹ کےا۔ استفاسار 
کرنے 
پر انہوں نے کہا کہ پرےس کانفرنس۔ لکےن کس کی پرےس کانفرنس ےہ نہےں بتاےا۔

دوسرے روز ےعنی 19 جولائی کو صبح ہمےں بتاےا گےا کہ شام کو چار بجے جانا 
ہے۔
ٹھےک وقت پر ہم پانی کوچ مےں بےٹھ گئے اور روانہ ہوگئے۔ کوچےں جانی پہچانی 
سڑکوں 
سے گذرتی ہوئی الجموہورےہ پل پار کر کے اےک اےسی موڑ پر پہونچےں جہان سے اس 
قسم 
کے سخت حفاظتی انتظامات نظر آنے لگے جو کسی بھی سربہر مملکت کے لئے جنگی حالات
مےں خاص طور سے کئے جات ےہےں۔ اب ےہ واضح ہوگےا تھا کہ ہم عراق کے صدر کی 
پرےس
کانفرنس مےں جارہے ہےں۔

ہماری کوچےں اےک عالےشان عمارت مےں داخل ہونے سے قبل دو بارہ چےک کی گئںے 
اور ےہ ےقےن کر لےنے کے بعد آگے بڑھنے دےا گےا کہ ہم وہی ہےں جن کی آدم متوقع 
تھی۔۔ وہ عمارت 
بظاہر عراق کا راشٹرپتی بھون تی۔ اےسی جگہوں پر آپ سمجھ کستے ہےں کہ 
سکےورٹی کے کتنے 
(181) 18

سخت انظامات ہوتے ہےں۔ عمارت کے چاروں طرف خوبصورت سبزہ زار اور باغات تھے
ارو اندر ہال درہال اور ان ہالوں مےں سرخ مخمل کے قالےن بچھ تھے جدےد آٹومےٹک 
اسلحوں سے لےس سےکورٹی گارڈ ہر طرف تھے۔

کوچ سے اتار کر ہمےں پہلے تو اےک وسےع باہری ہال مےں بٹھا ےا گےا۔ لگ بھگ 
تےن 
سو صحافےوں کی موجود گی مےں اس ہال کی فضا سگرےٹ سگار اور پائپ کے دھوےں 
سے بجا 
طور پر نےلگوں ہو ہری تھی۔ پرےس کانفرنس والے ہال مےں جانے س ےقبل اےک اعلا 
افسرنے 
ہر صحافی کو اس کا نام لے کر پکارا اور پھر اسے پلےز دس وے کہہ کر اےک الےکٹرانک 
گےٹ
کے اندر سے گذر کر ہال مےں جانے کے لئے کہا گےا۔ ےہ بھی اےک سےکورتی چےک تھا جو 
عالباََ
دنےا بھر مےں کسی ملک کے سر بارہ سے روبرو ملاقات کے وقت ضرور ہوتا ہے۔ بھلا ہو 
الےکٹرانکس کے الات کا جو منٹوں مےں بتا دےتے ہےں کہ کون مضرت رساں ہے اور کون بے 
ضرر۔ ہوائی اڈوں پر بھی اب اس قسم کے الےکٹرانکس گےٹ ملتے ہےں۔ ہمارے اےک 
ساتھی نے اس گےٹ کو پل سراط کا نما دے رکھا تھا۔

جو صاحب ہم لوگوں کے نام پکار رہے تھے ان کے ساتھ ےہ مصےبت تھی کہ 
بعض ناموں کا۔ صحےح تلفظ نہےں کر پارہے تھے جس پر اےک پرتگالی صحافی بگڑ بھی 
گئے۔ عراق
افسر کو کئی بار معذرت کرنا پڑی۔

پرےس کانفرنس ہال لکھنوں مےں ےوپی لے جس لےٹےو اسمبلی ہال کی طرح کا تھا۔
لےکن اسکی چھت بہت خوبصورت تھی۔ خاص کر اس کا فانوس۔۔ ہال مےں نےم دائرے
مےں مےز کر سےاں تھےں۔ ہر مےز پر اےک ٹشو پےپر کا ڈبہ جو وہاں بہت ضروری 
سمجھا جاتا ہے 
اےک نوٹ بک اکے پےرٹ 320 بال پن اور ترجمہ سننے کے لئے اےک الےکٹرانک وائر لےں 
اور ہےڈفون رکھا تھا۔ ٹی.وی والوں ک اٹےم ٹامتو پوچھے نہےں۔ اور اس مےں کچھ 
اور 
اضافہ ہو گےا جب ہمارے جاپنای صہافےوں نے اپنے کےمرے شامل کردئےے۔ ان مےں جاپانی 
(182) 19

ٹی.وی والے بھی شامل تھے۔ اےک گوشے مےں روزہ داروں کے لئے افطور کا انتظام تھا
روزہ.دار تو دوہی اےک تھے جن مےں ہمارے ساتیھ شمےم زبےری شامل تھے۔ لےکن روزہ 
کھانے
والوں نے اس افطاری کو افطار سے پہلے ہی چت کردےا۔ نتےجہ ےہ ہوا کہ روزاہ.داروں کو 
ٹھنڈے پانی سے کام چلانا پڑا۔ اےک بزرگ ملےشےائی صحافی نے جو اپنے مائل بہ بزرگی 
پروفےسر بےٹے کے ساتھ آئے تھے اور اکثر اباجان کو گود مےں اٹھا کر چلتے دےکھے گئے 
بسکٹ
اور کافی پرمشتمل اپنی افطاری ساتھ لائے تھے۔

اعلیٰ فوجی اور غےر فوجی افسران کے ساتھ وزےر اطلاعات و ثقافت مسٹر لطےف
ابن جسےم ہال مےں موجود تھے۔ پرےس کانفرنس جو ساڑھے چار بجے ہونا تھی کسی 
سبب سے 
بہت تاخےر سے ےعنی ساڑھے دس بجے تات مےں سروع ہوئی لےکن چونکہ ہم اس وقت 
عراقی 
صدر سے ملاقات کے متمنی تھے اس لئے سب کے سا اپنی اپنی جگہ اخبار نوےسوں کے 
مزاج کے 
بالکل برعکس غےر معمولی طور پر خاموش بےٹھے رہے۔ ہال کچھ ضرورت سے زےادہ ٹھنڈا 
تھا جہاں 
ہمےں ٹھنڈے مشروبات پالئے جارہے تھے جس کا قدرتی طور پر نتےجہ ےہ ہوا کہ ہر اکے 
کو تھوڑی 
تھوڑی دےر بعد باتھ روم جانے کی ضرورت پےش آنا شروع ہوگئی۔

پہلے تو لوگ اپنی ضرورت کے بارے مےں کھسر پھسر کر کے اور چپ بےٹھ رہے 
سےکورٹی کا معاملہ جو تھا۔ پھر ےہ کہ کسی وفت بھی پرےسےڈنٹ آسکتے تھے۔ جن 
کے آنے کے 
بعد باہر سے اندر آنے کی اجازت ملتی کہ نہ ملتی۔ اسی طرح کے سوالات ہر اےک کے ذہن
مےں پےدا ہو رہے تھے۔ آخر کار اےک صاحب گئے اور جب آئے تو ان کے پڑوسےوں نے 
سوالےہ 
نطروں سے دےکھا جس کے جواب ےں کہا گےا ارے کچھ بھی نہےں۔۔ اٹس آل وےری 
سمپل
۔گو آن۔ گو آن

اگرچہ ہال کے بار والے فوجی محافظوں کا خےال مارے ڈال رہا تھا لےکن مرتا کےا 
نہ کرتا۔۔ اپنے ساتھےوں سے کہا سنامعاف کروا کر مےں بھی اپنی ضرورت پوری کرنے کی 
(183) 20

مہم پر روانہ ہوا۔ باہر اکے گارڈ کو چھنگلےاں کا انٹر نےشنل اشارہ کر کے اپنی ضرورت 
بتائی اور 
ےقےن جانےے بے.ہد نرمی سے گارڈ نے مسکراتے ہوئے اشارے سے ٹوتی پھوٹی انگرےزی مےں 
بتاےا 
گو استراےت ےو۔ ےگ باتھ روم ۔بس پھر کےا تھا دالان نمالبےم لمبے ہالوں کو پار کےا 
اور واقعی 
اےک بہت بڑے ہاتھ روم مےں پہونچ گئے۔ وہاں اکے گوشے مےں کولڈڈرنک کے ڈبوں کا دَےر
تھا۔ چنانچہ واپسی مےں تنے چار ڈبے لےتا گےا اور اپنے ساتھےوں کو اس ثہوت مےں 
پےش کےا کہ مہم 
کامےاب رہی۔

تقرےباََ دس بجے اگرچہ صحافی بے.چےن تھے لےکن ذمہ.دار ان اطمےنان سے ٹہل رہے 
تھے ہاں تی.وی والے ساونڈ ٹسٹ کرنے لگے تھے۔ اخبار والے اپنے ذرائع سے خبرےں خوب 
نکال
لاتے ہےں۔ اےک غےر ملکی عربی صحافی نے جو دو اےک عراقی افسروں سے بات چےت کر 
چکے تھے 
انکشاف کےا کہ صدر صدام حسےن روزے سے ہےں اس لئے تاخےر ہوگئی۔ اس سے پہلے کچھ 
لوگوں
نے رائے ظاہر کی تھی کہ تی.وی نظام مےں کچھ گڑبڑی ہوگئی ہے۔ جب وہ ٹھےک 
ہوجائے گا تب
کانفرنس شروع ہوگی۔ غرض جتنے منھ اتنی باتےں۔ صدر صدام حسےن روزے سے تھے 
اس کی 
تصدےق ہوگئی۔

پہلو بدل بدل کر ہم تاخےر پرچہ می گوئےاں اور قےاس آرائےاں کر ہی رہے تھے 
کہ اچانک 
سامنے اےک دےوار شق ہوئی جےسے اس کی پشت سے کسی نے کہا ہو کھل جا سم سم 
اور اےک دم 
سے صدر صدام حسےن چہرے پر مسکراہٹےں بکھےرے سر سے اوپر اٹھ ےہوئے ہاتھ مےں 
اپنا کپ 
لئے ہوئے نمودار ہوئے۔ پھر کےا تھا سب کے سب گھنٹوں کا انتظار بھول گئے۔ اور کھڑے 
ہو کر 
دےر گک تالےوں سے اس ممتاز بےن.الاقوامی شخصےت کا استقبال کےا۔ صدر صدام حسےن 
کی 
آنکھوں کی چمک ان کی مکمل شخصےت کی آئنےہ.دار تھی۔ غالباََ ان کو ےہ خبر نہےں 
تھی کہ ہم ان کے 
انتظار مےں گھنٹوں سے بےٹھے ہوئے تھے کےونکہ انہوں نے تاخےر کا کوئی ذکر نہےں کےا۔

صدر صدام حسےن کے بغل مےں مسٹر لطےف بےٹھے۔ مسٹر صدام حسےن نے اپنی 
نشست پر 
(184) 21

بےٹھتے ہی پہلے تو سامنے مےز کی چےزوں کو پھر سے آراستہ کےا۔ ٹشو پےپر نکال کر 
پےشانی اور منھ
پوچنھا اور حسب عادت (کےونکہ ہم ٹی.وی پر ان کو برابر دےکھا کرتے تھے۔) منھ بند 
کر کے ناک 
سے اےک زور کا سانسن کھےنچا۔ پھ راپنی فوجی کےپ جو بعد مےں پہن لی تھی اتا کر 
مےز پر رکھی 
اور کئی بار اس کی پوزےشن بدلنے کے بعد دائےں بائےں دےکھا اور کسی عرب صہافی کو 
دےکھتے ہوئے عربی 
مےں (وہ برابر عبی بولے) کوئی اےسا جملہ بولے جس پر سبھی عربی جاننے والے بے ساختہ 
ہنس پڑے
لےکن جو عربی نہےں۔ سمجھ سکے دےھا دےکھی مسکرائے ضرور۔ اس وقت تک کسی نے 
ہےڈفون نہےں 
لگاےا تھا۔ ورنہ جملہ سمجھا جا سکتا تھا۔

تقرےباََ تےن گھنٹے کی اس عالمی پرےس کانفرنس کے دوران صدر صدام حسےن نے 
مختلف نوعےت کے لگ بھگ پچاس سوالوں کے جواب تفصےل سے اور بغےر جھنجھلائے ہوئے 
دئےے۔ پہلے سے جمع شدہ سوالوں کو الگ الگ زمروں مےں تقسےم کر دےا گےا تھا۔ 
سوالات وزےر اطلاعات
مسٹر لطےف پڑھتے تھے جس کو بغور سننے کے بعد صدر صدام حسےن کبھی فوراََ اور 
کبھی کچھ دےر سوچنے 
کے بعد اور کبھی ذرا پہلو بلد کر کہنکہار تے ہوئے جواب دےتے تھے۔ سوال کرنے والوں کے 
نام 
تو نہےں پڑھے جاتے تھے لکےن ملک کا نما لےا جاتا تھا۔ شروع مےں صدر نے کہا کہ عراق 
مےں 
سب سے اہم اور بڑا کارنامہ نئے عراقی فرد کی تشکےل ہے۔ جو ثقافتی سےاسی سانئسی 
ٹکنالوجی، معاسی اور سمجای مےدانوں مےں تےز رفتاری پےدا کرے گا۔ اس فرد کا کردار 
تعمےراتی 
سانئسی اور ٹکنالوجی کی ترقےاتی سرگرمےوں مےں اور ملک کے دفاع مےں نظر آتا 
ہے۔ اور پھر 
صدر نے مختلف سوالوں کے جوا ب ئےے۔ آخر مےں انہوں نے صحافےوں سے وعدہ کےا کہ ان 
کو دوسرے دن ہی محاذ جنگ بھی دکھاےا جائے گا۔ نصف شب کے بعد پرےس کانفرنس 
ختم 
ہونے پر وزےر اطلاعات مسٹر لطےف نے صہافےوں کا شکرےہ ادا کےا۔ اور پھر صدر صدام 
حسےن 
لے رخصت لی۔ دےوار کا برقی دروازہ پھر کھلا اور صدر صدام واپس چلے گئے۔ ہم نے بھی 
ہال 
کی چھت پرچھائے ہوئے خوبصورت فانوس پر الوداعی نطر ڈالی کےونکہ جنتی دےر ہم 
خالی بےٹھے
(185) 22

رہے تھے۔ اس فانوس کی اےک اےک جھاڑ پر فدا ہوتے رہے تھے۔

6وہ گھنٹہ گھر

ہم جب اس قصر سے باہر نکلے تو وہاں کے گھنٹہ گھر مے وہی وقت تھا جو اندر 
داخل
ہوتے وقت دےکھا تھا۔ اس مےں اس وقت بھی نو پرسوئی تھی اور اب بھی اس کی 
بڑی بڑی
سوئےاں نوہی پر رکی ہوئی تھےں۔ مجھے اپنے شہر کے کئی گھنٹہ گھر ےاد آگئے اور 
مرحوم شوکت
چچا (شوکت تھانوی) کا اے جملہ ےاد آگےا۔ جو انہھوں نے مےرے والدےن مےں سلونوی 
صاحب
کو اپنے اےک خط مےں امےن.آباد کے گھنٹہ گھر کے بارے مےں لکھا تھا وہ جملہ اےک سوال 
تھا 
اور وہ ےہ کہ امنے آباد کے اس گھنٹہ گھر کا کےا حال ہے جونہ کبھی صحےح وقت بتاتا ہے 
اور 
نہ ہی صحےح وقت کا اندازہ ہونے دےتا ہے۔ 
اےک عراقی دوست کی توجہ جب مےں نے ٹہھرے ہوئے وقت کی طرف 
مبزول کرائی تو وہ اےک لمحہ کے لئے سٹپٹائے لےکن پھر سنبھل کر جواب دےا ہم وقت 
سے زےادہ تےز رفتار سے دوڑ رہے ہےں۔ وہ تھک کر رک گےا ہے ہمارے پاس دم لےنے 
کا وقت نہےں ہے
(186) 23

6قصر شےرےں

عراق کی شاہرہ 5 آپ کو بغداد سے سےدھے عراق اےران سر حد سے 40 کےلو
مےٹر اندر پر شور اور زمزمہ خےز ندی الوندی کے کنارے اےران کے مغربی کوہستانی شہر 
قصر 
شےرےں مےں پہونچا دےتی ہے جو ےقےناََ کبھی اتنا ہی پرکےف اور خوبصورت رہا ہوگا 
جتنا کہ اس 
کا نام ہے۔ ےقےناََ اس نام کی وجہ تسمےہ ےہی رہی ہوگی کہ اپنے جائے وقوعہ اور تعمےر 
کے 
اعتبار سے اب بھی مجس قصر نظر آتا ہے۔ دو ملکوں کی جنگ مےں جب کوئی علافہ 
فوجی اصطلاح 
مےں آزاد کرالےا جاتا ہے تو اس کا جو حشر ہوتا ہے وہ ظاہر ہے۔ اس شہر کے کھنڈرات 
گوےا
کہہ رہے تھے کہ۔

دےکھو مجھے جو دےہ عبرت نگاہ ہو

چنانچہ ہم نے دےاہ عبرت کانہ سے ہی سب کچھ دےکھا تھا کہ اپنے گوش نصےحت 
نےوش قارےن کو تحرےر مےں ڈھلی ہوئی آواز مےں سنا سکےں کہ اگر پر امن بقائے 
باہم 
کی بنےاد پر مسائل حل اور جھگڑے طے کئے جائےں تو آبادےاں دےانوں مےں تبدےل ہونے 
سے بچی 
رہ سکتی ہےں۔ 
صدر صدام حسےن نے پرےس کانفرنس مےں جو وعدہ کےا تھا اسے دوسرے ہی دن 
پورا
کر دےا جب ہم صبح ناشتے کے بعد محاذجنگ کی طرف روانہ ہوئے۔ ہمارا رخ قصر 
شےرں کی 
کی طرف تھا جو تقرےباََ اےک ہزار کےلو مےٹر لمبے محاذ جنگ کی وسطیٰ سکڑ مےں 
سرحد سے چالےس
کےلو مےٹر اندر واقع ہے۔ اور مکمل طور پر عراقی فوج کے قبضے مےں تھا۔ در اصل جنگ 
چھڑنے 
(187) 24

کے اےک ہفتے کے اندر ےعنی 24 ستمبر 1980ئ کو عراقی فوج نے اس شہر پر مکمل کنڑول 
کر لےا تھا۔

بغداد سے سرحد تک لگ بھگ (170) کےلو مےٹر کے راستے مےں ہم نے عراق کی 
شہری 
دےہاتی رےگےستانی اور قصباتی زندگی کی جھلکےاں بھی دےکھ لےں۔ کتنے اےسے آئے
جہاں اپنا گھر ےاد آےا۔ کتنے بے اب و گےاہ تپتے ہوئے رتےلےل مےدان اےسے نظر آئے 
جہاں نہ 
آدم نہ آدم زاد فقط خدا کی ذات کا سماں تھا۔ راست ےبھر زمےن اور آسمان ملتے ہےی 
رہے 
کبھی کہےں چراگہ نظر آتی تو بھےڑ بکرےوں کے گلے اور ان کو چرانے والے گڈرئےے دنےا و 
مافےہا سے بے.خبر خچروں پر سوار صدےوں پرانے رواےتی انداز مےں دکھائ پڑتے۔ ہماری
لکزری کوچ اگرچہ مکمل طور پر اےرکنڈےشنڈ تھی لےکن باہر کے 48 ڈگری سےنٹی گرےڈ 
سے 
بھی زےادہ کے درجہ حرارت نے کوچ (بس) کی ٹھنڈک کو متاثر کر دےا تھا۔ باہر کہےں 
کہےں بالکل دھندلی فضا نظر آتی تو ہم سمجھ لےتے تھے کہ زبردست لو کے جھکڑ چل 
رہے ہےں
ےہ شاہراہ اتنی ہموار اور چکنی ہے کہ اسے دنےا کی بہترےن سڑکوں کے مقابلے پر کرھا جا 
سکتا
ہے۔ اور ےہی کےقےت عراق کی تمام سڑکوں اور شہاراہوں کی ہے۔ پوری سڑک دو روےہ
ہے تاکہ ےکطفہ ٹرےفک چل سکے۔

ہر آبادی کے باہر سڑک کے کنارے کوڑا گھر بنے ہوئے ملتے ہےں جن مےں بےکار
چےزےں پھےنک دی جاتی ہےں۔ ےعنی صفائی ستھرائی کا خےال صرف شہروں مےں نہےں 
دےہی 
آبادےوں مےں بھی رکھ جاتا ہے۔ ےہ کوڑا بعد مےں کوڑا گاڑےاں صاف کر دےتی ہےں۔ اور 
کبھی 
کبھی رےت کے نچے دب جاتا ہے۔

کئی دےہات اےسے ملے جہاں بالکل اسی طرح کے کچے گھر بنے ہوئے ہےں جےسے 
ہمارے دےہاتوں مےں ہوتے ہےں۔ فرق اتان ہے کہ ہر گھر مےں ٹےلی.وےزن ہے۔ اور 
عموماََ گھر 
کے عقبی حصوں مےں اےرکنڈےشننگ پلانٹ لگے ہئوے ہےں۔ اور سات کھےت ےا مےدان مےں 
کار کھڑی ملے گی جس پر پلاسٹک کا کوور ہوگا۔ بغداد مےں اور باہر بھی کاروں کے 
کوڑا گھر
(188) 25

بھی نظر آتے ہےں جن مےں ٹوٹی پھوتی کارےں اور ٹرک وغےرہ پھےنک دئےے جاتے ہےں 
خاص 
طور سے وہ جل کسی حادثے کا شکار ہوجاتے ہوں کےونکہ جب کسی ٹرک ےا کار کو حادثہ 
پےش آتا 
ہے تو اس کی شکل پہچانی نہےں جا سکتی۔ ہم نے راستے مےں اکثر اےسی کارےں 
دےکھےں جو تےز رفتاری 
کے نتےجے مےں الٹ کر ےا ٹکرا کر سچچی ہوگئی تھےں۔ خدا جانے ان کی سوارےوں کا کا 
حشر ہوتا ہوگا۔

ہماری کوچ بغداد سے بعقوبہ ہوتی ہوئی جب اےک مقام المقدرےہ سے گذری تو 
بڑے 
رنگےن مزاج لوگوں کی ابادی نظر آئی لےکن کوچ اس آبادی کے بےچ سے ہوتی ہوئی 
گذر گی۔ سامنے 
سے اےک فوجی ٹرک نطر آےا۔ جس پر سوار فوجےوں نے جو بڑے جوش کے ساتھ قاسےہ 
صدام پر 
کوئی گےت گا رہے تھے۔ ہم لوگوں کو ہات ہلا ہلا کر دوستانہ اشارے کئے جس کا اسی 
انداز سے 
ہم نے بھی جواب دےا۔ راستے مےں کھجور کے باغ منطر کو اور بھی خوبصورت بنا دےتے 
ہےں۔ ہم کئی 
بار پےنچ و خم والے راستوں سے گذرے۔ کبھی کوچ نےشب مےں جاتی کبھی چڑھائی 
پر اور اےک 
بار جب وہ اےک ڈھلان سے اورپر اٹھی تو دور پر اےک نےلی نےلی سطح نظر آئی جس 
نے ہمےں حےرت
زدہ کر دےا۔ کچھ اور آگے بڑھے تو اےک خوبصورت آبادی مےں پہنچ گئے وہ نےلی سطح 
جو تاحد نظر 
پھےلی ہوئی تھی در اصل اےک جھےل تھی۔ ذرا سوچئے کہ قدرت اپنا لوہا کس کس انداز 
مےں 
مسنواتی ہے۔ اس چٹےل رےگستانی علاقے مےں دور تک پھےلی ہوئی ےہ جزےل قدرت کا 
عجوبہ 
نےہں تو اور کےا ہے۔ گوےا رےگستان مےں سمندر تھا۔ اس گاوں اور جھےل کا نام سعدےہ 
ہے
ےہاں پہونچ کر ہم کو محسوس ہوا کہ سرحد کے قرےب آچےک ہےں۔ حالانکہ اس کے بعد 
بھی ہمےں 
دےر تک چلنا پڑا اور لگ بھگ پون گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم پھر اکے قصبہ مےں 
پہونچ
گئے۔ ےہےں ہماری کوچ کچھ دےر کے لئے رکی۔

اس قصبہ مےں جس کا نام خانےقن ہے۔ خوبصورت مکانات ہےں جن مےں رکھے 
ہوئے 
گملوں مےں سورج مکھی کے پھول کھلے ہوئے تھے۔ اےک نہر کے کنارے کنارے دور تک 
کھجور 
کے درخت اپنی دےرےنہ خوبصورتی کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ ہم جس چوراہے پر رکے 
ہوئے
(189) 26

تھے وہاں پر اےک نوجوان ٹرےفک کانسٹبل جدےد اسلحہ سے مسلح کھڑا تھا جو ہمےں 
دےکھ کر مسکرا
رہا تھا۔ اےک ضعےف برقعہ پوش خاتون جو خاصی چڑ چری تھےں اس کانسٹبل پر کسی 
بات پر خفا 
ہو رہی تھےں۔ پتھرےلی سرکوں پر لگتا تھا۔ ابھی ابھی جھاڑوں دی گئی ہے۔ عام 
بازوں
کی طرح سامنے بازار تھا۔ لےکن اب چونکہ ہم سرحد سے بمشکل پانچ کےلو مےٹر کے فاصلے 
پر تھے 
ہماری سےکورٹی کے معاملے مےں ہمارے مےزبان سخت ہوگئے تھے۔ کسی کو کوچ سے باہر 
نکلنے کی اجازت
نہےں گئی گئی۔ شاھہد بڑی مشکل سے اجازت حاصل کر کے سگرےٹ لےنے کے لئے اتر گئے 
اور جب آئے تو مےری طرف 555 کا پےکےٹ بڑھاتے ہوئے بولے ےہاں تو اور بھی سستی 
ہے

وہ علاقہ خالص کردوں کا علاقہ ہے۔ ےہی وہ قوم ہے جس نے 
صلاح.الدےن اےوبی کو پےدا کےا۔ عراق کی موجودہ بعث سوشلسٹ پارٹی کی حکومت نے 
کردوں کے ساتھ جو سلوک کےا ہے اور ان کے معاملات مےں جو دلچسپی لی ہے اس کے 
نتےجے مےں 
کرداس کے پورے طور پر وفادار ہو گئے ہےں۔ کرد عورتوں کا لباس چوڑی دار پائجامئہ 
گھےر
دار لمبی فراک اور دوپٹہ ہوتا ہے۔ مدر شلوار اور لمبا کرتا پہنتے ہےں۔ سر پر پگڑی 
اور کمر مےں 
چوڑا پٹا باندھتے ہےں۔ 
اس جگہ سے ہماری کوچ روانہ ہوئی۔ اب جوں جوں آگے بڑھ رہے تھے فوجی 
گاڑےاں 
ٹےنک اور بکتر بند گاڑےاں نطر آنے لگےں۔ فوجےوں کی نقل و حمل برابر جاری تھی۔ 
سرحد سے 
کچھ قبل اےک چھوٹی سی بستی ملی جہاں پانی افراط تھا اور بچے شوق سے نہا رہے 
تھے۔ عورتےں 
کپڑے دھونے مےں مصروف تھےں۔ اےک طرف سڑک پر جھاڑو لگائی جارہی تھی حےرت 
کی 
بات ےہ تھی کہ پتہ ہی نہ چلتا تھا کہ ہم محاذ جنگ کے اتنے قرےب ہےں۔

ٹھےک پونے گےاہ بجے ہمارے کوچ عراق اےران سرحد پر تھی۔ ےہاں پر سڑک پر 
اےک پل ہے جو پہلے کبھی کسٹم آفس کا کام دےتا تھا۔ اس سے ملحق اےک مرے مےں اب 
بھی کسٹم آفس
لکھا ہوا تھا۔ ےہاں ہم نے کوچ سے اتر کر فوجوےں کی مہربانی سے ٹھنڈا پانی بےا۔ کچھ 
فوجی افسران
(190) 27

وہےں سے ہمارے ساتھ ہو لئے اور ہم نے پل سے گذر کر اس سرزمےن پر قدم رکھ اجو 
پہلے اےران 
کا حصہ تھی۔ آسمان پر بادل کے کچھ ٹکڑوں نے آگ برساتے ہوئے سورج کو چھپا دےا 
تھا۔ 
سب سے پہلے ہمرا گذر اےک چھوٹے سے قصبے خسروی مےں ہوا اور پھر چالےس کےلومےٹر 
کی مدافت 
کے بعد ہم قصر شےرےں پہونچ گئے۔ اونچے اونچے پہاڑوں سے گھرے ہوئے اس وےران 
اور سنسان شہر کی کوئی بھی بھی عمارت صحےح سلامت نہےں بچی ہے۔ درخت پودے 
اور سبزہ 
زار تک بموں کی آگ سے جھلس گئے تھے۔ ٹوٹے ہوئے مکانوں کے اندر رنگ برنگ کے 
خوبصورت 
ٹائل ان مےں رہنے والوں کے زوق اور شوق کی ترجمای کر رہے تھے۔ مکانات اونچے نےچے
پہاڑوں پر بنے ہوئے ہےں۔

شہر کی سرحد پر ہی اےک شاندار مسجد ہے جس پر ےہ مقولہ پوری طرح صادق 
آتا ہے جنگ اور محبت مےں سب جائز ہے۔ مسجد.المہدی اب جامع صدام حسےن 
کہلاتی 
ہے جس کے خوبصورت صدر دروازے پر صدر صدام حسےن کی اےک بڑی سی تصوےر آوےزاں
تھی۔ وہاں معلوم ہوا کہ جب تک ےہ مسجد اےران کے قبضے مےں تھی وہ فوجی اسلح 
خانہ بنی ہوئی 
تھی۔ اےک فوجی افسرنے بتاےا ک ہاب ہمارے فوجی اس مےں نماز پڑھتے ہےں۔ حالانکہ 
مسجد کے اندر 
گرد مےں آتے ہوئے قالےن پر جنگلی کبوتروں کی بےٹ ہی بےٹ تھی۔ اےک دےوار پر 
کس اےرانی فنکار 
کے تخےل کی پرواز کا نمونہ آورزاں تھا۔ ےہ اک ہاتھ مےں دو دھاری تلاور لئے ہوئے 
حضرت علی 
کی خےالی تصوےر تھی جو اےک قرےم مےں تھی۔ تصوےر رنگےن تھی۔ ےہی نہےں مسجد 
کے منبر کے قرےب 
دےوار پر ھبی اےک تصوےر چسپاں تھی جو در اصل کسی اخبار کا تراشہ تھی۔ اس 
تصوےر مےں صدر 
صدام حسےن فلسطےنی تنظےم آزادی (پی۔اےل۔او) کے سربارہ ےاسر عرفات اور پاکستان کے 
صدر ضےائ.الحق دعا کے پوزے مےں کھڑے تھے۔ اےک فوجی افسر کی توجہ جب مسجد کے 
اندر والی تصوےروں 
کی طرف مبذول کرائی گئی تو انہوں نے کہا کہ بے.شک ےہ شرعاََ غلط ہے اور ےہ تصوےرےں 
ہٹادی 
جائےں گی۔ وہ تو فوجےوں نے جوش مےں آکر کسی اخبار کا ترشہ لگا دےا تھا۔
(191) 28

مسجد کے اندر بےچوں بےچ رحل پر اکے قرآن شےرےف رکھا ہوا تھا۔ اس کو ضرور 
کوئی 
پڑھتا رہا ہوگا۔ کےونکہ اس پر گرد نہےں جمی تھی۔ مےں نے قرآن شرےف کھول کر 
دےکھا تو پتہ چلا کہ 
ےہ نسخہ مطبع کرےمی بمبئی 10 کا چھپا ہوا تھا اور اس مےں رموز اوقاف قرآن مجےد 
اردوں مےں 
تحرےر تھے۔ منبر پر اکے اور قرآن شرےف رکھا ہوا تھا اسے کھول کر دےکھا تو پتہ چلا 
کہ کسی اےرانی پرےس کا طبع کےا ہوا تھا۔ اس مےں اس شخص کی تصوےر بھی آخر 
مےں چھپی ہوئی نظر آئی 
جس کے زےر اہتمام قرآن شرےف کی طباعت ہوئی تھی۔ مسجد کے نچلے حصے مےں ہے۔ 
اور وہےں کچھ کمرے 
بنے ہوئے ہےں جو غالباََ مدرسے کے لئے ہوں گے۔

مسجد سے باہر آکر کچھ دےر تک ہم نئے اور پرانے مکانوں اور دکانوں کے کھنڈرات 
دےکھتے رہے۔ عراقی فوج کی ےلغار ےقےناََ بھر پوری رہی ہوگی۔ کےونکہ ہر چےز کے 
پراخچے اڑے ہوئے 
تھے ہر چھت کی آہنی گرڈر مڑ کر دہرے اور تہرے ہوگئے تھے۔ بعض گھروں کے اندر 
اےک 
سے زےادہ کارےں بلکہ ان کاروں کے باقےات بجائے خود اےک درد ناک داستان بنے ہوئے تھے۔

قصر شےرےں مےں کچھ دےر تک گھومنے کے بعد ہم پندر کےلو مےٹر اور اندر گئے 
جہاں
ہم نے اس خوبصورت شہر کے رےڈےو اسٹےشن کی تباہ شدہ ےا ےوں کہئے کہ زمےن سے 
ملی ہوئی 
عمارت کو دےکھا جو انےٹوں، پتھروں لوہے کی مٹری تڑی اور اےنٹھی ہوئی موتی 
پتلی 
سلاخوں کے ملبے کا ڈھےر تھی۔ شہر سے رےڈےو اسٹےشن اتنی دور ہونے کا سبب سمجھ 
مےں نہےں 
آےا۔ بہر حال راستہ بہت خوبصورت اور ہموار تھا۔ ہم رےڈےواسٹےشن مےں زےادہ دےر 
نہےں رکے 
ارو رک کر کرتے بھی کےا۔

اصل محاذ جنگ قصر شےرےں سے تقرےباََ پانچ کےلومےٹر دور تھا۔ لےکن عراقی 
افسران
ہم کو وہاں تک لے جانے کے لئے تےار نہےں تھے۔ اےک اطالوی صحافی سے ان کی جھڑپ 
تک 
ہوگئی جس نے چےخ چےخ کر کہا کہ ہم اس لئے نہےں آئے ہےں کہ جو آپ دکھائےں 
صرف وہی ہم 
(192) 29

دےکھےں۔ ہم جہاں کہےں وہاں بھی لے چلئے۔ لےکن سےکوڑٹی پرابلم ہمارے 
پروگراموں 
مےں اڑنگے ڈالتا تھا۔ چنانچہ افسران مجبور تھے۔ جب نوہوگئی تو نو ہی رہی۔

قصر شےرےں کی سرحد سے کہےں ملی ملی اور کہےں شہر کے قلب سے بل کھاتی 
ناچتی 
گاتی مکانوں کی چوکھٹ کو چومتی الوندندی گذرتی ہے جو ندی کم کو ہستانی چشمہ 
زےادہ
معلوم ہوتی ہے۔ اس ندی کے نغمے کانوں مےں رس گھولتے ہےں۔ غالباََ اس ندی نے اس 
قصر 
کو شےرےں بنا دےا ہے۔ جب ہم اس ندی کی مقناطےسی کشش سے کھنچ کر اس کے کنارے 
پہونچے تو نہر کے کنارے فوجی ڈےرہ نظر آےا۔ وہں ان کا چھوٹا سا بازار تھا جہاں سے 
ہم لوگوں
نے کولڈڈرنگ اور سگرےٹےں خرےد کر پےں۔ فوجی جوان نہر کے ٹھنڈے پانی مےں نہانے 
مےں
مصروف تھے جو زمےن کی سطح سے خاصی نےچے بہتی ے۔ چنانچہ ہم جوتے ہاتھ 
مےں لے کر خم.دار 
پگنڈنڈےوں پر سے ڈگمگاتے ہوئے نہر تک پہونچے جس کے کنارے پر لکڑی کے بڑے بڑے 
لٹھے
پڑے تھ۔ دےر تک پانی مےں پےر لٹائے بےٹھے رہے اور کچھ ےورپی صحافےوں نے وقت کے 
تقاضے کو پورا کرنے کے لئے اپنے کپڑے اتار دئے اور چھپاک سے کود کر نہر کی ننھی ننھی 
لہروں 
سے کشتی لڑنے لگے۔ اور جب ہم اپنی کوچ مےں واپس ہوئے تو وہ لوگ بھی صرف 
بھےگا انڈروےر 
پہےن کپڑے اور جوتے ہاتھ مےں لئے جسم سے پانی ٹپکاتے ہوئے کوچ مےں داخل ہوئے۔ 
ہمارے 
ساتھ کی خاتون صحافےوں کو معربی تہزےب کاے ہ مطاہرہ ےقناََ ناگوار ہوا ہوگا۔ کےوں 
کہ انہوں 
نے براسا منھ بنا کر کھڑکی کی طرف دےکھان شروع کر دےا تھا۔۔ آج ہم جس نہر کو 
دےکھ
کر خوشی سے پھولے نہےں سمارےہ تھے اس سے کبھی وہاں کے رہنے والے کتان لطف اندوز 
ہوت ےرہے ہوںگے۔ نہر مےں مچھلےاں کثرت سے تھےں۔ فوجوےں نے جال ڈال کر کچھ 
پکڑی
بھی تھےں اور ان سے ہماری تواضع کرنے کے لئے تےار تھے۔ لےکن وقت نہےں تھا اس 
لئے ہم شکراََ اور مشکور کہت ےہوئے چلدئےے۔
(193) 30

6نےا ہوٹل 
قصر شےرےں سے جب ہم بغداد پہونچے تو وہاں کی شام اودھ اپنے شباب
پر تھی۔ اسی رات ہمارے بمبئی کے ساتھی ہندوستان روانہ ہوگئے۔ دہی کی فلائٹ 
بائےس
کو گھی اس لئے ہمےں تقرےباََ دو روزا اور رہنے کو مل گےا۔

بمبئی کے ساتھےوں کو رخصت کر کے ہم ےعنی موہن چراغی شاہد صدےقی غلام 
محمد صوفی صاحبان اور مےں رعد کے ساتھ محکمہ ثقافت کے ڈائرکٹر مسٹر صاۆہ سے 
ملنے گئے 
جو قصر اندلس ہوٹل سے چند قدم کے فاصےل پر قندق دارالسلام مےں مقےم تھے۔ پہلی 
ملاقات
تھیا ور وہ بہت پتاک سے ملے۔ ہمارے کچھ مسائل تھے جو انہوں نے دور کرنے کا وعدہ 
کےا 
اور مزےد اےک ہفتے قےام کی دعوت دی لےکن وقت کی کمی کے باعث ہمےں معذرت کرنا 
پری۔
روز مےں ہم تےسرے ہوٹل مےں منتقل ہوگئے۔ صالح صاہب نے ہماری خاطر تواضع مےں 
خاصی 
دل چسپی لی۔

اس ہوٹل مےں پاکستانی صحافےوں سے بھی ملاقات ہوگئی۔ جنگ کے ہفت روزہ 
اخبار جہاں کے سےنئےر اےڈےٹر مسٹر اقبال احمد صدےقی سے مےری ملاقات بہت رہی۔ 
ان 
ک اتعلق ےوپی سے تھ۔ا اس زمانے مےں ان کی اہلےہ اپنے مےکے نےنی.تال مےں تھےں۔ 
چنانچہ 
ان کے کچھ خطوط مےں نے لکھو آگر پوسٹ کئے تھے۔ اس کے علاوہ پشاور کے روزنامہ 
جہاد کے اےڈےٹر شرےف فاروق اور جنگکے ہی خواتےن کے کسی اخبار کی اےک خاتون 
صحافی سے ملاقات ہوئی جن کا نام ےاد نہےں۔

اس کے علاوہ لندن سے شائع ہونے والے اردو ہفت روزہ مساوات کے 
اےڈےٹر مسٹر بشےر رےاض اور وہےں کے ہفت روزہ مشرق کے اےڈےٹر مسٹر کےانی سے 
تو شروع
(194) 31

ہی سے برابر ملاقات ملاقات ہوتی رہی تھی جن سے مےرےا تعارف شاہد صدےقی نے 
کراےاتھا۔ وہ 
دونوں پاکستان کے مرحوم لےڈر مسٹر ذوالفقار علی بھٹو سے بہت قرےب تھے۔ اور اب ان 
کے کنبے 
اور ان کی سےاسی پارتی سے بھی اتنے ہی قرےب ہےں۔

پاکستانی صحافےوں سے ملاقات کے بعد محسوس ہوا کہ دونوں ملکوں کے درمےان 
خےر سگالی و فود کے تبادلوں کی سخت ضرورت ہے۔ انڈونےشےا، ملےشےا مراقش، عراق اور 
کئی 
دوسرے ملکوں کے صحافےوں سے بات چےت کرنے کے بعد اندازہ ہو ا کہ دنےائے اسلام مےں 
ہندوستان کے بے.حد اہمےت ہے۔ ہندوستانی علمائ نے اسلامی تعلےمات ادب اور ثقافت 
کے مےدان مےں جو کارنامے انجام دئےے ہےں ان کا ہر شخص مداح نطر آےا۔

نئے ہوٹل مےں مشفلی کے بعد سے ہندوستان روانگی تک ہماری بےشتر مصروفےات 
نجی نوعےت کی رہےں۔ مختلف ملکوں کے صحافےوں کی روانگی کا سلسلہ شروع ہو چکا 
تھا۔ سرکاری 
پورگرام ختم ہو چکے تھے۔ اس لئے ہم اپنے اپنے طور پر گھومنے کے لئے آزاد تھے۔
0 
﻿
Suhail
03-07-02
Urdu
(450) 1

6 اردو اور علاقائی زبانوں کا تعاون 
زبان جب تک اپنے علاقے مےں بوی جات ی ہے علاقائی زبان کہلاتی ہے 
لےکن جےسے ہی کسی برادری سے وابستہ ہو کر باہر نکلتی ہے تو 
قومی زبان بن جاتی ہے اور انسانی برادرےاں سےاسی، تجارتی، مذہبی 
کئی قسم کے ہوتی ہےں۔ آرےاےوں کی آرےائی، اےرانےوں کی اےرانی اور 
انگرےزوں کی انگرےزی نے ہندوستان کا سفر سےاسی سطح پر کےا ور 
سےاسی برادرےوں کی زبانےں بن کر ملک کے گوشے گوشے مےں پہنچےں۔
ہندوستان کی مارواڑی زبان نے بےوپارےوں کے وسےلے سے دور دراز علاقوں 
مےں ڈےرے ڈالے۔ اودھی، برج بھاشآ، پنجابی اور اردو نے رام بھگتوں، 
کرشن بھگتوں، سکھوں اور مسلمانوں کی مذہبی بردارےوں کی زبان بن 
کر برصغےر مےں جا بجا اپنی چھاونےاں چھائےں۔ پاکستان مےں مسلمانوں کی 
مذہبی براداری ہی سےاسی برادری بھی بن گئی ہے اس لےے ان کی مذہبی زبنا 
اردو کو سےاسی منصب بھی مل گےا ہے اور اب وہ اپنی دہری حےثےت سے 
ملک کے گوشے گوشے مےں پہنچ رہی ہے۔

زبان جب دوسرے لسانی علاقے مےں پہنچتی ہے تو علاقائی زبان کے 
اثرات بھی قبول کرتی ے جس سے اس کا اےک علاقائی محاورہ بن جاتا ہے 
انگرےزی زبان جب برطاےنہ سے چل کر امرےکہ پہنچی تو وہاں کی علاقائی 
زبان کے اثرات قبول کر کے امرےکی انگرےزی کہلائی، برطانوی دور 
حکومت مےں اس کا جو محاورہ ہندوستان مےں رائج ہوا۔ اس کو ہندوستانی
انگلش کا نام دےا گےا جس مےں گرامری اصول، اسلوب اور رواےت و 
تلمےحات کے علاوہ تقرےباََ اےک ہزار الفاظ ےہاں کی علاقائی زبانوں سے سمتعار 
لےے گئے ہےں۔ ہندوستنا مےں کچھ لوگوں کے اثر سے جو کسی وقت اےران
(451) 2

سے آئے تھے فارسی کا جو ہےولیٰ تےرار ہوا اس نے سبک ہندی کا نام پاےا۔
اس سے بہت پہلے آرےوں کی زبان پر ہندوستان کی علاقائی زبانوں کے جو 
اثرات پڑے تھے ان کو تمام علمائے زبان نے تسلےم کےا ہے۔ ےہ اثرات
وےدوں ہرہموں اور اپ نشدھوں مےں کم ہےں لےکن سنسکرت رزمےوں 
مہابھارت اور رامائن تک پہنچتے پہنچتے ان کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے 
اسی لےے آرےائی ززبان کے اس محاورے کو ہند آرےائی کہتےہےں اور بجا 
کہتے ہےں۔

اردو نے بھی اس برصغےر کے طول و عرض مےں سفر کےا ہے
آگرے مےں برج.بھاشا سے متاثر ہو کر اس کا جو علاقائی محاورہ رائج 
ہوا وہ اکبرآبادی اردو کہلاےا۔ 1747ئ سے شاہ.جہان کا پاےہ تخت 
منتقل ہونے پر دہلی مےں رائج ہوئی تو وہاں کی علاقائی زبان ہرےانی کا اثر 
قبول کر کے دہلوی اردو کہلائی۔ دہلی کے اجڑنے پر لھکنو پہنچی تو 
اودھ کی آمےزش سے لکھنوں اردو بن گئی۔ حےدرآباد (دکن) مےں دکنی 
کے زےر اثر اس کا حےدر آبادی محاورہ چلاوں ہوا۔ لاہور مےں پنجابی سے 
مل کر لاہوری اردو کہلائی۔ غرض علاقئی زبانوں س ےمل مل کر اردو 
کے علاقائی محاورے بنتے چلے گئے جنھےں کچھ لوگ غلط فہمی کی بنا پر 
اردو ادب کے ابکرآبادی، دہلوی اور لکھنوںی دبستان کہنے لگے۔
پاکستان مےں بھی علاقائی زبانوں کے مےل ملاپ سے اردو کے مختلف 
محاورے تےار ہو رہے ہےں۔ لاہوری اردو کا محاورہ پچھلی صدی اردو، 
پشاوری اردو، ملتانی اردو، حےدرآبادی ےعنی سندھی اردو اور ڈھکی اردو 
جےسے اس کے الگ الگ ہوےلے بن رے ہےں جن کے پختہ اور واضح روپ 
کچھ وقت گذرنے کے بعد سامنے آجائےںگے۔

تصوےر کا دوسرا رخ ےہ ہے کہ علاقائی زبانےں بھی قومی زبان کے 
اثرات جذب کرتی ہے۔ پاک و بھارت کی علاقائی زبانوں پر انگرےزی 
زبان نے جو اثرات ڈالے ہےں ان مےں نہ صرف الفاظ بلکہ صرفی و 
نخوی اصول اسلوب بےان روزمرہ و محاورات تشبےہات وا استعارات 
تلمےحات و رواےات کتنی ہی باتےں شامل ہےں۔ انگرےزی سے پہلے بالکل 
اےسے ہی اثرات فارسی زبان ڈال چکی تھی جو اج بھی اس برصغےر کی 
(452) 3

تمام زبانوں مےں صاف نظر آرہے ہےں اور اس سے بھی پےشتر آرےوں کی 
آمد پر ان کی آبائی زبان نے بھی ہندوستان کی علاقائی زبان کو اس 
طرح متاثر کےا تھا۔ اگرچہ آج اتنے قدےم اثرات کی نشان دہی ذرا مشکل 
ہوگئی ہے اور وہ عام لوگوں کو انھےں زبانوں کا جزو معلوم ہو رہے 
ہےں۔ لےکن جانے والے جانتے ہےں کہ ےہ نقوش بھی تعداد مےں انے ہی 
زےادہ ہمہ گےر اور بنےادی تھے۔ جتنے فارسی اور اس کے بعد انگرےزی 
نے ان زبانوں پر مرتسم کےے ہےں۔ اردو زبان نے بھی اپنے سفر مےں 
علاقائی زبانوں کو جو کچھ دےا ہے اس کا صحےح اندازہ برج.بھاشا ہرےانی 
اودھی، دکنی ارو لاہوری پنجابی کی تحرےر و تقرےر کا تزےہ کر کے لگےا ےا 
جا سکتا ہے۔ 
زبانوں کے باہمی لےن دےن سے ان کے اختلافات کھٹتے ہےں اور 
مشابہت بڑھ جاتی ہے۔ اس کا اےک طرف تو ےہ نتجےہ نکلتا ہے کہ زبانوں 
کا تشکےص دشوار اور ان کی شناخت مےں غلط فہمی پےدا ہو جاتی ہے۔
چنانچہ اس حادثے سے دھوکا کھا کر علامائے مغرب نے زبان سے زبان کی 
پےدائش کا اصول بنا ڈالا اور آرےوں کی وےدک و سنسکرت کے ساتھ ساتھ 
ہندوستان کی علاقائی زبانوں کو بھی ہند آرےائی کہنا شرؤ کر دےا۔ 
علمائے مشرق بھی اس غلط فہمی کی بنا پر عرصہ تک اردو زبان کو فارسی 
کی بےٹی سمجھتے رہے۔ اسی مغالطے مےں مولانا محمدحسےن.آزاد نے اسے 
برج.بھاشا کی۔ شےرانی نے پنجابی کی اور مولانا نصےرالدےن.ہاشمی نے 
دکنی کی بےٹی قرار دے دےا اور اگر ےہی انداز نطر قائم رہا تو پاکستنا 
مں اردو اور علاقائی زبانوں کے مےل جول سے جب درمےانی فاصلہ کم 
ہو جائےگا تو لوگ اردو کا ماخذ پشتو، پٹھواری لہندی، کشمےری
بلوچی، سندھی، بروہی، مکرانی، گجراتی اور بنگالی مےں ڈھونڈنے کی 
پھر غلطی کرےںگے۔

دوسری طرف زبانوں کے قرےب آجانے سے ان کی بولنے والے بھی 
قرےب آجاتے ہےں اور آپس مےں ےگانےگت اور اخوت محسوس کرنے لگتے ہےں 
ےوں بھی اردو اور پاکستان کی علاقائی زبانےں اصلاََ دراوڑی اور اپنی 
( 453) 4

ابتدائی سطح پر اکے ہےں اور لغات و قواعد کا بہت بڑا مشترک ذخےرہ 
رکھتی ہےں ان کی جڑےں اسی سرزمےن کی گہرائےوں مےں آتری ہوئی ہےں 
جو کسی نہ کسی سطح پر پہنچ کر باہم پےوست ہو جاتی ہےں۔ پھر جےسے 
جےسے اردو مےں علاقائی زبانوں کے اثرات جذب ہوںگے اور علاقائی 
زبانےں اردو کے اثرات قبول کرےں گی۔ ےہ اےک دوسرے سے ارو بھی 
قرےب ہو جائےںگی اور ان کے بولنے والوں کے اتحاد مےں اضآفہ ہوتا 
چلا جائےگا۔

ہر زبان اپنا اےک مخصوص کلچر رکھتی ہے اس لےے ملک مےں جتنی 
زبانےں رائج ہوتی ہےں اتنے ہی ان کے کلچر ہوتے ہےں۔ لےکن قومی کلچر ان 
تمام کلچروں کا مجموعہ نہےں بلکہ ان کا ست ےا نچوڑ ہوتا ہے۔ ےہ اےک 
اےسا آئنےہ ہوتا ہے۔ جس مےں تمام علاقائی کلچروں کا عکس دےکھا جا سکتا 
ہے اور اس قومی کلچر کی واحد نمائندہ قومی زبان ہوتی ہے۔ پاکستنا 
مےں ےہ حق اردو زبان کو حاصل ہے اور وہی پاکستانی کلچر کی نمائندگی 
کرنے والی ہے۔ چنانچہ اردو اور علاقائی زبانوں مں مغائرت کم ہونے
ان کے ادب کا درمےانی فاصلہ گھٹ جانے اور لسانی بنےادوں پر قومی شعور 
کے پرورش پانے کے ساتھ ساتھ پاکستانی کلچر کے خد و خال ےپماََ فےوماََ
ابھرتے چلے آئےں گے ارو اردو زبان مےں وہ خصوصےات جھلککنے لگےں گی 
جنھےں پاکستانی قومےت کا طرئہ امتےاز کہا جا سکے گا۔ لےکن قومی شعور 
کی نشو و نما اور قومی کلچر کی تشکےل و تکمےل مےں وقت لگتا ہے۔

اس سلسلے مےں بعض لوگوں کی خواہش ہے کہ پاکستان مےں اردو 
زبان پر علاقائی زبانوں کا پر چھانواں تک نہ پڑے۔ بلکہ ےاہں اس کا وہی 
محاورہ رائج ہو جائے جس نے کبھی اکبرآباد، دہلی ےا لکھنو مےں 
تکمےل پائی تھی۔ ےہ لوگ اردو کے انھےں علاقائی روےوں کو متحجر کر ےک 
محفوظ رکھنا چاہتے ہےں اور زبان کے فطری رجحان پر روک لگانے کے 
غےر فطری عمل کو اردو کی خےر خواہی تصور کرت ےہےں۔ دوسری طرف
وہ لوگ ہےں جو ےہ چاہتے ہےں کہ علاقائی زبانوں کی زےادہ سے زےادہ 
خصوصےات اوردو زبان مےں داخل کردی جائےں اور اسے ان سب کا حاصل 
(454) 5

جمع بنا دےا جائے۔ ےہ لوگ اردو زبان کو اےسا روپ دنے پر مصر ہےں 
جو عوام کی ضرورےات پوری کرنے کے بجائے ان کی خواہشات پوری 
کرنے کے لے تشکےل ہائے اور دو قالبوں مےں اےک روح کی بجائے اےک 
قالب مں دو روحےں اتار دےنے ہی کو زبانوں کا مےل جول سمجھتے ہےں۔

ےہ دونوں انتہا پسند گروہ اپنی خواہش پرستی مےں زبانوں کی اس 
فطرت کو بالکل نظر اندازہ کر رہے ہےں کہ نہ کوئی خالص اور بے.مےل
زبان قومی زبان کے فرائض انجام دے سکتی ہے اور نہ علاقائی زبان کی غےر 
متوازن ملاوٹ سے اس درجے پر قائم رہ سکتی ہے اس حقےقت سے انکار نہےں ع
کےا جا سکتا کہ قومی اور علاقائی زبانوں مےں ہمےشہ سے لےن دےن ہوتا آےا 
ہے اور ہمےشہ جاری رہے گا اور اس حقےقت سے بھی مفر نہےں ہےکہ 
اس کی اےک خاصل رفتار اور اےک حد ہوتی ہے ےہ نہ چند افراد کے روکے 
رکتا ہے نہ بڑھائے سے بڑھ سکتا ہے کےونکہ زبنا کا چلن مٹھی بر خواص کی 
خواہش کا تابع نہےں عوام کی ضرورےات کا پابند ہوتا ہے اور عوام اپنا کام 
چلانے کے لےے زبان استعملا کرتے ہےں وہ اس مےں دوسری زبان کا پٹ بھی 
ملاتے ہےں لےکن صرف اتنا ہی پٹ ملاتے ہےں جتنا ان کی ضرورت کا تقاضا 
ہوتا ہے چنانچہ اردو زبان کو علاقائی زبانوں سے بچانے ےا اس مےں ضرورت 
سے زےادہ علاقائی زبانوں کی خصوصےات بھنے کی کوششوں کا اول تو کامےاب 
ہونا ہی مشکل ہے اور اگر ےہ کوششےں کس وجہ سے کامےاب ہو گئےں تو 
اردو زبان قومی سطح سے گر کر علاقائی سطح پر آجائےگی اور پھر ہمےں
قومی ضرورتوں کے لےے کوئی اور زبان تلاش کرنا پڑےگی۔
(455) 6

6 ہماری قومی اور علاقائی زبانےں 
طوفان فرو ہو جانے کے بعد جب حضرت نوح.علےہ.السلام کشتی س ے
نکلے تو دوسرے جانداروں کے علاوہ ان کے ہمراہ تےن بےٹے بھی تھے۔ سام، 
عام اور ےافث۔ اس وقت ےہ لوگ اےک ہی زبان بولتے تھے۔ تو رےت مےں 
لکھا ہے کہ تمام روئے زمےن پر اےک ہی زبان اور اےک ہی بولی تھی 
اور اےسا ہوا کہ مشرق کی طرف سفر کرتے کرتے ان کو ملک سنعار مےں 
اےک مےدان ملا اور وہ وہاں بس گئے اور انھوں نے آپس مےں کہا۔
او ہم اےنٹےں بنائےں اور ان کو آگ مےں خوب پکائےں سو انھوں نے 
پھتر کی جگہ اےنٹ سے اور چوئے کی جگہ کارے سے کام لےا۔ پھر وہ 
کہنے لگے کہ آو ہم اپنے واسطے اےک شہر اور اےک برج جس کی چھوٹی
آسمان تک پہنچے، بنائےں اور ےہاں اپنا نام کرےں۔ اےسں نہ ہو کہ ہم تمام 
روئے زمےن پر پراگندہ ہو جائےں اور خداوند اس شہر اور اس برج کو 
جسے بنی آدم بنانے لگے دےکھنے کو اترا اور خداوند نے کہا۔ دےکھوں 
ےہ لوگ سب اےک ہےں اور ان سبھوں کی اےک ہی زبان ہے۔ وہ جو 
ےہ کرنے لگے ہےں تو اب کچھ بھی جس کا وہ ارادہ کرےں ان سے باقی 
نہ چھوٹےگا۔ سو آو ہم وہاں جا کر ان کی زبان مےں اختلاف ڈالےں 
تا کہ وہ اےک دوسرے کی بات سمجھ نہ سکےں۔ پس خداوند نے ان کو 
وہاں س ےتمام روئے زمےن پر پراگندہ کےا۔ سو وہ اس شہر کے بنانے 
سے باز آئے اس لےے اس کا نما بابل ہوا۔ کےونکہ خداوند نے وہاں ساری 
زمےن کی زبان مےں اختلاف ڈالا اور وہاں سے خداوند نے ان کو تمام 
روئے زمےن پر پراگندہ کےا۔ (کتاب پےدائش)

ےہ اقتباس ذرا طوےل ہے لےکن اس سے کئی مفےد مطلب باتےں درےافت 
ہوتی ہےں۔
(456) 7

پہلی بات ہے ہے کہ زبان انسانوں مےں اتحاد کا نہاےت کامےاب ذرےعہ 
ہے۔ اس سے انکار ناممکن ہے کہ اتحاد مےں ہرکت ہوتی ہے۔ متحد ہو کر 
انسان چاہے جتنے مشکل کام کا ارادہ کرےں اسے پورا کر سکتے ہےں۔ 
کےونکہ اےک زبان بولنے والوں مےں جتنی ےگانگت، محبت اور قربت کا 
احساس ہوتا ہے وہ دو الگ الگ زبانےں بولنے والوں کے درمےان نہےں 
ملتا۔ ےہ اکے قدرتی سی بات ہے اور اس مےں کسی کے برا ماننے کی 
کوئی وجہ نہےں ہے۔ جب تک انسان اےک دوسرے کی بات نہ سمجھ
لےں۔ وہ اےک دوسرے کے دکھ سکھ مےں بھی شرےک نہےں ہو سکتے اور 
محتب دکھ سکھ مےں شرکت سے ہی پےدا ہوتی اور بڑھتی ہے۔

قومی زبان کانفرنس کے بار بار انعقاد کی وجہ بھی ےہی ہے کہ 
لوگوں کو قومی سطح پر اےک زبان اپنانے کے فوائد سے نہ صرف آگاہ 
کےا جائے بلکہ اس باہمی محبت اور ےگانگت کا عملی تجرےہ بھی کرادےا 
جائے جو اس کی تنےجہ مےں پےدا ہوتی ہے۔ تو رےت بتاتی ہے کہ جب 
تک اولاد نوح اےک زبان بولتی رہی اس مےں باہمی اتحاد باقی رہا۔ اسی 
اتہاد کی بدولت اس نے شہر بابل آباد کرنے کا ارادہ کےا اور اس مےں اےک 
اےسا مےنار اٹھانا چاہا جس کی بلندی اس کے اتحاد کی قوت سے مناسبت 
رکھتی ے۔ اسی طرح پاکستان کی ترقی کے امکانات بھی ہمارے قومی اتحاد 
اور اےک جہتی مےں مضمر ہےں اور قومی اتحاد کا فروغ قومی زبان کے فروغ
سے وابستہ ہے۔

دوسری بات جو تورےت کے اس بےان سے درےافت ہوئی ےہ ہےکہ 
جہاں انسان بہت سی مختلف زبانےں بولتے ہےں وہاں ان مےں اےک اےسی 
زبان بھی ہوئی ہے جس کی مدد سے وہ اےک دوسرے کی زبان سمجھا لےتے 
ہےں اور مختلف زبانے بولتے ہوئے بھی آپس مےں گفتگو کرنے پر قدرت 
رکھتے ہےں۔ گوےا ےہ زبان مختلف زبانوں مےں رابطے کا کام دےتی ہے اور 
رابطے کی زبان کہلاتی ہے۔ تورےت کے اس بےان سے کہ خداوند نے 
وہاں ساری زمےن کی زبان مےں اختلاف ڈالا جہاں ےہ معلوم ہوتا ہے کہ 
لوگ اپنے اپنے تشخص اور امتےاز کی خاطر مختلف زبانےں بولنے لگے جو 
(457) 8

ان کے ےہاں پہلے وضع ہو چکی تھںے۔ وہاں ےہ بھی واضح ہوتا ہے 
کہ انھوں نے رابطے کی وہ زبان ہی ترک کر دی جس کی بدولت وہ اس 
وقت تک متحد اور اےک سورے کے رنچج و راحت مےں شرےک چلے 
آرہے تھے۔

اس بےان سے تےسری بات ےہ معلوم ہوئی کہ قوم مختلف گروہوں اور 
قبےلوں کے ملنے سے بنتی ہے اور مختلف گروہوں اور قبےلوں کی زبانےں بھی 
مختلف ہوتی ہےں۔ البتہ ساری فوم کی اےک زبان ہوتی ہے۔ جسے قومی 
زبان کہتے ہےں۔ ہر قبےلہ ارو ہر گروہ اپنے اپنے دائرے مےں اپنی اپنی 
زبان بولتا ہے جسے قبائےی ےا گروہی ےا علاقائی زبان کہتے ہےں اور پھر 
ےہ سب کے سب اےک اےسی زبان بھی استعمال کرتے ہےں جسے پوری قوم 
ےعنی تمام قبلےوں اور گروہوں کی مجموعی تعداد نے مرکزی حےثےت دے 
رکھی ہے۔ تعمےر بابل کے وقت اولاد نوح مےں قومی زبان کو اہمےت 
حاصل تھی۔ لےکن اس منصوبہ کی تکمےی سے پہلے ہی وہ لوگ اسے چھوڑ 
کر اےک سے زےادہ قباےلی گروہی ےا علاقائی زبانوں پر زور دے بےَتے جس 
سے ان مےں اختلافات ابھر آئے اور وہ اتحاد اور مرکزےت سے محروم ہو کر 
منزل مقصود کی راہ سے بھٹک گئے۔

غرض تورےت کے اس بےان سے مختلف علاقا ئی زبانوں کے پہلو بہ پہلو 
اےک اےسی زبان کا وجود بھی ثابت ہے جو دو مختلف زبانوں کے درمےان 
رابطے کا کام دےتی ہے۔ جس کی بدولت دو مختلف زبانےں بولنے والے اےک 
دوسرے کی بات سمجھنے اور دکھ سکھ مےں شرےک ہوتے ہےں اور جس 
کے وسےلے سے قبائل اور گروہ قومی وحدت مےں دھل جاتے ہےں اور قومی 
اتحاد کے باعث مشکل سے مشکل کام بھی آسانی سے کر ڈالتے ہےں۔ اس 
زبان کو بےک وقت رابطے کی زبان بھی کہہ سکت ےہےں اور قومی زبان 
کے نام سے بھی پکار سکتے ہےں۔ تورےت مےں ہمارے لےے ےہ عبرت بھی 
پوشےدہ ہے کہ قومی زبان کا دامن چھوڑ دےنے سے قوموں پر اس صورت 
مےں عذاب نازل ہوتا ہے کہ قبلےوں، گروہوں اور صوبوں مےں اتحاد ختم 
ہو جاتا ہے۔ اختلافات پےا ہو جات ہےں اور پراگندگی و انتشار فروغ
(458) 9

پانے لگتے ہےں۔ پھر نہ ہم شہر بسا سکتے ہےں نہ ےادگار پاکستان تعمےر 
کر کستے ہےں اور نہ قوموں کی برادری مےں اپنا تشخص ہی قائم
کر سکتے ہےں۔

ہمارے ملک مےں پنجابی پشتو، بلوچی اور سندھی، چار خاص 
زبانےں ہےں جو پنجاب، سرحد، بلوچستان اور سندھ کے چار صوبوں کی 
زبانےں سمجھی جاتی ہےں اور اپنے اپنے علاقوں کے باشندوں کی خدمت
کرتی اور انھےں باہم متحد رکھتی ہےں۔ لےکن جب دو صوبوں کے باشندے 
آپس مےں بات چےت کرنا چاہتے ہےں تو انھےں اےک تےسری زبان کی ضرورت 
پڑتی ہے جو ان دونوں کے درمےان رابطے کا کام دے سکے۔ جو اےک 
کی بات دوسرے کو سمجھا سکے اور جس کی سطح گروہی، قبائلی، 
مقامی، صوبائی ےا علاقائی کے بجائے قومی ہو۔ پاکستان مےں اس خدمت 
کے لےے اردو زبان کا وجود ناگزےر اور اس منصب کے لےے اس کی اہلےت
مسلم ہے۔

ےوں کہنے کو تو ہمارے ملک مےں دو قسم کی زبانےں رائج ہےں۔
قومی اور علاقائی ےعنی اردو اور پنجابی سندھی وغےرہ۔ لےکن اس بات کے 
سمجھنے کے لےے بہت بڑی بصےرت کی ضرورت نہےں ہے کہ قومی اور
علاقائی دونوں زبانےں اےک ہی خدمت انجام دےتی ہےں اور وہ خدمت رابطے
کی ہے۔ دونوں مےں اگر کچھ فرق ہے تو صرف اتنا سا ہ ےکہ اردو 
ےہ کام قومی سطح پر پورے ملک مےں کرتی ہے اور علاقائی زبانےں صوبائی 
سطح پر صوبے کے اندر کرتی ہےں۔ چونکہ صوبے کا رقبہ ملکی رقبہ سے 
کم ہوتا ہے اس لےے علاقائی زبان کا کام سمجھنے کے لےے نظر کو ذرا
محدود کرنا پڑتا ہے۔

ےہاں صرف اےک مثال صوبہ پنجاب کی لے لےجےے۔ اس پورے صوبے
کی زبان پنجابی کہلاتی ہے۔ لےکن ذرا لاہور سے نکل کر دےکھےے آپ
کو پنجابی کے علاوہ جھانگی، لہندی، دھنی، پٹھواری، پہاڑی، ملتانی 
اور سرائکی وغےرہ کتنی ہی زبانوں سے سابقہ پڑتا ہے اور ےہ چھوٹی موٹی
ذےلی بولےاں نہےں مستقل بالذار آزاد زبانےں ہےں پنجابی سے ان کا ملان کر کے
(459) 10

دےکھےے تو ان مےں اور پنجابی مےں کہےں فرق کم ملے گا اور کہےں زےادہ 
ےہاں تک کہ ضلع مےانوالی کے باشندے کی بات لاہور کے باسی مشکل ہی 
سے سمجھ پائےںگے۔ اس کے باوجود صوبہ پنجاب کی کوئی سی دو زبانوں 
کے درمےان پنجابی ہی رابطے کا کام دے سکتی ہے اور دے رہی ہے چنانچہ 
پنجابی بولنے والا اس صوبے کے اس سرے سے اس سرے تک چلا جائے 
پنجابی سے اپنا کام بآسانی چلا سکتا ہے ےہی کےفےت دوسرے صوبوں کی ہے 
بلوچی ےا سندھی رابطے کا کام دے ےہی ہے۔ غرض ےہ کہ اردو اور 
علاقائی زبانوں کے صرف دائرہ کار مےں فرق ہے۔ ان کے کام کی نوعےت 
مےں کوئی فرق نہےں ہے۔

زبان کا ےہ قدرتی عمل ہے کہ وہ جن زبانوں مےں رابطے کا کام دےتی 
ہے ان کے قرےب بھی آجاتی ہے۔ لوگوں کو اس کی جن مغائرت اور 
اجنےت کو سوچ سوچ کر وحشت ہوتی ہے سچ سچ اتنی مغائرت اور 
اجےنت اس مےں باقی نہےں رہتی۔ ثبوت کے لےے رابطے کی زبان کے لحاظ
سے اردو کے وہ علاقائی محاورے چشم بصےرت کے سامنے موجود ہےں جو 
اس کی تارےخ کے مختلف ادوار مےں جگہ جگہ ابھر آئے ہےں۔ اکبرآبادی
اردو، دہلوی اردو، لکھنوی اردو، حےدرآبادی اردو اور لاہوری اردو 
اردو کے وہ مسلمہ محاورے ہےں جو اکبرآباد، دہلی لکھنو حےدرآباد
لاہور اور ان کے نواح مےں آج بھی کانوں سے سنے جا سکتے ہےں۔ محاورے 
ٹکسالی اردو مےں برج.بھاشا، ہرےانی پوربی دکنی اور پنجابی کی 
آمےزش سے تےار ہوئے ہےں اور اب اپنے اپنے علاقوں کے لےے استاد کا 
درجہ رکھتے ہےں۔

ان محاوروں مےں سے کسی محاورے کی بھی عمر سو سلا سے کم 
کی نہےں ہے اور پاکستان کے قام کو ابھی زےادہ عرصہ نہےں گذرا۔ لہٰذا 
پاکستان مےں اتنی جلدی اردو کے کسی نئے محاورے کے ابھرنے کی 
توقع نہےں کی جا سکتی۔ البتہ ان مقامات کی نشان دہی ضرور ہو سکتی 
ہے جہاں اس کے امکانات موجود ہےں۔ ان مےں بظاہر پہلا نمبر کراچی
(460) 11

کا معلوم ہوتا ہے۔ جہاں فروغ اردو کے لےے بہت کچھ کام ہو رہا ے۔
لےکن واقعہ ےہ ہے کہ وہاں بہت سی مقامی اور غےر مقامی زبانےں جمع 
ہوگئی ہےں اور اردو کے تمام پرانے علاقائی محاورے بھی اکٹھے ہو گئے 
ہےںجو ابھی تک الگ الگ پہچانے جا سکتے ہےں۔ اس لےے بولنے والوں 
کو لسانی عصبےت سے چھٹکارا پانے اور تمام علاقائی محاوروں کے باہم 
مدغم ہو کر اےک نےا قالب اختےار کرنے مےں کافی وقت لگ جائےگا۔
اردو کا اےک اور محاوروہ جس کی امےد کی جاسکتی ہے اور جو اردو مےں 
سنھی کی ملاوٹ سے تےار ہوگا۔ حےدرآباد سے ابھرےگا لےکن اس کے 
وقت کا بھی ابھی تعےن کےا جا سکتا۔ البتہ پشاوری اردو کا نےا
محاوروں کے شکنجے سے آزاد ہے۔

ےہاں اس بات کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ لسانی عصبےت سے 
آزادی اور زبان کے قدرتی باو کا مطلب نراج ےا مطلق.العنای نہےں 
ہو سکتا۔ نہ اس کا ےہ مطلب ہے کہ ہم اپنے تساہل اور سہل انگاری 
کے باعث اردو سےکنھے کے بجائے نئی زبان ڈھالنے اور اےجاد کرن ےلگےں 
ارو اسے قومی ملکےت سے نکال کر شخصی ملکےت مےں اس طہر لےے آئےں 
کہ جہاں معنی ہی تلپٹ ہو جائے۔ زبان کی دنےا مےں مخصوص افراد کی 
پسند ےا ناپسند کی جگہ عوام کے چلن کے حکمرانی ہے اور آمرےت ےا 
بادشاہی کی جگہ آئےنی جمہورےت کا سکہ چلتا ہے۔ علاقائی زبانوں کی 
آمےزش سے اردو کے علاقائی محاورے از خود بنتے رہے ہےں اور آئندہ بھی
اپنے آپ بنتے رہےں گے۔ لےکن علاقائی زبان اور اردو کے اجزا مےں من مانا 
تناسب رکھ کر اس سے بزعم خود توسےع اردو کا پہلے اےک نسخہ ترتےب 
دےنا اور پھر اس نسخہ کی مدد سے علاقائی محاورے ڈھانے کی شعوری 
کوشش کرنا فعل عبث اور کار بے.خےر ہوگا۔
(461) 12

6 اردو املا کے مسائل 
زبان آوازوں سے بنتی ہے اور بولی جاتی ہے۔ لپی حروف سے بنتی 
ہے اور پڑھی جاتی ہے چنانچہ زبان اور لپی کا رشتہ دراصل حرف و 
صوت کا رشتہ ہوتا ہے اور ےہ رشتہ صرف اسی صورت مےں مستحم کہلا 
سکتا ہے جب ہر آواز کے لےے اےک جداگانہ حرف مقرر ہو۔ اس کے 
برعکسی جب اےک اےک آواز کے لےے کئی کئی حروف ےا کئی کئی 
آوازوں کے لےے اےک حرف مقرر ہوگا تو جو بولا جائےگا وہ پڑھا نہےں 
جا سکےگا اور جو پڑھا جائےگا وہ بولا ہوا نہےں ہوگا۔ چنانچہ مےرا مشاہدہ 
ہے کہ لپی کی خام کاری اور غلط نگاری کی وجہ سے پڑھے لکھوں کا تلفظ 
بگڑ جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ دنےا مےں آج تنے ہزار کے قرےب زبانےں بولی جارہی 
ہےں اور لپےاں بھی کم سے کم سےنکڑوں ہی ہوںگی۔ کےونکہاےک اےک 
لپی مےں کئی کئی زبانےں لکھی جا رہی ہےں لےکن جہاں تک مجھے علم ہے 
کوئی اےک لپی بھی کسی اےک زبان کی پوری اوازوں کو مکمل صحت
کے ساتھ محفوظ نہےں کر پاتی۔ اردو کی لپی بھی جو در اصل عربی لپی 
ہے اس سے مستشنیٰ نہےں ہے۔ دےونا گری لپی کی بہت تعرےف کی جاتی 
ہے کہ اس مےں جےسا بولتے ہےں وےسا ہی قلم بند ہو جاتا ہے لےکن ےہ 
بات سو فی.صدی درست نہےں ہے۔ کمزورےوں سے ےہ لپی بھی خالی نہےں 
ہے۔ البتہ ےہ بات قابل تسلےم ہے کہ بعض لپےوں کے مقابلے مےں اس مےں 
درست نگاری کی زےادہ صلاحےت پائی جاتی ہے۔

اردو املا کے مسائل در اصل اردو لپی کے مسائل ہےں جو اصلاََ عربی
زبان کے لےے اےجاد ہوئی تھی ارو اردو اور عربی زبانوں کے صوتی نظام 
مےں بہت فرق ہے۔ جب ےہ لپی اےران مےں اپنائی گئی تو اےرانی زبان کے
(462) 13

صوتی نظام سے ہم.آہنگ کرنے کے لےے اس مےں کچھ اضافے کےے گئے 
اور اےرانی کی مخصوص آوازوں کے لےے پ چ ژ گ کے حروف بنا کر داخل 
کر لےے گئے۔ پھر جب ےہ لپی ہنودستان مں آئی اور اردو زبان کے لے ے
اختےار کی گئی تو اس مےں مزےد اضافے ہوئے اور مخی آوازوں پ، ڈ، ڑ
وغےرہ کے لےے حروف بنا کر شامل کےے گئے۔ پھر بھی اس مےں بہت کچھ 
کمی رہ گئی ہے جس کے باعث الجھنےں اور دقتےں پےش آتی رہتی ہےں۔
آئندہ سطور مےں اےسی ہی چند الچھنوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے تاکہ 
انھےں دور کےا جا سکے۔

دنےا کی ہر زبان کی طرح ہماری زبان مےں بھی آواز کی دو قسمےں ہےں
اےک سر جسے انگرےزی مےں واول اور عربی مےں صوت علت کہتے ہےں 
دوسرے اسر جسے انگرےزی مےں کانسونےٹ، عربی مےں صورت صحےح 
اور ہندی مےں وےنجن کہتے ہےں۔ ہمےں اردو املا کے مسائل سمجھنے 
کے لےے اس کے صوتی اور ہجائی نظام دونوں کو کھنگالنا ہوگا۔ اگرچہ 
سروں اور اسروں کے تانے بناے باہم گتھے ہوئے ہےں تاہم اپنی آسانی 
کے لےے ہم اس مطالعے کی ابتدا آسروں (اصوات صحےح) سے کرتے ہےں۔

ارےو مےں ناک کی مدد سے ادا ہونے والی تےن آوازےں ہےں۔ ان مےں 
سے دندانی نون ےعنی نون بلا علان اور نون عنہ سے سب واقف ہےں البتہ
حلقی نون سے اےک عام بے.خبری پائی جاتی ہے ےہی وجہ ہے کہ نون بالاعلان 
کی پہچنا کے لےے اس کے پےٹ مےں اےک نقطہ ہوتا ہے اور نون غنہ کا پےٹ 
خای رہتا ہے لےکن حلقی نون کی کوئی شناخت مقرر نہےں ہو پائی ہے۔
لفظوں مےں استعمال ہونے پر ان تےنوں ہی کو شوشے پر اےک اےک نقطہ
بنا کر ظاہر کر دےا جاتا ہے اس صورت حال سے جو گڑبڑ پےدا ہوتی ہے 
اسے سمجھنے کے لےے پہلے ان کی انفرادی خصوصےات پر اےک نظر ڈال 
لےان ضروری ہے۔

6نون بالا علان

(1) مخرج کے لحاظ سے دندانی ہے۔
(463) 14

(2) ےہ لفظ کی ابتدا، وسط اور اخےر تےنوں مقامات پر بولا لکھا جاتا 
ہے جےسے نگر، دھندا، پاز۔

(3) عروض مےں اس کا وزن ہوتا ہے جےسے نگر، فعو، دھندا= فولن 
اور پان=فاع

(4) ےہ متحرک بھی ہوتا ہے اور جےسے گھنےرا، بنجارا۔

6نون غنہ

(1) مخرج کے لحاظ سے انفی آواز کی اےک گونج ہے۔
(2) ےہ لفظ کے وسط اور اکےر صرف دو مقامات پر بولا لکھا جاتا 
جے جےسے گوند، جوں، انکھےں۔
(3) جب ےہ لفظ کے اخےر مےں آتا ہے تو اس کے پےٹ مےں نقطہ 
نہےں لگتا۔
(4) ےہ متحرک نہےں ہوتا جےسے چنگےر، منڈےر۔
(5) عروض مےں اس کا کوئی وزن نہےں ہوتا چنانچہ گوند = گود ےعنی
فاع، جوں = جو ےعنی فع اور آنکھےں = آکھے ےعنی فعلن 
6حلقی نون

(1) مخرج کے لحاظ سے حلقی ہے۔
(2) ےہ لفظ صرف درمےان مےں آتا ہے۔ اس کی ابتدا ےا اخےر مےں 
نہےں بولا جاتا۔
(3) ےہ صرف حلقی آوازوں ک، کھ، گ، گھ سے پہلے بولا جاتا ہے 
(4) ےہ ہمےشہ ساکن رہتا ہے۔
(5) اس کا وزن نون بالا علان کے ہی برابر ہوتا ہے جےسے جنگل
= فعلن، رنگ = فاع

اب نےچے ان تنےوں اوازوں کا لافاظ مےں استعمال دےکھےے۔ جہاں ان کی 
پہچان کے لےے صرف اےک اےک نقطہ ہوتا ہے۔ مثلاََ بھنگا (بھن گا)، جنگل،
(464) 15

منگتا۔ پہلے لفظ مےں شوشے پر نقطہ دندانی نون کا ہے، دوسرے مےں 
حلقی نون کا اور تےسرے مےں غنہ کا۔ ملفوظی رواےت سے قطع نظر ےہاں 
کوئی اےسی رکاوٹ نہےں ہے جس کے باعث اےک کا دوسرا تلفظ نہ کےا 
جا سکے۔ بھنگا (بھن گا) کو حلفی نون ےا غانہ سے بھی بولا جا سکتا ہے۔
جنگل کو بھنگا اور منگتا کی طرح دندائنی نون ےا غنہ سے بھی بولا جا سکتا 
ہے اور منگتا کا تلفظ دندانی اور حلقی نون سے بھی کےا جا سکتا ہے۔
چنانچہ مےں نے بعض بعض پڑھے لکھوں کے منہ سے ہنستا کو ہنستا سنا 
ہے اور غالب کے شعرے مےں ہتھ کنڈا کے نون بلاعلان کو نون غنہ سے 
بندھا دےکھا ہے جس کے باعث لفظ ہی مہمل ہو کر رہ گےا ہے۔ آپ 
بھی سن لےجےے۔

خستگی کا تم سے شکوہ کےا کہ ےہ 
ہتھ کنڈے ہےں چرخ نےلی فام کے

ہمارے ےہاں ہے (5) بھی تنے قسم کی ہوتی ہے جسے دو چشمی ہے، 
ہائے ہوز اور ہائے مختفی کہتے ہےں۔ ہم نے دو چشمی ہے کو عربی لپی 
کی ہلکی اوازوں کے ترجمان حروف مےں جوڑ جوڑ کر اپنیان بھاری 
آوازوں کے لےے حرف بنالےے ہےں جن سے عربی زبان خال ہے اردو مےں کچھ
عرصے پہلے تک ان کو دو چشمی ہے ارو ہائے ہوز دونوں ہی سے لکھا جاتا 
تھا جےسے بھائی، گھر اور گہر، کھار اور کہار، اس نے اعتدالی 
کی وجہ سے پڑھے لھکوں کا تلفظ بگڑا تو گھما گھمی کو گھما گہمی بولنے
لگے۔ اردو مےں ہائے مختقی نہےں ہوتی، لےکن لپی مےں عربی فارسی سے 
چلی آئی تھی تو بالعموم آخری طوےل سر آ اور اے کے لےے لھی بولی 
جانے لگی اور ہم بھروسا کو بھروسہ، رستا کو رستہ، لالا (بنےا) کو 
لالہ، نا(انکاری) کو نہ اور تے کو تہ، پے کو پہ لکھنے بولنے لگے 
اور اب ہے کہ ان مختلف قسموں سے لکھے بولے جانے والے الفاظ کی چند 
مثالےں نےچے درج کی جاتی ہےں جو اردو لغات کے لے ےاےک ناروا بوجھ بن 
گئے ہےں۔ ےہ مختلف الاشکال، ہم صورت اور ہم معنی الفاظ ہےں
1۔ موں، مونہہ، مونھ، مونہ، منہ۔
(465) 16

2۔ باں، بانہہ، بانہ، بانھ۔
3۔ کونی، کوہنی، کہنی۔
4۔ پہونچ، پہنچ، پھونچ، پوہنچ، پونچ۔

اردو مےں سات طوےل سادہ سر ہےں جو ا، و، ی مےں سے دو دو 
حرف ملا ملا کر لکھے جاتے ہےں۔ آ، اے، اے، ای، او، او، او۔
دےونا گری لپی مےں ان کے لےے اےک اےک مفرد حرف شررے۔ ان سات 
سروں کے مختصر روپوں کے لےے اردو لپی مےں صرف تےن علامات زےر، 
زےر اور پےش ہےں جنھےں اعراب کہتے ہےں اور جو طوےل سوروں پر بھی 
لگئے جاتے ہےں لےکن ہمارے ےہاں پابندی سے اعراب لگانے کا بھی دستور 
نہےں ہے اسی لےے ےا اردو تحرےر مےں نہ متحرک اور ساکن حرف مےں 
تفرےق ہو پاتی ہے اور نہ ارکان کی صحےح تقسےم۔ نتےجتہََ پڑھنے مےں غلطی 
کا امکان اور تلفظ بگڑنے کا خلشہ لگا رہتا ہے۔

پھر ہمارے ےہاں چار مختصر سروں کے لےے کوئی علامت نہےں ہے۔ 
زےر آکا مختصر روپ ہے۔ زےر سے ہم اے (کومل9 اور ای (تےور)
دوسروں کے مختصر روےوں کا کام لےتے ہےں اور پےش کو بھی کومل اور 
تےور او ارو آو، دونوں کا مختصر روپ مانتے ہےں۔ پہلے زےر کی مثالےں
دےکھےے۔

مختلف الفاظ : چرنا (چی.رنا سے) اور پھرنا (پھے.رنا سے)، پٹنا
(پی ٹ نا سے) اور پکنا (پے ل نا سے)

ہم صورت الفاظ : سےا (سے آ، انڈے پر بےٹھا) اور سےا (سی، آ سلائی 
کی) چئےل (چئے ال، زخمی) اور چٹےل (چٹی ال صاف اور ہموار) لےانا (لے
آنا، لانا) اور لےا (لی آ، پاےا حاصل کےا)۔ کھلنا (کھے ل نا ےعنی زےب 
دےنا) اور کھلنا (کھی ل نا ےعنی کھےل ہونا، کھلنا)۔

اب پےش کی مثالےں دےکھےے:

مڑنا (موڑنا سے) کا سر کومل اور اڑنا (اوڑنا ےعنی اٹھنا، بلند ہونا
(466) 17

سے) کا سر بنور سے۔ کئی (کوئی ےا کوئھری) کا سر کومل اور چھٹی 
(چھوٹی، چلی) کا سر تےور سے، گھلی (گھولی سے) کا سر کومل اور 
گلی (گولی ےعنی مغذ سے) کا سر تےور ہے۔

مندرجہ بالا دو دو مثالوں کے سر واضح علات نہ ہونے کے 
باعث اےک دوسرے سے بدل سکتے ہےں اور ان کی غلط خوانی سے تلفظ 
بگڑ سکتا ہے۔

اردو مےں او اور اے کے مختصر روپوں کے لےے بھی کوئی علامت 
نہےں ہے۔ او کی طوےل اور مختصر دونوں صورتےں غالب کے دو شعروں 
کے اےک ہی لفظ آو مےں پائی جاتی ہےں۔ سنےے
طوےل آو :

غےر سے رات کےا بنی ےہ جو کہا تو دےکھنا
سامنے آن بےٹھنا اور ےہ دےکھنا کہ ےوں 
مختصر او :

گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئی 
اٹَا اور اٹھ کے قدم مےں نے پاسباں کے لےے

دونوں مقامات پر لفظ اور کو اےک ہی طرح سے لکھکر صحےح صحےح 
نہےں پڑھ سکتے کےونکہ ان مےں سے پہلے اور کا سر طوےل (بروذن فاع) ہے 
اور دوسرے مےں مختصر (فع) ہو گےا ہے ارو اگر مختصر شکل مےں اسے
ار لکھا جائے تو الف پر کون سی علامت لگائی جائے۔

لفظ بہت کو دےونا گری لپی مےں بہت (ہائے مفتوح اور ہائے 
مضموم سے) لکھا جاتا ہے اور پڑھے لکھے ےہی تلفظ بھی کرنے لگے ہےں۔
اردو مےں ےہ لفظ بہت (ہائے مضموم اور ہائے مفتوح سے) لکھا جاتا ہے 
اور پڑھے لکھے اسی طرح بولتے بھی ہےں لےکن اس لفظ مےں ب اور ہ دونوں 
حروف کا سرائے کا مختصر روپ ہے۔ ہمارے ےہاں اس کی علامات نہ 
حروف کا سر اے کا مختصر روپ ہے۔ ہمارے ےہاں اس کی علامت نہ 
ہونے کے باعث آزادی ہے کہ پڑھنے والے جس طرح چاہےں پڑھےں بولےں۔
(467) 18

ےہی سر چہل (مذاق، دل لگی، خوش طبعی) مےں چ اور ہ پر اور بہنی 
مےں ب اور پر بولا جاتا ہے۔

اردو کے لفظ گہرا مےں گاف پر اے کا مختصر سر ہے لےکن لوگ 
زےادہ تر زےر لگا دےتے ہےں جو غلط ہے اور جس سے تلفظ بگڑنے کا اندےشہ 
رہتا ہے۔ اس کی دوسری مثالےں ےہ ہےں۔ لہرا، بہرا، پھرا جن مےں 
ہائے ہوز سے پہلے اے کا مختصر سر بولا جاتا ہے۔ ےہ ہمارے دےسی 
تلفظ کا ہی اثر ہے جو ہم عربی کے لفظ اہم کو جس کی الف اور ہ 
دونوں پر زےر بولا جاتا ہے۔ ےہ ہمارے دےسی 
تلفظ کا ہی اپر ہے جو ہم عربی کے لفظ اہم کو جس کی الف اور ہ 
دونوں پر زےر بولا جاتا ہے اے کا مختصر روپ لگا کر (اےہےم) بولتے ہےں 
اردو کے چہل پہل کے اسراج اور پ پر زےادہ سے زےادہ زےر لگا دےا جاتا 
ہے کےونکہ اے کے مختصر روپ کی کوئی علامت ہمارے ےہاں نہےں ہے 
لےکن صوتی اعتبار سے ےہ عمل درست نہےں ہے اس سے تلفظ بگڑنے کا 
خدشہ رہتا ہے۔

اردو املا مےں طوےل سر الف واو اور ےے کی مدد سے اور مختصر 
سر زےر، پےش اور زےر سے ظاہر کےے جاتے ہےں لےکن بعض اوقات مختصر 
سر کے لےے بھی ان امدادی حروف کا استعمال کےا جاتا ہے۔اس بے.اعتدالی
سے لفظوں کے صحےح تلفظ مےں دشواری پےش آتی ہے۔ اور کے طوےل
اور مختصر سروں کے باوجود اس کا مکتوبی روپ اےک ہی رہتا ہے جس 
کی مثالےں گزر چکی ہےں۔

مندرجہ ذےل اشعار مےں اےسے ہی کچھ اور الفاظ ملاحطہ فرمائےے :

اے (اے اور ہے)

طوےل 
ےوں ہی چھاتی جو دھڑکے جائے گی 
ہائے کس طرح نےند آئے گی

0 
﻿
Mujeeb
03-08-01
Urdu
6	(29) 1

60پہلا باب 
60سےاسی غوروفکر کا آغاز

پانچوےں صدی ق۔م کا آخری حصہ انتہائی ذہنی سر گرمی کا دور تھا۔ اسی 
زمانے مےں سےاسی مسائل 
پر وہ بحث چھڑی جس کا نتےجہ افلاطون اور ارسطو کی سےاسی تصانےف ہےں۔ لےکن 
سےاسی مسائل پر غور کرنا 
اور سےاسی اصول قائم کرنا لوگوں نے اس سے بہت پہلے شروع کردےا تھا۔ اےتھنز کے قانون 
ساز 
سولن نے اپنی نظموں مےں کہےں کہےں وہ اصول بےان کےے ہےں جن کو وہ سب سے بہتر 
سمجھتا تھا اور 
جن کو اس نے اےتھنز کے دستوری قوانےن معےن کرتے وقت مدِ نظر رکھا۔ فےثا غورث اور 
ای اونےا 
کے فسلفےوں نے گو ان کا اصل موضوع بحث سےاسےات نہےں تھا بہت سے اصول مدون کےے 
جن کا سےاسل فسلفےوں اور خصوصاََ افلاطون پر بہت گہرا اثر پڑا۔ فےثا غورث اس زمانہ 
کے علم رےاضےات 
کا ماہر تھا۔ رےاضےات سے اس نے اےک خاص فلسفہ حےات اخز کےا اور اےک حلقہ قائم کےا 
جس کے 
اراکےن اس فلسفے کے مطابق زندگی بسر کرتے تھے۔ اس فلسفے کا اےک سےاسی پہلو بھی 
تھا اےک 
عدد اس وقت تک سالم رہتا ہے جب تک اس کے اجزا برابر رہےں۔ رےاست کی بنا انصاف 
پر 
اس وقت تک رہتی ہے جب تک اس کے اجزا مےں مساوات ہو اور انصاف کا مقصد ہی اس 
مساوات 
کو قائم رکھنا ہوتا ہے فےثا غورث نے انسانوں کو تےن قسموں مےں تقسےم کےا عقل 
پرست شہرت پرست 
اور دولت پرست اور انھےں کو معاشرے اور رےاست کے اجزا قرار دےا۔ ےہ دونوں نظرےے اور 
خصوصاََ اعتدال کی وہ تعلےم جسے ڈلفی کی غےبی آواز نے اےک الہامی اور مزہبی حےثےت 
دی تھی اور 
فےثا غورث نے خالص علمی حےثےت سے پےش کےا تھا۔ افلاطون کی رےاست اور ارسطو 
کی سےاسےات 
6(30) 2

مےں ملتی ہے اور اس کا اثر صرف علم ہی تک محدود نہےں رہا بلکہ عمل پر بھی پڑا۔ 
ای اونےا کے فلسفی بھی 
جنھےں رےاضےات سے زےادہ مادّے کی حقےقت سے بحث تھی، سےاسےات پر اپنے علم کی 
روشنی ڈالتے 
رہے۔ ہےرےک لی ٹس کا ےہ عقےدہ تھا کہ انسان کو اپنی زندگی قانون کے مطابق بسر 
کرنا چاہےے 
کےوں کہ کائنات کا سارا کارخانہ بھی اےک مخصوص آئےن کی پابندی سے چلتا ہے اس کا 
قول ہے کہ 
تمام انسانی قوانےن اےک قانون الہی پر مبنی ہوتے ہےں جو بے حد مستحکم اور ان کےا 
بوجھ اٹھانے کے 
لےے کافی ہے بلکہ کافی سے زےادہ ہے۔ انسان اور فطرت کے درمےان اسے مشابہت نظر 
آئی اسی کی بنا پر اس نے اپنے فلسفانہ نظرےے قائم کےے اور جو قوانےن عالم فطرت مےں 
کارفرما 
وہ انھےں انسانی زندگی پر بھی موثر سمجھا فےثا غورث اور اس کے شاگردوں کی 
طرح ای اونےا کے فلسفی 
بھی اس بات پر متفق تھے کہ حکومت حکےموں کے ہاتھوں مےں ہونی چاہےے اور ان کا 
رجحان اسی بنا پر 
بادشاہی ےا اشرفی حکومت کی طر	ف تھا لےکن دراصل ےہ نظرےے خالص سےاسی نہےں کہے 
جاسکتے 
کےونکہ ان کی بنےاد دوسرے علوم پر تھی جنھےں سےاسےات سے کوئی واسطہ نہےں 
سےاسےات اور دوسرے علموں کا ےہ تعلق اےک عرصہ تک قائم رہا اور جن فلسفےوں نے 
فےثا غورث اور ای اونےا کے ماہرانے طبےعات سے اختلاف کےا۔ انھوں نے سےاسی نظرےوں مےں 
بھی 
جدتےں کےں اےک لحاظ سے ےہ ترقی کی علامت تھی اس لےے کہ سےاسےات اور فلسفہ مےں 
انسانی عقل کو زےادہ دخل ہوگےا اور وہ فرےضے جن سے فلسفےوں نے اپنے نظرےے اخز کےے 
تھے سب معارض 
بحث مےں آگئے لےکن پرانے نظرےوں کو ردھ کرنے کی دھن مےں بہت سے اےسے اصول بھی 
ردھ کردےے 
گئے جو صحےح اخلاق کی بنےاد ہےں۔ پانچوےں صدی کے آخری حصے مےں علم حاصل کرنے 
کا شوق بہت 
قوی اور بہت عام ہوگےا تھا ارسطو اپنی سےاسےات مےں لکھتا ہے لوگوں نے اےران پر فتح 
پانے 
کے بعد ہر مےدان مےں قدم بڑھاےا کسی مخصوص علم کو نہےں بلکہ علم مطلق کو اپنا 
موضوع تحقےق بناےا اور معلومات کا دائرہ وسےع کرتے چلے گئے لےکن وہ سطحی علم جو 
انھوں نے حاصل کےا اور جس کو انھوں نے اپنی 
زندگی مےں فوراََ علمی جامعہ پہناےا انھےں راہِ راست پر رکھنے کے لےے کافی نہےں تھا ان 
لوگوں کو مٹانے 
اور برباد کرنے کا چسکا بڑھ گےا مگر تعمےر کی صلاحےت ان مےں پےدا نہےں ہوسکی۔ 
اس سے ذہنی تخرےب کا الزام 
سو فسطائےوں پر لگاےا گےا ہے لیےکن ےہ صحےح نہےں سو فسطائی ہم خےال لوگوں کی 
جماعت نہےں تھے۔ بلکہ پےشاور 
معلم جوان تمام علوم مےں کامل ہونے کا دعوی کرتے تھے۔ جن کی اس زمانے مےں ضرورت 
تھی 
6(31) 3

صرف و نحو خطابت الحےات مناظرہ علم البدام وغَےرہ تمام ےونانی فلسفےوں کی طرح ان کا 
مقصد 
بھی صرف علم سکھانا نہےں بلکہ اس علم کے مطابق صحےح عمل اور کامےاب طرےقہ زندگی 
کی تعلےم دےنا تھا ان 
کی جو اہمےت ہے وہ ان کے علمی نظرےوں کی وجہ سے نہےں بلکہ اس سبب سے کہ وہ 
پہلے لوگ تھے 
جنہوں نے تعلےم کو اپنا پےشہ بناےا اور ان کے سوا علم کی پےاس بجھانے والا کوئی نہ تھا 
افلاطون جو 
سب سے زےادہ ان کی شاکی ہے خود اس کا اعتراف کرتا ہے کہ مےں ان مےں سے بعض 
اےسے بھی تھے
جو سچے علم اور نےک عمل کے قائل تھے اورذہنی تخرےب کے بانی نہےں تھے بلکہ اسے 
روکنے کی کوشش 
کرتے تھے۔ وہ اصل موجرم سو فسطائےوں کو نہےں ان کے شاگردوں کو قرار دےتا ہے بلکہ 
ان سے 
بھی بڑھ کر ان عام خےالات کو جو استادوں اور شاگردوں کو ےکساں غلط راہ پر چلا رہے 
تھے

سو فسطائےوں نے بہت کم علمی ےادگارےں چھوڑی ہےں اور ان کے خےالات کی 
نسبت ہمےں جو 
کچھ معلوم ہوسکا ہے وہ زےادہ تر افلاطون کسے نوفوم اور ارسطو کے ذرےعے سے افلاطون نے 
اپنے مکالموں گورگی اےس اور پروٹے گورےس کے عنوان دو مشہور سو فسطائےوں کے نام 
پر رکھے
ہےں اور ان کے خاص فلسفے پر بحث بھی کی ہے گورگی اےس فن خطابت کا معلم تھا جو 
427 ق۔م 
مےں اےتھنز آےا اسے دراصل اخلاقی اور سےاسی فلسفے سے کوئی واسطہ نہےں تھا۔ مگر وہ 
فن خطابت 
سکھاتا تھا اور خطابت کو سےاسی زندگی مےں بہت دخل رہا ہے افلاطون نے مکالمہ کا 
عنوان 
گورگی اےس اسی وجہ سے رکھا ہے وہ ان خرابےوں پر بحث کرنا چاہتا تھا جو خطابت 
کے ذرےعے سے 
پےدا ہوتی ہےں گورگی اےس کے برخلاف پروٹے گورس (500۔430) مخصوص سےاسی 
خےالات 
رکھتا تھا اور وہ سقراط سے سےاسی رہبری پر باحےثےت اےک فن کے بحث کرتا ہے ےوں تو 
ماہرانے 
طبےعات کے مقابلے مےں وہ اس خےال کا ہامی تھا کہ انسان کی عقل سلےم ہر چےز کا 
صحےح معےار ہے اور 
انسان کو چاہےے حقےقت کو خارجی دنےا مےں تلاش کرنے کے بجائے اپنے غور اور تجربے کے 
ذرےعہ سے اُسے معلوم کرنے کی کوشش کرے لےکن اخلاقےات اور سےاسےات مےں اس کا 
رجحان 
انفرادےت کی طرف نہےں تھا۔ اس کا عقےدہ تھا کہ رےاست کی بنےاد اور اس کے قائم ہونے 
کی 
محرک انسانی ضرورےات ہےں اور ساتھ ہی وہ قانون کی فضلےت کا معتقد تھا اور ادب 
اور انصاف
6(32) 4

کے اصول اس کے نزدےک خدا کی طرف سے براہ راست اترے ہوئے اصول تھے جن کے بغَےر 
رےاست کی حےثےت افراد کے اےک مجموعے سے زےادہ نہےں ہوسکتی، اور اس کے مقصد صرف 
انسانی زندگی 
کی ادنی حاجتےں رفع کرنے تک محدود رہتا ہے اس کے خےالات کا خاص ےونانی رنگ اس 
سے 
ظاہر ہوتا ہے کہ وہ رےاست کو دراصل اےک تعلےمی ادراہ سمجھتا تھا اور ےہ مانتا تھا کہ 
جےسے استاد اپنے 
شاگردوں کی سےرت اور ان کے ذہن کی نشوونما کی بہترےن تدبےرےں سوچتا ہے وےسے 
ہی رےاست 
قانون کے ذرےعے سے سےاسی اور اخلاقی زندگی کو بہترےن شکل دےتی ہے۔

ابتدائی زمانے کے سو فسطائےوں مےں تخزےب کے ساتھ تعمےر کا بھی حوصلہ تھا اور 
ان کی تعلےم مےں 
کوئی اےسی بات نظر نہےں آتی جو جماعت اور فرد کے ربط اور ہم آہنگی مےں خلل 
ڈالتی۔ لےکن اگے چل کر 
سو فسطائےوں کے ہاتھوں مےں بعض ہتھےار اےسے آگئے جو عام ذہنےت کے لےے بہت 
خطرناک تھے۔
اور خودرائی اور عقل پرستی کی فضا مےں ان کے بہت کم شاگرد اےسے تھے جو ان کا 
کسی صورت سے
جائز استعمال کرسکتے تھے۔(ای اونےا کے فلسفےوں نے فطرت کے نظام اور انسانی زندگی مےں 
مشابہت دےکھ کر ےہ تعلےم دی تھی کہ فطرت کی طرح انسان کو بھی اپنا کاروبار مقررہ 
آئےن کے ماتحت 
کرنا چاہےے(آر کے لاوس اےتھنز کے اےک فلسفی نے اس نظرےے کو غلط ثابت کردےا اور طبعی 
قانون اور انسانی قانون مےں مشابہت دکھانے کے بجائے ان کے تضادپر زور دےا۔ فطرت اےک 
نہاےت مبہم لفظ ہے اُسے ہر شخص جو معنی چاہے پہنا سکتا ہے اور انتہا پسند سو 
فسطائےوں نے اس
ابہام سے پورا فائدہ اٹھاےا۔ اپنے چےلوں کی زہنی ضرورتےں پوری کرنے ےا ان کی خواہش 
کو صحےح اور 
ان کے عمل کو حق بجانب ثابت کرنے کے لےے انھوں نے فطرت اور انسان کے تضاد پر بنا پر 
بہت سے اخلاقی اور سےاسی نظرےے قائم کےے نےکی انصاف اور راست بازی قانون کی پےروی 
اور سےاسی اداروں کا احترام ان سب کو محض انسان کی مرضی اور مصلحت وقت پر 
چھوڑ دےا اور انسان 
کوپ ہر بند سے آزاد کےا جس کی لاٹھی اور اسی کی بھےمس کا وحشےانہ اصول جسے 
اےتھنز کے سفےتروں نے 
انتہائی دےدہ دلےری سے مے لوس کے سہرےوں کے سامنے بےان کےا تھا پانچوےں صدی کے 
آخر 
نےں اےتھنٹرس عام طور پر تسلےم کےا جاتا تھا اور اسے رواج دےنے مےں اس بے حسل کے 
ساتھ کو پے لوپونی سس 
کی جنگ نے پےدا کردی تھی سو فسطائےوں کی تعلےم بھی شرےک تھی۔ انھوں نے خود 
اس اصول کو اےجاد 
6(33) 5

نہےں کےا تھا بلکہ دوسروں سے سےکھ کر اپنے شاگردوں کو سکھاےا تھا لےکن ان کے بغےر 
اس اصول کی وہ 
علمی حےثےت نہ ہوئی جو انھوں نے اسے دے دی، اور نہ وہ لوگوں کی ذہنےت پر اس 
قدر گاوی ہوجانا 
اےن ٹی فون نامی اےک سو فسطائی کی تصنےف سے جو حال مےں ملی ہے اس بات مےں 
کوئی شک باقی 
نہےں رہتا کہ سو فسطائےوں مےں بہت سے اےسے تھے جنھوں نے مروجہ سےاسی اداروں 
اور مسلمہ آئےن 
حےات کی زہنی بےچ کنی مےں کوئی کسر نہےں اٹھا رکھی تھی۔ لےکن دوسری طرف 
اےسے بھل تھے جنہوں نے 
حےات کی ذہنی بےچ کنی مےں کوئی کسر نہےں اٹھا رکھی تھی لےکن دوسری طرف اےسے 
بھی تھے جنہوں نے 
تعمےری کوششےں کےں۔ ارسطو نے اپنی سےاسےات مےں عےنی رےاستوں کے دوخاکے دےے 
ہےں 
جو سو فسطائی مصنفوں نے بنائے تھے۔ پہلا کےل کے دون کے رہنے والے فے لی اےس کا ہے 
جس کا عقےدہ ےہ تھا کہ تمام سےاسی دشوارےوں کی بنا معاشی بدنظمی ہے اور اس نے 
تقسےم دولت مےں 
تناسب اور توازن قائم رکھنے کے لےے بہت صورتےں تجوےز کی ہےں دوسرا پےوڈے مس کا 
ہے جس نے 
اپنا عےنی نظام زےادہ تفصےل سے بےان کےاہے اس کے خےال مےں آبادی کو تےن طبقوں مےں 
تقسےم کرنا
چاہےے کسان دست کار اور سپاہی اور زمےن بھی تےن قسم کی ہونی چاہےے اےک وہ جو 
کسانوں کی 
ذاتی ملکےت ہو دوسری وہ جو رےاست کی ملکےت ہو اور جس سے سپاہی طبقے کی 
حاجتےں پوری کی جائے 
تےسری وہ جو مزہبی اغراض کے لےے وقت ہو۔ حاکموں کے انتخاب کا حق تےنوں طبقوں 
کو ےکساں ہونا 
چاہےے۔ ملکےت اور آبادی کو ےوں تقسےم کرنے مےں ہپوڈمے مس کا مقصود رےاست کو اس 
ابتری سے 
محفوظ رکھنا تھا جس سے ہر ےونانی شہر کو صدمے پہنچ رہے تھے۔ لےکن جےسا کہ 
ارسطو نے اپنی تنقےد 
مےں ثابت کردےا ہے ان تجوےزوں سے سےاسی خرابےوں کا علاج نہےں ہوسکتا۔
6(34) 6

602دوسرا باب

0سقراط۔ افلاطون کے پہلے مکالمے 
اےتھنز کے بگڑے ہوئے سےاسی اور اخلاقی فلسفے کے خلاف سب سے پہلے اےک شخص 
نے بغاوت کا جھنڈا بلند کےا جو دنےا کے حق پرستوں مےں بہت بلند مرتبہ رکھتا ہے اور 
جس کا شمار نوع
انسانی کے حقےقی محسنوں اور روسن ضمےر رہبروں مےں ہوتا ہے سقراط (470۔399) کو 
کوئی اپنی 
تصنےف نہےں اس کی زندگی اور اس کی تعلےمات کی نسبت ہمےں جو کچھ معلوم ہے وہ 
اس کے شاگرد 
کسے نوفون کے تزکرے اور افلاطون کے مکالموں سے۔ لےکن معلومات کی کمی بھی اس کی 
شخصےت 
کی روشنی کو دھےما نہےں کرسکتی ہے اور اس کی تعلےم سے زےادہ اس کی زندگی اےک 
مثال ہے جس 
سے ہر شخص ہمت اےثار اور حق کی راہ مےں جان دےنے کا سبق حاصل کرسکتا ہے 
سقراط اےک سنگ تراش کا لڑکا تھا لےکن علمی شوق نے اسے ابائی پےشے کو 
چھوڑ کر بحث 
مباحثے مےں مصروف کردےا اور اس کا وقت زےادہ تر علم دوست لوگوں کی صحبت مےں 
گزرنے لگا
روزی کمانے کی طرف سقراط نے توجہ نہےں کی اور ےہ چنداں قابل اعتراض بھی نہےں 
مگر اےک شہری 
کی حےثےت سے سقراط نے اپنے تمام فرائض نہاےت دےانت داری کے ساتھ ادا کےے امن کے 
زمانے مےں اکلےسا اور جوری کے رکن کی حےثےت سے اور مےدان جنگ مےں ہتھےا باندھ 
کر اس 
کی زندگی ہر لحاظ سے عام ےونانی فلسفہ حےات کی پےروی پر مبنی تھی اور وہ اپنی 
قوم کا اےک مثالی 
نمونہ تھا۔ لےکن 399 ق۔م مےں اس پے بے دےنی اور نوجودنوں کو گمراہ کرنے کا الزام 
لگاےا گےا اور 
اسے موت کی سزا دی گئی۔ بے دےنی کا الزام محض اےک بہانہ تھا۔ سقراط سے اےتھنز کے 
سےاسی 
رہبروں کو عداوت اس وجہ سے ہوگئی تھی کہ ان کے خےال مےں وہ اپنی تعلےم کے 
ذرےعے سے 
6(35) 7

جمہورےت کی جڑ کاٹ رہا تھا اور چونکہ اےتھنز کے کئی شہری جنھوں نے جمہورےت 
کو دستور کوپلٹ 
دےنے کی کوشس کی تھی سقراط کے شاگرد نہےں تو اس کے حلقے مےں شرےک ضرور تھے 
اس لےے ےہ 
الزام صحےح سمجھا گےا۔ سقراط نے اپنی صفائی مےں جو کچھ بےان کےا اس کا ذکر 
افلاطون کے مکالے 
اعتدار مےں تفصےل سے کےا گےا ہے اور وہ بہت قابل غور ہے۔ سقراط کے نزدےک اےتھنز کے 
شہرےوں کو اےک اےسے شخص کی ضرورت تھی جو ان کے ضمےر کو بےدار کرسکے اور 
انھےں ان گمراہےوں 
سے اگاہ کرے جن مےں وہ مبتلا ہوگئے تھے۔ وہ کہتا ہے کہ مےری ہستی اس ڈالش کی 
سی ہے 
جسے خدانے گھوڑوں اور موےشےوں کو ستانے کے لےے پےدا کےا ہے اور مےں اپنا فرض 
سمجھتا ہوں 
کہ اےتھنز والوں کو اس طرح بتاوں جےسے کہ ڈالش گھوڑوں کو ستاتا ہے اگر مجھے ےقےن 
ہوجائے 
کہ وہ راہ راست پر نہےں چل رہے ہےں۔ اےتھنز کی اس وقت جو فضا تھی اس کے لحاظ 
سے سقراط 
نے اگر لوگوں کو ستانے پر کمر باندھی تو کچھ بےجانہےں کےا، اس لےے کہ لگووں کی 
ذہنی اور اخلاقی 
حالت بگڑ گئی تھی اس نے نکتہ چےنی کا جو طرےقہ اختےار کےا وہ بھی بہت مناسب تھا 
وہ خود 
جاہل بن کر ان لوگوں سے بحےثےں چھےڑتا تھا جو عالم ہونے کا دعوی کرتے تھے اور جرح 
کے بعد 
ےہ ثابت کردےتا تھا کہ ان لوگوں کے خےالات بالکل غلط اور ان کے عقےدے بالکل بے بنےاد 
ہےں۔ ظاہر مےں 
تو ےہ محض اےک تخرےنی اور لاحاصل کوشش معلوم ہوتی ہے لےکن جب تک لوگوں کے 
ذہن ان مغالطوں 
سے پاک نہن کردےے جاتے جو سو فسطائےوں کے سطحی علم اور اےتنھ کے مدبروں کے تکبر 
اور خود غرضی 
نے پےدا کردے تھے۔ اس وقت تک انھےں صحےح تعلےم دےنا ناممکن نہےں بلکہ اےک سچا 
اور جاں باز شہری 
بھی ہے۔ جس طرح اپنے اعتدار مےں اس نے صاف صاف اعلان کردےا کہ مےں اےتنھز والوں 
کو ستانے پر مجبور ہوں اس کا نتےجہ چاہے جو کچھ ہو وےسے ہی کری ٹو مےں اس نے 
بغےر کسی پس وپےش 
کے ےہ بھی کہہ دےا کہ قانون کی پےروی ہر شہری کا اخلاقی فرق ہے اور قانونی سزا سے 
گرےز کرنے کا 
اس شخص کو بھی حق نہےں جسے ےقےن ہو کہ بے گناہ ہے۔ اسی اصول کی تعمےل مےں 
اس نے دوستوں 
کے مشورے کو بھی حق نہےں جسے ےقےن ہو کہ وہ بے گناہ ہے اسی اصول کی تعمےل 
مےں اس نے دوستوں 
کے مشورے کے باوجود جےل خانے سے نکل بھاگنے سے انکار کردےا اور بغےر شکاےت کا اےک 
لفظ زبان پر لائے زہر کا پےالا پانی کی طرح پی گےا۔ موت نے اس کی زندگی پر سچائی 
اور خلوص کی 
6(36) 8

مہر لگادی اور اسے حق پرستی اور اےثار کا اےک نمونہ بنادےا جس پر اہل دل ہمےشہ 
رشک کرتے رہےں ہےں 
سقراط کو اےتھنز والوں کے سلوک سے کوئی شکاےت نہےں تھی، لےکن افلاطون 
(349۔
228 ق۔م ) جو اس کے حلقے مےں شرےک ہوا کرتا تھا مگر غالباََ اس کا شاگرد نہےں تھا 
اس 
واقعہ کے بعد سے جمہورےت کا مخالف بن گےا۔ وےسے بھی اسے عوام سے کوئی لگاوئ نہ تھا 
اس لےے
کہ وہ اےک شرےف اور رئےس خاندان سے تھا اور اےتھنز کے وہ شرفا بھی جو دستوری 
حکومت کی کھلم 
کلھا مخالفت نہےں کرتے تھے جنہورےت کا رنگ دےکھ کر اےتھنز کے دستور کو اپنی حق 
تلفی سمجھنے لگے تھے۔
سقراط کی شخصےت کا افلاطون کے دل پر بہت گہرا اثر ہوا اور سقراط کی سزا نے اسے 
ےقےن دےا
کہ جمہورےت ان اعلی فرائض کو انجام نہےں دے سلتی جن کے بغےر رےاست محض افراد 
کا اےک مجموعہ رہتی ہے 
اس کے سےاسی فلسفے کی نشوونما بتدرےج ہوئی۔ عام ےونانی نقطہ نظر کے مطابق وہ بھی 
اخلاق 
سےاسےات اور مزہب کو اےک دوسرے سے جدا اور بے تعلق نہےں تصور کرتا تھا اس لےے 
اس 
کے فلسفے مےں ان مسائل پر بلا تفرےق ساتھ ساتھ بحث ہوتی ہے چونکہ اس نے مکالموں 
کے 
ذرےعے سے اپنے خےالات ظاہر کرنے کا طرےقہ اختےار کےا اس لےے اس تفرےق کی گنجائش اور 
بھی کم ہوگئی۔

می نو پروٹے گورےس اور گورگی اےس اس کے پہلے مکالمے ہےں جن کا 
موضوع 
زےادہ تر سےاسےات کے متعلق ہے افلاطون کے ہر مکالمے مےں گفتگو سقراط اور دو چار 
اےسے 
اشخاص کے درمےان ہوتی ہے جو مروّجہ خےالات کی نمائندگی کرتے ہےں۔ چونکہ افلاطون 
اپنی 
رائے بھی سقراط کی زبان سے ظاہر کرتا ہے اس کے اپنے ہےں اور کس حد تک افلاطون کے 
۔ لےکن 
اتنا تو ظاہر ہی ہوجاتا ہے کہ سقراط مدبری کو اور فنون کی طرح اےک فن سمجھتا تھا 
جس مےں بغَےر استعداد 
اور تعلےم کے مہارت حاصل نہےں ہوسکتی۔ رےاست اور سےاسی زندگی کا مقصد اسی وقت 
پورا کر سکتا 
ہے جب اےسی شخصےتےں جن کا علم کامل ہو اس کی رہبر اور حکم راں بنائی جائےں۔ 
افلاطون 
نے اپنا سارا سےاسی فلسفج جو رےاست مدبر اور نوامےس مےں بےان کےا گےا ہے ان 
دو اصولوں 
پر تعمےر کےا ہے۔شروع کے مکالموں مےں ان اصولوں کا صرف اےتھنز کے مروجہ سےاسی 
عقےدوں 
6(37) 9

سے مقابلہ کےا جاتا ہے می نو مےں ہمےں ےہ نظر آتا ہے کہ علمی سےاسےات کو فطری 
مصلحت بےنی اور موقع
شناسی کی سطح سے بلند کرکے فن اور علم کی حےثےت دےنے کی کوشش کی جارہی ہے 
باقی دونوں 
مکالموں مےں سقراط کا نقطہ نظر زےادہ صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے اور سےاسی مسائل پر 
بحث بھی 
زےادہ تفصےل سے کی جاتی ہے۔

جےسا کہ اوپر بےان کےا جاچکا ہے، پروٹے گورےس اےک بہت مشہور سوفسطائی 
تھا مگر اس 
انتہا پسند گروہ مےں سے نہےں تھا جو اپنی ذاتی غرض کے مطابق اصول بناتا تھا مکالمے 
مےں وہ 
سقراط سے کہتا ہے کہ مےں اپنی تعلےم کے ذرےعے سے لوگوں کو ہوشےار اور مستعدد 
شہری بناتا ہوں 
تاکہ وہ قول اور عمل دونوں مےں رےاست کا کام بہترےن طرےقہ پر انجام دےنے کے قابل 
ہوسکےں 
سےاسی قابلےت اےک ہنر ہے اور ہر شخص بقدار استعداد اس کی تعلےم دےتا ہے اس لےے 
کہ اس 
کی زندگی دوسروں کے واسطے اےک مثال ہوتی ہے سقراط کو اس سے انکار نہےں کہ 
سےاسی 
قابلےت اےک ہنر ہے مگر اسے حاصل کرنا سقراط کے نزدےک اتنا آسان کام نہےں جتنا کہ 
پروٹے گورےس 
سمجھتا ہے اور ہنر کوئی معجون مرکب بھی نہےں ہے جو تمام شہرےوں کی مختلف 
خوبےوں سے بن سکے 
اس کی تعلےم ضرور دےنا چاہےے لےکن اےسے لوگ بہت کم ہےں جو اسے وافعی حاصل 
کرسکتے ہےں 
کےوں کہ اس کا حقےقی مفہوم وہ کامل خودشناسی اور کامل ضبط ہے جس کے ذرےعے سے 
انسان سچے
علم کی روشنی اپنے دل مےں پےدا کرسکے، کائنات کی ماہےت انسان کی حقےقت اور کائنات 
مےں 
انسانی ہستی کا منشا اور مقصد معلوم کرسکےط اس مرتنے تک صرف چند برگزےدہ 
شخصےتوں کی رسائی
ہوسکتی ہے۔ ےہی شخصےتےں ہےں جنھےں پےدا کرنا رےاست کے دستور اور نظام تعلےم کا 
نصب العےن ہونا
چاہےے اور انھےں کے سپرد رےاست کا سارا کاروبار کےا جانا چاہےے پروٹے گورےش اور سقراط 
کے درمےان بحث دراصل جمہورےت کی اخلاقی اور سےاسی قدر پر ہے۔ سقراط کو ےقےن ہے 
کہ سےاسی
قابلےت کوئی ادنی چےز نہےں ہے جس کا ہر کس و ناکس ہردرزی اور قلعی گر دعوے 
دار ہوسکے 
پروٹے گورےس کا اس کے برخلاف ےہ عقےدہ ہے کہ گورےاست اور سےاسی زندگی محض 
انسان کی 
قائم کی ہوئی چےزےں نہےں ہےں، اور جب تک انصاف اور ادب کی اہلےت خدا کی طرف 
سے عطا 
نہ ہو رےاست صحےح معنوں مےں قائم نہےں ہوتی لےکن جب وہ اےک بار وجود مےں 
آجائے تو اس کے معنی 
6(38) 10

ےہ ہےں کہ قوم مےں سےاسی زندگی کی استعداد پےدا ہوگئی اور ورزی اور قلعی گر 
بھی اپنا فرض ادا کرنے 
کے لائق ہوجاتے ہےں پروٹے گورےس کا ےہ نظرےہ کہ رےاست کو اےک تعلےمی ادارہ سمجھنا 
چاہےے اور 
اس کے علاوہ اور بہت سے خےالات آگے چل کر افلاطون کی رےاست مےں نظر آتے ہےں لےکن 
پروٹے گورےس کے طرز بےان کی تمام خوبےوں اور اس کے خےالات کی ظاہری صحت کے 
باوجود سقراط 
اسے تسلےم نہےں کرتا رےاست کا کام ماہر اِن سےاسےات کے بغےر چل سکتا ہے اور سےاسی 
زندگی کی 
اصلاح ان لوگوں کے بغےر ممکن ہے جو ہر علم و ہنر اور اخلاقی صفات مےں کامل ہوں ۔

حےثےت مجموعی پروٹے گورےس کا انداز بےان بہت نرم ہے گورگی اےس مےں 
مروجہ سےاسی 
اصول اور عقائد زےادہ بے باکی سے پےش کےے گئے ہےں اور ان کی مخالف بھی زےادہ 
سختی سے
کے گئی ہے۔ گورگی اےس خطابت کا استاد تھا۔ اور اس مکالمے اس سےاست داں کا جو 
تقرےروں 
کے ذرےعے سے عوام کو اپنی رائے پر چلاتا ہے اس مدبر سے مقابلہ کےا گےا ہے جو حقےقت 
مےں 
حق پرست ہے اور اپنے علم سے قوم رہنمائی کرتا ہے۔ سو فسطائےوں کا دعوٰی تھا کہ وہ 
اپنی تعلےم 
کے ذرےعے سے عدل و انصاف کی حماےت کرتے ہےں۔ اور خطابت سکھا کر قانون کی خامےوں 
اور غلطےوں 
کی مضرّت سے لوگوں کو محفوظ رکھتے ہےں۔ سقراط اس بات کو اچھی طرح ثابت کردےتا 
ہے کہ انصاف کی بنا مشتبہ 
دلےلوں اور ابلہ فرےبی پر قائم نہےں کی جاسکتی، اور پھر اےک بحث شروع ہوتی ہے 
جس کا اصل موضوع 
اےتھنز کے سےاسی اخلاق ہےں۔ سقراط کے مخالف پولس اور کے لک لےس اےتھنز کی 
سےاسی دنےا کے 
دو مثالی نمونہ ہےں پولس کامےابی کا قائل ہے اس کو معلوم ہے کہ کامےابی حاصل کرنے 
مےں 
ناجائز طرےقے اختےا کےے جائےں تو لوگ اسے برا سمجھتے ہےں لےکن پھر بھی اسے کامےاب 
مقرر پر 
رشک آتا ہے اس لےے کہ وہ جو چاہے کرسکتا ہے اور ناجائز طرےقے اختےار کرنے سے اس
کی ذات کو کوئی نقصان نہےں پہنچتا۔ جو جی مےں آئے وہ کر گزرنا اور ناچےز ہے اور 
اپنی حقےقی خواہش 
پوری کرنا اور چےز۔ سقراط اس نکتہ کو واضح کرکے ےہ بھی ثابت کردےتا ہے کہ ناجائز 
طرز عمل اور وہ 
رےادتےاں جو بے اصول حکمراں کرتے ہےں ان کے ذات کو بھی اتنا ہی صدمہ پہنچاتی ہےں 
جتنا اوروں 
کو پولس اس کے بعد خاموش ہوجاتا ہے لےکن ےہ دلےلےں کے لک لےس کے لےے کافی نہےں۔ 
وہ فلسفے کی 
6(39) 20

بلند پروازےوں کا قائل نہےں وہ اپنے آپ کو حقےقت کا پرستا رہتاتا ہے اور اسے ےقےن ہے 
کہ اگر 
سب لوگ خود کو رسمی تعصبات کے پھندے سے آزادکر لےں تو اس کی طرح انھےں بھی 
حقےقت کا علم 
ہوجائے گا۔ انسان نے جو قانون بنائے ہےں ان کا مقصد حق داروں کا حق چھےننا ہے 
قانون 
فطرت کے لحاظ سے فتح اس کی ہونی چاہےے جس کی قوت زےادہ ہو فطرت ہمےں 
سکھاتی ہے کہ 
انصاف اسی مےں ہے کہ اچھوں کوبروں سے زےادہ ملے ماور جو قوی ہوں انھےں کمزور 
سے زےادہ 
لےکن عام طور پر اےسا نہےں ہوتا اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمزورےوں نے مل کر قوی 
لوگوں کے 
حق پر قبضہ کر لےا ہے۔ ےہ دلےلےں فوراََ رد ہوجاتی ہےں کےونکہ اکثرےت اگر مل کر 
اقلےت پر حاوی ہوجائے 
تو اس قانون فطرت کے مطابق جو کے لک لےس نے بےان کےا ہے وہ جو کچھ حاصل کرلے وہ 
اس کا 
حق ہے اور اگر اکثرےت مساوات اور انصاف کی فائل ہے تو اسے اب اصولوں کو قانونی صورت 
دےنے کا اختےار ہے اس کے جواب مےں کے لک لےس کہتا ہے کہ فوی سے اس کی مردا ذہنی 
استعداد
اور قوت اردہ رکھنے والا ہے اور حق سے مراد ماوی فوائد ہےں۔ سقراط کو ےہ تسلےم کرنے 
مےں کوئی 
تکلف نہےں کہ سےاسی اقتدار انھےں لوگوں کا حق ہے جو اس کے ذہنی اور روحانی 
استعداد رکھتے ہوں
لےکن فائدہ حاصل کرنے کو زندگی کا مقصد بنانا اس کے نزدےک بہت ادنی معےار ہے اور وہ 
اےتھنز 
کے ان مدبروں کی بہت مزمت کرتا ہے جو شہرت اور حکومت کے شوق مےں اےتھنز کے 
شہرےوں کو 
گمراہ اور رےاست کو تباہ کر رہے تھے۔

6032EOF

0 
﻿
A.Alvi
03-08-01
Urdu
(3) 1

0 باب

6حافظہ

اداراک کے باب مےں آپ پڑھ چکے ہےں کہ مختلف حواس سے وصول 
ہونے والے مہےجات کص طرح منظم ہو کر ہمارے کردار کو متاثر کرنے کا 
باعث بنتے ہےں۔ تنظےم کے عمل کی اےک اور عمدہ مثال حافظہ ہے، 
جس مےں ہمارے گزشتہ تجربے ےعنی ےاد داشتےن منظم صورت اختےار کرنے 
کے بعد زمدنہئ حال پر اثر انداز ہوتی ہےں۔ کسی اےسے جاندار کا تصور 
ممکن نہےں جو حافظے کے بغےر کسی فعل کے اکتساب پر قادر ہو۔
حافظے کی عدم موجودگی مےں انسانی زندگی بالخصوص نا مکمل رہتی ہے۔
اس کے بغےر انسان نہ کسی کو کسی نام سے پکار سکتا ہے نہ کسی کو 
پہچان سکتا ہے اور نہ کوئی مہارت سےکھ سکتا ہے۔ الغرض انسانی زندگی
کا کوئی اےسا شعبہ نظر نہےں آتا جس مےں حافظے کا دخل نہ ہو۔ ےہی وجہ 
ہے کہ اکثر لوگ بالخصوص طلبا اپنے حافظے کی اصلاح کے طرےقے معلوم 
کرنے کے خواہاں ہےں۔

حافظے سے مراد گزشتہ وارداتوں (Experiences) کا اس طرح 
محفوظ رکھتا ہے کہ بوقت ضرورت انھےں ےاد کےا جاسکے اور ان سے 
فائدہ اٹھاےا جا سکے۔ اس تعرےف پر غور کرنے سے حافظے کی اہمےت اور 
ضرورت کا احساس ہوتا ہے۔ اس کے بغےر نہ تو تحصےل علم ممکن ہے 
اور نہ کوئی اور پےسہ ورانہ مہارت۔ ےہ حافظے کا کمال ہے کہ انسان
فت نئی اےجادات سے ملک کی ترقی مےں نماےاں حصہ لے رہا ہے۔ ےہ حافظے 
ہی کی وجہ ہے کہ انسان کی محنت رائےگاں نہےں جاتی بلکہ محفوظ ہوکر 
اس کے ہر فعل پر اثر انداز ہوتی رہتی ہے۔

اس باب مےں ہم حافظے کے عمل کا تجزےہ کرنے کے بعد اس کے 
(4) 2

ہر جذو کی اہمےت تجربات کی روشنی مےں بےان کرےں گے۔ نےذ ےہ بتائےں گے 
کہ ےادداشت کس طرح محفوظ ہوتی ہے اور کون کون سے اعمال اس پر 
اثر انداز ہوتے ہےں۔ اگر اےک عرصے تک ےادداشت کو تازہ نہ کےا جائے 
تو اس کا نتےجہ کےا نکلتا ہے نےز ےہ کہ کےا کوئی اےسا طرےقہ موجود ہے 
جس سے انسان اپنے حافظے کی استعداد بھتر کر سکتا ہے۔

6 حافظے سے کےا مراد ہے؟

حافظے کے جس پہلو کو سب سے زےادہ اہمےت دی جاتی ہے وہ 
ےاد کی ہوئی چےز کو محفوظ کرنے کا عمل ہے جسے اصطلاح مےں 
حفظےت ےا دےادداشت (Retention) کہتے ہےں۔ اس سے ےہ مراد لی جاتی ہے کہ 
اس ےاد کےسے ہوئے مواد کا بالاخر کےا بنتا ہے جسے اےک دفعہ
ذہن مےں محفوظ کرنے ےا سٹور (Store) کرنے کے بعد نہ دہراےا گےا ہو 
ےہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ حفظ کرنے (ےاد کرنے)
اور اسے محفوظ کرنے کے عمل مےں فرق ہے۔ اسے اےک مثلا کی مدد سے 
واضح کےسا جا سکتا ہے۔ جب ہم کسی طالب علم کے مطالعہ کرنے کے 
طرےقے پر غور کرتے ہےں اور ےہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہےں کہ اس 
کے ےاد کرنے کی رفتار کےسی ہے تو ہمارا تعلف اکتساب ےا تعلےم سے ہے 
لےکن جب ہم ےہ معلوم کرنا چاہتے ہےں کہ معلومات جو حافظے مےں 
سٹور کی گئی تھےں ان کا کےا بنا ہے تو ہمارا تعلق حفظےت ےا ےاد داشت 
(Retention) سے ہوتا ہے۔ حفظ سے متعلقہ اہم سوال ےہ ہے کہ محفوظ 
کی ہوئی ےادداشت کی اگر بالکل تکرار نہ کی جائے تو کےا اس مےں کچھ 
کمی آجاتی ہے ےا بلکل ذہن سے محو ہو جاتی ہے؟ اگر وقت کزرنے کے 
ساتھ ساتھ اس مےں کمی آجاتی ہے (ےعنی زوال آنا شروع ہوجاتا ہے) تو 
وہ کس رفتار سے آتی ہے۔ مکمل فرموشی کی صورت مےں ہم ےہ جانما
چابےں گے کہ اس کا سبب کےا ہے اور کون کون نسے اعمال امن پر اثر انداز
ہوتے ہےں تاکہ انھےں ضبط مےں لا کر فراموسی کو رِکا جا سکے ےا اس کی 
رفتار کو کم کےا جا سکے۔

ےہاں اس بات کی وضاحت بی ضروری ہے کہ ہم نے حفظ کرنے ےا 
ےاد کرنے کو تعلم کا فعل قرار دے کر اسے محفوظ کرنے کے عمل سے
(5) 3

علےحد کرنے کی کوشش کی ہے لےکن اگر غور کےا جائے تو اےسا فرق 
غےر ضروری نظر آتا ہے۔ تعلم اور حفظےت اس طرح پےوستہ ہےں کہ اےک 
کا دوسرے کے بغےر مطالعہ کرنا ممکن نہےں۔ فرض کےجےے کہ ہم کسی 
ظالب علم کی حفظ کرنے کی قابلےت جانچنا چاہتے ہےں تو اس مقصد کے لےے
اسے چند حروف تہجی، ترتےب کے بعےر ےاد کرنے کے لےے کہتے ہےں۔
طالب علم کی ان حروف کو بار بار پڑھتا ہے اور ہر بار زبانی دہرانے کی 
کوشش کرتا ہے۔ بظاہر ےہ فعل تعلم کا ہے لےکن اگر طالب علم 
ساتھ ساتھ چند حروف اپنے حافظے مےں محفوظ نہ کرے تو اسے سارے 
حروف کس طرح ےاد ہوں گے؟ اس مثال سے صاف ظاہر ہے کہ تعلم کا 
مطالعہ حفظےت (محفوظ کرنے) کے بغےر ممکن نہےں۔ اس حقےقت سے 
کون انکار کر سکتا ہے کہ جب بھی ہمےں ےہ معلوم کرنا ہو کہ کسی نے 
کتنا ےاد کےا ہے تو حفظےت سے ہی کام لےنا ہوگا ےعنی ےہ دےکھنا ہوگا کہ 
اس نے جتنا کچھ ےاد کےا تھا اسے محفوظ بھی کےا ہے ےا نہےں؟

اب اےک اور دلچسپ سوال پےدا ہوتا ہے کہ اگر تلعم اور حافظے 
مےں کوئی فرق نہےں تو حافظے کے لےے اےک علےحدہ باب کےوں مخصوص
کےا جاتا ہے؟ ےہ دونوں موضوع اےک ہی جگہ کےوں نہےں جمع کےے 
جاتے؟ اس کے جواب مےں ہم ےہ کہہ سکنے مےں کہ ےہ دونوں 
موصوع اےک دوسرے سے پےوستہ ہےں لےکن ان مےں فرق سرف خصوصی 
توجہ دےنے کا ہے۔ تعلم کا موضوع اکتسابی عمل سے تعلق رکھتا ہے، 
جب کہ حافظے کے باب مےں ہماری توجہ کا مرکز محفوظ کرنے کا عمل 
ہے اس لےے ےہ دونوں موضوع اےک ہوتے ہوئے بھی علےحدہ تشرےح
چاہتے ہےں۔

6 	حافظے سے متعلقہ ابتدائی تجربے

حافظے سے متعلقہ سائنسی بنےادوں پر مبنی تجربات کا آغاز 1880ئ کے
لگ بھگ ہوا، جب اےک جرمن عالم ابنگھاس (Ebbinghaus) نے اس 
موضو کے دقےق مطالعے کے لےے اپنے اپ کو ان تجربوں کا معمول بناےا۔
اس نے سب سے پہلے اس حقےقت کی نشان دہی کی کہ ےاد کرنے والا مواد
جتنا زےادہ بامعنی اور آسان ہوگا، اس کا ےاد کرنا بھی اتنا ہی سہل
(6) 4

ہوگا۔ اس نے ےہ بھی واضح کےا کہ فراموشی کا انحصار مواد کے دلچسپ اور 
آسان ہونے پر ہے اگر ےاد کرنے والا مواد مشکل ہے تو اس کے جلد 
فراموش ہونے کا امکان ہے۔ اس کے بر عکسی اگر مواد آسان ہے تو اس 
کے بھول جانے کا امکان کن ہے۔

ابنگھاس نے فراموشی کی رفتار معلوم کنے کے لےے بے معنی الفاظ 
اےجاد کےے تاکہ ےاد کےے جانے والا مواد ہر اےک ےک لےے ےکساں 
مشکل ہو۔ سہل الفاظ بنانے کچھ مشکل نہےں مثلاََ م.ازل،
ت و ح س، ج ی ن ر وغےرہ ابنگھاس نے اےسے سہل الفاظ کی 
متعدد فہرستےں تےار کےں اور انھےں اسی ترتےب سے ےاد کرکے تذکر ےا
ےاد آوری (Recall) کی مدد سے ےہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ مختلف
وقفوں کے بعد کتنا کچھ ےاد رہ ہے اور کتنا بھول گےا ہے۔ اس طرح 
اس نے فراموشی کا گراف تےار کےا جو اب کلاسےکی حےشےت اختےار کر چکا ہے
اس گراف پر غور کرنے سے معلوم ہوگا
کہ ےاد کرنے کے بعد اگر تکرار نہ کی جائے تو ابتدائی چند گھنٹوں کے 
(7) 5

دوراں فراموشی کی رفتار بہت زےادہ ہوتی ہے، ےعنی ہفظےت ےا ےادداشت کی مقدار 
مےں خاصی کمی آجاتی ہے۔ اس گراف کے مطابق ےاد کرنے کے بےس منٹ 
بعد ےادداشت کی مقدار کم ہو کر صرف 58 فی.صد رہ گئی۔ گوےا 42 فی.صد 
مواد فراموسی کی نزر ہوگےا۔ (9) گھنٹے بعد ےادداشت اور کم ہو کر 
35 فی.صد رہ گئی اےک دن کے بعد تقرےباََ 27 فی.صد مواد ےاد رہا۔

ابنگھاس کے نتائج کے مطابق ےا کرنے کے چند گھنٹوں بعد فراموشی 
کی رفتار زےادہ ہوتی ہے لےکن اس کے بعد اس کی رفتار مےں کمی آجاتی ہے۔
چنانچہ 6 دن کے بعد تقرےباََ 4 فی.صد مواد ےاد رہتا ہے اور 31 دن کے 
بعد 20 فی.صد مواد پھر بھی ےاد رہتا ہے۔ اس سے ےہ بھی معلوم ہوتا ہے
کہ ےاد کےا ہوا مواد مکمل طور پر حافظے سے محو نہےں ہوتا بلکہ چند ماہ 
گزرنے کے بعد بھی کچھہ نہ کچھ ضرور باقی رہتا ہے۔ فراموسی کے گراف 
پر اےک مرتبہ پھر نگاہ ڈالےں۔ گراف افقی خط سے نہےں ملتا جو ےہ ظاہر 
کرتا ہے کہ اےک مدت کے بعد بھی ےادداشت صفر تک نہےں پہنچتی۔

6 ےادداشت کی پےمائش

حافظے کا دلچسپ اور اہم پہلو ہفظےت ےا ےادداشت ہے۔ ےہ معلوم
کرنے کے لےے کہ جو مواد اےک مرتبہ ےاد کر لےا جائے اور حافظے مےں 
ےادداشت کے طور پر محفوظ ہو چکا ہو اس مےں کےا تبدےلی آتی ہے۔
علمانے نفسےات نے اس مسئےل پر تےن طرےقوں سے روشنی ڈالنے کی کوشش 
کی ہے۔ ےہ تےنوں طرےقے نفسےاتی معملوں مےں استعمال ہو رہے ہےں۔

0	1۔تذکر :0 پہلے طرےقے کا تعلق ےاد آوری سے ہے، جس مےں معمول 
کو ےاد کےا ہوا مواد دہرانے کے لےے کہا جاتا ہے، مثلاََ کتاب جو 
پڑھ چکا ہے اس کا نام، اس کے مصنف کا نام، پبلشرز کا نام وغےرہ ےا 
کسی کہانی کے کرداروں کے نام لےا اس قسم کے سوال کہ اگر آپ بنوےعہ 
گاڑی لاہور سے کراچی جائےں تو راستے مےں کون کون سا درےا آئےگا ؟

نفسےاتی معمل مےں تذکر کی پےمائش کے لےے لفظی تعلم (Verbal
learning) کہتے ہےں، کام لےا جاتا ہے۔ اس طرےقے کی سادہ شکل ےہ 
(8) 6

ہے کہ اےک فہرست مہےج الفاظ کی تمےار کی جاتی ہے جس کے ہر
لفظ کے بالمقابل جوابی الفاظ لکھے ہوتے ہےں اور ےہ بالعموم کسی اجنبی 
زبان سے لےے جاتے ہےں۔ ان دونوں فہرستوں مو معمول کے سامنے اس طرح 
پےش کےا جاتا ہے کہ اےک قلےل وقفے کے لےے الفاظ کا اےک جوڑا
(مہےج اور جوابی لفظ) سامنے آتا ہے معمول اسے دہراتا ہے۔ پھر 
دوسرا جوڑا سامنے آتا ہے، اسی طرح وہ تمام الفاظ کے جوڑے ےاد
کرتا ہے۔ چند تکراروں کے بعد اسے دونوں فہرستےں ےاد ہوجاتی ہےں۔
پھر کچھ وقفے کے بعد جو چند منٹوں کا بھی ہوسکتا ہے اور چند 
گھنٹوں کا بھی، اس کے تذکر کی پےئش کے لےے کوئی سا مہےج لفظ
بول کر اسے اس کے مقابل کا جوابی لفظ بتانے کے لےے کہا جاتا ہے۔
معمول جتنے الفاظ صحےح بتائے گا، وہی اس کا نشان (Score) ہوگا0
بعض تجربوں مےں با عمنی الفاظ کی بجانے دونوں فہرستےں مہمل الفاظ پر 
مشتمل ہوتی ہےں۔

بعض نفسےاتی معمولوں مےں جفت تشرےکی طرےقے کے مطالعے کے لےے
خاص قسم کے آلات بھی استعمال کےے جاتے ہےں۔ اےک مثالی تجربہ اس کی 
توضےح کرتا ہے، اس تجربے مےں معمول کے سپرد ےہ کام تھا کرہ وہ 
جرمن زبان ( جو اسے بالکل نہےں آتی) کے چند الفاظ کے انگرےزی مترادفات 
سکےھے۔ معمول کو جس نے اپنے کانوں پر ائےر فون (Earphone) 
لگاےا ہوا تھا، اےک اےسے ٹائپ رائٹڑ کے سامنے بٹھالےا گےا جس کا تعلق 
کمپےوٹر سے تھا۔ ائےرفون پر اےک جرنم لفظ کو ٹائپ کردےتا۔ معمول کو اس ترجمے کو 
بغور دکھنے کے لےے بہت کم وقت دےا گےا0 اس کے بعد ےہی عمل دوسرے 
لفظ کے ساتھ دہراےا گےا جب ان الفاظ کی فہرست ختم ہوگئی تو تجربہ 
کنندہ نے ان الفاظ کی ترتےب بدل ڈالی اور معمول کے سامنے حسب سابق 
جرمن زبان کے الفاظ پےش کےے گئے۔ ہر تکرا کو اےک آزمائش (Trial 
قرار دےا گےا۔
(9) 7
تذکر کی پےمائش کے لےے معمول کا چند گھنٹوں کے بعد ےا بعض 
اوقات چند ہفتوں کے بعد امتحان لےا جاتا ہے کہ اسے کتنے الفاظ درست
ےاد رہے ہےں۔

0	2۔ شناخت :0 اس مےں کسی ےاد کی ہوئی چےز کو دوبارہ پےش کرنے 
کے بعد شناخت کرنا ہوتا ہے، مثلاََ جب معمول کو کوئی کہانی سنائی 
جائی ہے تو اسے ےاد آجاتا ہے کہ وہ کہانی پہلے بھی سن چکا ہے ےا 
بعض اوقات الفاظ کی فہرست مےں (جو مہمل الفاظ کی بھی ہو سکتی ہے)
اےسے الفاظ بھی شامل ہوتے ہےں جنھےں معمول پہلے دےکھ چکا ہوتا ہے۔
اسے ان الفاظ کی شناخت کے لےے کہا جاتا ہے۔ معروضی امتحانات مےں 
کثےر الانتخاب (Multiple Choice) آزمائش مےں چار ےا پانچ جوابات مےں 
سے اےک اےسے جواب کو منتخب کرنا ہوتا ہے جسے معمول درست 
سمجھ کر شناخت کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ تذکر کی نسبت شناخت کا 
نشان (Score) زےادہ ہوگا۔ بعض اوقات اس سگور کو فی.صد مےں ظاہر 
کےا جاتا ہے جس کا فامولا ےہ ہے:

0	3۔ دوبارہ ےاد کرنا : 0 ےادداشٹ کی پےمائش کا تےسر طرےقہ دوبارہ 
ےاد کرنا (Relearning) ہے اس مےں معمول کو پہلے کچھ ےاد کرنے کے لےے
کہا جاتا ہے۔ جتنی تکراروں مےں اس نے اس کو حفظ کےا ہے، نوٹ 
کرلی جاتی ہےں۔ کچھ عرصے بعد اسے اسی مواد کو دورباہ ےاد کرنے 
کے لےے کہا جاتا ہے۔

ظاہر ہے کہ اگر اس کے حافظے مےں کچھ محفوظ رہ گےا ہے
تو اسے دوبارہ ےاد کرنے مےں نسبتاََ کم خواندگےوں (تکراروں) کی 
ضرورت ہوگی، مثلاََ اگر اس نے اےک مہمل فہرست جو بارہ بے معنی 
الفاظ پر مشتمل تھی پہلی مرتبہ چودہ تکراروں (خواندگےوں) مےں 
اسی ترتےب سے ےاد کی لےکن اےک ہفتے کے بعد اس نے وہی فہرست 
دس تکراروں مےں دوبارہ ےاد کرلی، تو اس سے ہم ےہ نتےجہ نکالنے مےں 
حق بجانب ہوں گے کہ اس نے حافظے مےں کچھ نہ کچھ محفوظ کےا ہوا
(10) 8

تھا، جس کی وجہ سے اس نے چار تکرارےں کم لےں۔ جتنی تکرارےں وہ کم 
لے گا اتنا ہی اس کی ےادداشت مےں وہ مواد محفوظ ہوگا۔ ےادداشت کی 
پےمائش کے اس طرےقے کو اصطلاح مےں، بچت کا طرےقہ (Saving method)
کہتے ہےں۔ بچت کا سکور مندرجہ ذلےل طرےقے سے حاصل کےا جاتا ہے:

ابنگھاس کا مشہور فراموشی (ےا ےادداشت) کا گراف بچت کے طرےقے 
پر مبنی ہے۔ لوہ (Luh) نامی اےک عالم نے چند طلبا کو 
مہمل الفاظ کی فہرست ےاد کروائی اور پھر تےنوں طرےقوں کی مدد سے 
ان کی ےادداشت کی پےمائش کی، نتائج کو گراف کی شکل مےں 
ظاہر کرتی ہے۔ اس سکل پر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ شناخت کے 
طرےقے مےں ےادداشت کی مقدار سب سے زےادہ ہے اور دوبارہ ےاد کرنے 
(مکرو آموزش) مےں سب سے کم۔
(11) 9

ضرورت ہے۔ ےہ تسلےم کرتے ہوئے کہ تذکر کی نسبت شناخت آسان ہے 
(اگرچہ ہمےشہ اےسا نہےں ہوتا)، سوال ےہ پےدا ہوتا ہے کہ کےا ان دونوں 
کا باہمی فرق حافظے کے مجموعی نطام کے کسی خاص پہلو کی نشان دہی 
کرتا ہے ےا ےہ کہ شناخت وےسے ہی اےک آسان اور نسبتاََ زےادہ حساس
نطام ہے؟ اس سوال کے دو مختلف جواب ہےں۔ رواےتی جواب تو بڑا 
سادہ ہے کہ شناخت مکرر آموزش کی نسبت زےادہ حساس عمل ہے۔

حفظ کےا جانے والا مواد اپنی قوت (ےعنی مشکل) کی بنا پر مختلف 
ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں مےں بعص مواد حفظ کرنے کے لےے زےادہ قوت 
(محنت) چاہتا ہے۔ اس لےے اس کی ےاد آوری کسی زحمت کے بغےر ممکن ہے
لےکن اگر ےہ مواد کم طاقت کا ہے تو اس کی شناخت تو آسان ہے لےکن 
تذکر مشکل ہے، مثلاََ اگر آپ کو کسی اےسے عربی نام کے بتانے کے لےے 
کہا جائے جو ف سے شروع ہوتا ہے تو شاےد آپ سوچ مےں پڑ جائےں
لےکن اگر شاہ فےصل کی تصوےر دکھائی جائے تو آپ کو اسے شناخت کرنے 
مےں کوئی وقت نہےں لگے گا۔ اس سے حافظے کے مجموعی نظام کا 
کوئی تاثر نہےں ملتا۔

اس خےال کے برعکلی دوسرا نقطہ، نظر ےہ ہے کہ شناخت اور 
مکرر اموزش کے اعمال بنےادی طور پر مختلف ہےں اور حافظے کے نظام کے 
اےک ضروری پہلو کی نشاندہی کرتے ہےں۔ اگرچہ کوئی بھی ماہر نفسےات

1۔ مجھے اپنے اےک ملنے والے کا نام کوشش کے باوجود ےاد نہےں آرہا تھا۔ 
تمام متعلقہ باتےں نجوبی ےاد تھےں، صرف نام ذہن مےں نہےں آرہا تھا۔ 
اےک دن اخبار مےں چند نام پڑھنے مےں آئے جس مےں ےہ خاص نام 
بھی شامل تھا۔ مجھے ےہ معلوم کرن مےں کوئی مشکل پےش نہ آئی کہ 
ےہی مطلوبہ نام ہے، جسے مےں گزشتہ روز سے ےاد کرنے کی نا کام 
کوشس کرتا رہا۔ ےہ سناخت کا عمل ہے جو تذکر سے آسان 
ہے۔ ےہی حال کسی دوائی کے نام کا ہے جو ےاد نہےں آتا لکےن جب 
کہےں لکھا ہوا مل جائے ےا اس دوائی کی بوتل نظر آجائے تو اسے 
فوراََ پہچان لےا جائے گا۔
(12) 10

اس فرق کی مکمل طور پر وضاحت نہےں کر سکا، پھر بھی چند علما اس 
خےال کے حامی ہےں کہ تذکر مےں شناخت کی نسبت زےادہ اعمال کام کرتے ہےں
تزکر مےں ہمےں حافظے کے سٹور مےں سے پہلے متعلقہ معلومات کو تلاش 
کران پڑتا ہے اور پھر اسے صحےح طور پر دہرانا پڑتا ہے۔ اس کے برعکسی 
شناخت کے عمل مےں صرف سٹور مےں سے معلومات (Information) کو 
پہچاننا ہوتا ہے حقےقت ےہ ہے کہ اس خےال کے حامی ےہ تو تسلےم کرتے 
ہےں کہ تذکر اور شناخت مےں فرق ضرور ہے لےکن اس فرق کی نوعےت 
کےا ہے؟ اس کا کوئی واضح جواب ابھی تک نہےں دے سکے۔

6 حافظے کے اجزا

زمانہ حال کے پےشتر علما حافظے کے پورے نطام کو تےن ترکےبی 
اجزا مےں تقسےم کرتے ہےں ےعنی رمن بندی (Encoding)، تخزےن (Storage)
اور بازےافت (Retrieval) اجزا کی مختصر تشرےح سے حافطے کی اسلےت
پر روشنی پڑے گی۔

0	1۔ رمز بندی :0 اس سے مراد اےسا ذہنی عمل ہے جس سے معلومات 
کو حافظے کے سٹور مےں محفوظ کےا جاتا ہے ےہی عمل حفظ کرانا
کہلاتا ہے۔ اس عمل مےں کئی ۔رح کے لوازمات سے کام لےا جاتا ہے۔
اگر مقصد سرف شناخت کرنا ہو ( جےسے کسی پارٹی مےں مختلف اشخاص کے 
چہرے) تو زےادہ حفظ کرنے کی ضرورت نہےں ہوتی۔ طلبا کو اگر معلوم 
ہو کہ ان کا امتحان معروضی آزمائش پر مشتمل ہوگا، جس مےں چار لےا 
پانچ جوابات مےں سے موزوں جواب کو منتخب کرنا ہوگا، تو وہ اسی 
مقصد کو ملحوظ رکھتے ہوئے امتہان کی تےاری کرےں گے لےکن اگر 
امتحان کا مقصد کسی پوری عبارت کو لکھنا ہو تو ان کے حفظ کرنے کا 
طرےقہ مختلف ہوگا۔ انھےں شناخت کی نسبت زےادہ محنت کرنی پڑے گی۔
الغرض رمز بندی کا طرےقےہ حفظ کرنے کے مقصد کے مطابق بدلتا رہے گا۔ 
کہےں محض سرسری نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہوگی اور کہےں حفظ کرنے 
کے لےے بہت زےادہ تکراروں کی صوررت ہوگی۔

حافظے مےں موصول ہونے والی اطلاعات کی رمز بندی (سٹور کرنے)
(13) 11

مےں تنہا خواند گےوں سے کام نہےں لےا جاتا بلکہ چند اور طرےقے بھی استعمال 
کرنے پڑتے ہےں، مثلاََ اگر ع ک ر ش ن ا ط مےں وام حروف آپ کو 
تھوڑے وقفے کے لےے دکھائے جائےں اور پھر فوراََ بعد انھےں دہرانے کے لےے
کہا جائے تو آپ کو ان کے دہرانے مےں بڑی دقت پےش آئے گئی اور شاےد 
آپ انھےں دہرا بھی نہ سکےں لےکن اگر انھےں حروف کی ترتےب ےوں 
بدل دی جائے ان ع ک اس م ش رو ط (انعکاس مشروط) تو انھےں 
فوراََ دہرانا بہت آسان ہوگا۔ لکہ اگر کوئی لفظ اس سے ھی بڑا ہے تو 
اس ےک ےاد کرنے کی گنجائش باقی رہتی ہے۔ اس اسانی کی وجہ ےہ بےان 
کی جاتی ہے کہ ےاد کرتے وقت ہر حرف اےک علےہدہ رکن کے طور پر 
ےاد کرنا ہوتا ہے۔ ممندرجہ بالا مثلا مےں گےارہ حروف کو گےارہ ارکان کے 
طور پر علےحدہ علےحدہ ےاد کرنا ہوتا ہے۔ حافظے کی وسعت کے لحاظ سے 
مشکل کام ہے لےکن جب ان حروف کی کسی لفظ کی شکل دے دی جائے 
اور لفظ بھی اےسا جو بامعنی ہو تو امن کل کو بطور اےک رکن ےاد کےا 
جائے گا، جو حافظے کی گنجائش کے مطابق آسان کام ہے۔ اس طرح اور 
الفاظ ےاد کرنے کی بھی گنجائش باقی رہتی ہے۔ اب حروف کے اےک اور 
سلسلے پر نگاہ ڈالےے۔ ب ق ک ا چ ل ژ ع ز ی م ت و ب ای۔ اسے 
اےک ہی نگاہ سے دےکھ کر دہرانا ناممکن ہے لےکن اگر ان کی ترتےب ےوں 
بدل دی جائے کہ چار چار حروف کے چار الفاظ بن جائےں، جےسے 
چ ی ت ا ع ق ا ب ب ک ر ی ل و م ڑ تو اس صورت مےں ان 
سولہ حروف کو ےاد کرنا کتنا آسان ہے، بلکہ اس طرح کے اور حروف بھی 
ہوتے جن سے اےسے بامعنی الفاظ بن سکتے، تو بھی انھےں ےاد کرنے کی 
گنجائش باقی رہتی۔

بعض اوقات اطلاعات کی رمز بندی مےں ذہنی شبےہ (Mental Image) 
سے بھی کام لےا جاتا ہے مثلاََ اگر کسی طالب علم نے مےنار پاکستان
ےاد کرنا ہو تو وہ دونوں لفظوں کو دہرا کر ےاد کرے گا لےکن اس کے 
علاوہ وہ دوسرے طرےقے سے بھی ےہ کام لے سکتا ہے۔ جس مےں مےنار پاکستان
کی ذہنی تصوےر سامنے آجاتی ہے۔ فی الحقتےقت ذہنی شبےہ کی مدد سے ےاد 
کرنا نسبتاََ آسان ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رمز بندی کرنے مےں 
صرف تکرارےں ہی کافی نہےں بلکہ اکثر اوقات بعض دوسرے حےلوں سے بھی
(14) 12

کام لےا جاتا ہے جن سے ےاد کرنے کا عمل آسان ہوجاتا ہے۔

0	2۔ تخزےن :0 تخزےن سے ےہ مراد ہے کہ جو معلومات حافظے مےں 
سٹرو کی گئی تھےں، ان کا کےا انجام ہوا ہے؟ اس کی مثال ےہ ہے کہ 
آپ نے الماری مےں چند سےب رکھ کر اس کا دروازہ بند کر دےا ہے۔ اب 
سوال ےہ پےدا ہوتا ہے کہ وقت گزرنے پر ان کا بالآخر کےا بنا ہے؟ کےسا
وہ اسی طرح رہے ہےں ےا ان مےں کوئی تبدےلی آگئی ہے؟ اگر کوئی تبدےلی 
آتی ہے تو وہ کس قسم کی ہے؟ حافظے کے متعلق بھی اےسے ہی سوالات
پےدا ہوں گے۔ ےعنی کےا حفظ کےسے ہونے مواد مےں کوئی خرابی آچکی ہے؟
ےا ےہ مواد وےسے کا وےسے ہی تازہ ہے، اس مےں کوئی زوال نہےں آےا۔
تجرباتی نفسےات اےسے ضروری سوالوں کا جواب تجربوں کی روشنی مےں دےتی 
ہے۔ ابنگھاس کے فراموشی سے متعلقہ تجربات اسی نوعےت کے تھے۔

0	3۔ بازےافت :0 حافظے کا تےسرا جزو ہے اس سے اےسا عمل مراد ہے 
جس سے سٹور کی ہوئی معلومات کو بوقت ضرورت باہر نکالا جاتا ہے۔
ضروری نہےں کہ معلومات کو ہمےشہ ہی سٹور سے حاصل کےا جا سکے۔
کبھی ان معلومات کی بازےافت ممکن ہے اور کبھی نہےں، مثلاََ اگر آپ کو 
تمام براعظموں کے نام بتانے کے لےے کہا جائے اور آپ ان تمام ناموں کو 
ےاد نہ کر سکےں تو آپ کی باز لےاقت ےقےناََ ناقص ہے کےونکہ ےہ نام آپ 
ابتدائی جغرافےہ کی کتاب مےں پڑھ چکے ہوں گے۔ ےہ بھی ممکن ہے کہ 
ےہ تمام نام نوک زبان پر ہوں لےکن سودست ےاد نہ آرہے ہوں مثلاََ آپ 
ابتدائی جغرافےہ کی کتاب مےں پڑھ چکے ہوں گے۔ ےہ بھی ممکن ہ کہ 
ےہ تمام نام نوک زبنا پر ہوں لےکن سردست ےاد نہ آرہے ہوں، مثلاََ آپ 
سے پوچھا جائے کہ آپ کو پانچوےں جماعت مےں رےاضی کون پڑھاتا تھا؟
اس کا نام آپ کو آتا تو ہے لےکن سردست ےاد نہےں آرہا ےا ےہ کہ 
صوبہ سرحد کے پہلے مسلمان گورنر کا کےا نام تھا؟ آپ بخوبی جانتے ہےں کہ 
ےہ کون تھا لےکن نام اس وقت آپ نہےں بتا سکتے۔ ےہ نوک زباں کی 
مثال ہے۔

جےسا کہ پہلے ذکر کےا جا چکا ہے، بازلےافت دو طرح کی ہوتی ہے۔
اےک تذکر جس مےں کوئی واقعہ ےا کسی کا نام آپ دہرانے کے قابل ہےں،
مثلاََ پوچھا جائے کہ گزشتہ سال آپ اسلا.آباد کسی طرح گئے تھے تو 
فوراََ ےاد آجائے گا کہ آپ نے کون سی گاڑی ( ےا ہوائی جہاز) پر سفر
(15) 13

کےا تھا۔ ےہ تذکر کی مثال ہے۔ اسی طرح آپ سے اگر سوال کےا جائے 
کہ قائد اعظم کے بعد پاکستان کا پہلا گورنر جنرل کون تھا وت آپ اس کا 
جواب سوچنے ےا ےاد کرنے کے بعد دےنے کے قابل ہوں گے۔ بازےافت کی
دوسری صورت ثناخت ہے، جس مےں کسی کا نام تو ےاد نہےں آرہا، 
لےکن اگر چند تصوےروں مےں اس شخص کی تصوےر ملا کر دکھائی جائے
تو آپ کو شناخت کرنے مےں دےر نہےں لگے گی۔ اسی طرح اےک کتاب کا 
حوالہ دےنا چاہتے ہےں جو آپ پہلے پڑھ چکے ہےں لےکن کتاب کا نام ےاد 
نہےں آرہا تو اپ لائبرےری مےں کےٹلاگ دےکھ کر فوراََ مطلوبہ کتاب 
شناخت کر لےں گے۔

6 اطلاعی عملےت

زمناہہ حال مےں کمپےوٹر کی ہر دلعزےزی اور اطلاعی عملےت
(Information Processing) کے تصور کے نشو و نمانے نے حافظے کے موضوع
پر گہرا اثر ڈالا ہے ۔ اس لےے تصور کے مطابق انسانی جسم اےک طرح کا 
اطلاعی عملےت کا نظام ہے، جس مےں حافظہ اعضائے حسن کے ذرےعے سے 
وسلول ہونے والی ان اطلاعات پر مشتمل ہے جو زمز بندی اور تخزےن 
(Storage) سے شروع ہو کر شٹور کی ہوئی معلومات کی بازلےافت پر ختم 
ہوتی ہےں۔ اس جدےد تصور پر مبنی چند ماڈل اپنے اپنے تقطئہ نظر سے 
اس عمل کی تشرےح کرتے ہےں لےکن ان تمام ماڈلوں مےں جو چےز مشترک 
ہے، وہ ےہ ہے کہ حافظے کے تےن واضح قسمےں ہےں: (1) حسی حافظہ 
(Sensory memory) (2) قلےل المےعاد حافظہ (Short term memory) 
اور (3) طوےل المےعاد حافظہ (Long-term memory )۔ ان کا مختصر 
ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ شناخت اور تذکر کے فرق کے لےے اس تکلےف دہ صورت حال کا 
تصور کےجےے جب کسی مالاقنی (بالخصوص کسی دور کے رشتدار)
کو آپ پہچان تو لےں لےکن کوشش کے باوجود اس کا نام ےاد 
نہ کر سکےں۔ آپ اس وقت تنی مشکل مےں پڑ جائےں گے جب اسے 
اس کے نام سے پکارن کی ضرورت پڑے گی۔
(16) 14

0	1۔ حسی حافظہ :0 ہم عام طور پر حافظے کو ماضی کے طور پر 
جانتے ہےں۔ ماضی کا زمانہ چند منٹ بھی ہو سکتا ہے، چند گھنٹے ےا چند 
دن بھی اور چند سال بھی لےکن ےہ ہے کہ حافظہ اسی وقت 
معرض وجود مےں آجاتا ہے جب کوئی مہےج حواس پر نقش ہو جاتا ہے،
مثلاََ ہم ڈائرکٹری مےں سے کوئی ٹےلےفون نمبر تلاش کرکے ڈائل گھماتے ہےں۔ 
اس صورت مےں معلومات کے حاصل کرنے (رمز بندی) اور اس کی بازےافت
کا درمےانی وقفہ چند سےکنڈ سے زےادہ نہےں ہوتا۔ اسے حسی حافظے کا نام
اس لےے دےا جاتا ہے کہ اس مےں مہےج کا حواس پر انداراج ہوتا ہے اور 
ظاہر ہے کہ حواس پر اندراج ( ےا نقش ہونا) حافظے کا پہلا قدم ہے۔
بعض علما اسے آئی کون (Icon) حافظے کا نام دےتے ہےں ( ےہ اےک 
ےونانی لفظ ہے جس سے مراد ذہنی شبےہ ہے)۔

آئی کون کے ضمن مےں جارج سپر لنگ (George Sperling) کے 
تجربے بڑے دلچسپ ہےں۔ اس نے اپنے معمولوں کو نو حروف کے تےن 
سطےں اےک بہت ہی قلےل وقفے کے لےے پےش کےں۔ و حروف ےہ تھے۔

G 	F		S
B		T		M
N		Z		F

انھےں ہداےت ےہ دی گئی کہ ان حروف کے غائب ہونے کے بعد جتنے حروف 
بھی ےاد آسکےں انھےں دہرائےں۔ اس تجربے مےں حصہ لےنے والے اشخاص
صرف چار ےا پانچ حروف صحےح طور پر دہراسکے۔ سپرلگن کو ےقےن تھا کہ 
انھوں نے جو حروف دہانئے ہےں ان سے زےادہ ہروف انھوں نے دےکھے ہےں۔
اس کے خےال مےں محےج کے غائب ہونے کے فوراََ بعد تک ےہ سطرےں ان کی 
ذہنی شبےہ ےعنی آئی کون مےں موجود تھےں لےکن وہ جب حروف کو دہرانے
لگے تو چوتھے ےا پانچوےں حروف کے دہرانے پر ذہنی شبےہ غائب ہوگئی۔

اس نقطے کی وضاحت کے لےے سپرلنگ نے جزوی دہرائی کا طرےقہ 
اختےار کےا۔ اس مےں طلبا کو ( جو اس تجربے مےں حصہ لے رہے تھے)
صرف اےک صطر کے حروف بتانے کے لےے کہا گےا۔ اس طرح سے حروف کی 
تعداد کم کر دی گئی تاکہ ذہنی شبےہ ےعنی آئی کون کے غائب ہونے
سے پہلے طلبا اپنی رپورٹ مکمل کر سکے۔ ےہ دےکھنے کے لےے کہ طلبا 
(17) 15

نے محض اپنے حفظے سے کام لےا ہے نہ کہ مہےج سے اس خاص سطر کی 
نشان دہی مہےج (حروف کی سطرےں کے غائب ہونے کے فوراََ بعد کی گئی۔
طلبا کو پہلے بتا دے گےا کہ اےسا اشارہ مےٹی کی آواز کے ذرےعے سے 
دےا جائے گا۔ بلند سے مراد پہلی سطر ہوگی، درمےانی قسم کی آواز سے 
دوسری صطر اور بالکل مدھم آواز سے ےا آخری سطر مراد ہوگی۔ سپرلنگ کے 
خےال کے مطابق جزوی رپورٹ پورے آئی کون کا اظہار ہے۔ اس تجربے 
کے نتائج سے ےہ معلوم ہوا کہ جزوی رپورٹ کی صروت مےں تذکر تقرےباََ
صو فی صد تھا۔ ظاہر ہے کہ جب مکمل فہرست دہرانے کے لےے کہا گےا 
تو حسی حافظہ مکمل دہرائی سے پہلے ہی گم ہو گےا لےکن جب صرف اےک 
صطر کے تذکر کے لےے کےا گےا تو حسی حافظہ تازہ رہا، اس لےے تذکر 
سو فی.صد رہا۔ ان نتائج سے ےہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حسی حافظے سے 
اکثر معلومات حاصل تو ہوتی ہےں لےکن صرف اےک قلےل عرصے کے لےے
اس کے بعد ےہ نقش مٹ جاتے ہےں۔

حسی حافظے کے متعلق ےہ بھی درےافت کےا گےا ہے کہ فروی حافظے 
کی حد (Span) سات نمبر ےا سات حروف ےا سات سادہ الفاظ سے زےادہ 
نہےں ہوتی۔ ےاد رہے کہ نوری ادراک کی حد بھی اتنی ہےں ہے۔ الفاظ کے 
متعلق ضروری بات ےہ ہے کہ انھےں بطور کل ےاد کےا جاتا ہے نہ کہ 
حروف کے ذرےعے سے اگر نھےں حروف کی بنا پر ےاد کرنے کی کوشش 
کی جائے تو سات سے بہت کم الفاظ ےاد ہوسکےں گے۔ الفاظ کو بطور 
مکمل ےاد کنرے سے ہمارے حافظے کی وسعت بہت بڑھ جاتی ہے۔ اس کی 
وجہ ےہ ہے کہ جب حروف مل کر کوئی لفظ بناتے ہےں تو حافظے مےں 
رکےارڈنگ کا عمل بہت آسان ہوجاتا ہے۔ اس طرح کی رےکارڈنگ سے ہم 
اپنے حافظے کو بہتر بنا سکتے ہےں۔ مثال کے طور پر اےک ٹےلےفون 
نمبر 3013774641 لےجےئے۔ ظاہر ہے کہ ان دس ہنلموں کا ےاد کرنا 
کتنا مشکل ہے لےکن اگر اسے تےن گروہوں مےں تقسےم کر دےا جائے جےسے 
4241۔773۔103 تو اس نمبر کا ےاد کرنا کچھ مشکل نہےں رہتا۔ اس 
صورت مےں دس اعداد کی بجائے صرف تےن اعداد بن گئے ہےں جس کا ےاد 
کرنا آسان ہے۔

0	2۔ قلےل المعےاد حافظہ ( ق م ح) :0 حسی حافطے کی ےہ خاصےت ہم 
(18) 16

بتا چکے ہےں کہ اس مےں پڑی جلدی زوال آجاتا ہے۔ اس کی مےعاد 
اےک سےکنڈ بلکہ اس سے بھی کم ہوتی ہے۔ اگر حسی حافظے پر مبنی 
اطلاع قلےل المےعاد حافظے کے سٹور مےں داخۆ نہ ہوجائے تو اےسی اطلاع 
مکمل طور پر فراموش ہوجاتی ہے لےکن اگر ہم حسی حافظہ کی طرف 
ذرا متوجہ ہوں تو قلےل المےعاد حافظے (ق م ح) مےں چلی جاتی ہے)
مثلاََ حسی حافظے والی اگر کسی سطر کو اےک ادھ مرتبہ 
حافظ کی تےن قسمےں۔ درک ہونے والی اطلاع پہلے 
حسی حافظے مےں داخل ہوتی ہے، پھر اگر ضرورت ہو تو ق م ح 
مےں چلی جاتی ہے اور آخر ط م ح مےں چلی جاتی ہے۔

دہرا سکےں تو ےہ حسی حافظے سے گزر کر ق م ح مےں داخل ہو جائے گی اور 
جن سطروں کو دہران کے موقع نہےں ملا، وہ حسی حافظے مےں سے ہی 
غائب ہو جائےں گی جو مواد ق م ح مےں داخل ہوتا ہے وہ تقرےباََ 
اےک منٹ تک تازہ رہتا ہے، اس کے بعد اگر اسے دہراےا نہ جائے تو 
فراموش ہوجاتا ہے۔ حسی حافظے مےں ےہ مواد صرف نصف سےکنڈ تک 
تاذہ رہتا ہے، پھر ختم ہو جاتا ہے لےکن ق ن ح مےں اس کے تازہ رہنے کی 
مدت تقرےباََ اےک منٹ ہے لےکن اگر اس مواد کو دہرا لےا جانے 
ےا بلند آواز سے پڑھ لےا جائے تو ےہ ق ن ح مےں موجود رہتا ہے۔ اگر اسے 
چند مرتبہ دہراےا جائے تو ےہ طوےل المےعاد حافظے (ط م ح) مےں داخل 
ہو جاتا ہے، جہاں وہ تقترباََ مستقل طور پر محفوظ رہتا ہے۔ اس صورت
(19) 17

مےں اسے دہرانے رہنے کی کوئی ضرورت نہےں۔ ق م ح کی صورت مےں اےسا 
نہےں ہوتا۔ اگر مواد کو دہراےا نہ جائے تو وہ جدل فرموش ہوجاتا ہے،
مثلاََ اگر 9476735947 ہندوں کو اےک مرتبہ پڑھنے کے بعد ےاد 
نہ کےا جائے تو ےہ چند سےکنڈوں کے اندر بھول جائںے گے۔

جب کوئی مواد قلےل المےعاد حافظے مےں موجود ہو تو ہم اس سے 
آگہ ہوتے ہےں، ےعنی وہ ہمرے شعور (ےا ذہن مےں موجود ہے۔ طوےل 
المےعاد حافظے کی صورت مےں ےہ مواد ہمارے شعور مےں نہےں رہتا جو چےز 
اس وقت ہمارے خےال مےں آرہی ہے وہ ق ن ح ہے لےکن جو چےز اس وقت خدا مےں 
نہےں آتی لےکن ہمےں معلوم ہے کہ وہ حافظے مےں محفوظ ہے،
وہ طوےل المےعاد حافظہ ہے۔

0	2۔ طوےل المےعاد حافظہ (ط م ح ) :0 طوےل المےعاد حافظہ اےک اےسا 
ستور ہے جسے مےں ان عملومات کو جنھےں اس وقت ےاد کرنا ( تذکر)
مقصد نہےں مستقل طور پر محفوظ کےا جاتا ہے تاکہ ضرورت کے وقت انھےں
تلاش کےا جا سکے۔ قلےل المےعاد حافظہ کے برعکس طوےل المےعاد حافظے
کی وسعت غےر محدود ہے۔ ہم زندگی بھر اس سٹور مےں اضافہ کرتے رہتے
ہےں۔ اس خانے کی معلومات قدرتی زوال اور دخل اندازی (Interference)
کی وجہ سے ناپےد بھی ہوجاتی ہےں البتہ اس خسارے کی مقدار ق م ح
اور حسی حافظے کی نسبت بہت کم ہے۔ جب بھی کسی معلومات کو 
ےاد کرنا مقصود ہوتا ہے تو ہم اسے ط م ح ق ن ح مےں لے آتے ہےں
مثلاََ جبا سائنس کے کسی قانون کو جو ط م ح مےں محفوظ ہے، ےاد کرنے 
کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو ہم اسے ق م ح مےں لے آتے ہےں۔ ضرورت 
پوری ہو جانے کے بعد ےہ معلومات پھر ط م ح مےں واپس چلی جاتی ہےں۔

اطلاعی عملےت کے ماڈل نے حافظے کی اسلےت کے متعلق بےش بہا 
معلومات کا اضافہ کےا ہے۔ ےہ درست ہے کہ ابھی تک حافظے کے عصبی 
فعلےاتی (Neurophysiologica) پہلو پر مکمل تحقےق نہےں ہوئی، پھر بی 
اس نظرےے کی مدد سے حافظے اور نطام عصبی کا باہمی تعلق ضروری واضح
ہوا ہے۔ حافظے کے اس ماڈل کے ثبوت مےں دو طرح کی شہادتےں پےش کی 
جا سکتی ہےں، فعلےاتی اور آزاد تذکر کے تجربات۔
(20) 18

0	(الف) فعلےات ثبوت :0 مرگی کے اےسے مرےض جن کے دماغ کے اس 
رقبے کا جسے ہپو کےمپس (Hippocampus) کہتے ہےں، آپرےشن ہو چکا ہو 
اس نظرےےے کا واضح ثبوت پےش کرتے ہےں۔ اس رقبے کے آپرےشن سے مرےض 
معلومات کو ق م ح سے ط م ح مےں منتقل کرنے کے ناقبال ہو جاتا ہے۔
اےسے مرےض آپرےشن سے پہلے کی ےادداشت آسانی سے تازہ کرسکتے ہےں
لےکن نےا مواد ےاد کنے مےں انھےں بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اےک اےسے مرےض کے والدےن نقل مکانی کر کے کسی دوسری جگہ جا آباد
ہوئے۔ اےک سال گزرنے کے بعد بھی مرےض کو اپنے موجودہ گھر کا پتا 
ےاد نہ تھا۔ اگر چہ پرانا پتا بخوبی ےاد تھا۔ اسے ےہ بھی ےاد نہ آتا کہ اس 
نے اپنے جوتے کہاں اتارے تھے۔ اےک ہی اخبار بار بار پڑھتا، ہر بار
اسے ےہ محسوس ہوتا کہ وہ اخبار کو ابھی پڑھ رہا ہے۔ اپنے ملنے والوں 
کے نام اسے بار بار پوچھنے پڑتے، اسے بالکل ےاد نہ آتا کہ وہ اپنے 
دوست سے ابھی مل چکا ہے۔

ہےپو کےمپس کے آپرےشن سے ق م ح پر کوئی اثر نہےں پڑتا اےسے 
مرےض اگر کسی مواد کو بار بار دہراتے جائےں تو اسے کچھ عرصے کے لےے
حافظے مےں محفوظ رکھ سکتے ہےں۔ بلکہ رےاضی کے سوالات بھی حل 
کر سکتے ہےں، لےکن بار بار کے دہرانے سے بھی ےاد داشت مستقل طور پر 
محفوظ نہےں کر سکتے۔ مرےض بازار سے شروری اشےا خرےد سکتے ہےں 
بشرطےکہ وہ اس چےز کو جو انھوں نے خرےدنی ہے، بار بار دہراتے جائےں۔
اگر کسی وجہ سے ان کی دہرائی مےں وقفہ آجائے تو وہ بالکل بھول 
جائےں گے کہ انھوں نے کےا خرےدنا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کی وجہ ےہ ہے 
کہ وہ ضروری معلومات کو ق م ح سے ط م ح ےں داخل کرنے کے ناقابل
ہےں۔ ق م ح اور ط م ح کی موجودگی کا ےہ بےن ثبوت ہے۔

(ب) آزاد تذکر (Free- recall) کے تجربات : آزاد تذکر کے تجربے 
بھی اس نظرےے کا ثبوت پےش کرتے ہےں مثلاََ اگر کسی کو چند الفاظ پر 
مشتمل اےک فہرست کو اس طرح سے پےش کےا جائے کہ اےک اےک لفظ 
باری باری سے سامنے آئے اور اسے ان الفاظ ےاد رہے ہےں 
اگر ان نتائج کو گراف کی شکل مےں ظاہر کےا جائے تو اےسا گراف
( 21) 19

انگرےزی کے حرف ُو کی شکل کا ہوگا۔ ےعنی امکان ےہ ہے کہ فہرست کے 
ابتدائی چند الفاظ اور آخری چند الفاظ ےاد ہوں گے۔ ابتدائی الفاظ کے ےاد
آنے کی وجہ سابقہ اثر (Primary effect) ہے اور آخری چند الفاظ کی 
وجہ حالےہ اثر (Recency effect) ہے۔ حافظے کے اس نطرےے کے مطابق 
حالےہ اثر ق م ح کی بازلےافت کا نتےجہ ہے اور سابقہ اثر ط م ح کی بازےافت کا
اس کی وضاحت کے لےے اےک تجربے مےں الفاظ کی فہرست پےش کرنے کے 
فوراََ بعد معمول کو تےس سےکنڈ کے لےے رےاضی کا اے سوال حل کرنے 
کے لےے دےا گےا، پھر اسے ان الفاظ کی بازےافت کے لےے کہا گےا۔ رےاضی کا 
سوال اس لےے دےا گےا تھا کہ اس کام سے ق م ح مےں داخل ہونے والے 
تمام الفاظ بالکل مٹ جائےں اور بازلےافت صرف ط م ح کی ہو سکے۔ اس 
طرح کے تجربے سے حلےہ اثر جاتا رہتا ہے اور سابقہ اثر قائم رہتا ہے۔
U کی شکل والے گراف کے پہلے حصے ( جو سابقہ اثر کو ظاہر کرتا ہے)
مےں کوئی تبدےلی نہےں آتی لےکن اس کے حالےہ اثر والے حصے مےں تبدےلی 
آجاتی ہے۔ اس کے برعکسی اگر اےسے متغےرات (Variables) کو استعمال 
کےا جائے، جن کا اثر صرف ط م ح تک محدود ہو تو گراف مےں سابقہ 
اثر والے حصے (ابتدائی حصہ) مےں تبدےلی آئے گی اور حالےہ اثر والا 
(آخری) حصہ اسی طرح رہے گا مثلاََ اگر فہرست کے الفاظ کی تعداد
زےادہ کردی جائے تو ان کی بازلےافت مشکل ہوگی۔ البتہ آخری چند الفاظ 
پر کوئی اثر نہ پڑے گا۔ ےعنی اےسی بادداشت صرف ق م ح تک محدود
رہے گی، ط م ح مےں داخل نہ ہوسکے گی۔ آزاد تذکر کے اےسے تجربات 
جن کا تعلق سابقہ اور حالےہ اثرات سے ہے دو طرح کے حافظوں (ق م ح
اور ط م ح) کا ثبوت پےش کرتے ہےں۔

6 	طوےل المےعاد حافظہ 
حسی حافظہ اور قلےل المےعاد حافظہ ہےں اپنے قرےبی ےا حالےہ ماضی 
سے آگاہ کرنے گا ضروری وظےفہ سر انجام دےتا ہے لےکن اگر غور کےا جائے 
تو معلوم ہوگا کہ جو حافظہ ہماری زندگی مےں اہم وظےفہ سرانجام دےتا ہے، 
وہ طوےل المےعاد حافظہ ( ط م ح ) ہے۔ حافظ ے کے متعلق جب بھی کوئی بات
کی جاتی ہے تو اس سے مراد ہمےشہ حافظے کی ےہی قسم ہوتی ہے۔
(22) 20

بھی وجہ ہے کہ اس موضوع پر جتنے بھی تجربے کےے گئے ہےں ان کی 
اکثرےت اسی ہافظے سے تعلق رکھتی ہے۔ ط م ح کے متعلف سوال ےہ 
پےدا ہوتا ہے کہ اس کا حصول، تخزےن اور بازےافت کا عمل کس اصول کے 
زےر اثر ہے؟

مندرجہ بالا سوال کے مناسب جواب کے لےے دو نظرےے پےش کےے
جاتے ہےں ےعنی تلازم (Association) اور تنظےم (Organization) 
چونکہ ےہ دونوں نظرےے اپنے طور پر حافظے کی نوعےت پر روشنی ڈالتے ہےں،
اس لےے ان کا مختصر ذکر نفسےات کے طلبا کے لےے دلچسپی کا باعث ہوگا۔

0	1۔ نظرےہئ تلازم :0 تلازم کا نظرےہ نسبتاََ قدےم ہے۔ مشہور ےونانی 
حکےم ارسطو اور اس کے بعد بےشتر مغربی فلاسفر (مثلاََ لاگ) اس نطرےہ کہ 
پر جوش مبلغ تھے۔ ان کے خےال کے مطابق تعلم تلازم کے بغےر ممکن نہےں 
مثلاََ جب پہلی جماعت کا طالب علم پہاڑے ےاد کرتے وقت 25 = 5*5
بار بار دہراتا ہے تو تلازم کے عمل سے ان کے باہمی تعلقات مستحکم 
ہوجاتے ہےں ےا جب چھوٹا بچہ نماز سکےھتا ہے تو تلازم کے عمل سے 
پوری نماز دہرانے پر قادر ہے۔ مطلب سمجھ مےں نہ آنے کے باوجود 
ان آےات کے ربط مےں کوگی غلطی نہےں کرتا۔ ہارے خےالات کا تسلسل بھی 
تلازم کی وجہ سے ہے، مثلاََ جب کوئی حاجی حج پر جانے والے کسی 
قافلے کو دےکھتا ہے تو اسے اپنے حج کے تمام مناظر اور واقعات ےاد 
آجاتے ہےں۔ اگر وہاں کسی اہم شخصےت سے ملاقات ہوئی ہو تو وہ بھی 
ےاد آجاتی ہے۔ ےہی حال اس ےادداشت کا ہے جو حافظے مےں محفوظ 
ہو چکی ہے۔ طلبا اپنے امتہان کی تےاری مےں تلازم ہی سے مدد لےتے ہےں
مختصر طور پر ہم ےوں کہہ سکتے ہےں کہ تذکر کا انحصار موزوں تلازمات
کے متہرک کرنے پر ہے۔

تلازم کی اصلےت معلوم کرنے کے لےے ابنگھاس ( جس کا ذکر پہلے
کےا جا چکا ہے) کے تجربے خاص اہمےت رکھتے ہےں۔ ابنگھاس نے جسے 
بے معنی الفاظ کا موجد کہا جاتا ہے، 2300 بے معنی الفاظ بنائے اور 
انھےں مختلف فہرستوں کی شکل مےں ترتےب دی۔ پھر ان فہرستوں کو جو
7 سے 36 الفاظ پر مشتمل تھےں، باری باری سے حفظ کرنا شروع کےا۔
(23) 21

ان تمام تجزےوں مےں وہ خود ہی تجربہ کنندہ تھا اور خود ہی معمول 
اس کا اےک طرےقہ سلسلے وار پےش بےنی (Serial anticipation) کا تھا۔
اس مےں پہلے لفظ کی ےاد کو دوسرے لفظ کی ےاد دلانا ہے۔ ابنگھاس نے 
الفاظ کے ےاد رہنے کے متعلق ےہ دلےل پےش کی کہ اگرچہ اےسے الفاظ مہمل 
ہےں لےکن انھےں کسی بامعنی الفاظ سے مربوط کےا جا سکتا ہے مثلاََ لفظ 
ن ا ط (ناط) کو ےاد کرنے کے لےے نعت سے مربوط کےا جاتا ہے۔

ابنگھاس کے تجربوں کے بعد جفتہ معاونےن (Paired associates) کا 
طرےقہ تشکےل دےا گےا۔ اس طرےقے مےں بے معنی الفاظ اےک اےک کی بجائے 
جوڑوں کی شکل مےں ےاد کرنے کے لےے پےش کےے جاتے ہےں مثلاََ کار تون 
وغےرہ۔ معمول جب اےسے الفاظ کے جوڑے ےاد کرلےتا ہے تو اسے 
جوڑے کی پہلے لفظ کا دوسرا لفظ بتانا ہوتا ہے ےعنی پہلا لفظ مہےج اور 
دوسرا لفظ اس کا جواب۔ ظاہر ہے کہ تلازم کے بغےر اےک لفظ سننے پر 
دوسرے لفظ کا بولنا ممکن نہےں۔ غےر ملکی زبان مثلاََ انگرےزی کے الفاظ 
سکےھنے مےں تلازم کا اصول ہی کار فرما ہوتا ہے۔ بچے انگرےزی کے الفاظ 
کو اپنی زبان کے الفاظ کے ساتھ مربوط کرتے ہےں۔ مدرسےن تدرےس کے اس 
طرےقے کو ترجمے کے طرےقے کا نام دےتے ہےں، کےونکہ ہر انگرےزی لفظ کا 
اردو مترادف ساتھ ساتھ پےش کےا جاتا ہے۔

0	2۔ حافظہ اور تنظےم :0 اگرچہ تلازم کے اصول سے حافظے کے چند 
پہلووں کی تجربات کی مدد سے تشرےح کی جا سکتی ہے لےکن اس نطرےے سے 
حافظے کی اصلےت پر روشنی نہےں پڑتی۔ اس لےے بےشتر علما اس نظرےے کو 
نا کافی سمجھتے ہوئے تنظےم کے اصول کی طرف رجوع کرتے ہےں۔
ادراک کے باب مےں ہم تنظےم کا اصول بےان کر چکے ہےں کہ کس طرح 
ادراکات منظم شکل اختےار کرتی ہےں۔ ےہی حال حافظے کا ہے۔ تنظےم کی 
مدد سے ہم جلد ےاد بھی کرلےتے ہےں اور ےاد کی ہوئی چےز کو جنوبی 
محفوظ بھی کر سکتے ہےں۔ اےک طوےل جملے کو ےاد کرنا ہمارے لےے کچھ 
مشکل نہےں ہوتا لےکن اگر اسے حروف مےں علےحدہ علےحدہ کردےا جائے تو 
اس کا ےاد کرنا ناممکن ہے۔ فرض کےجےے کہ کسی کو مندرجہ ذےل 
اعداد ےاد کرنے کے لےے کہا جاتا ہے 1 4 9 12 25 26 49 94 81 
ظاہر ہے کہ ان پندرہ اعداد کو حفظ کرنا اس کے لےے کتنا مشکل ہے،
(24) 22

لےکن اگر اسے علم ہوجائے کہ ےہ اعداد در اصل 1 سے 9 تک کے مربع 
ہےں اور انھےں اس طرح اےک نمونے (Pattern) کی شکل دی جا سکتی ہے:

1 4 9 12 25 32 49 64 81 
تو اس کے لےے انھےں ےاد کرنا بہت آسان ہے۔ اس نطرےہ کے حامی اس 
مثال کی مدد سے ےہ واضہ کرتے ہےں کہ انسانی حافظہ تنظےم کے عمل کے 
زےر اثر ہے۔ حفظ کرنے اور پھر بازےافت دونوں صورتوں مےں ہی تنظےم سے 
کام لےا جاتا ہے، ےعنی سٹور مےں داخل کرنے اور پھر اس کی باز ےافت 
کے لےے تنظےم کا عمل ہی کار فرما ہے۔ اس کے بعےر نہ تخزےن ممکن ہے 
اور نہ بازےافت

0 طوےل المےعاد حافظہ اور تنظےم

تنظےم کا اےک فائدہ ےہ ہے کہ اس کے ذرےعے حافظے کی وسعت 
بہت بڑھ جاتی ہے۔ ہم پہلے پڑھ چکے ہےں کہ طوےل المےعاد حافظے مےں 
داخلے کے لےے قلےل المےعاد حافظے مےں سے گزرنا پڑتا ہے، جس کی وسعت 
محدود ہے۔ حافظے کا ےہ حصہ اےک اےسا پلےٹ فارم ہے، جس مےں 
تقرےباََ سات تک بنڈل سمانے کی گنجائش ہے۔ سوال پےدا ہوتا ہے کہ 
طوےل المےعاد حافطے مےں جس کی وسعت اس سے کہےں زےادہ ہے 
کس طرح زےادہ بنڈل سما سکتے ہےں؟ اس کا جواب ےہ ہے کہ بنڈل کی 
تعداد تو بے شک اتنی ہی رہے گی لےکن ان بنڈلوں مےں ہم چےزوں 
کو اس طرح ترتےب دے کستے ہےں کہ بہت زےادہ چےزےں سما سکےں۔
گوےا اصل کام چےزوں کو موزوں طرےقے سے ترتےب دےنا ہے جےسے 
ہم نے ان پندرہ اعداد کو ترتےب دی تھی۔ ےہی عمل تنظےم 
کہلاتا ہے، جس سے حافظے مےں داخل ہونے والی معلومات کی وسعت 
کہےں زےادہ بڑھائی جا سکتی ہے۔ ان بنڈلوں کی تعداد تو اتبی ہی رہتی 
ہے جتنی قلےل المےعاد حافظے مےں گنجائش ہے لےکن جب انھےں کھولا جاتا 
ہے تو ان مےں بے شمار چےزےں نکل آتی ہےں۔ صرف چےزوں کو ترتےب سے 
رکھنے کی ضرورت ہے۔

تنظےم کا عمل : بچپن کے زمانے سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ بچہ جب 
الفاظ اور پھر جملے بنانا سےکھنے مےں مصروف ہوتا ہے تو وہ الفاظ کے 
(25) 23

علےحدہ علےحدہ حروف پر توجہ دےنے کی نسبت انھےں بطور کل ےاد کرتا ہے۔
بے جوڑ الفاظ کی صورت مےں ہافظے کی وسعت بالعموم سات مدات سے 
زےادہ نہےں ہوتی لکےن تنظےم کی صحت مےں بےس الفاظ پر مشتمل جملے کو ےاد
کرنے مےں کوئی دقت پےش نہےں آتی مثلاََ جنت نظےر کشمےر کے بہت 
بڑے علاقے پر بھارت نے قبضہ کر رکھا ہے۔ ہمارے لےے کشمےر شہ رگ
کی حےثےت رکھتا ہے۔ 23 الفاظ پر مشتمل ہےں، اگر ےہ الفاظ بے جوڑ
ہوئے تو انھےں اےک مرتبہ دےکھنے سے ےاد کرنا ممکن نہ ہوتا۔ ےوں 
سمجھ لےں کہ 23 بنڈلوں کی بجاےے دو ےا تےن بنڈل بنا لےے گئے ہےں، 
لےکن ان مےں سامنا اتنا ہی ہے جتنا 23 بنڈلوں مےں تھا۔ اگر تنظےم سے 
کام نہ لےا جائے تو بچے کا حافظےہ محدود رہے اور وہ قسم قسم کی معلومات 
محفوظ کرنے کے ناقابل رہے 
اب تک جس تنظےم کا ذکر کےا گےا ہے وہ خود مودا مےں موجود 
ہوتی ہے، ےاد کرنے والے کا کام صرف ےہ ہے کہ وہ اس تنظےم کے اصول 
سے آگہ ہو، لےکن اس کے علاوہ اےک قسم وہ بھی ہے جس مےں 
ےاد کرنے والا مختلف مدات اپنی مرصی کے مطابق تنظےم دےتا ہے
اس ذاتی تنظےم (Subjective Organization) کا تذکر پر گہرا اثر پڑتا ہے
ےعنی اس سے ےہ عمل خاصا سہل ہو جاتا ہے۔ ذاتی تنظےم کی وضاحت کے 
لےے معمل مےں جو تجربہ کےا جاتا ہے وہ کچھ اس قسم کا ہے تجربہ کنندہ 
انےس الفاظ کی اےک فہرست تےار کرتا ہے ےہ الفاظ مختلف اشےا ( جاندار اور 
غےر جاندار) کے ناموں پر مشتمل ہوتے ہےں۔ مثلاََ سوزوکی شہر، آم پلگ 
اور ہوائی جہاز وغےرہ۔ انھےں الفاظ کی تربتےب بدل بدل کر دوسری 
تےسری چوتھی پانچوےں اور چھٹی فہرست تےار کی جاتی ہے۔ معمول 
کو ان الفاظ کے لکھنے کے لےے کہا جاتا ہے جو اسے ےاد ہوگئے ہوں 
پھر بھی عمل باری باری سے باقی ماندہ پانچوں فہرستوں کے ساتھ دہراےا
جاتا ہے۔ معمول جب چھٹی فہرست پڑھنے کے بعد ان الفاظ کو لکھنا
شروع کرتا ہے تو اس مےں دو باتےں ظاہر ہوتی ہےں۔ اےک تو ےہ کہ 
اسے پہلی تکرار کی نسبت اس آخری تکرار مےں زےادہ الفاظ ےاد ہوں گے۔
(26) 24

دوسرےی قابل ذکر بات ےہ ہے کہ معمول تذکر کے دوان بعض الفاظ کی 
ترتےب بدل دےتا ہے۔ اےسے الفاظ ےکجا لکھتا ہے جو اصل فہرست مےں 
ےکجا نہ تھے، سوزو کی، پلگ اور ہوائی جہاز وغےرہ ۔ اےسی ترتےب معمول 
نے اپنی سہولت کی خاطر خود دی ہے۔ ےہی ذاتی تنظےم ہے، جس سے 
سٹور کرنے مےں سہولت ہوگئی ہے۔ اطلاعی عملےت کی زبان مےں ہم 
ےہ کہےں گے کہ حافظے کے سٹور مےں داخل ہونے والی معلومات (Input)
کو جو پہلے بے ربط اور بے ترتےب تھےں اس طرح منظم کےا گےا ہے کہ 
ان کی بازےافت مےں آسانی ہو۔ اس حقےقت سے ےہ بھی واضح ہے کہ 
تنظےم دےنے کا عمل اےک فعال (Active) عمل ہے، جس مےں معلومات کی 
ساخت بدل دی جاتی ہے تاکہ ےہ حافظے مےں منظم شکل مےں محفوظ 
رہ سکےں اور بوقت ضرورت ان کی بازلےافت آسان ہو۔ حافظہ گوےا اےک 
لغت ےا کتب کانے کی مانند ہے جہاں مختلف اقسا کی معلومات اےک 
خاص ترتےب مےں جمع کی گئی ہوتی ہےں۔

حفظ کے عمل کے فعال ہونے کا ثبوت ارادی اور ضمنی (Incidental)
تعلےم کے نتائج سے ملتا ہے۔ اگر طلبا کے اےک گروہ کو ےاد کرنے کے لےے 
کچھ دےا جائے اور انھےں بتا دےا جائے کہ بعد مےں اس کے متعلق ان سے 
پوچھا جائے گا کہ انھےں کتنا ےاد رہا ہے۔ دوسرے گروہ کو ےاد کرنے 
کے لےے وہی مواد دےا جائے لےکن انھےں ےہ نہ کہا جائے کہ انھےں اس 
کے دہرانے کے لےےے کہا جائے گا۔ نتائج کی روسے پہلے گروہ کی کار کردگی بہتر ہوگی۔ 
اردای اور شمنی تعلےم کی اےک اور عمدہ مثال ےہ ہے کہ 
طلبا اپنے استانہ کہ اس لےکچر کو زےادہ ےاد رکھتے ہےں جس کے متعلق 
انھےں ےقےن ہو کہ امتحان مےں اس پر ضرور سوال آئے گا۔ جس لےکچر 
کے متعلق انھےں ےقےن ہو کہ اس سے کوئی سوال نہےں پوچھا جائے گا تو 
وہ لےکچر جدل فراموش ہوجائےگا۔ اس حقےقت سے ےہ صاف ظاہر ہے کہ 
حفظ کرنا انفعالی عمل نہےں بلکہ فعال عمل ہے۔

6 	طوےل المےعاد حافظہ اور بازےافت

ہم طوےل المےعاد حافظے کی ساخت مےں تنظےم کے عمل کے کردار کی 
تشرےح کر چکے ہےں۔ اب ہم باز ےافت کی طرف رجوع کرتے ہےں اور ےہ 
(27) 25

دےکھتے ہےں کہ تنظےم اس پر کےا اثر پڑتا ہے۔

سٹول والی تمشےل ےہ بتاتی ہے کہ سٹور مےں رکھی ہوئی اشےا کو بعض 
اوقات تلاش نہےں کےا جا سکتا۔ ہم کسی نام ےا کسی واقعہ ےا سکی مقام 
سے بخوبی واقف ہونے (سٹور کرنے) کے باوجود اسے ےاد نہےں کر سکتے 
(طالب علم نے توجہ اور ادراک سے متعلقہ تما قوانےن جنوبی ےاد کےسے تھے
لےکن اتحاں مےں اسے ےاد نہےں آرہے)۔ اس صورت مےں ہم ےہ کہےں گے 
کہ اس وقت اےسی ےادداشت نادسترص پذےر (Incaccessible) ہے۔
اسے دسترس پذےر بنانے کے لےے کسی موزوں اشارے (Cues) کی 
ضرورت ہے۔ اس نقطے کی وضاحت اےک تجربے کی مدد سے کی جا سکتی ہے۔
طلبا کو الفاظ کی اےک اےسی فہرست ےاد کرنے کے لےے دی جاتی ہے جو مختلف
اقسام سے تعلق رکھتے ہےں۔ چند تکراروں کے بعد آزاد تذکر کی 
مدد سے انھےں الفاظ کو ےاد کرنے کے لےے کہا جاتا ہے۔ جب وہ کسی 
لفظ پر اٹک جاتے ہےں تو انھےں اسی قسم کے لفظ کا لقمہ دےا جاتا ہے۔
اس پر انھےں وہ لفظ بھی ےاد آجاتا ہے اور اسی قسم سے تعلق رکھنے
والے چند اور الفاظ بھی ےاد آجاتے ہےں۔

ےادداشت کی باز ےافت کے فعل سے ہم سب نجوبی واقف ہےں۔ اس 
حقےقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ جو ےادداشت ہمارے نزدےک بالکل
بھول چکی ہوتی ہے اسے موزوں اشارے کی مد سے حافظے مےں واپس 
لاےا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اکثر اےسا ہوتا ہے کہ ہم کوئی چےز کسی جگہ 
رکھ کر بھول جاتے ہےں، پھر اچانک ےاد آجاتا ہے کہ وہ چےز کہاں
رھکی تھی۔ آج کی تارےخ کا بھول جانا تو عام ہے۔ بعض اوقات کسی
ملنے والے کا نام بر وقت ےاد نہ آنے سے شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔ اچانک 
کسی تسلسل مےں نام ےاد آجاتا ہے۔ اےک صاحب جو گزشتہ بےس برس سے 
اپنے آبائی گاوں نہےں گئے تھے، اپنے ہمسائے کا نام بھی بھول گئے۔ 
ےاد کرنے کی بڑی کوششےں کےں لےکن کامےاب نہ ہوسکے لےکن بےس برس
بعد جب انھےں گاوں جانے کا اتفاق ہوا تو پرانی ےادداشت تازہ ہوگئی۔ 
صرف ہمسائے کا نام ہی ےاد نہ آےا بلکہ اس سے متعلقہ اور بہت سی باتےں
بھی ےاد آگئےں۔
(28) 26

اکثر علما کا خےال ہے کہ بازےافت سے پہےل اےک داخلی عمل جسے 
تلاش حافظہ (Memeory search) کہا جاتا ہے کار فرما ہوتا ہے
اس کا ثبوت نوک زبان کے مظہر سے ملتا ہے۔ کوئی نام ےاد آتے آتے
رہ جاتا ہے۔ اس کے متعلقات سب ےاد نہےں آتےں۔

باز ےافت کا اےک اور دلچسپ پہلو ےہ ہے کہ بعض اوقات اس کی 
واپسی بعےنہ اصل نہےں اصل نہےں ہوتی بلکہ اصل سے بہت مختلف ہوتی ہے۔ اس کی 
وجہ ےہ ےہ کہ ہم کسی ماضی کے واقعے کو ےاد کرتے وقت اس کی 
از سو نو تشکےل دےتے ہےں جس سے اس کی ہےثےت بدل جاتی ہے۔ اس 
سلسلے مےں اےک برطانوی ماہر نفسےات فرڈرک بار ٹلٹ (F.Bartlett) نے 
آج سے کوئی پچاس سال پہلے نہاےت ہی دلچسپ تجربات مز انجام دےئے۔
اس نے اپنے طلبا کو کسی اجنبی کالچر پر مبنی لوک کہانےوں سنانے کے 
بعد انھےں دہران کے لےے کہا۔ ان کہانےوں کا مصمون مغربی دنےا والوں 
کے لےے نامانوس تھا۔ طلبا نے جو کچھ ےاد کےا اس مےں کئی طرح کی 
تبدےلےاں دےکھنے مےں آئےں۔ اصل کہانی کی بہت سی باتوں کو ےا تو 
قابل ذکر نہ سمجھا گےا اور ےا ان کا غےر معمولی طور پر اختصار کےا گےا۔
بعض حصوں کو ضرورت سے زےادہ ابھارا گےا، بعض باتوں کو بالکل ہی 
حذف کر دےا گےا اور بعض چےزوں کا اپنی طرف سے اضافہ کےا گےا۔ الغرض
اےک نیئ کہانی ہی تشکےل دی گئی جو اصل پر مبنی ضرور تھی لےکن 
ہےئت ترکےبی کے لہاظ سے امن سے بہت مختلف۔ وقت گزرنے کے ساتھ
کہانی مختصر سے مختصر تر ہوتی گئی، صرف چند اہم باتےں ےاد رہےں 
باقی سب بھول گئےں۔

باوٹلٹ کا ساسلہ وار اعداد (Serial reproduction) کا تجربہ بھی 
اس حقےقت کی توضےح کرتا ہے۔ اس تجربے مےں اےک شکل چند سےکنڈوں 
کے لےے اےک طالب علم کو دکھا کر اسے اس شکل کو حافظے کی مدد سے
(29) 27

بنانے کے لےے کہا گےا۔ اس نے جو شکل بنائی اسے دوسرے طالب علم 
کو دکھا کر اسے اس شکل کے بنانے کے لےے کہا گےا۔ اسی طرح باری 
باری سے ہر طالب علم سے اس کا اعادہ کراےا گےا۔ جب ےہ شکل پانچوےں
طلاب علم کے پاس پہنچی تو ےہ بہت بدل چکی تھی، حتیٰ کہ دسوےں
طالب علم نے اسے بالکل ہی اےک حےوان کی شکل دے دی۔ ہر طالب علم 
نے اپنی طرف سے کچھ حدف کےا اور کچھ اضافہ، اس طرح کرتے کرتے
ےہ شکل اصل سے بالکل ہی مختلف ہوگئی۔ ےہ اس بات کا واضح ثبوت ہے 
کہ باز ےافت مےں از خود بہت کچھ ردوبدل کر لےا جاتا ہے۔

بازےافت کی اس صفت کو عدالتی کاورای مےں بھی ملاحظہ کےا جا سکتا 
ہے، جہاں کسی موقع کے گواہ کو شہادت کے لےے پےش کےا جاتا ہے۔
اگر موقع کے دو تےن گواہ ہوں تو ہر گواہ کا بےان دوسرے سے مختلف 
ہوگا اور جرح کے وقت ان کے بےانات مےں کافی تفاوت نظر آئےگا،
مثلاََ اگر کسی حادثے کا گواہ ےہ بتا رہا ہو کہ اس نے دو کاروں کو 
ٹکراتے خود دےکھا ہے اور اس سے سوال کےا جائے کہ تباہ ہونے والی 
کار کا رنگ سےاہ تھا ےا نےلا، تو غالبََ وہ اس کا صحےح جواب نہ دے 
سکے گا۔ اس حقےقت سے کوئی شخص انکار نہےں کر سکتا کہ گواہ کے 
بےانات کبھی بھی سو فی.صد درست نہےں ہوتے۔ بہت سے ضروری باتےں 
رہ جاتی ہےں اور ان کی جگہ غےر متعلقہ باتےں لے لےتی ہےں۔ بعض تجربوں 
مےں گواہ سے حالت تنوےم مےں سوالات کےے گئے۔ اس کےفےت کے دوران 
اس نے وہ باتےں بھی ےاد کےں جو عام حالت مےں اسے بالکل ےاد نہ آدمی 
تھےں لےکن تنوےم کے ماہرےن ا ےہ دعویٰ کہ اس سے فراموش شدہ 
واقعات مکمل اور صحےح طور پر ےاد آجاتے ہےں مبالغہ آمےز ہے۔

6 	فراموشی کے اسباب

ہم نے حافظے کو سٹور روم سے تشبےہ دی ہے۔ سٹور روم سے بعض 
ناقابل استعمال اشَےا کو باہ رنکالنا پڑتا ہے تاکہ کئی اشےا کو محفوظ رکھےن 
کے لےے جگہ نکل سکے۔ بعض اشَےا وےسے ہی وہاں پڑے پڑے خراب 
ہوجاتی ہےں جن کا نکالنا ضروری ہوتا ہے۔ حافظے کی اصطلاح مےں اس 
عمل کو فراموشی کا نام دےا جاتا ہے جب بھی کوی مواد ےاد نہےں
(30) 28

آتا تو ہم کہتے ہےں کہ وہ بھول گےا ہے۔ فراموشی کی اےک وجہ تو 
ےہ ہے کہ ہم اس صہےح طرےقے سے سٹور نہےں کرسکتے۔ ےعنی ہمارا 
حفظ کرنے کا طرےقہ ناقص تھا۔ بعض اوقات فراموشی کی وجہ ےہ ہوتی ہے کہ 
بازلےافت کا موزوں مہےج موجود نہےں ہوتا لےکن اس کا اےک اہم سبب 
حفظ کرنے اور اسے اےد کرنے کا درمےانی وقفہ ہے۔ ےہ وقفہ جتنا لمبا ہوگا 
فراموشی اپنا اثر دکھائے بغےر نہےں رہےگی۔ چنانچہ کل کا ےاد کےا ہوا 
صبق چند روز بعد کی نسبت آج بہتر طور پر ےاد کر سکتے ہےں۔ فرموشی 
کی اس حقےقت کی تشرےح علمائے نفسےات مختلف طرےقوں سے کرتے ہے۔
ہر نظرےہ اگرچہ کسی نہ کسی صداقت کا مظہر ہے، فراموشی کی مکمل 
تشرےح نہےں کرتا، بلکہ صرف جزوی حقےقت کی نشان دہی کرتا ہے۔

1۔ نظرےہ مداخلت : اس نظرےہ کی رو سے فراموشی کا تعلق حفظ 
کرنے اور پھر اسے ےاد کرنے (باز ےافت) کی درےانی کےفےات سے ہے۔ چنانچہ
اگر حفظ کرنے کے بعد کوئی اور چےز حفظ کرنےی پڑے تو اس مداخلت 
(Interference) سے پہلے حفظ کرنے والے مواد پر ناگوار اثر پڑے گا۔
مداخلت کی اس خاص قسم کو رجعی مانعےت ( Retroactive inhibitiaon) 
کا نام دےا جاتا ہے۔ اس اثر کو اےک مثال کی مدد سے بخوبی واضح 
کےا جا سکتا ہے۔ جدول 13 کی طرف رجوع کرنے سے پہلے ان لکھی ہوئی 
ہداےات کو غور سے پڑھ لےن۔ سب سے پہلے بائےں کالم مےں جو ٹےلےفون 
نمبر دےے گئے ہےں، انھےں کسی کاغذ کے ٹکڑے ےا ہاتھ سے چھپا دےجئے 
اور پہلے کالم مےں دےے ہوئے نمبر کو ےاد کےجےئ۔ پھر ان تمام نمبروں کو 
چھپا دےجئے اور تےس سےکنڈوں کا وقفہ دےجئے۔ اس وقفے مےں اس نمبر کو 
(31) 29

دہرانے کی بالکل کوشش نہ کےجےے بلکہ اپنے ذہن کو کسی اور کام مےں 
مصروف رکھنے کے لےے اپنے بچپن کے زمانے کے کسی ساتھی کا نام ےاد
کرنے کی کوشش کرےں۔ تےس سےگنڈوں کے بعد اس نمبر کو زبانی ےاد 
کرےں، اےسا کرنے مےں آپ کو کوئی دقت پےش تھےں آئے گی۔ معکوس
امتناع کا اثر دےکھنے کے لےے پھلے کالم والے نمبر کو پھر ےاد کےجےے، 
پھر اس نمبر کو چھپانے کے بعد تےس سےکنڈوں کے لےے دوسرے کالم کے 
تےنوں نمبروں کو ےاد کےجےے۔ اس کے بعد تمام نمبروں کو آنکھوں سے 
اوجھل کرنے کے بعد پہلے ےاد کےے ہوئے نمبر کو دہرانے کی کوشش کےجےے
غالباََ آپ اس نمبر کو نہےں دہرا سکےں گے۔ اس کی وجہ کالم نبر دو کے 
نمبروں کی مداخلت ہے جو آپ نے اس نمبر کے ےاد کرنے کے بعد ےاد
گےے تھے۔

نفسےاتی معمل مےں رجعی مانعےت کے لےے طلبا کو دو گروہوں ےعنی 
کنٹرول اور تجرباتی مےں تقسےم کرلےا جاتا ہے۔ کنٹرول گروہ کو فہرست 
الف جو چند بے معنی الفاظ پر مشتمل ہے، ےاد کرنے کے لےے دی جاتی 
ہے اور اےک مقررہ وقت کے بعد اس کی آزمائش کی جاتی ہے۔ تجرباتی گروہ 
بھی اسی فہرست کو ےاد کرتا ہے جو کنٹرول گروہ نے ےاد کی تھی،
لےکن اس کے فورََ بعد اسے اےک اور فہرست ب ےاد کرنے کے لےے دی 
جایت ہے( جدول 14 ملاحظہ ہو) اس کے بعد اسے فہرست الف کے تذکر
(Recall) کے لےے کسہا جاتا ہے۔ کنٹرول گروہ کی نسبت اس تجرباتی گروہ
کی کار کردگی بہت بری طرح سے متاثر ہوئی ہے فہرست ب لی دخل اندازی 
سے فہرست الف کے تذکر پر برا اثر پڑا ہے۔
(32) 30

روز مرہ کی زندگی مےں بھی ان سے واسطہ پڑتا ہے۔ جن طالب علموں کو 
بےک وقت دو زبانےں مثلاََ فارسی اور عربی ےا انگرےزی اور جرمن سےکھنی 
ہوتی ہےں، انھےں ےہ ذاتی تجربہ ہوا ہوگا کہ اےک کے بعد دوسرے سےکیھ
جانے والی زبان پہلے سکےیھ جانے والی زبان پر اثر انداز ہوتی ہے
دوسرے الفاظ مےں ہم ےہ کہہ سکتے ہےں کہ تازہ حفظ کےا ہوا مواد پہےل 
سے حفظ کےسے ہوئے مواد مےں رخمہ اندازی کرتا ہے۔

مداخلت کی اےک اور قسم بھی ہے سے سابقہ ماعےت (Proactive
inhibitition) کا نام دےا جاتا ہے۔ فرض کےجےے کہ آپ کو چند الفا کی 
اےک فہرست ےاد کرنے کے لےےے کہا جاتا ہے۔ جب ےہ فہرست ےاد 
ہوجاتی ہے تو آپ کو دوسرے روز آنے کے لےے کہا جاتا ہے۔ آپ کے 
آنے پر آپ کو اس فہرست کے دہرانے کے لےے کہا جاتا ہے۔ آپ کے 
اےک روز پہلے ےاد کی تھی۔ پھر آپ کو اس طرح اےک اور فہرست، 
جس کے الفاظ پہلی فہرست سے مختلف ہےں، ےاد کرنے کے لے دی جاتی ہے
اور آپ کو دوسرے دن آنے کے لےے کہا جاتا ہے۔ دوسرے دن جب آپ 
آتے ہےں تو دوسرے دن آنے کے لےے کہا جاتا ہے۔ دوسرے دن جب آپ 
آتے ہےں تو دوسری فہرست دہرانے کے لےے کہا جاتا ہے اور اےک اور 
فہرست ےاد کرنے کے لےے دی جاتی ہے۔ اسی طرح آپ متواتر بےس فہرستےں 
ےادک کرتے ہےں۔ ےعنی پہلے آپ اےک دن پہلے کی ےاد کی ہوئی فہرست دہرانے
ہےں اور پھر اےک نئی فہرست ےاد کرتے ہےں، جسے آپ نے دوسرے روز 
نئی فہرست ےاد کرنے سے پہلے دہرانا ہوتا ہے۔ اب سوال ےہ پےدا ہوتا ہے
کہ اس طرح ہر روز نئی فہرست ےاد کرنے کا سابقہ ےاد کےی ہوئی فہرست پر 
بازلےافت کی روسے کےا اثر پڑتا ہے؟ کےا بےس روز تک مشق کرتے رہنے سے 
سابقہ ےاد کےا ہوا مواد بھتر ےاد رہتا ہے ےا اس مےں کمی آجاتی ہے؟
تجربات سے ےہ، وجہ سے خراب ہو جاتی ہے۔ آپ جتنی فہرستےں ےاد کرنے 
جائےںگے، بعد کی فہرست پرا اچھا اثر نہےں پڑے گا بلکہ روز بہ روز ےا۔ کےسے 
ہوئے الفاظ کی تعداد کم ہوتی جائے گی۔ اس طرح کی مداخلت صابقہ 
مانعےت کہلاتی ہے کےونکہ سابقہ ےاد کےا ہوا مواد بعد کے ےاد کےسے ہوئے 
مواد مےں مداخلت کر کے اس کی باز ےافت کو کم کر دےتا ہے۔ اےک مثالی 
تجربے کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ پہلی فہرست کی بازےافت دوسرے
(33) 31

دن تقرےباََ80 فی.صد ہوتی ہے، پھر کم ہوتے ہوئے بےسوےں روز صرف 
20 فی.صد رہ جاتی ہے۔ ےعنی بےشتر مواد فراموشی کی نذر ہو جاتا ہے
اور بہت کم ےاد رہتا ہے۔ جد
مداخلت کی ےہ دونوں قسمےں فراموشی کا اہم سبب ہےں۔ البتہ اس نظرےے کے 
حامےوں کا ےہ خےال صحےح نہےں کہ فراموشی کا باعث مداخلت اور صرف مداخلت 
ہی ہے۔ ےہ درست ہے کہ ہماری روزمرہ کی زندگی مےں مداخلت بے خبری 
مےں حافظے پر اثر انداز ہوتی رہتی ہے، لےکن اس سے ےہ ثابت نہےں ہوتا 
کہ مداخلت کے علاوہ فراموشی کا کوئی اور سبب موجود ہی نہےں
EOF()

0 
﻿
Masood
03-08-01
Urdu
(40) 1

6 دوسرا باب

6 شاہ ولی اللاّ کے حالات زندگی 
شاہ ولی اللاّ دہلوی کی ولادت اور نگ زےب عالمگےر رح کی وفات سے چار سال قبل 
4 شوال المکرم برزو 
بد 1114 ھ کو بوقت صبح قصبہ پھلت ضلع مظفرنگر مےں ہوی شاہ صاحب کی ولادت کے 
وقت ان کے والد
شَےخ عبدالرحےم کی عرم ساٹھ سال تھی ، شاہ صاحب کے دوستوں نے ان کا تارےخی نام 
عظےم.الدےن نکالا ہے مگر اس سے 
جو تارےخ برآدم ہوتی ہے وہ 1114ھ کے بجاے 1115ھ ہے ، شاہ صاحب کا مشہور نام 
ولی.اللاّبن عبدلارحمے ہے 
اور اسی نام سے اپنی بےشتر کتباوں مےں اپنے آپ کو شاہ صاحب نے موسوم کےا ہے تاہم 
ان کی بعض تالےقات سے 
کئی اور ناموں کی نشاندہی ہوتی ہے مثلاََ عبداللاّ احمد اور قطب.الدےن مگر ان ناموں سے 
وہ معروف نہےں ہوئے 
بعض تذکرہ نگار حضرات لکھتے ہےں کہ احمد نام ابوالفےاض کنےت ولی.اللاّ عرف بشارتی نام 
قطب الدےن اور تارےخی 
نام عظےم.الدےن مسہور ہے ۔ لےکن شاہ صاحب کی بعض دوسری صراحتوں سے معلوم ہوتا 
ہے کہ قطب.الدےن احمد 
اےک ہی نام ہے جہاں تک کنےت کا تعلق ہے شاہ.صاحب کی معرف کنےت اپنے بےٹے محمد 
کے نام پر 
باو محمد ہے نےز ابوالعزےز بھی تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے قطب.الدےن کی وجہ تسمےہ کے 
بارے مےں مشہور ہے 
کہ شاہ صاحب کے والد ماجد شےخ عبدالرحےم اےک مرتبہ خواجہ قطلب.الدےن کی وجہ تسمےہ 
کے بارے مےں مشہور ہے 
کہ شاہ صاحب کے والد ماجد شےخ عبدالرحےم اکے مرتبہ خواہ قطب.الدےن بختارے کاکی 
633ھ کے مزار پر مراقب ہوئے۔ 
خواجہ قطب.الدےن نے شےخ عبدارحمے کو لڑکا تو لد ہونے کی بشارت دی اور فرماےا کہ اس 
کا نام قطب.الدےن احمد
رکھنا مگر ولادت کے وقٹ ےہ بات ذہن سے اتر گئی اور جب ےاد آئی تو شاہ صاحب کا 
دوسرا نام قطب.الدےن 
احمد تجوےز کےا گےا ۔ ےہ واقعہ شاہ صابہ کی خود نوشت سونخ حےات و سوانح کے 
مجموعہ انفاس 
اعلارفےن ، مجموعہ ملفوظات تفہےمات الالہٰےہاور القولی اجلی مےں مذکور ہے بعد کے تمام 
تذکرہ نگاروں نے اسے 
(41) 2

نقل کےا ہے مگر اس واقعہ کے متعلق اےک شبہ ےہ کےا جاتا ہے کہ اگر خواجہ قطب.الدےن 
بختےار کاکی نے شےخ عبدالرحےم 
کو لڑکا تولد ہونے کی بشارت دی تی اور ساتھ ہی ےہ بھی ہداےت کی تھی کہ اس کا نام 
قطب.الدےدن رکھنا تو ےہ واقعہ 
اتنا معمولی اور غےر اہم نہ تھا کہ ولادت اور تسمےہ کے وقت ذہن سے غائب ہو جاتا ، 
کےونکہ بچہ کی ولادت کے وقٹ 
شےخ عبدالرحےم کی عمر ساٹھ سال تھی پہلی بےوی سن اےاس کو پہونچ چکی تھی اور 
مدت بعد شےخ نے دوسری شادی کی تھی اس 
عمر مےں بچہ کی بشارت اپنے اندر جو معنوےت رکھی ہے وہ کسی سے مکفی نہےں اس 
صورت حال مےں بچہ کی ولادت کے 
وقت فوراََ ےہ بات ذہن مےں آتی کہ خواجہ صاحب نے جو بشارت دی تھی وہ پوری 
ہوئی اور حسب بشارت نام قطب.الدےن 
ہی تجوےز کےا جاتا نہ کہ ولی.اللاّ نام رکھا جاتا ، القول اجلی مےں اےک اور عےب و غےب 
قصہ ہے مذکور ہے کہ اےک رات شےخ 
عبدالرحےم اور ان کی زولہ تہجد کی نماز مےں مشغول تھے ، زوجہ محترمہ ےہ دےکھ کر 
متعجب ہوئےں تو شےخ عبدالرحےم نے فرماےا کہ 
ےہ دونوں ہاتھ ہمارے اس فرزند کے ہےں جو عنقرےب عرصہ وجود مےں قدم رکھے گا 
وہی ہمارے ساتھ نماز اور دعا مےں 
شرےک ہے اس طرح کے اور بھی عجےب و غرےب واقعات التفہےمات الالہےہٰ وغےرہ مےں 
مذکور ہےں مگر ان واقعات 
کی تارےخی صداقت مشتبہ اور مشکوک ہے اگرچہ اس قسم کے واقعات کی طرف شاہ. 
صاحب نے اشارہ بھی کےا ہے ۔

6شاہ ولی اللاّ کے آبا و اجداد

شاہ.ولی.اللاّ نے اکثر تصانےف مےں اپنی نسبت فاروقی اور عمری بےان کی ہے خود 
ان کی وضاحت کے 
بموجب ان کا سلسلہ نسب بتےس واسطوں سے خلےفہ دوم حضرت عمر بن الخطاب سے ملتا 
ہے انھوں نے 
اپنا شجرہ نسب اس طرح بےان کےا ہے 
ولی.اللاّ بن عبدالرحےم.بن الشہےد وجےہ الدےن بن معظم بن منصور بن احمد بن 
محمود بن قوام الدےن (عرف قاضی 
فادن) بن قاضی قاسم بن قاضی کبےر (عرف قاضی بدھ) بن عبدالملک بن قطب.الدےن بن 
کمال.الدےن بن شمس الدےن
مفتی بن شےر ملک بن عطا ملک بن.ابوالفتح ملک بن عمر حاکم ملک بن عادل ملک بن 
فاروق بن جرجےس بن احمد بن 
محمد شہرےار بن عثمان بن ہامان بن ہماےوں بن قرےش بن سلےمان بن اعفنا بن عبدللاّ 
بن محمد بن عبدللاّ بن عمر 
(42) 3
بن.الخطاب 
اس شجرہ نسب کے شاہ صاحب صرف راوی و ناقل ہےں انھوں نے اس کی کوئی 
تحقےق نہےں کی ہے ۔ اس 
نسب نامہ مےں اکے کمزوری تو ےہ ہے کہ علم.الانساب کے اصول کے مطابق اےک صدی مےں 
کم.از.کم تےن نسلےں ضروری 
ہےں چونکہ حضرت عمر اور شاہ صاحب کے درمےان گےارہ صدےوں کا فاصلہ ہے اس لےے اس 
شجرہ نسب کو کم.از.کم 
تےنتےس داسطوں پر مشتمل ہونا چاہے پھر چونکہ اےک صدی مےں چار پانچ نسلےں بھی 
گذر جاتی ہےں اس لےے اس شجرہ مےں اضافہ 
ناگزےر ہے ، دوسری کمزوری اس شجرہ نسب مےں ےہ ہے کہ حضرت عبداللاّ بن عمر کے 
بارہ بےٹوں مےں سے کسی کا نام 
عفان ےا محمد نہےں ہے ےا ان بارہ صاحب زادوں کے اخلاف مےں محمد نامی کوئی شخص 
صاحب اولاد نہےں ہے 
اس سے خےال ہوتا ہے کہ شاہ صاحب کے نسب نامہ مےں کچھ فردگذاشت ہوئی ہے جس 
سے انقطاع پےدا ہو گےا 
ہے ، بعض اہل علم نے ےہ خےال ظاہر کےا کہ کہ ممکن ہے کہ شاہ صاحب کے شجرہ نسب 
محمد بن عبدالعزےز بن عبداللاّ 
بن محمد اور حضرت ابن عمر کے درمےان عبدالعزےز کا واسطہ ترک ہو گےا ہو شاہ صاحب 
کے مورث اعلیٰ شےخ 
شمس.الدےن مفتی ہندوستان آئے اور ضلع روہتک (صوبہ ہرےانہ ) مےں اقامت پذےر ہوئے 
چنانچہ شاہ صاحب 
لکھتے ہےں ۔

ہمارے اجداد عظام مےں سب سے پہلے شےخ شمس.الدےن مفتی ہندوتان آئے اور 
قصبہ روہتک مےں سکونت 
اختےار کی مفتی شمس.الدےن ممتاز عالم دعا بدتھے ، روہتک مےں ان کے قےام کی 
وجہ سے وہاں کی دےنی اور اسلامی 
فضا سازگار ہوئی اور کفوشرک کے اثرات کم ہوئے شاہ.ولی.اللاّ کے بےان ےا کسی دوسرے 
ذرےعہ سے ان 
کے روہتک مےں قےام کے زمانہ کا قطعی تعےن نہےں ہوتا البتہ بعض قرائن سے پتہ چلتا 
ہے کہ مفتی صاحب چھتی صدی 
ہجری مےں آئے ہوں گے ، مفتی صاحب کی وفات کے بعد ان کے بڑے صاحب زادے 
عبدالملک جانشےن ہوئے 
شےخ عبدالملک کو قرآن کرےم سے بڑا لگاو تھا ان کے بےشتر اوقات تلاوت قرآن مےں صرف 
ہوتے ، وہ اپنے مواعظ
مےں عقےدہ توحےد اور ارکان اسلام پر زےادہ زور دےتے انہی کے عہد مےں احتساب افتا اور 
قضا کے سعبے اس خاندان 
کے لےے مخصوص کردے گئے ان کی وفات کے بعد قاضی بدھ اس منصب پر فائز ہوئے جو 
اےک صاحب
(43) 4

نسبت بزرگ تھے ان کے انتقال کے بعد قاضی قاسم خلےفہ ہوئے اور ان کے بعد قاضی قادن 
نے ولد اکبر ہونے 
کی بناپر جا نشےنی کی قاضی قادن کے بعد شےخ محمود قاضی مقرر ہوئے مگر انھوں 
نے اس منصب کو چھوڑ کر حکومت
کی فوجی ملازمت اختےار کرلی دسوےں صدی ہجری کے اواخر تک ےہ خاندا قلعہ روہتک 
کے متصل اس عمارت مےں 
مقےم تھا جو قلعہ خور دکھلاتی تھی اور بعد مےں محلہ چشتےان کے نام سے معروف 
ہوئی ۔

شےخ محمود کے صاحب زادے شےخ احمد نے والد کی وفات کے بعد ابتدائی عمر مےں 
روہتک چھوڑ دےا اور اپنے 
نانہال سونی پت مےں شےخ عبدالغنی بن عبدلحخےم کے ساتھ اقامت اختےار کرلی اور ان 
کی لڑکی سے نکاح کےا شےخ عبدالغنی 
کے ساےہ تربےت مےں رہےن کے بعد شےخ احمد اپنے آبائی وطن روہتک واپس آگئے شَےخ 
احمد کے بڑے صاحب 
زادے شَےخ منصور کی چار اولاد ہوئےں جن مےں سب سے بڑے سےخ معظم تھے اور ان 
کی بھی تےن اولاد ہوئےں شےخ 
جمال.الدےن ، شےخ فےروز اور شےخ وجےہ.الدےن ، شےخ جےہ.الدےن بھی بڑے عالم و عارف 
تھے ، سفر و حضر مےں ہمےشہ تلاوت
قرآن کا معمول رکھتے اور کبھی نہ چھوڑتے ان کی بھی تےن اولاد ہوئےں ، ابوالرضا 
محمد ، شےخ عبدالرحےم ، اور شےخ عبدالحکمے ، 
شےخ.عبدالرحےم 1131ھ علوم عقلےہ و لقلےہ کے جامع ہونے کے ساتھ صاحب نسبت بزرگ 
تھے، سلکا جنفی اور نسبتاََ
نقسبندی تھے ، ان کے عارفانہ مکاتےب کا مجموعہ انفاس رحےمےہ کے نام سے شاہ.اہل اللاّ نے 
مرتب کےا ہے شےخ 
عبدالرحےم ہمےشہ تلاوت قرآن کا اہتمام کرتے ، اور نگ زےب عالمگےر کے معاصر اور 
ٹھوڑے دنوں کے لےے ان کے منصوبہ 
تدوےن فقہ مےں معاون تھے ، اس کام مےں ان کو شامل کرنے والے شےخ حامد تھے جن کو 
اورنگ.زےب نے اس کام 
کا نگراں بناےا تھا، شےخ عبدالرحےم نے ابتدائََ تو اس سے معذرت کی مگر ولدہ کے اصرار پر 
قبول کر لےا بعد مےں پےر و 
مرشد کے حکم سے چھوڑ دےا ، بلکہ اورنگ.زےب نے خود ہی ان کا نام قلم زد کر دےا 
شَےخ عبدالرحےم نے دو شادےاں کےں پہلی بےوی سے اےک صاحب زادہ صلاح.الدےن 
تولد ہوئے جو کہ
دوسری شادی بڑی عمر مےں سےخ محمد پھلتی کی صاحب زادی سے کی ، ان کے بطن 
سے دو صاحب زادے شاہ.ولی.اللاّ 
(44) 5

اور شاہ اہل.اللاّ تولد ہوئے 
6شاہ ولی.اللاّ کی تعلےم و تربےت 
شاہ.ولی.اللاّ کی تعلےم و تربےت کا انتظام ان کے والد شےخ عبدالرحےم نے خود ہی 
کےا تھا اور اپنی سفقت و محبت 
پدری اور حمےت دےنی کے ساتھ بےٹے کی نشو و نما مےں حصہ لےا تھا، شاہ عبدالرحےم 
کا گھرےلو ماحول دےنی تھا اور مدرسہ 
رحمےہ کا علمی ماحول بھی تھا ، پانچ سال کی عمر مےں شاہ.صاحب کو مکتب مےں 
داخل کےا گےا ، سات سلا کی عمر مےں ختنہ ہوا ، 
اسی سال کلام.اللاّ مکمل کےا اور اسی سال سے نماز کی عادت ڈالی گئی نےز عربی اور 
فارسی کی ابتدائی کتابےں شروع 
کےں دس سال کی عمر مےں علم نحو کی معروف کتاب شرح جامی شروع کی چودہ 
سال کی عمر مےں تفسےر بےضاوی کا اےک 
حصہ پڑھا ، اسی سال شادی ہوئی اور پندرہ سال کی عمرں علوم مےوجہ سے فراغت 
حاصل کی اور اسی سال والد 
ماجد سے بےعت کی ۔ شاہ.صاحب نے قرات و تجوےد کی تعلےم محمد فاضل سندھی سے 
حاصل کی اس کی صراحت 
انھوں نے فتح.الرحمان کے مقدمہ مےں کی ہے نےز حدےث کی تعلےم شےخ افضل سےالکوٹی 
سے بھی حاصل کی شاہ.صاحب 
طبعی طور پر نہاےت ذہےں و ذکی تھے جےسا کہ شاہ.عبدالعزےز کہتے ہےں مےں نے اپنے 
والد ماجد جےسا قوی 
لحفظ نہےں دےکھا سننے کا تو انکار نہےں کر سکتا لےکن آنکھ سے نہےں دےکھا ےہی وجہ 
ہے کہ شاہ.صاحب کم سنی مےں 
علوم مروجہ کی تحصےل کے قابل ہوگئے تھے اور 15 سال مےں اس سے فارغ ہوگئے ۔ ان 
کی تعلےم کا نصاب حسب 
ذےل تھا ۔

6شاہ.ولی.اللاّ کی تعلےم کا نصاب 
قرآن ۔ مع تجوےد و قرآت مکمل برواےت حفص عن عاصم
تفسےر ۔ مدارک.التنزےل اور بےضاوی کے کچھ اجزا 
حدےث ۔ شکوۃ.المصابےح مکمل (کتاب البےوع تا کتاب الاداب کے سو) بخاری شرےف
کتاب.الطہارۃ تک ، سمائل نبوی مکمل
(45) 6

فقہ ۔ شرح وقاےہ اور ہداےہ مکمل ( بجز قلےل مقدار )
اصول فقہ ۔ حسامی مکمل اور نوضےح و تلوےح کا کچھ حصہ
منطق و فلسفہ ۔ شرح شمسےہ ، شرح مطالعہ شرح ہداےت الحکمتہ 
علم کلام ۔ شرح عقائد کا کچھ حصہ خےالی کے ساتھ اور شرح مواقف 
تصوف عوارف.المعارف کا کچھ حصہ رسائل نقشبند ےہ شرح رباعےات مولانا جامی ، لوائح ، 
مقدمہ 
شرح.لمعات ، مقدمہ نقد انصوص 
طب ۔ موجزالقانون 
نحو ۔ کافےہ ، شرح ملاجامی 
معانی و بےان ۔ مطول و مختصرالمعانی 
رےاضی ۔ بعض مختصر رسائل 
خواص اسماد آےات پر اپنے والد ہی سے استفادہ کےا 
اس نصاب تعلےم کو دےکھا جائے تو ہمارے زماہ کی دےنی مدارس کے نصاب تعلےم 
کے مقابلہ مےں زےادہ
ہمہ.گےر اور موثر معلوم ہوتا ہے ۔ شاہ صاحب نے اس نصاب کی خواندگی کے ساتھ بطور 
خود مطالعہ اور غور و 
خوض کا سلسلہ جاری رکھا جس سے ان کی تعلےمی لےاقت اور ذہنی استعداد مےں قابل 
ذکر اضافہ ہوا ۔ چنانچہ شاہ.صاحب 
خود ہی اس کا تذکرہ کےتے ہےں کہ مےں مدرسہ مےں چند بار شان نزول اور معانی 
قرآن عظےم مےں تدبےر اور دےگر تفاسےر کے 
مطالعہ کے ساتھ والد ماجد کی خدمت مےں حاضر ہوا اور ےہ طرےقہ مےرے لےے فتح عظےم 
کا سبب بنا ۔

1131ھ مےں سےخ عبدالرحےم کا انتقال ہوا اس وقت شاہ.ولی.اللاّ کی عمر 17 اسال 
تھی ، اس وقت سے 12 
سال تک متواتر شاہ.صاحب نے مدرسہ رحےمہ مےں اپنے والد کی جانشےنی کی اور مسند 
درس سنھبالے رکھا ، اس 
عرصہ مےں شاہ.صاحب کو مطالعہ غور و تدبر اور تحقےق و تقابل کا بڑا موقع مےسر آےا 
اور انھوں نے تدرےس کے 
(46) 7

ساتھ اپنا تحقےقی سفر بھی جاری رکھا ، اس سے ان کے ذہنی افق مےں وسعت ہوئی 
اور مطالعہ مےں فراخی اور اعتدال 
پےدا ہوا چنانچہ شاہ.صاحب کہتے ہےں کہ مذاہب اربعہ (حنفی ، مالکی ، شانعی اور 
حنبلی ) کے فقہ اور اصول فقہ کی 
کتابوں اور جن احادےث سے ےہ استدلا کرتے ہےں ان کے ملاحظہ کے بعد نورغےبی کی مدد 
سے دل فقہائ محدثےن 
کی روش پر مطمئن ہو گےا 
1413ئ کے اواخر مےں حج بےت.اللاّ کے لےے اور علم حدےث مےں مزےد درک و مہارت 
حاصل کرنے کی 
غرض سے حرمےن تشرےف لے گئے حج کعبہ سے فراغت کے بعد 1144 ھ مےں مکہ معظمہ 
کی مجاورات اور مدےنہ منورہ 
کی زےارت سے مشرف ہوئ ےاور وہاں کے ممتاز مشائخ و محدثےن سے اکتبساب فےض کےا 
مدےنہ منورہ مےں 
شےخ ابوطاہر مدنی سے صحاح ستہ وغےرہ کی معروف کتابےں مثلاََ بخاری ، مسلم ترندی 
ابوداود ، بن ماجہ ، موطا
امام شافعی کی کتاب الرسالہ ، امام.بخاری کی الادب المفرد اور قاضی عےاض کی کتاب 
الشٰفا کے کچھ حصے پڑھے اور شَےخ 
سے کتب احادےث کی اجازت حاصل کی پھر مکہ مکرمہ آئے اور دوسری بار 1144ھ مےں 
حج بےت.اللاّ کی سعادت
حاصل کی اور شےخ وافد.اللاّ مالکی سے موطا امام مالک پڑھی اور ان کے والد کی تمام 
مروےات کی اجازت لی ، نےز شےخ 
تاج.الدےن قلعی کے درس بخاری مےں شرےک ہوئے ۔

شاہ.صاحب نے حرمےن کے بعض دےگر مشائخ سے بھی استفادہ کےا ان مےں شےخ 
حسن عجمےی ، احمد تحۆی ، عبداللاّ بن سالم 
بصری ، شےخ احمد بن علی شناوی ، شےخ.احمدبن ےونس قشاقسی ، سےد عبدالرحمان 
ادرےسی ، شمسی.الدےن محمد بن علا
بابلی ، شےخ عےسی جعفری المغربی ، محمد بن محمد سلےمان المغربی ، شےخ ابراہےم 
کردی وغےرہ ہم قابل ذکر ہےں ان حضرات سے سلوک و 
تصوف کا سلسلہ استوار کےا واپسی کے وقت شَےخ ابوطاہر مدنی کی خدمت مےں حاضر ہوئے 
اور اپنی قلبی کےفےت کا 
اظہار کرنے کے لےے ےہ شعر پڑھا۔ 10 رجب 1145ھ 
کو ہندوستان واپس آئے اور سنت رسول کی اشاعت مےں منہمک ہو گئے ۔ اےک طرف تو 
درس و تدرےس کا سلسلہ 
(47) 8

از سرنوشروع کےا دسوی طرف تصنےف و تالےف سے شغل رکھا اور تےسری طرف بعےت و 
ارشاد اور اصلاح احوال
کا سلسلہ جاری کےا ، نہاےت انہماک اور استقلال کے شاتھ شاہ صاحب نے دہلی کو علم و 
اصلاح اور بالخصوص حدےث
کا مرکز بنائے رکھا اور اللاّ.تعالیٰ نے اس مےں بڑی برکت عطا کی 
6شاہ.ولی اللاّ کا طرےقہ تدرےس

شاہ.صاحب نے وسےت نامہ مےں اپنے تعلےمی تجربہ کا جو نچوڑ بےان کےا ہے وہ ےہ 
ہے کہ ابتدا مےں صرف و نحو
کے تےن ےا چار سائے بعدہ عربی زبان مےں تارےخ ےا حکمت عملی کی کوئی کتاب عربی 
زبان پر قدرت کے بعد موطا امام 
مالک پھر ترجمہ قرآن بلا تفسےر پھر جلالےن پھر اےک وقت مےں بخاری و مسل کے 
مانند کتب حدےث اور فقہ عقائد و سلوک 
کی کتب پڑھائی جائےں اور دوسرے وقت مےں کتب دانشمندی مثلاََ شرح ملاجامی اور 
قطبی ۔ اگر مےسر ہو تو اےک روز 
مشکوۃ اور دوسرے روز شرح طےبی پڑھائی جائے 
شاہ صاحب ابتدا مےں شاگردوں کو ہر فن کی کتابےں پڑھاتے تھے ، مگر بعد مےں 
انھوں نے اپنی صلاحےتوں اور قوتوں 
کو تےن چےزوں پر مجتمع و مرتکز کےا ےعنی تصنےف و تالےف ، ارشاد و معارف گوئی 
اور حدےث کی تدرےس اس کے علاوہ
دوسرے علوم کے لےے انھوں نے اپنے شاگردوں مےں سے اےک شخص کو ہر فن کے لےے تےار 
کےا اور ان کے 
سپرد متعلقہ فن کے طالبا کردےے ، شاہ عبدالعزےز اپنے والد کے اس معمول کا تذکرہ کرتے 
ہوئ ےکہتے ہےں ، حضرت 
والد ماجد از ہر ےک فن شخصے تےار کردہ بودندو طالب ہرفن بادے می سپردند و خود 
مشغول معارف گوئی و نےسی 
بودند و حدےث می خواند ند

6شاہ.ولی.اللاّ کے تلا ندہ و مرےدےن

شاہ.ولی.اللاّ کے علمی و روحانی فےض کا سلسلہ بہت وسےع ہے آج جو مشہور 
مدارس نظامےہ کے قائم 
ہےں وہ اپنا سلسلہ شاہ.صاحب ہی سو جوڑتے ہےں ، ظاہر ہے کہ ےہ شاہ.صاحب اور ان کے 
اخلاق کی خدمات
کا اےک بےن اعتراف ہے ، شاہ. صاحب کے بلاواسطہ شاگردوں اور مرےدوں کا حلقہ بھی 
کچھ کم وسےع نہےں ہے 
چنانچہ جن لوگوں نے شاہ.صاحب سے براہ.راست علمی و روحانی فےض حاصل کےا ان مےں 
حسب ذےل حضرات خصوصےت 
(48) 9

زادے کی زندگی پھ ربھی ہونا تھا چنانچہ قرآن فہمی کا ذوق شاہ صاحب کے اندر بھی 
پےدا ہوا ۔ مدرسہ مےں تعلےم کے 
زمانہ مےں شاہ.صاحب قرآن فہمی کے سلسلہ مےں تفسےروں کے ساتھ والد ماجد سے رجوع 
کرنے کا تذکرہ کرتے ہےں 
جس سے ان پر علم و عرفان کا دروازہ کھلا ۔ شاہ.صاجب قرآن کرےم سے اپنی وابستگی 
کو اللاّ.تعلیٰ کی عظےم نعمےت 
تصور کرتے تھے اور اس قدر اسے اہمےت دےتے تھے کہ گوےا وہ ان ک احاصل زندگی ہو، 
اسی لےے بار بار انھوں 
نے اس نعمت کے تحدث کو ضروری سمجھا اےک جہ اعتراف کرتے ہےں اس بدنہ ضعےف پر 
اللاّتعالیٰ کی بے 
شمار نعمتےں ہےں جن مےں سب سے زےادہ عظےم.الشان نعمت ےہ ہے کہ اس نے مجھے 
قرآن مجےد کو سمجھنے کی توفےق 
عطافرمائی اور نی کرےم. صلی.اللاّعلےہ.وسلم کے احسانات اس کمترےن امت پر بہت ہےں 
جن مےں سب سے بڑا احسان 
قرآن.مجےد کی تبلےغ ہے ۔ نبی.صلی.اللاّ.علےہ.وسلم نے قرآن کرےم کی تلقےن قرن اول کو 
فرمائی اور انھوں نے قرن پانی تک 
پہونچاےا اس طرح درجہ بدرجہ اس خاکسار کو بھی اس کی رواےت اور دراےت سے حصہ 
ملا ۔ دوسری جگہ اس نعمت کا
اظہار ان الفاظ مےں کرتے ہےں ۔

الحمداللاّ اس فقےر کو ان تمما فنون تفسےر مےں خاص مناسبت حاصل ہے اور علوم 
تفسےر کے اکثر اصول اور اس 
کے فروع کی اےک معقول مقدار معلوم ہے اور اس کے ہر فن مےں اجتہاد فی.المذہب کے 
قرےب قرےب تحقےق و 
استقلال حاصل ہوگےا ہے ۔ ان کے علاوہ فونون تفسےر کے دو تےن اور فن بھی فےض 
الہٰی کے بحربےکراں سے القا
ہوئے ہےں ۔ اگر سچ پوچھو تو مےں قرآن مجےد کا بلاواسطہ اےسا ہی شاگرد ہوں جےسا 
کہ رسالت مآب محمد.صلی.اللاّعلےہ.وسلم کا 
6شعری ذوق 
شاہ.صاحب کا شعری ذوق بھی صاف ستھرا تھا۔ فی.البدےہ شعر گوئی پر ان کو 
قدرت حاصل تھی ، وہ عربی و 
فارسی سونوں زباوں مےں شعر کتے تھے ۔ اور جےسا کہ شاعروں کا دستور ہے کہ وہ اپنا 
تخلص بھی رکھتے ہےں 
شاہ.صاحب بھی اپنا تخلص آمےن رھتے تھے شاہ.صاحب کے متعدد شعری مجموعے دستےاب 
ہےں ، اےک مجموعہ جسے 
شاہ عبدالعزےز نے جمع کےا اور شاہ رفےع.الدےن نے ترتےب و تہذےب دی دوسرا مجموعہ 
مناجات ہے جو 
(51) 10

عربی زبان مےں الاعتصام کے نام سے بے اس کا تذکرہ شاہ عبدالعزےز نے کےا ہے تےسرا 
مجموعہ نعتےہ قصائد پر 
مشتمل ہے اور اطےب النغم فی مدح سےدالعرب و العجم کے نام سے مطبوعہ ہے شاہ.صاحب 
کی شاعری مےں 
سادگی بھی ہے اور معنی آفرےنی بھی ، الفاظ کے تناسب اور حسن خےال کے ساتھ تنوع 
اور تغزل بھی پےا جاتا ہے ، 
تمثےل و محاکات اور منظ کشی بھی موجود ہے شاہ.صاحب کے بعض اشعار کو دےکھ کر 
اےسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی 
کہنہ مشق استاد شاعر کا کلام ہے، عربی اشعار کا نمونہ ملاحظہ ہو ۔

6تارےخ وفات 
شاہ.صاحب نے 26 سال کی عمر پائی ۔ شاہ.عبدلعزےز کے بےان کے مطابق شاہ.صاحب 
نے 29 محرم 
الحرام 1176 ھ مطاب 21 اگست 1767 کو ظہر کے وقت وفات پائی ، تارےخ وفات اس 
جملہ سے نکلتی ہے 
اوبود امام اعظٰم دےں ، اور اس جملہ سے بھی نکلتی ہے ۔
ہائے دل روزگار رفت ۔ بست نہم محرم وقت ظہر 
شاہ.صاحب کے جسد خالی کو مہندےان مےں دفن کےا گےا ، ےہ قبرستان دہلی کے مشائخ 
اور مشاہےر علما و فضلا
(52) 11

ادبا اور شرفا کی آرام گاہ ہے ، اسی قبرستان کے احاط مےں شاہ.صاحب کا مدرسہ رحےمےہ 
قائم ہے جہاں علوم 
دےنےہ کی تعلےم دی جاتی ہے ۔

6زوجات و اولاد 
شاہ.صاحب نے دوشادےاں کےں ، پہلی شادی چودہ برس کی عمر مےں اپنے والد 
شےخ.عبدالرحےم کی شدےد خواہش اور 
اصرار پر اپنے ماموں شےخ عبےداللاّ پھلتی کی صاحب زادی امت.الرحےم سے 1127 ھ مےں 
کی ےہ شاہ.صاحب کی 
رفاقت مےں اکےس سال تک رہےں 149 ھ مےں وفات پائی شاہ.صاحب نے دوسری شادی 
امت.الرحےم کے 
انتقال کے بعد مولوی سےد حامد سونی پتی کی صاحب.زدای بی بی ارادت سے کی جو 
شاہ صاحب کے چھوٹے صاحب 
زادے شاہ عبدالغنی کی وفات 1203 ھ تک بقےد حےات رہےں ۔

شاہ.صاحب کے ےہاں پہلی بےوی سے 1146 ھ مےں اکے صاحب.زادے شاہ محمد پےدا 
ہواے جن کے نام پر 
شاہ.صاحب نے اپنی کنےت ابو محمد رکھی ۔ شاہ.صاحب نے خود ہی ان کی تعلےم و 
تربےت کی ، علامہ محسن تہتی لکھتے ہےں 
عمر کی آخری حصہ مےں قصبہ بڈھانا منتقل ہوگئے اور وہےں 1208 ھ مےں ان کی 
وفات ہوئی ۔

اسی بےوی سے جو دو صاحب.زادےاں تولد ہوئےں ان مےں پہلی صاحب.زادگی صالح 
اور دوسری امت.العزےز 
تھےں ، صالحہ سب سے بری تھےں ان سے چھوٹے شاہ.محمد تھے اور سب سے چھوٹی 
امت.العزےز تھےں چنانچہ 
شاہ.صاحب نے معےن الدےن ٹھٹوی کو جو خط لکھا اس مےں اہلےہ امت.الرحےم کی وفات کے 
تذکرہ کے ساتھ ےہ بھی
رقم فرماےا کہ ےک دختر شش سالہ دو فرزند سہ سلا و سہ.دختر شش.ماہ گذاشت 
شاہ.صاحب کے اس اقتباس سے محترمہ صالحہ کا سنہ.ولادت 1143 ھ متعےن ہوتا 
ہے ۔ ان کی شادی 
(53) 12

شاہ.صاحب کی حےات مےں ہوئی اور شاہ.صاحب کی حےات ہی مےں ان کا انتقال بھی ہوا 
ان سے کوئی اولاد نہےں ہوئی ۔ 
دوسری صاحب.زادی امت.العزےز عرف مسےتی کا سنہ.ولادت 1148 ھ ہے ۔ 
شاہ.صاحب نے ان 
کا نکاح اپنے ماموں.زاد بھائی اور خلےفہ اکبر شاہ محمد عاشق کے بڑے صاحب.زادے شاہ 
محمد عبدالرحمان سے 
کےا شاہ.صاحب نے اپنے اےک خط مےں لکھا ہے کہ ۔

زوجہ ثانےہ سے دولڑکےا اور چار لڑکے تولد ہوئے ان مےں سے اےک لڑکی فاطمہ اور 
دوسری فرخ بی.بی 
ہےں ۔ فرخ بی.بی شاہ محمد عاشق پھلتی کے دوسرے صاحب.زادے محمد فائق پھلتی 
کی زوجےت مےں آئےں جن سے 
اےک لڑکی چار لڑکے تولد ہوئے فاطمہ بی.بی کے حالات کے متعلق تذکرہ نگار خاموش ہےں 
اس لےے بعض اہل علم نے 
خےال ظاہر کےا ہے کہ وہ کمسنی مےں وفات پاگئی ہوں گی ۔

6	شاہ.عبدالعزےز 
دوسری اہلےہ سے جو صاحب زادگان تولد ہوئے ان مےں سب سے بڑے شاہ عبدلعزےز 
ہےں شاہ.عبدالعزےز
کی ولادت 25 رمضان.المبارک 1159 ھ کو بوقت سحر ہوئی ، ان کا اپنا بےان ہے کہ 
درشب بست و پنجم رمضان 
وقت شہر تولد شدہ بودم ان کا تارےخی نام غلام حلےم ہے ان کی تعلےم و تربےت 
شاہ.ولی.اللاّ ، شاہ 
محمد عاشق پھلتی اور نور.اللاّ بڈھانوی نے کی ، والد کی وفات کے وقت ان کی عمر 17 
سال تھی شاہ.صاحب کے بعد ان کی 
ذمہ.دارےوں اور علمی رہنمائی کا بوجھ انھوں نے ہی اٹھاےا اور اس شان سے کہ ملت 
اسلامےہ ہنی کی انتہائی نازک 
وقت مےں ، دےنی علمی ، سماجی اور سےاسی رہنمائی کی اور اہل علم مےں سراج.الہند 
کے لقب سے معروف ہوئے 7 شوال 
1239 ھ مطابق 6 جو 1824 ئ کو وفات پائی مومن خاں مون نے تارےخ وفات ےوں ب 
سروپا گشتہ 
انداز دست بےداد اجل ۔ عقل و دےں ، لطف و کرم فضل و ہنر علم وہ عمل ۔

دست بےداد اجل سے بے سورپا ہوگئے فقرو دےں فضل و ہنر لطف و کرم عل و عمل 
(54) 13

آپ کی اولاد مےں تےن بےٹے قطب.الدےن ، زےندالدےن اور احمد تھے ، ےہ تےنوں 
کمسنی مےں وفات پاگئے نےز تےن 
بےٹےاں تھےں اور وہ تےنوں بھی آپ کی حےات مےں وفات پاگئےں ، اپ کی تصانےف مےں 
تفسےر عزےزی فتاویٰ عزےزےہ 
ملفوظات ، عجالہ نافعہ ، بستان.المحدثےن ، تحفہ اثنا عضرہ ، سرا شاہدتےں ، رسالہ بلاغت 
تحقےق الروےا ، مےزان الکلام ،
حاضےہ مےر ذاہد وغےرہ معرفوں ہےں ۔

6	شاہ رفےع.الدےن 
شاہ.صاحب کے دوسرے صاحب.زادے شاہ رفےع.الدےن ہےں ، 19 زی الحجہ 1163 ھ 
مطابق 19 نومبر 1750 ئ 
کو بروز منگل پےا ہوئے ، ابتدائی تعلےم 13 سال کی عمر تک اپنے والد سے حاصل کی اور 
والد کی وفات کے 
ثناوی تعلےم بڑے بَائی شاہ.عبدالعزےز سے حاصل کی ، حافظ قرآن بھی تھے ، ان کی 
کتباوں مےں دمغ.الباطل، مقدمتہ.العلم ، کتاب.التکمےل، اسرارالمجتہ ،رسالہ عروض ، رسالہ 
شق.القرم ، راہ نجات اور اردو ترجمہ قرآن معروف ہےں ۔
شاہ رفے.ادلےن کے تےن نکاح ہوئے اور متعدد اولاد ہوئےں ۔ شاہ.رفےع.الدےن نے 3 شوال 
1233 ھ مطابق 19 اگست 
1818 ئ کو طاعون کے مرض مےں وفات پائی ۔

6شاہ عبدالقادر

شاہ.ولی.اللاّ کے تےسرے صاحب زادے شاہ عبدالقادر تھے آپ 1167 ھ مطابق 1753 
ئ مےں پےدا ہوئے 
والد کی وفات کے وقت آپ کی عمر 9 سال تھی تعلےم و تربےت اپ کے دونوں بڑے بھائی 
شاہ.عبدالعزےز اور 
شاہ رفےع.الدےن نے کی ، علم و فضل، تقوی اور استغنا مےں مشہور تھے ، تمام عمر 
مسجد اکبر آبادی مےں ذکر و فکر اور تجمہ و 
(55) 14

تفسےر کلام.اللاّ مےں مشغول رہے اور تلاندہ و متوسلےن کی تربےت کی آپ نے قرآن مجےد 
کا سلےس اردوزبان مےں ترجمہ 
کےا اور موضح.القرآن کے نام سے تفسےری حاشےہ لکھا 19 رجب 1230ھ مطابق 28 جون 
1815 ئ کو وفات پای 
تارےخ وفات آفتاب دےن برفت سے برآمد ہوتی ہے ان کی اولاد مےں اےک صاحب.زادی 
زےنب کا تذکرہ
ملتا ہے جو شاہ.رفےع.الدےن کے صاحب.زادے مولوی محمد مصطفی سے منسوب ہوئےں اور 
ان کی بےٹی جمےلہ شاہ محمد 
اسمٰعےل شہےد کی زوجےت مےں تھےں ۔

6شاہ عبدالغنی 
شاہ.ولی.اللا کے سب سے چھوٹے فرزند عبدالغنی تھے ےہ 1171 ھ مےں پےدا ہوئے ، 
تعلےم و تربےت بھائےوں کے 
ذرےعہ ہوئی ان کے حالات زندگی اور وفات کی تفصےل سے تذکرہ کی کتابےں خالی مےں ان 
کی وفات کی تارےخےں بھی متضاد 
ہےں ، مولانا نسےم احمد فرےدی 1990 ھ کی تحقےق ےہ ہے کہ شاہ.صاحب نے 16 رجب 
1203 ھ مےں رحلت فرمائی آپ کی اولاد 
مےں دو لڑےکاں رفےہ اور کلشوم اور اےک صاحب.زادے فخر زمانہ مولانا شاہ اسماعےل شہےدم 
1831 ئ ہےں ۔

مختصر ےہ کہ شاہ.ولی.اللاّ کا گھرانہ ہندوستان مےں منفرد علمی گھرانہ ہے جس 
نے علم نبوت کے مشعل کو روشن رکھنے مےں 
نماےاں کردار ادا کےا اسی علمی خانوادے کے لے ےےہی کہا جا سکت اہے کہ اےں خانہ ہمہ 
آفتاب است نواب 
صدےق حسن خاں بھوپالی 1889 ئ رقم طراز ہےں کہ شاہ.ولی.اللاّ کا گھر ہندوستان 
مےں علم دےن کا گھر تھا ان کے خانوادہ کے 
لوگ علوم نقلےہ اور عقلےہ کےہ ہندوستان مےں مشائخ تھے، اصحاب.الصالحات اور 
ارباب.الفضائل اباقےات تھے ۔ 
ہندوستان کے کسی گوشہ مےں کسی علمی گھرانہ نے علوم دےنےہ کی اتنی خدمت نہےں 
کی جتنی کہ شاہ.صاحب کے گھرانہ نے کی 
(56) 14

0تےسرا باب

6شاہ.ولی.اللاّ کی علمی خدمات

شاہ.ولی.اللاّ دہلوی جامع کملات اور ہشت پہلو شخصےت کے حامل تھے ، اس لےے ان 
کی خدمات کا دائرہ بھی 
بہت وسےع ہے اور مختلف سمتوں مےں پےلھا ہوا ہے ۔ شاہ.صاحب اگر اےک طرف سماجی 
مصلح کی حےثےت سے سامنے 
آتے ہےں تو دوسری طرف اےک عظےم سےاسی مبصر کے طور پر ابھرتے ہےں ۔ اےک طرف 
سماجی مصلح کی حےثےت سے سامنے 
آتے ہےں تو دوسری طرف اےک عظےم سےاسی مبصر کے طور پر ابھرتے ہےں۔ اےک طرف 
وہ معاشی اصلاحات کی داعی 
ہےں تو دوسری طرف علوم و فنون کی تشکےل نو کے مبلغ نظر آتے ہےں ۔ اےک طرف وہ 
ملک کے ہر طبقہ کو اس کے مصبی فرائض
ےاد دلاتے ہےں اور دوسری روحانی پےشوا اور باطنی امراض کے معالج دکھائ دےتے ہےں ۔

شاہ.صاحب ان عبقرمی انسانوں مےں ہےں جن کی انگلےاں ہمےشہ نبض حالات پر 
رہتی ہےں بلکہ وہ آنے والے عہد 
کی بھی نزاکت کو محسوس کرتے ہےں اور اس پر اثر انداز ہونے کے لےے اپنے قوائی فکر و 
عمل کو مجتع کرتے ہےں ۔ بقول اقبال 
ےہ شاہ.والی.اللاّ دہلوی تھے جنوں نے سب سے پہلے اےک نئی روح کی بےداری محسوس 
کی شاہ.صاحب کی 
خدمات کو دوحصوں مےں تقسےم کےا جا سکتا ہے ۔

اےک تو وہ خدمات ہےں جو شاہ.صاحب کے عہد خاص ، حالات اور ماحول کے سبب 
انجام پائےں اس پہلو کو ہم 
مقامےت بالفاظ دےگر عصرےت سے تعبےر کر سکتے ہےں ۔ مثلاََ شاہ.صاحب نے اپنے ہمعصر امر 
صنعت گر سپاہی 
صوفےا ، علما اور عوام کو خطاب کےا ، اور ان کو اپنی اصلاح کی طرف متوجہ کےا ۔ اسی 
طرح شاہ.صاحب کی سےاسی 
جد و جہد شاہ ابدالی کے نام خط لکھنا اور ان کو ہندوستان آنے کی دعوت دےنا ۔ سکھوں 
اور مرہٹوں کی شروش کا 
علاج تجوےز کرنا وغےرہ ےہ ساری خدمات اسی قبےل سے تعلق رکھتی ہےں اور ان کو انہی 
حالات کے پس منطر مےں سمجھنے کی 
کوشش کرنی چاہےے ۔ کوئی بھی مصلح اپنے زمانہ کے حالات اور مسائل سے بے نےاز نہےں 
ہو سکتا ۔ وہ اگر اپنے 
ماحَول مےں جےتا اور کام کرتا ہے تو اسے لازماََ اس کے مسائل سے نبرد آھما ہونا پڑتا ہے 
اور ےہ انبتےائی طرےقہ کار 
بھی ہے ۔ 
دوسری وہ خمات ہےں جو خالص علم و فکر کے نتجےہ مےں پورے دےن سارے 
مسلمان اور ہر دور کے حالات
(57) 15

کو پےش نظر رکھ کر انجام دی گئےں گو کہ ان خدمات کا بھی مقامی عصری پس 
منظر ہے تاہم وہ خدمات ہر دور کے 
لےے ےکساں اہمےت کی حامل ہےں ۔ اس پہلو کو ہم آفافےت ےا جامعےت سے تعبےر کر 
سکتے ہےں ۔ ان خدمات سے 
امت کے علمی اور ثقافتی سرماےہ مےں قابل قدر اضافہ ہوا ےہی اصل کارنامہ ہے جس سے 
شاہ.صاحب کے علمی 
عطےات کی قدر و قےمت متعےن ہوتی ہے اور ےہی کام شاہ.صاحب کی عبقرےت کو اجاگر 
کرتا ہے ۔ اسے ہم علمی خدمات 
سے موسوم کر سکتے ہےں ےہ خدمات اس قدر وقےع ہےں کہ بعد کہ مورخوں اور 
مبصروں کو اس پر حےرت ہوتی ہے کہ شدےد 
ہنگامی حالات مےں شاہ.صاحب نے ےہ ٹھوس علمی خدمات کےونکہ انجام دےں ۔ چنانچہ 
مولانا موددودی لکھتے ہےں کہ :

اےک طرف ان کے زمانہ اور ماحول کو اور دوسری طرف ان کے کام کو جب آدمی بالمقابل 
رکھ کر دےکھتا ہے تو 
عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اس دور مےں اس نظر ان خےالات اس ذہنےت کا آدمی کےسے 
پےدا ہو گےا ۔
فرخ سےر محمد شاہ رنگےلے اور شاہ عالم کے ہندوستان کو کون نہےں جانتا اس تارےک 
زمانہ مےں نشو و نما
پاکر اےسا آزاد خےال مفکر و مبصر منطر عام پر آٹا ہے جو زمانہ اور ماحول کی ساری 
بندشوں سے آزاد ہو کر 
سوچتا ہے، تقلےدی علم اور صدےوں کے جمے ہوئے تعصبات کے بد توڑ کر ہر مسئلہ زندگی 
پر محققانہ و محبتدانہ 
نگاہ ڈالتا ہے اور اےسا لٹرےچر چھوڑ جاتا ہے جس کی زبان انداز بےان، خےالات، نظرےات 
مواد تحقےق
اور نتائج مستخرجہ کسی چےز پر بھی ماحول کا کوئی اثر دکھائی نہےں دےتا حتی کہ 
اس کے اوراق کی سےر کرتے ہوئے 
ےہ گمان تک نہےں ہوتا کہ ےہ چےزےں بھی ماحول کا کوئی اثر دکھائی نےہں دےتا حتیٰ 
کہ اس کے اوراق کہ سےر کرتے ہوئے 
ےہ گمان تک نہےں ہوتا ےہ چےزےں اس جگہ لکھی گئی تھےں جس کے گرد و پےش 
عےاشی نفس پرستی قتل و غارت
جبر و ظلم اور بد امنی وطوائف.الملوں کی کا طوفان تھا 
شاہ صاحب کی علمی خدمات کے بھی دو پہلو ہےں اےک تعلےم و تدرےس جس کے 
ذرےعےہ انھوں نے علمائ اور 
ماہرےن فن کی اےک ٹےم تےار کی جنھوں نے ہندوستان مےں علوم اسلامےہ کی تروےج و 
اشاعت مےں نماےاں حصہ لےا اور 
اپنے معاشرہ کو قرآن و سنت کے سانچہ مےں ڈھالنے کی کوشش کی ۔ دوسرا پہلو تصنےف 
و تالےف ہے شاہ.صاحب
نے اسلامی موضوعات پر تصانےف کا اےک قےمتی سرماےہ چھوڑا ۔ اےک محتاط اندازہ کے 
مطابق شاہ صاحب کی مختلف 
موضوعات پر چھوٹی بڑی باون کتابےں ہےں ۔ ذےل مےں ان کی خدمات کا مختصر 
تعارف پےش کےا جارہا ہے ۔
(58) 16

کی وجہ سے اےک عرصہ تک ےہ سلسلہ منقطع رہا جب وہ حجاز سے علوم نبوت کی سوغات 
اور خدمت دےن کا تازہ ولولہ 
لے کر ہندوستان واپس آئے تو مسند تدرےس سنبھالی ، اور باقاعدہ تعلےم و تدرےس 
مےں منہمک ہوگئے ۔ ےہ سلسلہ شاہ صاحب
نے اپنے والد کے قائم کردہ مدرسہ رحےمہ واقع مہندےان مےں شروع کےا اللاّ نے آپ کے کام 
مےں برکت دی اور طلبہ
جوق درجوق آپ کی خدمت مےں آنے لگے ، جب طلبان دےن کی کثرت ہوئی اور ےہ 
چھوٹا سا مدرسہ ان سب کے لےے 
ناکفی ثابت ہوا تو شاہ صاحب نے اپنی درس گاہ تبدےل کردی اور ےہ نی درس گاہ کلاں 
محل کی اےک طوےل و عرےض عمارت 
تھی جسے اس وقت کے فرمانروا شاہ عالم نے شاہ صاحب کو اشاعت دےن کے لےے دےا تھا 
نئی درس گاہ مےں 
منتقل ہونے کے بعد پرانی جگہ غےر آباد ہوگئی اور ےہ نےا مدرسہ بعد مےں شاہ عبدالعزےز 
کے مدرسہ کے نام سے مشہور ہوا، 
اند رون شہر کی ےہ عمارت شاہ.صاحب کا دارلعلوم تھی جو اپنے دور کی نہاےت عالی 
شان اور خوبصورت حوےلی تھی ۔ افسوس
ہے کہ ےہ عمارت بغاوت ہند مےں لوٹ لی گئی اور کڑی تختہ تک لوگ اٹھاے گئے ۔

شاہ.صاحب کا طرےقہ تدرےس ےہ تھا کہ پہلے وہ قرآن کی تعلےم دےتے تھے پھر 
حدےث شروع کراتے تھے وصےت
نامہ مےں شاہ.صاحب نے اس طرےقہ تدرےس روشنی ڈالی ہے وہ کہتے ہےں کہ قرآن عظےم 
کا درس دےنا چاہےے اس طرےقہ 
سے کہ صرف قرآن پڑھاےا جائے ےعنی صرف متن قرآن اور ترجمہ بغےر تفسےر کےے 
پڑھاےا جائے ۔ پھر قرآن کے تمن کے 
متعلق جو دشواری پےش آئے مثلاََ مخو ےا شان نزول کے متعلق تو رک کر اس کی 
تحقےق کی جائے پھر جب قرآن ختم ہوجائے 
تب نصاب کے مطابق جلالےن پڑھائی جائے ۔ اس طرےقہ مےں بڑے فےوض ہےں اس کے بعد 
اےک ہی وقت مےں 
صےحےن وغےرہ سے کتب حدےث پڑھائی جائےں اور کتب فقہ عقائد اور سلوک اےک وقت 
مےں پڑھائی جائےں 
شاہ.عبدلعزےز کے بےان سے معلوم ہوتا ہے کہ شاہ.صاحب اپنے اس طرےقہ کے مطابق 
زےادہ عرصہ تک 
تدرےسی خدمات انجام نہ دے سکے ۔ صرف حدےث کا درس اپنے ذمہ.رکھا اور بقےہ اوقات 
تصنےف و تالےف 
اور عبادت مےں صرف کتے لےکن فتح.الرحمٰن کے مقدمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی 
تدرےسی بھی انوں نے جاری 
رکھی اور اسی ذرےعےہ سے شفتح.الرحمان کی تالےف عمل مےں آئی ۔ شاہ.صاحب کے ادر 
از تدرےس مےں غالباََ ےہ تبدےلی اس 
وجہ سے آئی کہ وہ تدرےس کے علاوہ اصلاح و تجدےد تصنےف اور دےگر سےاسی امور کی 
اصلاح کی طرف 
بھی متوجہ ہو چکے تھے اس لےے وہ مدرسہ کے طلبا کو پورا وقت دے نہےں سکتے تھے، 
برابرےں انھوں نے اپنی 
تدرےسی ذمہ.داری کچھ کم کر لی تھی اور ےہ ذمہ.داری ان لوگوں کو سونپ دی 
تھی جن کو انھوں نے اس کام کے لےے 
(59) 17

تےار کےا تھا ۔ چنانچہ خود شاہ.عبدالعزےز کا بےان ہے کہ حضرت والد ماجد از ہرےک فن 
شخصے تےار کراہ بودند طالب 
ہر فن بادے می سپردند بہر صورت شاہ.صاحب نے تعلےم و تدرےس اور بالخصو اشاعت 
حدےث کے لے ے
جو درس گاہ قائم کی وہ اس قدر مقبو ہوتی کہ دور دراز سے تشنگان علم دےں کشاں 
کشاں اس کی طرف آنے لگے 
اور آس پاس کے علاقے خاص طور پر منور ہوئے دہی علم حدےث کی اشاعت کا مرکز بن 
گئی ۔ اس مرکھ نے علم دےن کی 
اشاعت مےں وہ نماےاں کردار ادا کےا کہ آج بھی ہند و پاک مےں پائے جانے والے بےشتر 
مدارس کے شجرہ تعلےم پر 
غور کےجےے تو وہ شاہ.صاحب اور ان کے تےار کردہ علما تک ضروری پہونچتا ہے ۔ گوےا 
اس اےک چراغ سے ہزاروں 
بلکہ لاکھوں چراغ روشن ہوئے ۔ شاہ.صاحب عام لوگوں کو بھی قرآن و حدےث کی 
تعلےم دےتے تھے ۔ اس غےر رسمی 
حلقہ درس کا مقصد قرآن و حدےث کی عمومی اشاعت تھی ۔ چنانچہ شاہ.عبدالعزےز کہتے 
ہےں کہ والد ماجد کا دستور ےہ تھ ا
کہ قرآن شرےف کا درس ختم کرنے کے بعد حدےث ثرےف بےان فرماےا کرتے تھے ، ےہاں 
دونوں چےزوں کا اتفاق ہوتا تھا 
آدمی جس قدر قرآن شرےف سن کر متلزذ ہوتے تھے حدےث سن کر نہےں ہوتے تھے ۔

شاہ.صاحب کی تدرےسی خدمات نے جن لوگوں کو نابغہ روزگار بناےا اور جو جدےد 
ہندوستان مےں علم دےن کی حفاظت
اور اشاعات کے پشتےبان بنے ان مےں سب سے پہلے خود شاہ.صاحب کے چاروں صاحب زادے 
لائق ذکر 
ہےں ۔ اس خانواداہ ہی نے خدمت دےن کا بےڑا اٹھاےا ۔ ان کے علاوہ مولانا معےن سندھی 
جنھوں نے لکھی شاہ.صاحب کے خاص شاگرد ہوئے ، کشمےر کے مولانا محمد امےن 
خصوصی شاگرد کی حےثےت سے معروف ہےں ۔ ےہ شاہ.عبدالعزےز صاحب کے استاد بھی 
تھے۔ ان کے علاوہ سےد 
مرتضٰی زبےد بلگرامی ، 1205ئ صاحب تاج.العروس شرح قاموس اور اتحاف السادۃ المتقےن 
فی شرح احےائ
علوم.الدےن اور قاضی ثنا.اللاّ پانی پتی م 1225ھ صاحب تفسےر مظہری اسی حلقہ سے 
متمتع ہوئے۔ غرض کہ شاہ.صاحب
نے علمائ اور معلمےن کی اےک اےسی جماعت تےار کی جو بعد کے تمام علما کی ذہنی و 
فکری تعمےر کا سبب بنی بعض علمائ
نے اسی وجہ سے شاہ.صاحب کی مثال اس شجرہ طوبی سے دی ہے ہس کی جڑان کے 
گھر مےں ہے اور شاخےں 
مسلمانوں کے ہر گھر مےں پھےلی ہوئی ہےں ۔

6 تصنےف و تالےف 
6قرآن 
شاہ.ولی.اللاّ محدث دہوی کا سب سے بڑا کارنامہ قرآن اور علوم قرآن کی اشاعت ہے 
چوں کہ قرآن 
(60) 18

انسانوں کی ہداےت کا دائمی سرچشمہ ہے اور مسلمانوں کی اصلاح و تربےت اور ان کی 
علمی و فکری ترقی قرآن ہی 
کے فہم و تدبر اور اس کے مطابق زندگی گذار نے سے وابستہ ہے اس لےے شاہ.صاحب اپنی 
تو جہ قرآن اور 
علوم قرآن کی تعلےم و تروےج پر زےادہ صرف کی ۔ شاہ.صاحب کے زمانہ مےں قرآن 
مجدے ےقےناََ پڑھاےا جاتا تھا ۔ بعض 
فارسی کی تفسےرےں اور تراجم بھی موجود تھے ۔ دےنی درسگاہوں مےں جلالےن ، کشاف 
اور مدارک التنزےل جےسی تفسےرےں 
داخل نصاب بھی تھےں مگر اس کے باوجود ےہ کہنا بالکل درست ہے کہ مسلمانوں کی 
علی.العومم قرآن سے جذباتی 
وابستگی ان مےں علمی اور فکری پختگی پےدا کرنے کے بجائے جمود و تعطل کی نذر ہو 
کر رہ گئی تھی ۔ نظری طور پر تو قرآن 
دےن و شرےعت کا پہلا سر چشمہ تسلےم کےا جاتا تھا مگر مسائل و احکام مےں فقہی 
جمود اور بحث و استدلال مےں فلسفےانہ 
موشگافےوں نے جڑ پکڑ لےا تھا ، محفلےں سجا سجا کر لوگ تصوف اور قصے کہانےوں 
کی کتابےں پڑھتے تھے مگر ان مےں قرآن 
کے حلقے بنانے کا رجحان نہ تھا لوگ ےہ سمجھتے تھے کہ قرآن کا سمجھنا اور اس عر 
غور کرنا علما کا کام ہے اور ان کے 
لےے صرف اس قدر کافی ہے کہ قرآن کی تلاوت کر لےا کرےں ۔ قرآن کے درس و تدرےس 
کے ماحول مےں بھی قرآن فہمی 
سے زےادہ تفسےر خاونی پر توجہ صرف ہوتی تھی ۔ شاہ.صاحب نے مسلمانوں کو پرسوز 
طرےقے سے سمجھاےا اگر تم انصاف 
سے کام لو تو نزول قرآن کا اصل فائدہ ےہ ہے کہ اس سے نصےحت حاصل کی جائے ارو اس 
کی ہداےت سے رہنماں 
حاصل کی جائے ، قرآن کا صرف تلفظ مقصود نہےں اگرچہ وہ بھی غنےمت ہے ۔ مسلمانوں 
نے ےہ کےا شےوہ اختےار کر لےا ہے 
کہ وہ قرآن کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش نہےں کرتے ، اس شخص کو کےا حلاوت 
نصےب ہو سکتی ہے جو قرآن کے معنی کو نہےں سمجھتا۔

چنانچہ شاہ.صاحب نے سلےس اور متعارف فارسی زبان مےں لوگوں کے لےے قرآن کا 
ترجمہ کےا جو 
فتح.الرحمان کے نام سے مشہور ہے اس ترجمہ کا مقصد صرف ےہ تھا کہ لوگ قرآن کی 
طرف متوجہ ہوں اس کو پڑھےں 
سمجھےں اور اس کے مطابق اپنی زندگی درست کرےں ۔ فاسد خےالات ، ادہام اور غلط 
قسم کے رسوم اور اعمال جو 
مسلمانوں مےں رائج ہو چکے ہےں ان کا ازالہ ہو چنانچہ شاہ.صاحب لکھتے ہےں ہ اس 
کتاب (فتح.الرحمٰن) کا مرتبہ متن 
قرآن اور فارسی کے مختصر رسائل پڑھنے کے بعد ہے تاکہ فارسی ان کی سمجھ مےں 
بے.تکلف آجائے ، خاص طور پر 
سپاہوےں اور اہل حرفہ کے بچوں کے لےے جو کہ علوم عربےہ کو پورا کرنے کی توقع نہےں 
رکھتے، سن تمےز کے پہلے ہی مرحلہ 
مےں اس کتاب کی ان کو تعلےم دےنی چاہےے تاکہ ان کے ادر پہلی چےز جو داخل ہو وہ 
کتاب.اللاّ کے معانی ہوں اور ان 
(61) 19

کی سلامتی فطرت ہاتھ سے نہ جائے ۔ ملحدوں کے اقوال جو کہ صوفےوں کے لبادہ مےں 
پنہاں ہو کر دنےا کو گمراہ کرتے ہےں 
ان کو فرےقتہ نہ کرےں ۔ خام معقولےوں کی ہرزہ سرائی اور واہےات ہندووں کی بکواس 
ان کے لوح سےنہ کو ملوث نہ کرے 
پھر وہ لوگ جو عمر کا اےک بڑا حصہ گذار دےنے کے بعد توبہ کی توقےق پاتے ہےں مگر 
اسلامی علوم کی حاصل نہےں کرپاتے ےہ 
کتاب ان کو پڑھانی چاہےے تاکہ وہ قرآن کی تلاوت مےں حلاوت پائےں اور اس کتاب کا 
فائدہ عام مسلمانوں کے 
حق مےں متوقع ہے انشاللاّتعالیٰ.العظےم

قرآن مجےد کے ترجمہ اور مختصر تفسےری حواشی کے ساتھ شاہ.صاحب نے علوم 
قرآن کی اشاعت اسی اور اعتماد 
کے ساتھ کی اور اس موضوع پر اےک نہاےت جامع کتاب.الفوز ابکےرفی اصول التفسےر لکھی 
، نےز فتح الخبےر اور مقدمہ فی
قوانےن الترجمہ بھی ضبط قلم کےا ۔ انبےائی قصوں پر اےک اور اصولی نوعےت کی کتاب 
تاوےل الاحادےث لکھی ۔

شاہ.صاحب کی قرآنی خدمات بڑی وقےع اور بے.نظےر ہےں ۔ انھوں نے اپنے علمی 
ذوق کے تسکےن کے لےے نہےں 
بلکہ کتاب ہادےت کی تروےج و اشاعت کے لےے اور امت کو از سر نو قرآن کی بنےادوں پر 
کھڑی کرنے کے لےے جامع
اور منصوبہ بند طرےقہ پر کام کا آغاز کےا ، ےہ شاہ.صاحب ہی کی تحرےک اور رہنمائی 
تھی کہ ان کے جلےل.القدر صاحب.زادوں 
نے پہلی مرتبہ اردو زبان مےں قرآن کرےم کے ترجمہ کا فرےضہ انجام دےا ۔ ےہ کہنا زےادہ 
مناسب ہے کہ 
شاہ.صاحب نے ہندوستان مےں ملت اسلامےہ کی اصلاح کے لےے بالخصوص اور عام انسانوں کی 
فلاح کے لے بالعموم 
جو تحرےک برپا کی وہ قرآنی تحرےک تھی جو قرآن فہمی سے شروع ہوئی اور جہاد 
بالسےف تک بسےط ہوگئی ۔ گوےا شاہ.صاحب کا 
اصل کارنامہ ےہ ہے کہ وہ تحرےک قرآن کے داعی اور مبلغ تھے ۔

سماجی نقطئہ نظر سے دےکھا جائے تو اس مہم کے تےن نماےاں پہلو ہےں اےک تو 
ےہ کہ مہلک رسوم و رواج اور مشرکانہ 
عقائد و خےالات کی عام دبا کے لےے قرآن کو موثر علاج کی حےثےت سے متعارف کرانا ۔ کہ 
جتنی قربت قرآن
سے ہوگی مشرکانہ خےالات و اعمال سے اسی قدر دوری ہوتی چلی جائےگی اور جب تک 
قرآن کی اشاعت نہ ہوگی 
ےہ برائےاں ختم نہ ہو سکےں گی ، دوسرے ےہ کہ قانون اور شرےعت کی اساس اور 
سرژسمہ اول کی حےثےت سے قرآن کو 
پےش کرنا کہ زندگی کے تفصےی معاملات مےں وہی مرجع اور قول فےصل قرار پائے ، 
تےسرے ےہ احساس پےدا کرنا کہ جب 
لوگ قرآن کی طرف رجوع کرےں گے تو ان کی علمی ، ذہنی اور فکری سطح بھی حسب 
استفادہ بلند ہوتی چلی جائےگی اور 
علم و فکر کا منبع ان کے ہاتھ آجائےگا ۔
(62) 20

ےہ تو نہےں کہا جا سکت اکہ شاہ.صاحب کی اس تحرےک کی وجہ سے شرےک و بدعات اور 
فسق و فجور کا اےک قلم خاتمہ ہوگےا 
اور جاہلےت کا فور ہوگئی تاہم ےہ ضروری کہا جا سکتا ہے کہ ظلم جہالت کے طوفانوں کا 
زور ےقےناََ کم ہوگےا اور صورت حال 
مےں بہت حد تک تبدےلی آئی ، قرآن کی اشاعت کا رجحان بڑھا اور امت قرآن خاونی 
کے مرحلہ سے نکل کر قرآن 
فہمی کے مرحلہ تک آئی ۔ ےہ اثرات بعد کے ادوار مےں واصح طور پر محسوس کےے گئے 
، اس وقت اردو زبان مےں قرآن
کرےم کے سےنکڑوں مکمل و نامکمل تراجم و تفاسےر موجود ہےں اگر غور کےا جائے تو ان 
سب پر کسی نہ کسی درجہ مےں شاہ 
صاحب کے اثرات پائے جاتے ہےں ۔ ےہی نہےں بلکہ اس دور کی اصلاحی اور انقلابی 
تحرکےوں مےں بھی شاہ.صاحب 
کے اثرات نماےاں طور پر موجود ہےں کونکہ غالباََ پہلی مرتبہ ہندوستان مےں شاہ.صاحب نے 
قرآن کو بنےاد بنا کر اصلاح 
معاضرہ کی تحرےک چلائی ۔ مولانا ابولحسن علی ندوی کے بقول شاہ.صاحب نے اس 
مرض (شرک و بدعات) بلکہ دباو 
عام کے علاج کے لےے قرآن مجےد کے مطالعہ اور تدبر اور اس کے فہم کو سب سے موثر علاج 
سمجھا اور ےہ بات محض ذہانت
قوت مطالعہ اور قےاس پر مبنی نہ تھی بلکہ اےک اےسی بدےہی حقےقت تھی جس پر 
قرآن مجےد خود شاہد اور نہ صرف عہد بعثت کی 
تارےخ بلکہ اسلام کی پوری تارےخ دعوت اور سرگزشت اصلاح و تجدےد گواہ ہے ۔

6حدےث

قرآن کے بعد شرےعت اسلامےہ کا دوسرا سرچشمہ نست رسول.اللاّصلی.اللاّعلےہ.وسلم ہے 
اسی لےے حضور صلی.اللاّعلےہ.وسلم 
نے مسلمانوں کی ہداےت کے لےے ان دو سرچشموں ےعنی قرآن و سنت کو لازم پکڑنے کی 
تاکےد فرمائی ہے اور ان کو معےار 
ہداےت قرار دےا ہے ۔

سنت رسول.صلی.اللاّعلےہ.وسلم سے واقفےت جس علم کے ذرےعہ ہوئی ہے وہ علم 
حدےث ہے شےخ عبدالحق 
محدث دہلوی 1052ئ کے بعد شاہ.صاحب دوسرے عالم ہےں جنھوں نے اس فن مےں گرا 
نقدر خدات انجام دی ہےں اور 
ہندوستان مےں حدےث کی اشاعت مےں ان کا اہم رول ہے ، شاہ.عبدالعزےز کہتے ہےں کہ 
علم حدےث مدےنہ منورہ 
سے والدے ماجد لائے ۔

شاہ.صاحب کے نزدےک اس فن کی کےا اہمےت ہے حجتہ.اللاّالبالغہ مےں اس پر باےں 
الفاظ روشنی ڈالی 
ہے بلاشبہ علوم ےقےنےہ کا معتمد علےہ سرماےہ اور سرتاج اور دےنی فنون کی اساس علم 
حدےث ہے جس مےں افضل
(63) 21

المرسلےن صلی.اللاّعلےہ.وسلم کے قول اور فعل ےا کسی بات پر آپ کی رضامندی و سکوت 
خےر ہوتا ہے اس لےے ےہ 
حدےثےں تارےکی مےں روشن چراغ ، رشد و ہداےت کا سنگ مےل اور بدر کامل کا درجہ 
رکھتی ہےں ۔ جو شخص ان پر عمل کرتا 
اور ان کی نگہداشت کرتا ہے تو وہ ہداےت ےاب اور خر کثےر سے فےضےاب ہوتا ہے ، اور جو 
اس سے اعراض اور 
روگردانی کرتا ہے وہ گمراہ اور ہلاک ہوتا ہے اور اپنے آپ کو سراسر نقصان مےں مبتلا 
کرتا ہے ۔ اس لےے کہ 
آنحضرات صلی.اللاّعلےہ.وسلم کی زندگی امرونہی، انذار و تبشےر اور نصےحت و تذکےر سے 
معمور ہے ۔ اور آپ کی حدےثوں 
مےں ےہ چےز قرآن ہی کی طرح ےا اسسے (مقدار مےں) کچھ زےادہ ہےں ۔

حدےث رسول کی اہمےت اور ضرورت پر اس پختہ ےقےن ہی نے شاہ.صاحب کو اس 
کی خدمت اور اشاعت 
پر کمر بستہ کےا ۔ ہندوستان کے علاوہ حرمےن شرےفےن مےں بھی خاص طور پر آپ نے 
حدےث ہی مےں تخصص اور مہارت 
پےدا کی ، پھر ہندوستان لوٹ کر اس کی اشاعت مےں اےسے منہمک ہوئے کہ ہندوستان 
اور اس کے باہر محدث کے 
لقب سے مشہور ہوئے اور ےہ لقب اب گوےا آپ کے نام کا جزوے بن گےا ہے ۔ بعد کے 
ہندوستان مےں علم حدےث کی 
آبےاری مےں جن علما کی مساعی قابل ذکر ہےں ان سب کے آپ صدر نشےن ہےں ۔

حدےث رسول پر شاہ.صاحب کی حسب ذےل کتابےں لائق ذکر ہےں ۔

(1) الاربعےن ےہ چالےس جامع احادےث کا مجموعہ ہے ۔ شاہ.صاحب نے عوام مےں حدےث کا 
ذوق پےدا کرنے 
کے لےے اس کتاب کو مرتب کےا تھا ۔ ےہ مجموعہ مطبع.انوار محمدی لکھنوی سے 1319 ھ 
مےں شائع ہوا ۔ اردو مےں اس کے متعدد 
تراجم شائع ہو چکے ہےں جن مےں سےد عبداللاّ اور مولانا عبدالماجد درےابادی کے ترجمے 
قابل ذکر ہےں اس مجموعہ مےں صحےح 
حسن اور ضعےف ہر طرح کی رواےات ہےں ۔

(2) الاشاد الی مہمات الاسناد ، ےہ رسالہ عربی مےں اپنے اساتذہ اور شےوخ حجاز کے تذکرہ 
سے متعلق لکھا ہے 
اس مےں ان کی سند حدےث پر گفتگو کی ہے ۔ 1307 ھ مےں مطبع احمدی جش خاں 
دہی سے شائع ہوا ۔

(3) تراجم ابواب ابخاری (عربی) اس رسالہ مےں بخاری شرےف کے ترجمتہ.الباب کو حل 
کرنے کے لےے 
اصول و قواعد بےان کےے گئے ہےں ےہ رسالہ مطبع نورالانوار آرہ سے 1899ھ مےں شائع ہوا 
ہے ۔

(4) شرح تراجم ابواب ابخاری : ےہ رسالہ بھی عربی مےں ہے اور بخاری شرےف کے 
تراجم ، عنوانات اور 
احادےث کے لطائف و حکمت پر مشتمل ہے ۔ ےہ دونوں رسالے اےک ساتھ دائرۃ.المعارف 
حےدرآباد سے 
1323ھ مےں طبع ہوئے ہےں ۔ نےز بخاری شرےف کے موجودہ اےڈےشن مےں جو کلکتہ سے 
شائع ہوا ہے مولانا احمد علی 
(64) 22

سہارنپوری کے مقدمہ کے ساتھ شائع ہوا ہے ۔

(5) الفضل.المبےن فی.المسلسل من حدےث البنی الامےن ۔ عربی مےں ےہ رسالہ اس نوع 
حدےث پر لکھا گےا ہے جو مسلسلات 
کے نام سے مشہور ہے ۔

(6) شاہ.صاحب نے موطامام مالک کی دو شرحےں لکھی ہےں (1) مسوی بزبان عربی (2) 
مصفی بزبان فارسی 
ےہ دونوں کتابےں الگ الگ بھی شائع ہوئی ہےں اور ےکجا کتب.خانہ رحےمےہ سنرہی 
مسجد دہلی سے طبع ہوئی ہےں ۔ اےک ہی 
مجموعہ حدےث کی دوشرحےں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہےں کہ شاہ.صاحب کی نظر 
مےں موطاکی غےر معمولی اہمے ہے 
اس کی وجہ شاہ.صاحب ےہ بتاتے ہےں ےہ فقےر اےک مدت تک فقہا کے اختلاف مذہب اور 
علما کے گروہوں کی کثرت 
اور ہر اےک کی اپنی جانب کھےنچ تان کی وجہ سے تسوےش مےں مبتلا رہا کےونکہ تعےن 
عمل ضروری تھی اور ےہ بغےر ترجےح کے ممکن 
نہےں اور وجود ترجےح مےں بھی اختلاف پےا ۔ پھر ہر طرف ہاتھ پاوں مارا ہر کسی 
سے مدد چاہی مگر فائدہ نہ ہوا ۔ پھر اللاّ
کے حضور ےہ دعا لے کر کڑھا ہوا 
چنانچہ اشارہ امام مالک بن انس کی 
کتاب موطائی کی طرف ہوا مصفی اصلاموطا کا فارسی ترجمہ ہے اور تشرےح شمنا ہے جب 
کہ مسوی صرف تشرےح ہے 
(2) علم حدےث پر ےہ رسلہ عربی مےں لکھا گےا ہے اور مطبع نورالانور آرہ 
سے شائع ہوا ہے ۔۔

(7) ےہ رسالہ در اصل حدےث کے بجائے خواب سے متعلق ہے اس مےں 
حضور.صلی.اللاّعلےہ.وسلم کے وہ مبشرات مےں جو شاہ صاحب اور ان کے بزرگوں کو خواب 
مےں نطر آئے ےہ رسالہ مطبع
احمدی دہلی سے شائع ہوا ہے ۔

ان کتابوں کے علاوہ فن حدےث پر بعض دوسری کتابوں مےں شاہ.صاحب نے بڑی 
قےمتی بحثےں کی ہےں اور 
جس انداز پر حدےث کی تفہےم و تشرےح کی ہے وہ اےک منفرد کار نامہ سمجھا جاتا ہے 
۔ مثال کے طور پر حجتہ.اللاّ ابلالغہ جلد
اول کی ستوےں بحث علم نبوت
کی اقسام شرےعتوں اور مصلحتوں مےں فرق طبقات کتب حدےث مےں علم نبوت
کی اقسام شرےعتوں اور مصلحتوں مےں فرق طبقات کتب حدےث حدےث کے مراد کو 
سمھجے کی کےفےت و 
سنت سر شرعی معانی کی تفہےم کی کےفےت اور مختلف احادےث مےں تطبےق وغےرہ پر 
استدلال اور عفلی انداز مےں گفتگو 
کی ئی ہے ، ان مےں سے صرف اےک عنوان طبقات کتب حدےث کو لےجےے۔
(65) 23

شاہ.صاحب نے تمام مجموعہ ہائے حدےث کو صحت و شہرت کے لحاظ سے پانچ طبقوں 
مےں تقسےم کےا ہے ۔
پہلے طبقہ مےں موطامام مالک، صحےح بخاری اور صحےح مسلم کو رکھا ہے۔ دوسرے طبقہ 
مےں ان کتبوں کو رکھا ہے 
جو مزکورہ تنےوں کتب کے درجہ تک صحت و شہرت کے لحاظ سے نہےں پہونچتےں مگر 
ان کے مسنف عدالت ثقابت 
حفظ اور مہارت حدےث مےں معروف تھے اس طبقہ مےں سنن ابوداود جامع ترندی اور 
سنن نسانی کو رکھ ہے 
تےسرے طبقہ مےں ان مسانےد ، جوامع اور تصانےف کو رکھا ہے جو شےخےن سے پہلے ےا 
ان کے زمانہ مےں ےا ان کے 
بعد مرتب کی گئںے مگر ان مےں صحےح ، حسن ، ضعےف ، معروف ، غرےب ، شاذ منکر 
، خطا صواب ، ثابت ، مفلوب ہر قسم 
کی احادےث جمع کی گئےں ہےں اس طبقہ مےں مسند ابولےعلی ، مصنف عبدالرزاق ، 
مصنف ابن ابی شےبہ مندعبدبن 
حمےد ، سند ابوداود الطےالسی بےہقی طحاوی ، اور طبرانی کی کتب احادےث شامل ہےں ۔ 
مسند احمد کو شاہ صاحب
نے دوسرے طبقہ سے قرےب رکھا ہے ۔ چوتھے طبقہ مےں ان کتب احادےث کو رکھا ہے جو 
مشہور کتب احادےث 
کے عرصہ بعد لکھی گئےں اور ان کتابوں مےں ان احادےث کو جمع کرنے کی کوشش کی 
گئی جو مشہور کتب مےں نہےں 
تھےں ۔ اس مےں ابن حبان کی کتبا اضعفائ اور ابن عدی کی الکامل اور خطےب لبغدادی ، 
ابونےعم جو قانی 
ابن عساکر ابن بخار دےلمی وغےرہ کی کتب شامل ہےں ۔ مسند خوار زمی کو شاہ.صاحب 
نے اسی طبقہ سے قڑےب رکھا ہے 
پانچوےں طبقہ مےں ان احادےث کے مجموعہ کو رکھا ہے جو فقہا ، واعظےن صوفےا اور 
مورخےن وغےرہ کے ےہاں زبان زد ہےں 
مگر ان کی کوئی اصل نہےں ہے ۔ شاہ صاحب کہتے ہےں کہ پہلے اور دوسرے طبقہ کی 
کتب پر محدےثےن اعتماد کرتے 
ہےں ۔ تےسرے طبقہ کی احادےث پر قول و عمل کی بنےاد نہےں رکھی جا سکتی ۔ مگر 
ماہرےن حدےث جن کو اسمالرجال اور علل 
احادےث پر عبور ہے وہی اس سے استنباط کر سکتے ہےں چوتھے طبقہ کی کتب سے مدد 
لےنا درست نہےں ۔

0 
﻿
Faroqi
03-07-02
Urdu
60(40) 1

مےں اےک دوسرے کے مزہب اور تہزےب کے لےے پورا احترام پےدا کردےا اور اس دےوار 
کے جس نے محکوم قوم کو سماجی علاحدگی مےں مقےد کر رکھا تھا گرادےا۔ ہندورانےوں 
اور ان 
کی نوکرانےوں کو شاہی محل مےں اپنے اپنے مزہبی عقائد پر عمل کرنے اور سماجی رسوم 
ادا کرنے 
کی پوری آزادی دی گئی۔

1۔ اکبر نے ہندو تہواروں کو قومی تہواروں کی حےثےت سے دربار مےں بڑی دھوم دھام 
سے منانا شروع کردےا۔ اس کی پےروی مےں بعد کے مغلےہ بادشاہ ان تہواروں کو مناتے رہے 
بادشاہوں کی پےروی مےں عوام نے بھی ہندو تہواروں مےں خصوصی دلچسپی لی۔ 
مثلاََ 
ہولی، دےوالی. دسہرہ، بسنت، سلونوں، جنم اشٹمی کے تہوار مسلمان بھی مناتے تھے۔ 
دےوالی 
کی رات کو مسلمان بھی جوا کھےلتے تھے۔ لال قلعہ مےں گوبر دھن کی پوجا ہوتی 
تھی۔ عام مسلمان 
اور بالخصوص مسلمان عورتےں دسہرہ ہولی اور دےوالی کے موقع کی تمام رسموں کو ادا 
کرتی 
تھےں۔ مرزا مظہر جان جاناں کا بےان ہے :

چنانچہ در آےام دولی کفار جہلہ اسلام علی الخصوص زباب اےشاں رسوم کفر
بجامی آرند و عےد خود می سازند وہداےا شبےہ بہ بداےاہی اہلی کفربخا نہائے
دختران و خواہران در رنگ اہل شرمی می فرستند۔

2۔ ہندوستان مےں ابتدائی نسلی امتےاز کی وجہ سے مسلم سماج کی تنظےم رفتہ رفتہ 
ہندووں 
کے ذات پات کے نظام مےں رنگنے لگی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ابتدائی زمانے مےں آنے والے
دہلی کے عہد سے ہندستان مےں اےک نئے مسلم سماج کی تشکےل کے باب کا آغاز ہوا جس 
کی 
تکمےل عہد مغلےہ مےں ہوئی۔ اکبر کے دور حکومت سے مسلم سماج کی ترتےب و تشکےل 
کا اےک 
نےا دور شروع ہوا۔ ملک کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے اور ملک مےں سےاسی استحکام 
اور سرکاری کارخانوں مےں ہر فن کے صنعت کاروں کو ملازم رکھا۔ اس کا نتےجہ ےہ نکلا 
کہ ہندوستان کے ان قدےم باشندوں کو جنھےں مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد مسلم سماج 
مےں
کی نوکرانےوں کو شاہی محل مےں اپنے اپنے مزہبی عقائد پر عمل کرنے اور سماجی رسوم 
ادا کرنے 
کی پوری آزادی دی گئی۔

1۔ اکبر نے ہندو تہواروں کو قومی تہواروں کی حےثےت سے دربار مےں بڑی دھوم دھام 
سے منانا شروع کردےا۔ اس کی پےروی مےں بعد کے مغلےہ بادشاہ ان تہواروں کو مناتے رہے 
اور بادشاہوں کی پےروی مےں عوام نے بھی ہندو تہواروں مےں خصوصی دلچسپی لی۔ 
مثلاََ 
ہولی، دےوالی. دسہرہ، بسنت، سلونوں، جنم اشٹمی کے تہوار مسلمان بھی مناتے تھے۔ 
دےوالی 
کی رات کو مسلمان بھی جوا کھےلتے تھے۔ لال قلعہ مےں گوبر دھن کی پوجا ہوتی 
تھی۔ عام مسلمان 
اور بالخصوص مسلمان عورتےں دسہرہ ہولی اور دےوالی کے موقع کی تمام رسموں کو ادا 
کرتی 
تھےں۔ مرزا مظہر جان جاناں کا بےان ہے :

چنانچہ در آےام دولی کفار جہلہ اسلام علی الخصوص زباب اےشاں رسوم کفر
بجامی آرند و عےد خود می سازند وہداےا شبےہ بہ بداےاہی اہلی کفربخا نہائے
دختران و خواہران در رنگ اہل شرمی می فرستند۔

2۔ ہندوستان مےں ابتدائی نسلی امتےاز کی وجہ سے مسلم سماج کی تنظےم رفتہ رفتہ 
ہندووں 
کے ذات پات کے نظام مےں رنگنے لگی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ابتدائی زمانے مےں آنے والے
دہلی کے عہد سے ہندستان مےں اےک نئے مسلم سماج کی تشکےل کے باب کا آغاز ہوا جس 
کی 
تکمےل عہد مغلےہ مےں ہوئی۔ اکبر کے دور حکومت سے مسلم سماج کی ترتےب و تشکےل 
کا اےک 
نےا دور شروع ہوا۔ ملک کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے اور ملک مےں سےاسی استحکام 
اور سرکاری کارخانوں مےں ہر فن کے صنعت کاروں کو ملازم رکھا۔ اس کا نتےجہ ےہ نکلا 
کہ ہندوستان کے ان قدےم باشندوں کو جنھےں مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد مسلم سماج 
مےں ہندوانہ ہونے کی نشاندہی 
ہوتی ہے۔ 
زچہ کو تارے رکھانے کی رسم خاندان مغلےہ مےں مروج تھی اور دہلی کے 
مسلمانوں 
مےں بھی عام تھی۔ اس موقع پر اور کئی رسمےں ادا کی جاتی تھےں جو ہندووں سے 
لی گئی تھےں۔
برس گانٹھ ےا سال گرہ کی رسم ہندووں سے لی گئی تھی۔ دودھ بڑھانے کے موقع کی 
رسمےں 
ہندووں سے اخز کی گئی تھےں جتنے کے موقع پر گھوڑی پر چڑھانے کی رسم ہنددانہ 
تھی۔

0شادی بےاہ کی رسمےں :

مرزا قتےل جو دونوں قوموں کے رسوم سے بخوبی واقت تھے رقم طراز ہےں :
60(42) 3

ہندوستان کے مسلمان بےٹے اور بےٹی کی شادی مےں چند رسموں کو چھوڑ 
کر جےسے آگ کے 
گرد چکر لگانا، باقی سب رسمےں ہندووں کی طرح کرتے ہےں جےسے لڑکے اور لڑکی کو 
زرد کپڑے پہنانا اور کلائی مےں رےشمی کلاوا باندھنا عقہ سے فارغ ہونے تک
دولھا کا ہاتھ مےں لوہے کا ہتھےار رکھنا اور عورتوں کی سٹھنی لگانا، عام تجمل و 
آراےش کے ساتھ دولھا کو دلھن کے گھر ساچق لے جانا خالص ہند سے مخصوص ہے۔

دور حاضر مےں بھی قصبات اور دےہات کے رہنے والے زراعت پےشہ مسلمانوں 
مےں بچپنے 
کی شادی ہندووں سے اخز کی گئی رسم کی نشان دہی کرتی ہے۔ شادی بےاہ کے رسوم 
مسلم 
سماج مےں اس حد تک سےراےت کر گئے تھے کہ مسلمانوں کو اس بات کا احساس بھی نہ 
رہا تھا کہ 
ےہ رسمےں غےر اسلامی تھےں۔ سودا نے حضرت قاسم کی شادی کی رسوم کے ذکر مےں 
ہندوستانی 
رسموں کو اس اندازے سے بےان کےا ہے۔ گوےا ےہ رسمےں عربوں مےں پائی جاتی تھےں 
مثلاََ ساچق 
منہدی، برات، رقص و سورد، دھنگانا، رخصتی کے وقت رنگ کھےلنا وغےرہ۔ مسلمانوں 
مےں 
جہےز کا سامان بھی بجت حد تک وےسا ہی ہوتا تھا جےسا کہ ہندووں مےں رائج تھا۔

0نکاح بےوگان 
قدےم زمانے سے ہندووں مےں بےوہ کی عقد ثانی کا رواج نہےں تھا۔ 
ہندوستانی مسلمانوں 
نے بھی بےوہ کے عقد ثانی کو مزموم سمجھ لےا۔ شاہ ولی الّلۃ لکھتے ہےں 
ہندووں کی اےک بدترےن رسم ےہ ہے کہ بےوہ کی دوسری شادی نہےں 
کرتے۔ ےہ 
بدترےن رسم عربوں مےں کبھی نہ تھی۔ نہ آنحضرت صلی الّلۃ علےہہ وسلم سے قبل نہ 
آپ 
کے زمانے مےں اور نہ آپ کے بعد۔

جب کسی عورت کا سوہر مرجاتا تو اس کے رشتہ دار اسے عقد ثانی سے 
منع کرتے اور اگر کوئی عورت عقد ثانی 
کرلےتی تو لوگ اسے لعن طعن کرتے۔ اس کا نتےجہ ےہ ہوا کہ بالعموم بےوہ عورت اپنی 
پوری زندگی رنڈاپے مےں کاٹتی تھی۔

آٹھاروےں صدی مےں اس رسم پر اتنی سختی سے پابندی کی جاتی تھی 
کہ شاہ اسمعےل شہےد
اور ان 
کی نوکرانےوں کو شاہی محل مےں اپنے اپنے مزہبی عقائد پر عمل کرنے اور سماجی رسوم 
ادا کرنے 
کی پوری آزادی دی گئی۔

1۔ اکبر نے ہندو تہواروں کو قومی تہواروں کی حےثےت سے دربار مےں بڑی دھوم دھام 
سے منانا شروع کردےا۔ اس کی پےروی مےں بعد کے مغلےہ بادشاہ ان تہواروں کو مناتے رہے 
اور بادشاہوں کی پےروی مےں عوام نے بھی ہندو تہواروں مےں خصوصی دلچسپی لی۔ 
مثلاََ 
ہولی، دےوالی. دسہرہ، بسنت، سلونوں، جنم اشٹمی کے تہوار مسلمان بھی مناتے تھے۔ 
دےوالی 
کی رات کو مسلمان بھی جوا کھےلتے تھے۔ لال قلعہ مےں گوبر دھن کی پوجا ہوتی 
تھی۔ عام مسلمان 
اور بالخصوص مسلمان عورتےں دسہرہ ہولی اور دےوالی کے موقع کی تمام رسموں کو ادا 
کرتی 
تھےں۔ مرزا مظہر جان جاناں کا بےان ہے :

چنانچہ در آےام دولی کفار جہلہ اسلام علی الخصوص زباب اےشاں رسوم کفر
بجامی آرند و عےد خود می سازند وہداےا شبےہ بہ بداےاہی اہلی کفربخا نہائے
دختران و خواہران در رنگ اہل شرمی می فرستند۔

2۔ ہندوستان مےں ابتدائی نسلی امتےاز کی وجہ سے مسلم سماج کی تنظےم رفتہ رفتہ 
ہندووں 
کے ذات پات کے نظام مےں رنگنے لگی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ابتدائی زمانے مےں آنے والے
دہلی کے عہد سے ہندستان مےں اےک نئے مسلم سماج کی تشکےل کے باب کا آغاز ہوا جس 
کی 
تکمےل عہد مغلےہ مےں ہوئی۔ اکبر کے دور حکومت سے مسلم سماج کی ترتےب و تشکےل 
کا اےک 
نےا دور شروع ہوا۔ ملک کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے اور ملک مےں سےاسی استحکام 
اور سرکاری کارخانوں مےں ہر فن کے صنعت کاروں کو ملازم رکھا۔ اس کا نتےجہ ےہ نکلا 
کہ ہندوستان کے ان قدےم باشندوں کو جنھےں مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد مسلم سماج 
مےں 
مناسب جگہ نہ ملی تھی، اب مل گئی۔ لےکن اس کا ےہ بھی نتےجہ برآمد ہوا کہ مسلم 
سماج پےشہ ورانہ 
60(41) 2

طبقوں مےں تقسےم ہوگےا۔ ہندووں کی قدےم طبقاتی تقسےم نے مسلم سماج کے لےے اےک 
نمونہ 
پےش کےا اور اسی طرز پر مسلم سماج مےں پےشہ ور طبقے نماےاں نظر آنے لگے۔ رفتہ 
رفتہ ہر پےشہ ور 
طبقے نے اپنے پےشے کو موروثی بنا لےا، اپنی مخصوص رسمےں قائم کرلےں اور شادی بےاہ 
کے تعلقات 
ہم پےشہ لوگوں کے دائرے مےں محدود کرلےے۔ ےہ تقسےم ہمارے زمانے تک موجود ہے۔ 
منےر 
مےر حسن نے لکھا تھا کہ لکھنوئ کے سےد خاندانوں مےں اےسا بھی ہوتا تھا کہ محدود 
دائرے مےں 
مناسب رشتہ نہ ملنے کی وجہ سے بعض لڑکےاں اپنی زندگی ناکت خدائی کی حالت مےں 
گزارتی 
تھےں۔ 
3۔ بچے کی ولادت سے موت کے موقع تک عمل مےں آنے والی بعض رسمےں اےسی ہےں 
جو خالص ہندوستان کی دےن ہےں۔ عورت کی حاملہ ہونے اوپر بچے کی ولادت کے بعد کی 
جتنی 
بھی رسمےں ہندوستانی مسلمانوں مےں مروج ہےں وہ سب کی سب ہندوستانی ہےں۔ 
جنھےں 
مسلمانوں نے جوں کا توں اپنا لےا ہے۔ ان مےں بعض کے نام تو وہی ہندوستانی ہےں 
مگر طرےقے 
بدل گئے ہےں اور بعض مےں برائے نام فرق کردےا گےا ہے۔ مثلاََ تےجا ہندووں مےں، فاتحہ 
ےا پھول مسلمانوں مےں۔ اگرچہ پھول کا لفظ ےہاں بھی مشترک ہے کےوں کہ ہندووں 
مےں پھول 
مردے کی جلی ہڈےوں کو کہتے ہےں۔ جو تےسرے دن چن کر مرگھٹ سے جمع کی جاتی 
ہےں در سوم 
دہلی جاملہ عورت سے متعلق رسوم مےں ستوانسا اور نوما نسا کی رسوم ہندووں 
اور مسلمانوں مےں ےکساں تھےں۔ پتی اور چھٹی کی رسمےں ہندووں سے اخذ کی 
گئی ہےں۔ اس
موقع پر چھوچھک کی رسم، اس کے نام سے ہی اس رسم کے ہندوانہ ہونے کی نشاندہی 
ہوتی ہے۔ 
زچہ کو تارے رکھانے کی رسم خاندان مغلےہ مےں مروج تھی اور دہلی کے 
مسلمانوں 
مےں بھی عام تھی۔ اس موقع پر اور کئی رسمےں ادا کی جاتی تھےں جو ہندووں سے 
لی گئی تھےں۔
برس گانٹھ ےا سال گرہ کی رسم ہندووں سے لی گئی تھی۔ دودھ بڑھانے کے موقع کی 
رسمےں 
ہندووں سے اخز کی گئی تھےں جتنے کے موقع پر گھوڑی پر چڑھانے کی رسم ہنددانہ 
تھی۔

0شادی بےاہ کی رسمےں :

مرزا قتےل جو دونوں قوموں کے رسوم سے بخوبی واقت تھے رقم طراز ہےں :
60(42) 3

ہندوستان کے مسلمان بےٹے اور بےٹی کی شادی مےں چند رسموں کو چھوڑ 
کر جےسے آگ کے 
گرد چکر لگانا، باقی سب رسمےں ہندووں کی طرح کرتے ہےں جےسے لڑکے اور لڑکی کو 
زرد کپڑے پہنانا اور کلائی مےں رےشمی کلاوا باندھنا عقہ سے فارغ ہونے تک
دولھا کا ہاتھ مےں لوہے کا ہتھےار رکھنا اور عورتوں کی سٹھنی لگانا، عام تجمل و 
آراےش کے ساتھ دولھا کو دلھن کے گھر ساچق لے جانا خالص ہند سے مخصوص ہے۔

دور حاضر مےں بھی قصبات اور دےہات کے رہنے والے زراعت پےشہ مسلمانوں 
مےں بچپنے 
کی شادی ہندووں سے اخز کی گئی رسم کی نشان دہی کرتی ہے۔ شادی بےاہ کے رسوم 
مسلم 
سماج مےں اس حد تک سےراےت کر گئے تھے کہ مسلمانوں کو اس بات کا احساس بھی نہ 
رہا تھا کہ 
ےہ رسمےں غےر اسلامی تھےں۔ سودا نے حضرت قاسم کی شادی کی رسوم کے ذکر مےں 
ہندوستانی 
رسموں کو اس اندازے سے بےان کےا ہے۔ گوےا ےہ رسمےں عربوں مےں پائی جاتی تھےں 
مثلاََ ساچق 
منہدی، برات، رقص و سورد، دھنگانا، رخصتی کے وقت رنگ کھےلنا وغےرہ۔ مسلمانوں 
مےں 
جہےز کا سامان بھی بجت حد تک وےسا ہی ہوتا تھا جےسا کہ ہندووں مےں رائج تھا۔

0نکاح بےوگان 
قدےم زمانے سے ہندووں مےں بےوہ کی عقد ثانی کا رواج نہےں تھا۔ 
ہندوستانی مسلمانوں 
نے بھی بےوہ کے عقد ثانی کو مزموم سمجھ لےا۔ شاہ ولی الّلۃ لکھتے ہےں 
ہندووں کی اےک بدترےن رسم ےہ ہے کہ بےوہ کی دوسری شادی نہےں 
کرتے۔ ےہ 
بدترےن رسم عربوں مےں کبھی نہ تھی۔ نہ آنحضرت صلی الّلۃ علےہہ وسلم سے قبل نہ 
آپ 
کے زمانے مےں اور نہ آپ کے بعد۔

جب کسی عورت کا سوہر مرجاتا تو اس کے رشتہ دار اسے عقد ثانی سے 
منع کرتے اور اگر کوئی عورت عقد ثانی 
کرلےتی تو لوگ اسے لعن طعن کرتے۔ اس کا نتےجہ ےہ ہوا کہ بالعموم بےوہ عورت اپنی 
پوری زندگی رنڈاپے مےں کاٹتی تھی۔

آٹھاروےں صدی مےں اس رسم پر اتنی سختی سے پابندی کی جاتی تھی 
کہ شاہ اسمعےل شہےد 
کی بےوہ بہن کا عقد ثانی نہ ہوا تھا۔ دور حاضر مےں بھی بےوہ کے عقد ثانی کو مزموم 
سمجھا جاتا 
ہے۔ احمد علی کی کتاب دلی کی شام مےں اےسی مثالےں ملتی ہےں۔
60(43) 4

0تفرےحی مشاغل

مہاجر مسلمان بعض تفرےحی مشاغل اپنے ساتھ لائے تھے لےکن رفتہ رفتہ 
انھوں نے 
خالص ہندوستانی کھےل تماشے اپنی تفرےحی طبع کے لےے اپنا لےے۔ ان کو عربی ےا فارسی 
کے 
نام دے کر اور بعض ضمنی تبدےلےاں کرکے انھےں اسلامی بنالےا۔ مثلاََ پتنگ بازی، عہد 
مغلےہ 
مےں مسلمانوں مےں پتنگ بازی کا عام رواج تھا۔ اٹھاروےں صدی کے خواص و عوام 
مسلمان 
دونوں پتنگ بازی سے خاص طور پر دلچسپی رکھتے تھے۔ انند رام مخلص نے دہلی مےں 
پتنگ 
بازی کے عام رواج کا ذکر کےا ہے، دہلی مےں آج بھی پتنگ بازی کا رواج عام ہے۔ نہ 
صرف 
دہلی بلکہ شمالی ہندستان کے تقرےباََ سارے بڑے شہروں کے مسلمان پتنگ بازی سے 
خاصل دلچسپی لےتے
تھے۔ مےسز مےر حسن علی نے لکھنوئ کے مسلمانوں مےں پتنگ بازی سے خالص دلچسپی 
کا ذکر کےا ہے۔ آگرہ مےں 
بھی پتنگ بازی کے مقابلے ہوا کرتے تھے۔ نظےر اکبر آبادی نے ان مقابلوں کا تفصےلی ذکر 
کےا ہے۔ نوابےن 
و امرائے بنگال اودھ پتنگ بازی سے دلچسپی لےتے تھے۔ نواب آصف الدولہ کو پتنگ بازی 
کا بڑا چسکا تھا۔

بھگت بازی : ہندووں کے اس فن و پےشے کو مسلمانوں نے اپنا لےا تھا۔ اور 
اس 
کے ذرےعے بسر اوقات کرتے تھے۔ دہلی مےں بھگت مسلمانوں کا اےک قبےلہ تھا اور تقی 
نامی اےک شخص اس قبےلے کا سردار تھا۔ لکھنوئ مےں اس فن نے بہت ترقی پائی۔ 
واجد علی شاہ 
کو رہس سے خاص دلچسپی تھیط ےہاں امانت لکھنوی نے اندر سبھا لکھی۔ اسی طرح 
کٹھ پتلی 
کا کھےل مسلمانوں نے اپنا لےا اور اس کا نام شب بازی رکھا۔ عہد مغلےہ مےں شب بازی 
اےک اہم مشغلہ تھا۔ اٹاوہ مےں مسلمانوں کا اےک قبےلہ تھا جو شب بازی کے فن مےں 
بڑی مہارت رکھتا تھا۔ البےرونی نے ہندووں کے نٹوں کے فرقے کا ذکر کےا ہے۔ مسلمانوں 
مےں بھی نٹوں کا فرقہ موجود تھا۔ اس فن مےں دلچسپی اس حد تک پہنچ گئی تھی 
خالص ہندوستانی کھےل تماشے اپنی تفرےحی طبع کے لےے اپنا لےے۔ ان کو عربی ےا فارسی 
کے 
نام دے کر اور بعض ضمنی تبدےلےاں کرکے انھےں اسلامی بنالےا۔ مثلاََ پتنگ بازی، عہد 
مغلےہ 
مےں مسلمانوں مےں پتنگ بازی کا عام رواج تھا۔ اٹھاروےں صدی کے خواص و عوام 
مسلمان 
دونوں پتنگ بازی سے خاص طور پر دلچسپی رکھتے تھے۔ انند رام مخلص نے دہلی مےں 
پتنگ 
بازی کے عام رواج کا ذکر کےا ہے، دہلی مےں آج بھی پتنگ بازی کا رواج عام ہے۔ نہ 
صرف 
دہلی بلکہ شمالی ہندستان کے تقرےباََ سارے بڑے شہروں کے مسلمان پتنگ بازی سے 
خاصل دلچسپی لےتے
تھے۔ مےسز مےر حسن علی نے لکھنوئ کے مسلمانوں مےں پتنگ بازی سے خالص دلچسپی 
کا ذکر کےا ہے۔ آگرہ مےں 
بھی پتنگ بازی کے مقابلے ہوا کرتے تھے۔ نظےر اکبر آبادی نے ان مقابلوں کا تفصےلی ذکر 
کےا ہے۔ نوابےن 
و امرائے بنگال اودھ پتنگ بازی سے دلچسپی لےتے تھے۔ نواب آصف الدولہ کو پتنگ بازی 
کا بڑا چسکا تھا۔

بھگت بازی : ہندووں کے اس فن و پےشے کو مسلمانوں نے اپنا لےا تھا۔ اور 
اس 
کے ذرےعے بسر اوقات کرتے تھے۔ دہلی مےں بھگت مسلمانوں کا اےک قبےلہ تھا اور تقی 
نامی اےک شخص اس قبےلے کا سردار تھا۔ لکھنوئ مےں اس فن نے بہت ترقی پائی۔ 
واجد علی شاہ 
کو رہس سے خاص دلچسپی تھیط ےہاں امانت لکھنوی نے اندر سبھا لکھی۔ اسی طرح 
کٹھ پتلی 
کا کھےل مسلمانوں نے اپنا لےا اور اس کا نام شب بازی رکھا۔ عہد مغلےہ مےں شب بازی 
اےک اہم مشغلہ تھا۔ اٹاوہ مےں مسلمانوں کا اےک قبےلہ تھا جو شب بازی کے فن مےں 
بڑی مہارت رکھتا تھا۔ البےرونی نے ہندووں کے نٹوں کے فرقے کا ذکر کےا ہے۔ مسلمانوں 
مےں بھی نٹوں کا فرقہ موجود تھا۔ اس فن مےں دلچسپی اس حد تک پہنچ گئی تھی غ لڑا کر بہادر شاہ ظفر کا دل بہلاتے تھے اور غالباََ ےہ روزانہ کا شعل تھا۔ لکھنوئ کے 
عوام و خواص اپنی فارغ البالی کی وجہ سے اپنا بےشتر وقت پرندوں کو لڑانے اور محفوظ 
ہونے مےں صرف کرتے تھے۔ 
دوسرے تفرےحی مشاغل مےں غبارے بازی، ہنڈولا، بےل گاڑےوں کی دوڑ کے 
مقابلے کر جےسے آگ کے 
گرد چکر لگانا، باقی سب رسمےں ہندووں کی طرح کرتے ہےں جےسے لڑکے اور لڑکی کو 
زرد کپڑے پہنانا اور کلائی مےں رےشمی کلاوا باندھنا عقہ سے فارغ ہونے تک
دولھا کا ہاتھ مےں لوہے کا ہتھےار رکھنا اور عورتوں کی سٹھنی لگانا، عام تجمل و 
آراےش کے ساتھ دولھا کو دلھن کے گھر ساچق لے جانا خالص ہند سے مخصوص ہے۔

دور حاضر مےں بھی قصبات اور دےہات کے رہنے والے زراعت پےشہ مسلمانوں 
مےں بچپنے 
کی شادی ہندووں سے اخز کی گئی رسم کی نشان دہی کرتی ہے۔ شادی بےاہ کے رسوم 
مسلم 
سماج مےں اس حد تک سےراےت کر گئے تھے کہ مسلمانوں کو اس بات کا احساس بھی نہ 
رہا تھا کہ 
ےہ رسمےں غےر اسلامی تھےں۔ سودا نے حضرت قاسم کی شادی کی رسوم کے ذکر مےں 
ہندوستانی 
رسموں کو اس اندازے سے بےان کےا ہے۔ گوےا ےہ رسمےں عربوں مےں پائی جاتی تھےں 
مثلاََ ساچق 
منہدی، برات، رقص و سورد، دھنگانا، رخصتی کے وقت رنگ کھےلنا وغےرہ۔ مسلمانوں 
مےں 
جہےز کا سامان بھی بجت حد تک وےسا ہی ہوتا تھا جےسا کہ ہندووں مےں رائج تھا۔

0نکاح بےوگان 
قدےم زمانے سے ہندووں مےں بےوہ کی عقد ثانی کا رواج نہےں تھا۔ 
ہندوستانی مسلمانوں 
نے بھی بےوہ کے عقد ثانی کو مزموم سمجھ لےا۔ شاہ ولی الّلۃ لکھتے ہےں 
ہندووں کی اےک بدترےن رسم ےہ ہے کہ بےوہ کی دوسری شادی نہےں 
کرتے۔ ےہ 
بدترےن رسم عربوں مےں کبھی نہ تھی۔ نہ آنحضرت صلی الّلۃ علےہہ وسلم سے قبل نہ 
آپ 
کے زمانے مےں اور نہ آپ کے بعد۔

جب کسی عورت کا سوہر مرجاتا تو اس کے رشتہ دار اسے عقد ثانی سے 
منع کرتے اور اگر کوئی عورت عقد ثانی 
کرلےتی تو لوگ اسے لعن طعن کرتے۔ اس کا نتےجہ ےہ ہوا کہ بالعموم بےوہ عورت اپنی 
پوری زندگی رنڈاپے مےں کاٹتی تھی۔

آٹھاروےں صدی مےں اس رسم پر اتنی سختی سے پابندی کی جاتی تھی 
کہ شاہ اسمعےل شہےد
اور ان 
کی نوکرانےوں کو شاہی محل مےں اپنے اپنے مزہبی عقائد پر عمل کرنے اور سماجی رسوم 
ادا کرنے 
کی پوری آزادی دی گئی۔

1۔ اکبر نے ہندو تہواروں کو قومی تہواروں کی حےثےت سے دربار مےں بڑی دھوم دھام 
سے منانا شروع کردےا۔ اس کی پےروی مےں بعد کے مغلےہ بادشاہ ان تہواروں کو مناتے رہے 
اور بادشاہوں کی پےروی مےں عوام نے بھی ہندو تہواروں مےں خصوصی دلچسپی لی۔ 
مثلاََ 
ہولی، دےوالی. دسہرہ، بسنت، سلونوں، جنم اشٹمی کے تہوار مسلمان بھی مناتے تھے۔ 
دےوالی 
کی رات کو مسلمان بھی جوا کھےلتے تھے۔ لال قلعہ مےں گوبر دھن کی پوجا ہوتی 
تھی۔ عام مسلمان 
اور بالخصوص مسلمان عورتےں دسہرہ ہولی اور دےوالی کے موقع کی تمام رسموں کو ادا 
کرتی 
تھےں۔ مرزا مظہر جان جاناں کا بےان ہے :

چنانچہ در آےام دولی کفار جہلہ اسلام علی الخصوص زباب اےشاں رسوم کفر
بجامی آرند و عےد خود می سازند وہداےا شبےہ بہ بداےاہی اہلی کفربخا نہائے
دختران و خواہران در رنگ اہل شرمی می فرستند۔

2۔ ہندوستان مےں ابتدائی نسلی امتےاز کی وجہ سے مسلم سماج کی تنظےم رفتہ رفتہ 
ہندووں 
کے ذات پات کے نظام مےں رنگنے لگی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ابتدائی زمانے مےں آنے والے
دہلی کے عہد سے ہندستان مےں اےک نئے مسلم سماج کی تشکےل کے باب کا آغاز ہوا جس 
کی 
تکمےل عہد مغلےہ مےں ہوئی۔ اکبر کے دور حکومت سے مسلم سماج کی ترتےب و تشکےل 
کا اےک 
نےا دور شروع ہوا۔ ملک کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے اور ملک مےں سےاسی استحکام 
اور سرکاری کارخانوں مےں ہر فن کے صنعت کاروں کو ملازم رکھا۔ اس کا نتےجہ ےہ نکلا 
کہ ہندوستان کے ان قدےم باشندوں کو جنھےں مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد مسلم سماج 
مےں 
مناسب جگہ نہ ملی تھی، اب مل گئی۔ لےکن اس کا ےہ بھی نتےجہ برآمد ہوا کہ مسلم 
سماج پےشہ ورانہ 
60(41) 2

طبقوں مےں تقسےم ہوگےا۔ ہندووں کی قدےم طبقاتی تقسےم نے مسلم سماج کے لےے اےک 
نمونہ 
پےش کےا اور اسی طرز پر مسلم سماج مےں پےشہ ور طبقے نماےاں نظر آنے لگے۔ رفتہ 
رفتہ ہر پےشہ ور 
طبقے نے اپنے پےشے کو موروثی بنا لےا، اپنی مخصوص رسمےں قائم کرلےں اور شادی بےاہ 
کے تعلقات 
ہم پےشہ لوگوں کے دائرے مےں محدود کرلےے۔ ےہ تقسےم ہمارے زمانے تک موجود ہے۔ 
منےر 
مےر حسن نے لکھا تھا کہ لکھنوئ کے سےد خاندانوں مےں اےسا بھی ہوتا تھا کہ محدود 
دائرے مےں 
مناسب رشتہ نہ ملنے کی وجہ سے بعض لڑکےاں اپنی زندگی ناکت خدائی کی حالت مےں 
گزارتی 
تھےں۔ 
3۔ بچے کی ولادت سے موت کے موقع تک عمل مےں آنے والی بعض رسمےں اےسی ہےں 
جو خالص ہندوستان کی دےن ہےں۔ عورت کی حاملہ ہونے اوپر بچے کی ولادت کے بعد کی 
جتنی 
بھی رسمےں ہندوستانی مسلمانوں مےں مروج ہےں وہ سب کی سب ہندوستانی ہےں۔ 
جنھےں 
مسلمانوں نے جوں کا توں اپنا لےا ہے۔ ان مےں بعض کے نام تو وہی ہندوستانی ہےں 
مگر طرےقے 
بدل گئے ہےں اور بعض مےں برائے نام فرق کردےا گےا ہے۔ مثلاََ تےجا ہندووں مےں، فاتحہ 
ےا پھول مسلمانوں مےں۔ اگرچہ پھول کا لفظ ےہاں بھی مشترک ہے کےوں کہ ہندووں 
مےں پھول 
مردے کی جلی ہڈےوں کو کہتے ہےں۔ جو تےسرے دن چن کر مرگھٹ سے جمع کی جاتی 
ہےں در سوم 
دہلی جاملہ عورت سے متعلق رسوم مےں ستوانسا اور نوما نسا کی رسوم ہندووں 
اور مسلمانوں مےں ےکساں تھےں۔ پتی اور چھٹی کی رسمےں ہندووں سے اخذ کی 
گئی ہےں۔ اس
موقع پر چھوچھک کی رسم، اس کے نام سے ہی اس رسم کے ہندوانہ ہونے کی نشاندہی 
ہوتی ہے۔ 
زچہ کو تارے رکھانے کی رسم خاندان مغلےہ مےں مروج تھی اور دہلی کے 
مسلمانوں 
مےں بھی عام تھی۔ اس موقع پر اور کئی رسمےں ادا کی جاتی تھےں جو ہندووں سے 
لی گئی تھےں۔
برس گانٹھ ےا سال گرہ کی رسم ہندووں سے لی گئی تھی۔ دودھ بڑھانے کے موقع کی 
رسمےں 
ہندووں سے اخز کی گئی تھےں جتنے کے موقع پر گھوڑی پر چڑھانے کی رسم ہنددانہ 
تھی۔

0شادی بےاہ کی رسمےں :

مرزا قتےل جو دونوں قوموں کے رسوم سے بخوبی واقت تھے رقم طراز ہےں :
60(42) 3

ہندوستان کے مسلمان بےٹے اور بےٹی کی شادی مےں چند رسموں کو چھوڑ 
کر جےسے آگ کے 
گرد چکر لگانا، باقی سب رسمےں ہندووں کی طرح کرتے ہےں جےسے لڑکے اور لڑکی کو 
زرد کپڑے پہنانا اور کلائی مےں رےشمی کلاوا باندھنا عقہ سے فارغ ہونے تک
دولھا کا ہاتھ مےں لوہے کا ہتھےار رکھنا اور عورتوں کی سٹھنی لگانا، عام تجمل و 
آراےش کے ساتھ دولھا کو دلھن کے گھر ساچق لے جانا خالص ہند سے مخصوص ہے۔

دور حاضر مےں بھی قصبات اور دےہات کے رہنے والے زراعت پےشہ مسلمانوں 
مےں بچپنے 
کی شادی ہندووں سے اخز کی گئی رسم کی نشان دہی کرتی ہے۔ شادی بےاہ کے رسوم 
مسلم 
سماج مےں اس حد تک سےراےت کر گئے تھے کہ مسلمانوں کو اس بات کا احساس بھی نہ 
رہا تھا کہ 
ےہ رسمےں غےر اسلامی تھےں۔ سودا نے حضرت قاسم کی شادی کی رسوم کے ذکر مےں 
ہندوستانی 
رسموں کو اس اندازے سے بےان کےا ہے۔ گوےا ےہ رسمےں عربوں مےں پائی جاتی تھےں 
مثلاََ ساچق 
منہدی، برات، رقص و سورد، دھنگانا، رخصتی کے وقت رنگ کھےلنا وغےرہ۔ مسلمانوں 
مےں 
جہےز کا سامان بھی بجت حد تک وےسا ہی ہوتا تھا جےسا کہ ہندووں مےں رائج تھا۔

0نکاح بےوگان 
قدےم زمانے سے ہندووں مےں بےوہ کی عقد ثانی کا رواج نہےں تھا۔ 
ہندوستانی مسلمانوں 
نے بھی بےوہ کے عقد ثانی کو مزموم سمجھ لےا۔ شاہ ولی الّلۃ لکھتے ہےں 
ہندووں کی اےک بدترےن رسم ےہ ہے کہ بےوہ کی دوسری شادی نہےں 
کرتے۔ ےہ 
بدترےن رسم عربوں مےں کبھی نہ تھی۔ نہ آنحضرت صلی الّلۃ علےہہ وسلم سے قبل نہ 
آپ 
کے زمانے مےں اور نہ آپ کے بعد۔

جب کسی عورت کا سوہر مرجاتا تو اس کے رشتہ دار اسے عقد ثانی سے 
منع کرتے اور اگر کوئی عورت عقد ثانی 
کرلےتی تو لوگ اسے لعن طعن کرتے۔ اس کا نتےجہ ےہ ہوا کہ بالعموم بےوہ عورت اپنی 
پوری زندگی رنڈاپے مےں کاٹتی تھی۔

آٹھاروےں صدی مےں اس رسم پر اتنی سختی سے پابندی کی جاتی تھی 
کہ شاہ اسمعےل شہےد 
کی بےوہ بہن کا عقد ثانی نہ ہوا تھا۔ دور حاضر مےں بھی بےوہ کے عقد ثانی کو مزموم 
سمجھا جاتا 
ہے۔ احمد علی کی کتاب دلی کی شام مےں اےسی مثالےں ملتی ہےں۔
60(43) 4

0تفرےحی مشاغل

مہاجر مسلمان بعض تفرےحی مشاغل اپنے ساتھ لائے تھے لےکن رفتہ رفتہ 
انھوں نے 
خالص ہندوستانی کھےل تماشے اپنی تفرےحی طبع کے لےے اپنا لےے۔ ان کو عربی ےا فارسی 
کے 
نام دے کر اور بعض ضمنی تبدےلےاں کرکے انھےں اسلامی بنالےا۔ مثلاََ پتنگ بازی، عہد 
مغلےہ 
مےں مسلمانوں مےں پتنگ بازی کا عام رواج تھا۔ اٹھاروےں صدی کے خواص و عوام 
مسلمان 
دونوں پتنگ بازی سے خاص طور پر دلچسپی رکھتے تھے۔ انند رام مخلص نے دہلی مےں 
پتنگ 
بازی کے عام رواج کا ذکر کےا ہے، دہلی مےں آج بھی پتنگ بازی کا رواج عام ہے۔ نہ 
صرف 
دہلی بلکہ شمالی ہندستان کے تقرےباََ سارے بڑے شہروں کے مسلمان پتنگ بازی سے 
خاصل دلچسپی لےتے
تھے۔ مےسز مےر حسن علی نے لکھنوئ کے مسلمانوں مےں پتنگ بازی سے خالص دلچسپی 
کا ذکر کےا ہے۔ آگرہ مےں 
بھی پتنگ بازی کے مقابلے ہوا کرتے تھے۔ نظےر اکبر آبادی نے ان مقابلوں کا تفصےلی ذکر 
کےا ہے۔ نوابےن 
و امرائے بنگال اودھ پتنگ بازی سے دلچسپی لےتے تھے۔ نواب آصف الدولہ کو پتنگ بازی 
کا بڑا چسکا تھا۔

بھگت بازی : ہندووں کے اس فن و پےشے کو مسلمانوں نے اپنا لےا تھا۔ اور 
اس 
کے ذرےعے بسر اوقات کرتے تھے۔ دہلی مےں بھگت مسلمانوں کا اےک قبےلہ تھا اور تقی 
نامی اےک شخص اس قبےلے کا سردار تھا۔ لکھنوئ مےں اس فن نے بہت ترقی پائی۔ 
واجد علی شاہ 
کو رہس سے خاص دلچسپی تھیط ےہاں امانت لکھنوی نے اندر سبھا لکھی۔ اسی طرح 
کٹھ پتلی 
کا کھےل مسلمانوں نے اپنا لےا اور اس کا نام شب بازی رکھا۔ عہد مغلےہ مےں شب بازی 
اےک اہم مشغلہ تھا۔ اٹاوہ مےں مسلمانوں کا اےک قبےلہ تھا جو شب بازی کے فن مےں 
بڑی مہارت رکھتا تھا۔ البےرونی نے ہندووں کے نٹوں کے فرقے کا ذکر کےا ہے۔ مسلمانوں 
مےں بھی نٹوں کا فرقہ موجود تھا۔ اس فن مےں دلچسپی اس حد تک پہنچ گئی تھی 
کہ مسلمان 
عورتےں اس فن کی تعلےم حاصل کےا کرتی تھےں۔ شہنائی بائی نامی اےک عورت نے اس 
فن 
مےں خاصی مہارت حاصل کرلی تھی۔ مسلمانوں مےں بہروپےوں کا فرقہ بھی ہندووں کی 
دےن ہے۔ قدےم ہندوستان مےں بازی گروں کا فرقہ پاےا جاتا تھا۔ مسلمانوں مےں بھی 
بازی گروں کی اےک جماعت پائی جاتی تھی۔ بابر نے مدارےوں کا ذکر کےا ہے، اس فرقہ 
کے لوگ خود کو مسلمان صرف اس وجہ سے کہتے تھے کہ ان کے ےہاں ختنے کی رسم ادا
ہوتی تھی۔ ان کی شادی کی رسمےں ملّا اور قاضی ادا کرتے تھے۔ بس اسلام سے ان کا 
60(44) 5

اتنا ہی واسطہ تھا۔ ان کی بقےہ رسمےں وہی تھےں جن پر وہ مشرف بہ اسلام ہونے سے
پہلے عمل کرتے تھے۔ گھرےلو کھےلوں مےں شطرنج، چوسر، چوپڑ خالص ہندوستانی کھےل 
تھے۔ 
عہد مغلےہ کے بادشاہ امرا اور عوام ان کھےلوں سے بڑی دلچسپی لےتے تھے۔ اکبر نے فتح 
پور 
سےکری مےں فرش پر شطرنج کی بساط بنوائی تھی اور مہروں کی جگہ غلام عورتوں 
کو کھڑا کرکے 
وہ شطرنج کھےلا کرتا تھا۔ شاہی حرم کی مستورات شطرنج کھےلا کرتی تھےں۔ زےب 
النسائ 
کو چوسر کھےلنے سے بڑی دلچسپی تھی۔ ان کھےلوں کے علاوہ چندل مندل اور گنجفہ کا 
کھےل مسلمانوں 
نے ہندوستان سے اخز کےا تھا۔
0پرندوں اور جانوروں کی لڑائےاں :

مختلف قسم کے پرندوں کو آپس مےں لڑانے کا شوق ہر طبقے کے مسلمانوں 
مےں
پاےا جاتا تھا۔ ان مےں مرغ بازی، بٹےر بازی، تےتر بازی، گلدم بازی، لوا بازی، 
طوطے بازی اور درندوں مےں ہاتھی، شےر، ہرن چےتے، سور تےندوے، سانڈ، مےنڈھے 
اور دوسرے جانوروں کو آپس مےں لڑا کر اس منظر سے مسلمان مخطوط ہوا کرتے تھے۔ 
اسپےر نے لکھا ہے کہ شام کے چار بجے محل کے سامنے کئی سلاطےن جمع ہوجاتے اور اپنے 
مرغ لڑا کر بہادر شاہ ظفر کا دل بہلاتے تھے اور غالباََ ےہ روزانہ کا شعل تھا۔ لکھنوئ کے 
عوام و خواص اپنی فارغ البالی کی وجہ سے اپنا بےشتر وقت پرندوں کو لڑانے اور محفوظ 
ہونے مےں صرف کرتے تھے۔ 
دوسرے تفرےحی مشاغل مےں غبارے بازی، ہنڈولا، بےل گاڑےوں کی دوڑ کے 
مقابلے 
اور درےاوں مےں چراغاں کرنا شامل تھے۔ اسی طرح بچوں اور لڑکوں کے بہت سے کھےل 
خالص ہندوستانی تھے اور ان کے نامی بھی ہندی مےں تھے۔ انشائ الّلۃ نے ان کھےلوں کا 
تفصےلی ذکر کےا ہے۔

0سوارےاں :

ہندوستان آنے کے بعد اس ملک کے جغرافےائی حالات اور ےہاں کے چلن کے 
مطابق مسلمانوں نے اونٹ اور گھوڑے کی سواری کے ساتھ ساتھ ہندوستان مےں مروجہ 
60(45) 6

دوسری سوارےاں بھی اپنا لےں اور ان سوارےوں مےں جدت سے کام لےا۔ مثلاََ ہاتھی کی 
سواری، پالکی، سکھ پال، سنگھاسن، جوالہ، چنڈول، بہل رتھ وغےرہ۔ ہندوستانی 
سلمانوں 
کی مخصوص سواری گاڑےاں اور بار برداری کے جانور ےہ تھے۔ مےانہ محافہ، چنڈول، 
ےنس، 
چوپالہ، کھڑ کھڑ ےہ چھکڑا، لڑھا، رہکلہ، بہل، خچر، ٹٹو، بھےنسا، گوخر اور تانگہ،

0علوم و فنون :

قدےم ہندوستان مےں علم نجوم و فلکےات کے علوم کا عام رواج تھا۔ 
ہندوستانی مسلمانوں 
کو بھی اس علم سے دلچسپی پےدا ہوگئی۔ علائ الدےن خلجی کے دور حکومت مےں خواص 
و عوام 
کو اہل تنجےم سے بڑی دلچسپی تھی اور برنی کے بےان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے 
مےں 
مسلمانوں مےں علوم نجوم کا عام رواج پاےا جاتا تھا،(تارےخ فےروز شاہی363/۔364) 
دہلی کا کوئی اےسا محلہ نہ تھا جس مےں نجومی سکونت پزےر نہ ہوں۔ ملوک اور امرا 
اپنے بچوں 
کے زائچے ان سے تےار کرواتے تھے۔ علاوالدےن خلجی کے محل کی عورتوں مےں نجومےوں 
کا 
بڑا اثر تھا۔ برنی نے اس عہد کے نجومےوں کا ذکر کےا ہے۔ ان مےں سے تےن رمّال بہت 
مشہور تھے۔ مولانا صدرالدےن لوتی، غرلی رمّال (باشندہ کول) اور معےن الملک زےری 
سلطان فےروزشاہ تغلق کو علم نجوم و ہےئےت سے بڑی دلچسپی تھی۔
منجمان داتا اور کانہاں بارےک مےں سے ستاروں کے بارے مےں معلومات حاصل کےا
کرتا تھا اس علم کا اس نے مطالعہ بھی کےا تھا اور کئی کتابےں اس فن مےں لکھوائی 
تھےں 
(عفےف، تارےخ فےروز شاہی اس نے اےک اصطرلاب بھی اےجاد کےا تھا جو اصطراب
فےروز شاہی کہلاتا تھا۔ جوالا مکھی مندر مےں فےروز شاہ نے نجوم کے موضوع پر اےک 
سنسکرت مےں تصنےف پائی تھی جس کا ترجمہ اس نے عزا لدےن خالد خانی سے کرواےا 
تھا۔ 
اور اس کا نام دلائل فےروز شاہی رکھا تھا۔ فےروز شاہ نے بار اہمر کی مشہور تصنےف 
باراہی 
سنکھتا کا بھی ترجمہ کرواےا تھا۔ پروفےسر خلےق احمد نظامی کا خےال ہے کہ غالباََ اس 
زمانے 
کے مدراس مےں طلبہ کو اس علم کی تعلےم دی جاتی تھی۔

عہد مغلےہ مےں علم نجوم سے گہری دلچسپی کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ 
اکبر کو اس علم 
سے بڑی دلچسپی تھی۔ علم فلکےات مےں تاجک نامی مشہور کتاب کا فارسی مےں ترجمہ 
کرواےا 
60(46) 7

گےا تھا۔ اس زمانے مےں سےد مےر بہت مشہور نجومی تھے۔ اکبر نے مدراس کے نصاب 
مےں 
علم نجوم درمل کے مضامےن کو لازمی مضامےن کی حےثےت دی تھی۔

سترھوےں اور اٹھاروےں صدی مےں علم نجوم کا عام چرچا تھا۔ اور خواص و 
عوام دونوں
نجومےوں سے بڑی عقےدت رکھتے تھے اور ان کے مشورہ کے بغےر کوئی اہم کام شروع نہےں 
کرتے
تھے۔ ےہاں تک کہ جنگ کرنے اور بچے کی ولادت کا وقت تک ان سے درےافت کےا جاتا تھا۔ 
محمد شاہ بادشاہ کے دربار سے وابستہ نجومےوں مےں مشےر خاں، منجم خاں، مرزا حسن 
تارےخ نوےس 
بہت مشہور تھے۔ اٹھاروےں صدی کے ادب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے
مہارت وارد۔) حکےم مومن خاں مومن کو علم نجومی ان کا منہ دےکھا کرتے تھے۔ اےسے 
مسلمان نجومےوں کے سےنکڑوں ناموں کا اضافہ 
کےا جاسکتا ہے۔ اےک موقع پر شاہ عالم ثانی نے ےہ کہاوت دہرائی تھی۔ آنچہ بورزدبرد
وآنچہ از دزد باقی ماند، رمّال گرفت، دروزنامچہ شاہ عالم 
باہر سے آئے مسلمانوں نے بھی سحر و افسوس کے فن مےں مہارت حاصل 
کرلی تھی۔
نتےجتاََ عام مسلمان سحروافسوں پر اعتقاد رکھنے لگے۔ اٹھاروےں صدی مےں تقی نامی 
بھگتےہ 
سحر سامری کا اےک کہنہ مشق اور کامل جادوگر تھا۔

0اوہام پرستی 
عام مسلمانوں مےں اوہام پرستی کا رواج پاےا جاتا تھا۔ شادی کے موقعوں پر 
قسم 
قسم کے اوہام پر عمل کےا جاتا تھا۔ اور آج بھی ان کی اداےگی لوازم مےں سے ہے۔ مثلاََ 
نوشہ 
جاتے تھے۔ موسل سے ناڑا باندھا جاتا تھا۔ اور بعض دوسری اےسی رسمےں تھےں جن کا 
اسلام 
سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا اور خالص ہندوستانی ماحول کی دےن تھےں۔ مثلاََ نثار 
اتارنے 
کا رواج۔

شاہ مدار، غازی مےاں ےا کسی دوسرے بزرگ کے نام کی چوٹی بچوں کے سر 
پر رکھی
گرد چکر لگانا، باقی سب رسمےں ہندووں کی طرح کرتے ہےں جےسے لڑکے اور لڑکی کو 
زرد کپڑے پہنانا اور کلائی مےں رےشمی کلاوا باندھنا عقہ سے فارغ ہونے تک
دولھا کا ہاتھ مےں لوہے کا ہتھےار رکھنا اور عورتوں کی سٹھنی لگانا، عام تجمل و 
آراےش کے ساتھ دولھا کو دلھن کے گھر ساچق لے جانا خالص ہند سے مخصوص ہے۔

دور حاضر مےں بھی قصبات اور دےہات کے رہنے والے زراعت پےشہ مسلمانوں 
مےں بچپنے 
کی شادی ہندووں سے اخز کی گئی رسم کی نشان دہی کرتی ہے۔ شادی بےاہ کے رسوم 
مسلم 
سماج مےں اس حد تک سےراےت کر گئے تھے کہ مسلمانوں کو اس بات کا احساس بھی نہ 
رہا تھا کہ 
ےہ رسمےں غےر اسلامی تھےں۔ سودا نے حضرت قاسم کی شادی کی رسوم کے ذکر مےں 
ہندوستانی 
رسموں کو اس اندازے سے بےان کےا ہے۔ گوےا ےہ رسمےں عربوں مےں پائی جاتی تھےں 
مثلاََ ساچق 
منہدی، برات، رقص و سورد، دھنگانا، رخصتی کے وقت رنگ کھےلنا وغےرہ۔ مسلمانوں 
مےں 
جہےز کا سامان بھی بجت حد تک وےسا ہی ہوتا تھا جےسا کہ ہندووں مےں رائج تھا۔

0نکاح بےوگان 
قدےم زمانے سے ہندووں مےں بےوہ کی عقد ثانی کا رواج نہےں تھا۔ 
ہندوستانی مسلمانوں 
نے بھی بےوہ کے عقد ثانی کو مزموم سمجھ لےا۔ شاہ ولی الّلۃ لکھتے ہےں 
ہندووں کی اےک بدترےن رسم ےہ ہے کہ بےوہ کی دوسری شادی نہےں 
کرتے۔ ےہ 
بدترےن رسم عربوں مےں کبھی نہ تھی۔ نہ آنحضرت صلی الّلۃ علےہہ وسلم سے قبل نہ 
آپ 
کے زمانے مےں اور نہ آپ کے بعد۔

جب کسی عورت کا سوہر مرجاتا تو اس کے رشتہ دار اسے عقد ثانی سے 
منع کرتے اور اگر کوئی عورت عقد ثانی 
کرلےتی تو لوگ اسے لعن طعن کرتے۔ اس کا نتےجہ ےہ ہوا کہ بالعموم بےوہ عورت اپنی 
پوری زندگی رنڈاپے مےں کاٹتی تھی۔

آٹھاروےں صدی مےں اس رسم پر اتنی سختی سے پابندی کی جاتی تھی 
کہ شاہ اسمعےل شہےد 
کی بےوہ بہن کا عقد ثانی نہ ہوا تھا۔ دور حاضر مےں بھی بےوہ کے عقد ثانی کو مزموم 
سمجھا جاتا 
ہے۔ احمد علی کی کتاب دلی کی شام مےں اےسی مثالےں ملتی ہےں۔
60(43) 4

0تفرےحی مشاغل

مہاجر مسلمان بعض تفرےحی مشاغل اپنے ساتھ لائے تھے لےکن رفتہ رفتہ 
انھوں نے 
خالص ہندوستانی کھےل تماشے اپنی تفرےحی طبع کے لےے اپنا لےے۔ ان کو عربی ےا فارسی 
کے 
نام دے کر اور بعض ضمنی تبدےلےاں کرکے انھےں اسلامی بنالےا۔ مثلاََ پتنگ بازی، عہد 
مغلےہ 
مےں مسلمانوں مےں پتنگ بازی کا عام رواج تھا۔ اٹھاروےں صدی کے خواص و عوام 
مسلمان 
دونوں پتنگ بازی سے خاص طور پر دلچسپی رکھتے تھے۔ انند رام مخلص نے دہلی مےں 
پتنگ 
بازی کے عام رواج کا ذکر کےا ہے، دہلی مےں آج بھی پتنگ بازی کا رواج عام ہے۔ نہ 
صرف 
دہلی بلکہ شمالی ہندستان کے تقرےباََ سارے بڑے شہروں کے مسلمان پتنگ بازی سے 
خاصل دلچسپی لےتے
تھے۔ مےسز مےر حسن علی نے لکھنوئ کے مسلمانوں مےں پتنگ بازی سے خالص دلچسپی 
کا ذکر کےا ہے۔ آگرہ مےں 
بھی پتنگ بازی کے مقابلے ہوا کرتے تھے۔ نظےر اکبر آبادی نے ان مقابلوں کا تفصےلی ذکر 
کےا ہے۔ نوابےن 
و امرائے بنگال اودھ پتنگ بازی سے دلچسپی لےتے تھے۔ نواب آصف الدولہ کو پتنگ بازی 
کا بڑا چسکا تھا۔

بھگت بازی : ہندووں کے اس فن و پےشے کو مسلمانوں نے اپنا لےا تھا۔ اور 
اس 
کے ذرےعے بسر اوقات کرتے تھے۔ دہلی مےں بھگت مسلمانوں کا اےک قبےلہ تھا اور تقی 
نامی اےک شخص اس قبےلے کا سردار تھا۔ لکھنوئ مےں اس فن نے بہت ترقی پائی۔ 
واجد علی شاہ 
کو رہس سے خاص دلچسپی تھیط ےہاں امانت لکھنوی نے اندر سبھا لکھی۔ اسی طرح 
کٹھ پتلی 
کا کھےل مسلمانوں نے اپنا لےا اور اس کا نام شب بازی رکھا۔ عہد مغلےہ مےں شب بازی 
اےک اہم مشغلہ تھا۔ اٹاوہ مےں مسلمانوں کا اےک قبےلہ تھا جو شب بازی کے فن مےں 
بڑی مہارت رکھتا تھا۔ البےرونی نے ہندووں کے نٹوں کے فرقے کا ذکر کےا ہے۔ مسلمانوں 
مےں بھی نٹوں کا فرقہ موجود تھا۔ اس فن مےں دلچسپی اس حد تک پہنچ گئی تھی 
کہ مسلمان 
عورتےں اس فن کی تعلےم حاصل کےا کرتی تھےں۔ شہنائی بائی نامی اےک عورت نے اس 
فن 
مےں خاصی مہارت حاصل کرلی تھی۔ مسلمانوں مےں بہروپےوں کا فرقہ بھی ہندووں کی 
دےن ہے۔ قدےم ہندوستان مےں بازی گروں کا فرقہ پاےا جاتا تھا۔ مسلمانوں مےں بھی 
بازی گروں کی اےک جماعت پائی جاتی تھی۔ بابر نے مدارےوں کا ذکر کےا ہے، اس فرقہ 
کے لوگ خود کو مسلمان صرف اس وجہ سے کہتے تھے کہ ان کے ےہاں ختنے کی رسم ادا
ہوتی تھی۔ ان کی شادی کی رسمےں ملّا اور قاضی ادا کرتے تھے۔ بس اسلام سے ان کا 
60(44) 5

اتنا ہی واسطہ تھا۔ ان کی بقےہ رسمےں وہی تھےں جن پر وہ مشرف بہ اسلام ہونے سے
پہلے عمل کرتے تھے۔ گھرےلو کھےلوں مےں شطرنج، چوسر، چوپڑ خالص ہندوستانی کھےل 
تھے۔ 
عہد مغلےہ کے بادشاہ امرا اور عوام ان کھےلوں سے بڑی دلچسپی لےتے تھے۔ اکبر نے فتح 
پور 
سےکری مےں فرش پر شطرنج کی بساط بنوائی تھی اور مہروں کی جگہ غلام عورتوں 
کو کھڑا کرکے 
وہ شطرنج کھےلا کرتا تھا۔ شاہی حرم کی مستورات شطرنج کھےلا کرتی تھےں۔ زےب 
النسائ 
کو چوسر کھےلنے سے بڑی دلچسپی تھی۔ ان کھےلوں کے علاوہ چندل مندل اور گنجفہ کا 
کھےل مسلمانوں 
نے ہندوستان سے اخز کےا تھا۔

0پرندوں اور جانوروں کی لڑائےاں :

مختلف قسم کے پرندوں کو آپس مےں لڑانے کا شوق ہر طبقے کے مسلمانوں 
مےں
پاےا جاتا تھا۔ ان مےں مرغ بازی، بٹےر بازی، تےتر بازی، گلدم بازی، لوا بازی، 
طوطے بازی اور درندوں مےں ہاتھی، شےر، ہرن چےتے، سور تےندوے، سانڈ، مےنڈھے 
اور دوسرے جانوروں کو آپس مےں لڑا کر اس منظر سے مسلمان مخطوط ہوا کرتے تھے۔ 
اسپےر نے لکھا ہے کہ شام کے چار بجے محل کے سامنے کئی سلاطےن جمع ہوجاتے اور اپنے 
مرغ لڑا کر بہادر شاہ ظفر کا دل بہلاتے تھے اور غالباََ ےہ روزانہ کا شعل تھا۔ لکھنوئ کے 
عوام و خواص اپنی فارغ البالی کی وجہ سے اپنا بےشتر وقت پرندوں کو لڑانے اور محفوظ 
ہونے مےں صرف کرتے تھے۔ 
دوسرے تفرےحی مشاغل مےں غبارے بازی، ہنڈولا، بےل گاڑےوں کی دوڑ کے 
مقابلے 
اور درےاوں مےں چراغاں کرنا شامل تھے۔ اسی طرح بچوں اور لڑکوں کے بہت سے کھےل 
خالص ہندوستانی تھے اور ان کے نامی بھی ہندی مےں تھے۔ انشائ الّلۃ نے ان کھےلوں کا 
تفصےلی ذکر کےا ہے۔ 
0سوارےاں :

ہندوستان آنے کے بعد اس ملک کے جغرافےائی حالات اور ےہاں کے چلن کے 
مطابق مسلمانوں نے اونٹ اور گھوڑے کی سواری کے ساتھ ساتھ ہندوستان مےں مروجہ 
60(45) 6

دوسری سوارےاں بھی اپنا لےں اور ان سوارےوں مےں جدت سے کام لےا۔ مثلاََ ہاتھی کی 
سواری، پالکی، سکھ پال، سنگھاسن، جوالہ، چنڈول، بہل رتھ وغےرہ۔ ہندوستانی 
مسلمانوں 
کی مخصوص سواری گاڑےاں اور بار برداری کے جانور ےہ تھے۔ مےانہ محافہ، چنڈول، 
پےنس، 
چوپالہ، کھڑ کھڑ ےہ چھکڑا، لڑھا، رہکلہ، بہل، خچر، ٹٹو، بھےنسا، گوخر اور تانگہ،

0علوم و فنون :

قدےم ہندوستان مےں علم نجوم و فلکےات کے علوم کا عام رواج تھا۔ 
ہندوستانی مسلمانوں 
کو بھی اس علم سے دلچسپی پےدا ہوگئی۔ علائ الدےن خلجی کے دور حکومت مےں خواص 
و عوام 
کو اہل تنجےم سے بڑی دلچسپی تھی اور برنی کے بےان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے 
مےں 
مسلمانوں مےں علوم نجوم کا عام رواج پاےا جاتا تھا،(تارےخ فےروز شاہی363/۔364) 
دہلی کا کوئی اےسا محلہ نہ تھا جس مےں نجومی سکونت پزےر نہ ہوں۔ ملوک اور امرا 
اپنے بچوں 
کے زائچے ان سے تےار کرواتے تھے۔ علاوالدےن خلجی کے محل کی عورتوں مےں نجومےوں 
کا 
بڑا اثر تھا۔ برنی نے اس عہد کے نجومےوں کا ذکر کےا ہے۔ ان مےں سے تےن رمّال بہت 
مشہور تھے۔ مولانا صدرالدےن لوتی، غرلی رمّال (باشندہ کول) اور معےن الملک زےری 
سلطان فےروزشاہ تغلق کو علم نجوم و ہےئےت سے بڑی دلچسپی تھی۔
منجمان داتا اور کانہاں بارےک مےں سے ستاروں کے بارے مےں معلومات حاصل کےا
کرتا تھا اس علم کا اس نے مطالعہ بھی کےا تھا اور کئی کتابےں اس فن مےں لکھوائی 
تھےں 
(عفےف، تارےخ فےروز شاہی اس نے اےک اصطرلاب بھی اےجاد کےا تھا جو اصطراب
فےروز شاہی کہلاتا تھا۔ جوالا مکھی مندر مےں فےروز شاہ نے نجوم کے موضوع پر اےک 
سنسکرت مےں تصنےف پائی تھی جس کا ترجمہ اس نے عزا لدےن خالد خانی سے کرواےا 
تھا۔ 
اور اس کا نام دلائل فےروز شاہی رکھا تھا۔ فےروز شاہ نے بار اہمر کی مشہور تصنےف 
باراہی 
سنکھتا کا بھی ترجمہ کرواےا تھا۔ پروفےسر خلےق احمد نظامی کا خےال ہے کہ غالباََ اس 
زمانے 
کے مدراس مےں طلبہ کو اس علم کی تعلےم دی جاتی تھی۔

عہد مغلےہ مےں علم نجوم سے گہری دلچسپی کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ 
اکبر کو اس علم 
سے بڑی دلچسپی تھی۔ علم فلکےات مےں تاجک نامی مشہور کتاب کا فارسی مےں ترجمہ 
کرواےا 
60(46) 7

گےا تھا۔ اس زمانے مےں سےد مےر بہت مشہور نجومی تھے۔ اکبر نے مدراس کے نصاب 
مےں 
علم نجوم درمل کے مضامےن کو لازمی مضامےن کی حےثےت دی تھی۔

سترھوےں اور اٹھاروےں صدی مےں علم نجوم کا عام چرچا تھا۔ اور خواص و 
عوام دونوں
نجومےوں سے بڑی عقےدت رکھتے تھے اور ان کے مشورہ کے بغےر کوئی اہم کام شروع نہےں 
کرتے
تھے۔ ےہاں تک کہ جنگ کرنے اور بچے کی ولادت کا وقت تک ان سے درےافت کےا جاتا تھا۔ 
محمد شاہ بادشاہ کے دربار سے وابستہ نجومےوں مےں مشےر خاں، منجم خاں، مرزا حسن 
تارےخ نوےس 
بہت مشہور تھے۔ اٹھاروےں صدی کے ادب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے
مہارت وارد۔) حکےم مومن خاں مومن کو علم نجومی ان کا منہ دےکھا کرتے تھے۔ اےسے 
مسلمان نجومےوں کے سےنکڑوں ناموں کا اضافہ 
کےا جاسکتا ہے۔ اےک موقع پر شاہ عالم ثانی نے ےہ کہاوت دہرائی تھی۔ آنچہ بورزدبرد
وآنچہ از دزد باقی ماند، رمّال گرفت، دروزنامچہ شاہ عالم 
باہر سے آئے مسلمانوں نے بھی سحر و افسوس کے فن مےں مہارت حاصل 
کرلی تھی۔
نتےجتاََ عام مسلمان سحروافسوں پر اعتقاد رکھنے لگے۔ اٹھاروےں صدی مےں تقی نامی 
بھگتےہ 
سحر سامری کا اےک کہنہ مشق اور کامل جادوگر تھا۔

0اوہام پرستی 
عام مسلمانوں مےں اوہام پرستی کا رواج پاےا جاتا تھا۔ شادی کے موقعوں پر 
قسم 
قسم کے اوہام پر عمل کےا جاتا تھا۔ اور آج بھی ان کی اداےگی لوازم مےں سے ہے۔ مثلاََ 
نوشہ 
جاتے تھے۔ موسل سے ناڑا باندھا جاتا تھا۔ اور بعض دوسری اےسی رسمےں تھےں جن کا 
اسلام 
سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا اور خالص ہندوستانی ماحول کی دےن تھےں۔ مثلاََ نثار 
اتارنے 
کا رواج۔

شاہ مدار، غازی مےاں ےا کسی دوسرے بزرگ کے نام کی چوٹی بچوں کے سر 
پر رکھی اےسی دو باتےں 
تھےں 
جن کی وجہ سے مسلمانوں کی انفرادےت باقی تھی۔

سورج گرہن اور چاند گرہن کی رسموں پر بھی مسلمان عمل کرتے تھے۔ 
مےر حسن علی 
نے لکھا ہے کہ اٹھاروےں اور انےسوےں صدی مےں ہندو اور مسلمان دونوں سورج گرہن 
کے موقع کی مروجہ رسموں پر ےکساں عمل کرتے تھے۔

0مظاہر پرستی :

ہندوستانی مسلمانوں کے بعض طبقوں مےں بت پرستی کا رجحان بھی پاےا 
جاتا تھا اور 
ہندووں کے دےوتا دےوی کی وہ بھی پوجا کرتے تھے۔ نزر چڑھاتے تھے اور اس معاملے 
مےں 
ہندووں کی پےروی کرتے تھے۔ سبحان رائے بھنڈاری کے اےک بےان سے ےہ بات واضح 
ہوتی ہے۔ اس نے لجھا ہے کہ کانگڑہ کے قلعے کے نےچے بھوانی کا مندر تھا اور ہر سال 
سارے ہندوستان کے زائرےن وہاں آتے تھے، اور ان مےں مسلمان بھی ہوتے تھے جن
کا مزہب بت پرستی کی تردےد کرتا تھا :

اسی طرح بنگال کی مسلمان عورتےں بالعموم بھوانی ےا کالی مائی کی پوجا 
کےا کرتی تھےں
اور ہندو مسلمان دونوں اےک ہی طرےقے سے ست پےر کی پرستش کرتے تھے۔
60(50) 11

0شبِ برات :

شاہ ولی الّلۃ شاہ اسمعےل شہےد اور سےد احمد برےلوی کی تصانےف مےں شب 
برات کی 
رسموں کا تفصےلی ذکر ملتا ہے۔ ان کے بےان کے مطابق ہندووں کی کناگت اور شب برات 
کی رسموں مےں کافی مماثلت پائی جاتی تھی۔ مسلمانوں نے اس رسم کو شب برات کے 
حلوے پوری سے تبادلہ کرلےا تھا۔ اور بعض دوسری رسمےں اس مےں شامل کرلی تھےں۔
چہار شنبہ ماہ رجب اور شعبان کی بعض رسمےں بھی ہندووں کی رسموں کی تقلےد 
مےں وجود مےں آئےں۔

0تصوف پر ہندستانی اثر :

اسلامی تصوف بھی ہندوستانی تصوف سے متاثر ہوا ہے۔ اےران مےں 
بالخصوص 
خراسان کے صوفےائے کرام بدھ مزہب کی تعلےمات سے بڑی حد تک متاثر تھے۔ گےارھوےں 
صدی مےں صوفی مےر ابو القاسم فندرسکی نے ہندووں کی مشہور کتاب ےوگ کا فارسی 
مےں 
ترجمہ کےا تھا۔ اس کتاب مےں ہنستان کے جوگےوں اور سنےا سےوں کے افعال اشعال 
آدب اور رےاضتوں کے طرےقوں پر بڑی اچھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ صوفی موصوف نے 
ترجمہ کے علاوہ اس کتاب کی تفسےر بھی لکھی تھی۔ سعےد نفےسی کا خےال ہے کہ 
اےران کے 
تصوف کے اصول ہمےشہ ہندوستان مےں پسندےدگی کی نظر سے دےکھے گئے تھے اور اےران 
کے اثر سے صوفی سلسلے مثلاََ چشتےہ، سہردردےہ، قادرےہ اور نقش بندےہ دور جدےد تک نہ 
صرف
ہندوستان کے مسلمانوں مےں باقی ہےں بلکہ اہل ہنود خصوصاََ بدھوں مےں خاصے رائج 
ہےں 
اس سرزمےن مےں تصوف کا تعلق نہ صرف مسلمانوں سے بلکہ ہندووں سے بھی تھا۔ 
ڈوزی اور وان کرےمر جےسے مشہور مستشرقےن کا خےال ہے کہ تصوف فلسفہ 
وےدانت
سے ماخوذ ہے۔ پروفےسر حبےب کا بھی ےہی خےال تھا کہ تصوف اسلام کے عروج سے 
برسوں
بات ےہ تھی کہ ست نرائن کی کتھا اور جناب سےدہ کی کہانی کے بعض اجزا مےں 
ےکسانےت بھی 
پائی جاتی تھی۔

دربار مغلےہ مےں اےک رسم ےہ تھی کہ بادشاہوں کو نزر پےش کرتے وقت اس 
بات 
کا خاص طور پر لحاظ رکھا جاتا تھا کہ نزر کی رقم جفت نہ ہو بلکہ طاق ہو مثلاََ 51 ےا 
101 وغےرہ
ےہ رسم ہندستان کے مسلمانوں مےں اب بھی شادی کے موقعوں پر برتی جاتی ہے اور 
دولھا 
کو جو سلامی کی رقم دی جاتی ہے وہ طاق ہوتی ہے۔ ےہ رسم بھی ہندووں سے آئی 
ہے۔

0مزاروں پر چھڑےاں چڑھانا :

قدےم زمانے سے ہندووں مےں ےہ رسم چلی آرہی تھی کہ وہ لوگ مندروں 
مےں 
سالانہ مےلے کا بندوبست کرتے تھے اور زائرےن بالعموم ہاتھوں مےں جھنڈےاں لے کر دور 
دراز کا سفر طے کرکے وہاں جاتے تھے۔ مسلمانوں نے اس طرےقے کو دوسری شکل مےں 
اختےار 
کرلےا اور وہ عرس کے زمانے مےں اپنے بزرگوں کے مزاروں پر جھنڈے ےا نےزے لے جاکر جانے 
لگے۔ رائے چترمن اور دوسرے مصنفےن نے ان چھڑےوں ےا نےزوں کے جلوس کا تفصےلی 
ذکر 
کےا ہے جو دہلی سے روانہ ہوتے تھے مثلاََ چھڑی خواجہ معےن الدےن چشتی اجمےری 
چھڑی غازی
مےاں چھڑی شاہ مدار چھڑی سخی سرور وغےرہ۔

بزرگوں کے مزاروں کی زےارت کے موقع پر مسلمان بعض اےسی رسمےں ادا 
کرتے تھے
جو غالباََ ہندووں سے اخز کی گئی تھےں کےوں کہ وہ مندروں مےں دےوےوں کے سامنے 
چڑھاوے 
چڑھاےا کرتے تھے۔ فاتحہ اور نزر کے مخصوص کھانے ہوتے تھے۔ شاہ اسمعےل شہےد کے 
بےان 
کے مطابق اس طعام کے آداب کا حاصل ہندووں سے مشابہت پےدا کرلےنے کے علاوہ 
اور کچھ نہےں ہے کےوں کہ اکثر اوقات وہ دانوں، غلوں اور طعام کے اجناس کی پرستش
کرتے ہےں۔ اور کھانے والوں کے لےے قےد لگانی ےعنی اےک کو کھانے سے منع کرنا اور دوسرے 
کو اس کی اجازت دےنا۔ ندزرو نےاز کی رسم اس حد کو پہنچ گئی تھی کہ اشےا 
خوردنی سے
گزر کر جانوروں کی نزر چڑھانے لگے تھے۔

اٹھاروےں اور انےسوےں صدی مےں قبر پرستی کا رواج اتنا عام ہوچکا تھا کہ 
شاےد
60(49) 10

ہی کوئی اےسا مزار ہو جہاں زائرےن کا مجمع نہ ہوتا ہو ارو منتےں نہ مانی جاتی ہوں 
اور چڑھاوے 
نہ چڑھائے جاتے ہوں۔ زےارت قبور کو درجہ حج دے دے گےا تھا۔ مسجدےں وےران تھےں 
مگر 
مزارات آباد تھے۔ ہر سال عرس کے موقع پر مےلے لگتے تھے نزدےک اور دور سے زائرےن 
آتے تھے اور اےسی زبوں حالی تھی کہ شاہ ولی الّلۃ نے مسلمانوں کو مخاطب کرکے کہا تھا 
تم 
مدار صاحب اور سلار صاحب کی قبروں کا حج کرتے ہو، ےہ تمھارے بدترےن افعال ہےں۔
بوجھ سے اسلام اپنا ظاہری وجود کھوتا جارہا تھا۔ روزہ اور نماز ہی اےسی دو باتےں 
تھےں 
جن کی وجہ سے مسلمانوں کی انفرادےت باقی تھی۔

سورج گرہن اور چاند گرہن کی رسموں پر بھی مسلمان عمل کرتے تھے۔ 
مےر حسن علی 
نے لکھا ہے کہ اٹھاروےں اور انےسوےں صدی مےں ہندو اور مسلمان دونوں سورج گرہن 
کے موقع کی مروجہ رسموں پر ےکساں عمل کرتے تھے۔

0مظاہر پرستی :

ہندوستانی مسلمانوں کے بعض طبقوں مےں بت پرستی کا رجحان بھی پاےا 
جاتا تھا اور 
ہندووں کے دےوتا دےوی کی وہ بھی پوجا کرتے تھے۔ نزر چڑھاتے تھے اور اس معاملے 
مےں 
ہندووں کی پےروی کرتے تھے۔ سبحان رائے بھنڈاری کے اےک بےان سے ےہ بات واضح 
ہوتی ہے۔ اس نے لجھا ہے کہ کانگڑہ کے قلعے کے نےچے بھوانی کا مندر تھا اور ہر سال 
سارے ہندوستان کے زائرےن وہاں آتے تھے، اور ان مےں مسلمان بھی ہوتے تھے جن
کا مزہب بت پرستی کی تردےد کرتا تھا :

اسی طرح بنگال کی مسلمان عورتےں بالعموم بھوانی ےا کالی مائی کی پوجا 
کےا کرتی تھےں
اور ہندو مسلمان دونوں اےک ہی طرےقے سے ست پےر کی پرستش کرتے تھے۔
60(50) 11

0شبِ برات :

شاہ ولی الّلۃ شاہ اسمعےل شہےد اور سےد احمد برےلوی کی تصانےف مےں شب 
برات کی 
رسموں کا تفصےلی ذکر ملتا ہے۔ ان کے بےان کے مطابق ہندووں کی کناگت اور شب برات 
کی رسموں مےں کافی مماثلت پائی جاتی تھی۔ مسلمانوں نے اس رسم کو شب برات کے 
حلوے پوری سے تبادلہ کرلےا تھا۔ اور بعض دوسری رسمےں اس مےں شامل کرلی تھےں۔
چہار شنبہ ماہ رجب اور شعبان کی بعض رسمےں بھی ہندووں کی رسموں کی تقلےد 
مےں وجود مےں آئےں۔

0تصوف پر ہندستانی اثر :

اسلامی تصوف بھی ہندوستانی تصوف سے متاثر ہوا ہے۔ اےران مےں 
بالخصوص 
خراسان کے صوفےائے کرام بدھ مزہب کی تعلےمات سے بڑی حد تک متاثر تھے۔ گےارھوےں 
صدی مےں صوفی مےر ابو القاسم فندرسکی نے ہندووں کی مشہور کتاب ےوگ کا فارسی 
مےں 
ترجمہ کےا تھا۔ اس کتاب مےں ہنستان کے جوگےوں اور سنےا سےوں کے افعال اشعال 
آدب اور رےاضتوں کے طرےقوں پر بڑی اچھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ صوفی موصوف نے 
ترجمہ کے علاوہ اس کتاب کی تفسےر بھی لکھی تھی۔ سعےد نفےسی کا خےال ہے کہ 
اےران کے 
تصوف کے اصول ہمےشہ ہندوستان مےں پسندےدگی کی نظر سے دےکھے گئے تھے اور اےران 
کے اثر سے صوفی سلسلے مثلاََ چشتےہ، سہردردےہ، قادرےہ اور نقش بندےہ دور جدےد تک نہ 
صرف
ہندوستان کے مسلمانوں مےں باقی ہےں بلکہ اہل ہنود خصوصاََ بدھوں مےں خاصے رائج 
ہےں 
اس سرزمےن مےں تصوف کا تعلق نہ صرف مسلمانوں سے بلکہ ہندووں سے بھی تھا۔ 
ڈوزی اور وان کرےمر جےسے مشہور مستشرقےن کا خےال ہے کہ تصوف فلسفہ 
وےدانت
سے ماخوذ ہے۔ پروفےسر حبےب کا بھی ےہی خےال تھا کہ تصوف اسلام کے عروج سے 
برسوں 
پہلے انسانی فکر مےں جگہ پاچکا تھا اور انھوں نے دارا شکوہ کے خےالات کی تائےد کی ہے 
کہ تصوف 
کے اولےن مستند تشرےح اپنشدوں مےں پائی جاتی ہے۔ دارا شکوہ نے بڑی تحقےق و 
جستجو 
کے بعد ےہ خَےال اپنی کتاب مجمع البحرےن کے مقدمہ مےں ظاہر کےا ہے۔
مےں 
ترجمہ کےا تھا۔ اس کتاب مےں ہنستان کے جوگےوں اور سنےا سےوں کے افعال اشعال 
آدب اور رےاضتوں کے طرےقوں پر بڑی اچھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ صوفی موصوف نے 
ترجمہ کے علاوہ اس کتاب کی تفسےر بھی لکھی تھی۔ سعےد نفےسی کا خےال ہے کہ 
اےران کے 
تصوف کے اصول ہمےشہ ہندوستان مےں پسندےدگی کی نظر سے دےکھے گئے تھے اور اےران 
کے اثر سے صوفی سلسلے مثلاََ چشتےہ، سہردردےہ، قادرےہ اور نقش بندےہ دور جدےد تک نہ 
صرف

ہندوستان کے مسلمانوں مےں باقی ہےں بلکہ اہل ہنود خصوصاََ بدھوں مےں خاصے رائج 
ہےں 
اس سرزمےن مےں تصوف کا تعلق نہ صرف مسلمانوں سے بلکہ ہندووں سے بھی تھا۔ 
ڈوزی اور وان کرےمر جےسے مشہور مستشرقےن کا خےال ہے کہ تصوف فلسفہ 
وےدانت

سے ماخوذ ہے۔ پروفےسر حبےب کا بھی ےہی خےال تھا کہ تصوف اسلام کے عروج سے 
برسوں 
پہلے انسانی فکر مےں جگہ پاچکا تھا اور انھوں نے دارا شکوہ کے خےالات کی تائےد کی ہے 
کہ تصوف 
کے اولےن مستند تشرےح اپنشدوں مےں پائی جاتی ہے۔ دارا شکوہ نے بڑی تحقےق و 
جستجو 
کے بعد ےہ خَےال اپنی کتاب مجمع البحرےن کے مقدمہ مےں ظاہر کےا ہے۔

اےران 
کے اثر سے صوفی سلسلے مثلاََ چشتےہ، سہردردےہ، قادرےہ اور نقش بندےہ دور جدےد تک نہ 
صرف

ہندوستان کے مسلمانوں مےں باقی ہےں بلکہ اہل ہنود خصوصاََ بدھوں مےں خاصے رائج 
ہےں 
اس سرزمےن مےں تصوف کا تعلق نہ صرف مسلمانوں سے بلکہ ہندووں سے بھی تھا۔ 
ڈوزی اور وان کرےمر جےسے مشہور مستشرقےن کا خےال ہے کہ تصوف فلسفہ 
وےدانت

سے ماخوذ ہے۔ پروفےسر حبےب کا بھی ےہی خےال تھا کہ تصوف اسلام کے عروج سے 
برسوں 
پہلے انسانی فکر مےں جگہ پاچکا تھا اور انھوں نے دارا شکوہ کے خےالات کی تائےد کی ہے 
کہ تصوف 
کے اولےن مستند تشرےح اپنشدوں مےں پائی جاتی ہے۔ دارا شکوہ نے بڑی تحقےق و 
جستجو 
کے بعد ےہ خَےال اپنی کتاب مجمع البحرےن کے مقدمہ مےں ظاہر کےا ہے۔

60(51) 12

فلسفہ 
وےدانت

سے ماخوذ ہے۔ پروفےسر حبےب کا بھی ےہی خےال تھا کہ تصوف اسلام کے عروج سے 
برسوں 
پہلے انسانی فکر مےں جگہ پاچکا تھا اور انھوں نے دارا شکوہ کے خےالات کی تائےد کی ہے 
کہ تصوف 
کے اولےن مستند تشرےح اپنشدوں مےں پائی جاتی ہے۔ دارا شکوہ نے بڑی تحقےق و 
جستجو 
کے بعد ےہ خَےال اپنی کتاب مجمع البحرےن کے مقدمہ مےں ظاہر کےا ہے۔

60(51) 12

0 
﻿
Zahid.
03-07-02
Urdu
(83) 1

سلےمہ :۔ تک مرکے تو دےھکو، کچھ دن مےں تم خود ہی عادی ہوجاو گی۔(گلے لگاتی 
ہے) دےکھوں تمہاری کاہلی 
دوسروں مےں بھی سراےت کرتی جارہی ہے(ہنستی ہے) حبےب ماموں کو دےکھوں تمہارے 
آےن 
سے پہلے ےہ دن رات کام کرتے تھے۔ اور اب صرف سائے ی طرح تمہارے ساتھ رہت ہےں۔ 
ڈاکٹر 
سلمان بھی روزانہ ےہاں آتے ہے اور اپنے مرےضوں اور جنگلات کی طرف سے لاپرواہی 
برت
رہے ہےں۔
حبےب :۔ تم اداس کےوں ہوجان من۔ تمہاری رگوں مےں تو کسی جال پری کا خون 
گردش کررہا ہے۔ تم کےوں کسی 
سمندری شہزادے سے عشق نہےں کرتےں۔ کےوں اپنی جرات مندانہ سے ہم سب کو حےرت 
مےں 
نہےں دال دےتےں۔

دردانہ :۔ خدا کے لےے مےرا پےچھا چھوڑو..... ےہ باتےں ناقبل برداشت ہےں۔(جانا چاہتی 
ہے)
حبےب :۔ (اس کا راستہ روکتے ہوئے) اچھا اچھا معاف کرو۔ مےں صلح کا خواستگار ہوں۔
دردانہ : تمھاری باتےں تو فرشتوں کے لےے بھی صبر آزما ہوںگی۔
حبےب :۔ اس صلح کی خوسی مےں مےں تمہےں گلاب کے پھولوں کا اےک گلدستہ پےش 
کرنا چاہتاہوں۔ مےں 
نے صبح سے تمہارے لےے توڑ کر رکھے ہےں۔ خزاں کے پھول۔ حسےن اور اداس پھول..... 
(بارہ جاتا ہے)
سلےمہ :۔ خزاں کے پھول، حسےن اور اداس پھول (دونوں کھڑکی سے باہر دےکتھی 
ہےں)
دردانہ :۔ ابھی سے ہوا سائےں سائےں کر رہی ہے۔ فضا کتنی اداس ہے۔ ےہاں جاڑے مےں 
گزارا ہوگا 
...... ڈاکٹر کہاں ہے؟
سلےمہ :۔ حبےب ماموں کے کمرے مےں کچھ لکھ رہے ہےں۔ اچھا ہوا ماموں چلے گئے۔ 
مےں تم سے کچھ باتےں کرنا چاہتی ہوں۔
دردانہ :۔ کس سلسلے مےں۔
سلےمہ : کس سلسلے (اپنا سردردانہ کے کندھے پر رکھ دےتی ہے)
دردانہ : (اس کے بالوں مےں انگلی پھےرتے ہوئے) کہو سلےمہ کےا بات ہے۔
سلےمہ :۔ مےں خوب صورت نہےں ہوں۔
دردانہ :۔ نہےں تمھاہرے بال خوب صورت ہےں۔
سلےمہ :۔ (مڑ کر اپنی شکل آئےنے مےں دےکھتی ہے۔) ہاں جب کوئی عورت بدصورت 
ہوتی ہے تو لوگ ےہی
(84) 2

کہتے ہےں تمھارے بال خوب صورت ہےں۔ تمہاری آنھےکں خوب صورت ہےں۔ مےں ان 
سے پورے چھ
سال سے محبت کرتی ہوں۔ تنہائں مےں ان کا تصور مےرے ساتھ رہتا ہے۔ مےری 
آنکھےں ہر وقت 
دراوزے پر لگی رہتی ہےں مجھے ہر لمحہ ان کا انتظار رہتا ہے اور وہ ہر روز ےہاں آتے 
ہےں۔ لےکن وہ 
مےری طرف آنکھ اٹھا کر بھی دےکھتے۔ سو چو مجھ پر کےا گزرتی ہوگی۔ مرےی لےے 
زندگی مےں کوئی امےد نہےں۔
کوئی امےد نہےں خداےا مجھے برداشت کی قتو دے....... مےری خودداری پامال ہوچکی ہے
مےں اکثر ان کے اپس جاکر بات کرنے لگتی ہوں۔ نا کی آنکھوں مےں آنکھےں ڈال کر 
دےکتھی ہوں۔ مجھے 
اپنے جذبات پر قابو نہےں رہا۔ کل مےں نے حبےب ماموں کے سامنے اپنی محبت کا اعتراف 
کر لےا۔
نوکروں تک کو معلوم ہوگےا ہے کہ مےں انھےں چاہتی ہوں۔

دردانہ :۔ اور ڈاکٹر کو۔
سلےمہ :۔ انھںے تو مرےی موجود گی کا بھی احساس نہےں۔
دردانہ :۔ وہ عجےب آدمی ہےں۔ اچھا مےں نے اےک بات سوچی ہے... مےں ان سے اس 
سلسلے مےں بات 
کروں گی۔ کسی مناسب طرےقے سے۔ آخر کب تک تم اس طرح رہ سکتی ہو۔ تمہےں 
کوئی اعتراش تو نہےں
(سلےمہ اقرار مےں سر ہلاتی ہے) بس ےہ ٹھےک ہے۔ تم گھبراو نہےں، مےں انھےں معلوم 
نہےں ہونے دوں گی
کہ مےں تمہاری مرضی سے بات کررہی ہوں۔ ہمےں تو بس ےہ معلوم کرنا ہے کہ ڈاکٹر 
کے تمہارے لےے 
کےا جذبات ہےں اور اگر انھےں تم سے محبت نہےں تو پھر ےہاں ان کا آنا جانا ٹھےک 
نہےں......
ٹھےک ہے نا شاےد اس طرح تم آسانی سے برداسٹ کر سکو۔ دےکھو ان سے جا کر کہو کے 
مےں وہ چارٹ
دےکھنا چاہتی ہوں، جو انھوں نے مجھے دکھانے کو کہا تھا۔

سلےمہ : اچھا......(جانے لگتی ہے) مگر نہےں اندھےرے ہی مےں رہنا بہتر ہے۔ امےد کا 
اےک تار تو باقی 
ہے....... کہےں وہ بھی نہ ٹوٹ جائے۔
دردانہ :۔ کےا کہہ رہی ہو۔
سلمےہ :۔ کچھ نہےں (چلی جاتی ہے)
دردانہ :۔ (اکےلے مےں) ڈاکگر کو سلےمہ سے محبت نہےں، ے بات تو بالکل صاف ہے۔ لےکن 
وہ اس سے 
شادی تو کرسکتا ہے۔ ےہ ضرور ہے کہ سلےمہ خوب صورت نہےں ہے لےکن وہ ذہےن ہے 
ہمدرد ہے۔
(85) 3

اس کی محبت کتنی معصوم ہے۔ لےکن اس سے کےا ہوتا ہے(وقفہ) مےں اس کے جذبات کو 
خوب سمجھتی 
ہوں۔ اس غےر دل چسپ اور بے.رنگ فضا مےں جہاں لوگں مےں کوئی امنگ نہےں۔ 
زندگی کا کوئی سلےقہ 
نہےں۔ جب داکٹر آتا ہے تو زندگی اور دلچسپی کی اےک لہر دوڑ جاتی ہے۔ وہ سب 
لوگوں سے کتنا مختلف
ہے۔ دل چسپ اور خوب صورت۔ مےں خود شاےد اسے پسند کرنے لگی ہوں۔ جب وہ کمرے 
مےں نہں 
ہوتا تو ہر چےز کچھ پےکھی پےھکی سی معلوم ہوتی ہے...... مےں خوب جانتی ہوں 
کہ وہ روز ےہاں کےوں 
آتا ہے۔ کبھی کبھی مےرادل چاہتا ہے کہ سلےمہ سے ہر بات کا اعتراف کرلوں اور رو رو 
کر اس سے 
معافی مانگوں۔

ڈاکٹر :۔ (آتے ہوئے) آپ مےرے چارٹ دےکھنا چاہتی تھےں۔ لےکن شاےد آپ کو ان مےں 
دل چسپی نہ آئے 
دردانہ :۔ نہےں ضروری آئے گی۔ ےہ ٹھےک ہے کہ مےں کبھی دےہات مےں نہےں رہی 
لےکن مےں نے گاوں اور جنگلات
کے متعلق کافی کتابےں پڑھی ہےں۔

ڈاکٹر :۔ (چارٹ کھولتے ہوئے) ےہ مےرے لےے فرصت کا مشغلہ بھی ہے اور روزمرہ کی 
بے.کےف زندگی 
سے قرار بھی..... اب ےہ دےکھےے ےہ ہمارے ضلع کا نقشہ ہے جےسا کہ وہ پچاس سال پہلے 
تھا۔ جہاں جنگل تھے وہاں مےں نے گہرا سبز رنگ بھرا ہے۔ ےہ جو آپ سرخ رنگ کا 
جال سا دےکھ رہی 
ہےں۔ ہےں شکار کثرت سے ملتا تھا۔ اس جھےل مےں بطخےں اور راج ہنس وغےرہ رہتے 
تھے۔ اس حصے
مےں ہر قسم کی چڑےاں پائی جاتی تھےں اور ےہ 25 سال ادھر کا نقشہ ہے۔ کافی 
درخت کٹ چکے ہےں
شکار کم ہوگےا ہے اور چڑےاں بہت کم ہوگئی ہےں۔ اور ےہ ضلع کا موجودہ نقشہ ہے۔ 
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ 
حالات بدسے بد تر ہوتے ہےں جارہے ہےں۔ اور پھر ےہ بھی نہےں کہ ان جنگلات کے کٹنے 
سے 
صنعتی ترقی ہوئی ہو ارو غرےبی اور ےب روزگاری مےں کمی ہوئی ہو۔ نہےں۔ اس 
کی وجہ صرف لوگوں کی 
جہالت اور بے.حسی ہے۔ فطرت کا اتنا حسن برباد ہوچکا ہے لےکن اس کی جگہ کسی قابل 
قدر
چےز کی تخلےق نہےں کی گئی۔
دردانہ :۔ معاف کےجےے۔ مےں ان مسائل کو ذرا کم ہی سمجھتی ہوں۔
سلمان :۔ اصل بات ےہ ہے کہ مےرا دماغ کسی اور الجھن مےں پھنسا ہوا ہے۔ مجھے آپ 
سے کچھ ضروری باتےں کرنا ہےں۔
(86) 4

سلمان :۔ مجھ سے۔ 
دردانہ :۔ جی ہاں آپ سے۔ اگر آپ وعدہ کرےں کہ ےہ بات کسی اور کو نہےں بتائےں گے 
سلمان :۔ مےں وعدہ کرتاہوں لےکن بات کےا ہے۔
دردانہ :۔ اس بات کا تعلق سلےمہ سے ہے۔ کےا آپ اسے پسند کرتے ہےں
سلمان :۔ مےں اس کی عزت کرتا ہوں۔
دردانہ :۔ کےا آپ اسے اےک عورت کی حےثےت سے پسند کرتے ہےں
سلمان :۔ (اےک مختصر وقفہ کے بعد) نہےں۔
دردانہ : لےکن کےا آپ نے ےہ بھی محسوس نہےں کےا کہ وہ آپ کو کتان چاہتی ہے۔ اور 
اس کے دل پر کےا گزر رہی 
ہے۔ کدا کے لےے ےہ بات سمجھنے کی کوشش کےجےے اور ےہاں آنا جانا بند کردےجےے۔
سلمان :۔ مےرا وقت گزر چکا ہے۔ (اٹھتے ہوئے) اجھا اب آپ سے کب ملاقات .....
دردانہ : (نظر انداز کرتے ہوئے) خدا کے لےے ان باتوں کا کسی سے ذکر نہ کےجےے گا۔ شاےد 
مجھے خود ےہ بات 
نہ کرنا چاہےے تھی........ مےرا دل دھڑک رہا ہے۔
سلمان :۔ صرف اےک بات پوچھنا چہتا ہوں ....... آخر تم نے مجھ سے ےہ سوال کےوں 
کےا (آنکھوں مےں آنکھےں ڈال کر ) واقعی تم بہت ہوشےار ہو۔

دردانہ :۔ مےں اپ کا مطلب نہےں سمجھی۔
سلمان :۔ تم خوب سمجھتی ہو۔ تم جانتی ہو کہ مےں اےک مہنے سے اپنا ہر کام چھوڑ 
کر صرف تمہےں دےکھنے کے لےے
روز ےہاں آتا ہوں۔ اور تم اس بات سے اپنے دل مےں خوش ہو۔ اے حسےن شکاری 
چڑےا تےرا شاکر 
پھنس چکا ہے۔ اب کس بات کا انتظار ہے۔
دردانہ : آپ کےسی بہکی بہکی باتےں کر رہے ہےں۔
سلمان :۔ شرماتی کےوں ہو (دردانہ باہر جانا چاہتی ہے سلمان اس کا راستہ روک لےتا 
ہے) ہاں جلدی 
بتاو کب اور کہاں تم سے ملاقات ہوگی....اس حسن کی تاب کون لاسکتا ہے۔ (اپنا ہاتھ
اس کی کمر مےں حمائل کرتا ہے اور اسے قرےب لا کر بوسہ لےنا چاہتا ہے۔ دردانہ مدافعت 
نہےں کرتی)
(87) 5

(حبےب گلاب کے پوھلوں کا گلدستہ لےے داخل ہوتا ہے)

دردانہ :۔ (حبےب کو دےکھ کر الگ ہوتے ہوئے) مجھے جانے دو۔
سلمان :۔ کل شام محکمئہ جنگلات مےں مےں تمہارا انتظار کروںگا۔ (حبےب پر نطر 
پڑتی ہے)
(حبےب گلاب کا گلدستہ اےک کری پر رکھ دےتا ہے۔ رومال سے منھ اور گردن پچھتا ہے)
حبےب : کوئی بات نہےں.... کوئی بات نہےں
سلمان :۔ (بہادری اور بے نےازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے) آج موسم بہتر ہے۔ کال تک ہوا 
بہت تےز 
تھی۔ پچھلے سال اس سے زےادہ سخت جاڑا پڑا تھا۔ اس سال فصل بھی بہتر ہوئی ہے۔ 
ہاں آج کل 
دن بہت چھوٹے ہوگئےہےں۔ کام پورا نہےں ہوتا...... (جاتا ہے)
دردانہ :۔ (تےزی سے حبےب کی طرف آتی ہے) ہمےں اج ہی ےہاں سے چلے جانا چاہےے۔ 
آپ بھی اس 
بات کو کوشش کےجےے۔

حبےب : (اپنا چہرہ پوچھتا ہے) کےا..... اچھا..... بہت اچھا۔
(پروفےسر کلےم. سلےمہ، کلمےن اور محمد شرےف داخل ہوتے ہےں)

پروفےسر :۔ اور لوگ کہاں ہےں۔ مجھے اس گھر سے نفرت ہے۔ بس پچےس چھوٹے بڑے 
کمروں کا ےک 
گورکھ دھندا ہے جہاں کسی کو ڈھوند نکالنا تقرےباََ ناممکن ہے۔فخرالنسا بےگم اور دردانہ 
کو بلاو۔
دردانہ :۔ مےں ےہاں ہوں 
سلےمہ : (دردانہ کے قرےب جاتے ہوئے) اس نے تم سے کےا کہا (غور سے دےکھتے ہوئے) مگر 
ےہ 
تمہارا کےا حال ہے۔ تم کانپ رہی ہو...... مےں سمجھ گئی۔ اس نے تمہھےں صاف 
صاف بتا دےا۔
اس نے وعدہ کر لےا کہ اب ےہاں نہےں آئے گا۔ (دردانہ سر ہلاتی ہے)
پروفےسر : مےں اپنی بےماری برداشٹ کر سکتا ہوں ۔ لےکن قصبے کی ےہ زندگی ناقابل 
برداشت ہے 
اےس معلوم ہوتا ہے کہ مجھے زمےن سے اٹھا کر کسی غےر آباد سےارہ مےں پھےنک دےا 
گےا ہے .......
اچھا بھئی تم سب لوگ بےٹھ جاو۔ سلےمہ ادھر آو۔ (سلےمہ نہےں سنتی) اب مےری 
لرکی بھی مرےی بات 
نہےں سنتی (حکمےن سے) بوا تم بھی بےٹھ جاو (حکمےن اےک پےڑھی پر بےٹھتی ہے)

حبےب :۔ (پرےشان ہے) مےرے خےال مےں مےری موجودگی ضروری نہےں۔ کےا مےں 
جاسکتا ہوں۔
(88) 6

پروفےسر : نہےں تمہاری موجود گی سب سے زےادہ ضروری ہے۔
حبےب :۔ آپ مجھ سے کےا چاہتے ہےں۔
پروفےسر : کےا چاہتا ہوں۔ تم کچھ خفا معلوم ہوت ےہو۔ اگر مجھ سے کوئی غلطی 
ہوئی ہو تو معاف کرو۔
حبےب : اس تکلف کی ضرورت آپ کو کوں پےش آئی..... مہربانی سے کام کی بات شروع 
کےجےے۔

(فخرلانسا بےگم داخل ہوتی ہےں)

پروفےسر : اب مےں شروع کر سکتا ہوں۔ ڈرامائی انداز مےں) خواتےن و حضرات مےں نے 
آپ سب کو 
اس لےے ےہاں جمع کےا ہے کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بہت جلد قےامت آنے والی ہے۔ (اس 
مذاق کی 
کوئی داد نہےں دےتا) خبر مذاق برطرف مےں نے اس لےے آپ لوگوں کو ےہاں بلاےا ہے کہ 
مےں اےک 
اہم مسلئے مےں اپ سے رائے لےنا چاہتا ہوں۔ ےہ بات سبھی جانتے ہےں کہ مےں اےک 
علمی آدمی ہوں۔
مےری تمام زندگی پڑھنے لکھنے کی نزر ہوی۔ عمی زندگی سے مجھے زےادہ سروکار نہےں 
رہا۔ اس لےے 
اس مےدان مےں مےرا تجرباہ محدود ہے اور مھجے ان لوگوں کے مشور ے کی ضرورت ہے، 
جو اس زندگی 
کا زےادہ تجربہ رکھتے ہےں۔ والدہ صاحبہ آپ حبےب مےاں اور محدم شرےف مجھے اس 
سلسلے مےں مفےد 
مشورہ دے سکتے ہےں۔ مےں اےک ضعےف اور بےمار آدمی ہوں اور چاہتاہوں کہ مرےی 
جائداد کا مسلہ 
جلد سے جلد طے ہوجائے۔ مجھے اپنی فکر نہےں، کےوں کہ مےری تو اب چند دنوں کی 
زندگی باقی ہے۔
لےکن اپنے خاندان کی بہبودی کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے کوئی فےصلہ کرنا ہے۔ مثلاََ 
مےری بےوی 
اور بےٹی(وقفہ) مےں اس قصبے مےں اب اور زےادہ نےہں رہ سکتا۔ لےکن دوسری طرف 
جاگےر کی آمدنی 
سے شہر کی رہائش کے اخراجات پورے ہونا ناممکن ہے۔ اگر جائداد کا کوئی حصہ بےچ 
دےا جائے 
تو کچھ دن کام چل سکتا ہے۔ مگر دوڈھائی سال بعد پھر وہی سوال پےدا ہوگا۔ اس 
لےے ہمےں 
کوئی اےسا حل نکالنا ہے، جو مستقل ہو۔ مرے ذہن مےں اےک اےسی تجوےز ہے جو مےں 
آپ لوگوں 
کے سامنے پےش کرنا چاہتا ہوں.... اب مےری جائداد کو لےجےے اس سے مجھے تقرےباََ 
32000 
روپے سلانہ کی آمدنی ہے، جب کہ اس وقت اس جاگےر کی قےمت 12، لاکھ سے اوپر ہے۔ 
اب 
اگر اسے بےچ کر اس روپے سے کسی اچھی کمپنی مےں ہصے خرےد لےے جائےں تو اس سے 
آسانی سے 
اتنی آمدنی ہوسکتی ہے جس سے شہر کی رہائش کے اخراجات پورے ہوسکےں۔ حصے 
خرےدنے
(89) 7

کے بعد بھی اتنا روپےہ بےچ سکتا ہے جس سے دہی مےں اےک معقول کوٹھی خرےدی 
جاسکے 
حبےب :۔ اےک منٹ ٹھہرےے مےں نے شاےد ٹھےک نہےں سنا۔ ذرا دہرا دےجےے۔
پروفےسر :۔ مےں نے کہا کمپنی مےں حصے خرےدنے کے بعد بھی اتنا روپےہ بچ سکتا ہے 
جس سے دہی مےں 
اےک کوٹھی خردی جاسکے۔
حبےب اس کے علاوہ بھی آپ نے کہا تھا 
پروفےسر : مےں نے کہا کہ ہمارے لےے ےہ بات زےادہ مناسب ہوگی کہ ےہ جائداد بےچ دی 
جائے۔
حبےب : بجا فرماےا۔ بہت خوب۔ بہت خوب۔ لکےن آپ نے ےہ بھی سوچا کہ مےں اپنی 
ضعےف ماں اور سلےمہ 
کو لے کر کہاں جاوں گا۔

پروفےسر :۔ ہاں۔ ہاں۔ آپ صبر تو کےجے۔ اس مسئلے پر بھی غور کےا جائے گا۔
حبےب :۔ معاف کےجےے۔ مےرے لےے ےہ اےک بالکل نےا انکشاف ہے کہ ےہ جائداد آپ کی ہے۔ 
مےں اسے 
اب تک سلےمہ کی ملکےت سمجھتا رہا۔ کےوں کہ ےہ مےرے والدنے مےری بہت کی شادی 
کے موقع پر جہےز 
مےں دےی تھی۔ ےہ شاےد مےری بے.وقوفی تھی کہ مےں نے اسے سلےمہ کا حق سمجھا۔ 
آپ کی باتوں سے 
معلوم ہوتا ہے کہ اس کے مالک و مختار آپ ہےں۔

پروفےسر :۔ ہاں ہاں جاگےر سلےمہ ہی کی ہے، اس سے کس کو انکار ہے۔ سلےمہ کی 
اجازت ہی سے ےہ قدم 
اٹھاےا جائے گا۔ اور ےہ بات بھی مےں سلےمہ ہی کے مفاد کو ذہن مےں رکھ کر کہہ 
رہاہوں

حبےب :۔ مجھے اپنے کانوں پر ےقےن نہےں آرہا، ےا تو مےں پاگل ہوگےا ہوں ےا پھر .....
فخرالنسائ :(تنبےہی لہجہ مےں) حبےب کلےم کی بات مت کاٹو۔ وہ ان مسائل کو خوب 
سمجھتے ہےں اور وہ جو 
قدم اٹھائےں گے وہ ہماری بھلائی ہی کے لےے ہوگا۔

حبےب :۔ مجھے ذراسا پانی دو (پانی پےتا ہے) اچھا اچھا آپ لوگوں کا جو دل چاہے 
کےجے۔ اب مےں کچھ 
نہےں بولوں گا۔

پروفےسر :۔ مےں اپنی رائے دے رہاہوں۔ مےں نے ےہ تو نہےں کہا کہ ےہ مےرا آخری 
فےصلہ ہے۔
محمد شرےف :۔ جناب والا مجھے عالموں سے ہمےشہ گہری عقےدت رہی ہے۔ علم سے 
ہمارا خاندانی تعلق 
بہت گہرا ہے۔ آپ کو شاےد معلوم ہوگا کہ مےرے بڑے بھائی کی بےوی کا بھائی سفےق 
احمد اےم۔ اے پاس تھا۔
(90) 8

حبےب :۔ ےہ فضول باتےں اس وقت رہنے دےجےے۔ ہم کاروباری باتےں کر رےہ ہےں۔ ہاں 
آپ انھےں سے 
پوچھےے۔ ان کے چچا ہی کے ذرےعہ ےہ جائداد خردگی گئی تھی۔
پروفےسر :۔ مےں ان سے کےوں پوچھوں۔ مےں خود سب کچھ جانتا ہوں۔
حبےب :۔ ےہ جائداد...... اسی ہزار روپے مےں خرےدی گئی تھی جس مےں سے صرف 
پچاس ہزار روپے 
کی ادائےگی ہوئی تھی اور باقی روپےہ مےں نے دن رات کام کرکے قسط.وار ادا کےا ہے۔ 
دوسرے 
مےرے والد کے لےے اس جائداد کا خرےدنا ناممکن ہوتا اگر مےں اپنی پےاری بہن کی خاطر 
اپنے حصے
سے دست بردار نہ ہوجاتا۔

پروفےسر :۔ مجھے افسوس ہے کہ مےں نے ےہ بحث شروع کی۔

حبےب :۔ ےہ مرےی ہی کوششوں کا نتےجہ ہے کہ اس وقت جاداد کا قرضہ اتر چکا ہے۔ 
اور وہ اتنی اچھی 
حالت مےں ہے اور اب جب کہ مےں بوڑھا ہورہا ہوں، مجھے دودھ کی مکھی کی طرح 
نکال کر پھےنکا
جارہا ہے۔

پروفےسر :۔ مرےی سمجھ مےں نہےں آرہا کہ تم ےہ باتےں کےوں کر رہے ہو۔؟
حبےےب :۔ بےس سلا سے مےں اس جاگےر کا انتظام کرتا رہاہوں۔ اور مےں زےادہ سے زےادہ 
روپےہ وصول 
کر کے بھےجتا رہاہوں۔ لےکن اس عرصے مےں تم نے اےک مرتبہ بھی شکر گزاری کا اظہار 
نہےں کےا۔ جب سے 
مےں نے ےہ کام شروع کےا تم مجھے 800 روپے سالانہ معاوضہ دےتے رہے ہو اور تم نے اس 
وقت 
تک اس مےں اےک پےسے کا اضافہ نہےں کےا۔

پروفےسر :۔ اگر تم معاوضہ بڑھوانا چاہتے تھے تو تمہےں مجھے بتا دےان چاہےے تھا۔ تم 
جانتے ہو، مجھے ان 
کاروباری باتوں سے کوئی سروکار نہےں۔ تم خود اپنا معاوضہ بڑھاسکتے تھے۔
حبےب :۔ بجافرماےا۔ مےں نے بے.اےمانی نہےں کی دھوکہ نہےں دےا۔ اس لےے مےں بے.وقوف 
ہوں۔ گدھا ہوں 
فخرلنسائ :۔ (سختی سے) حبےب۔
محمد شرےف : حبےب مےاں نہےں۔ اےسا مت کہو۔ تم کےوں اپنا دل مےلا کرتے ہو۔
حبےب :۔ پچےس سال سے مےں اپنی ماں کے ساتھ اس چادےواری مےں قےد ہوں۔ ہمارے 
جذبات 
اور خےالات ہمےشہ تمہارے گرد گھومتے رہتے تھے۔ ہمارے دل مےں تمہاری کتنی قدر 
اور محبت
(91) 10

تھی۔ ہم نے اپنی کتنی ہی شامےں تمہاری ان کتابوں اور مضامےن کے پڑھنے مےں ضائع 
کےں۔
جن کی طرف اب مےں دےکھنا بھی گوارا نہےں کر سکتا۔
پروفےسر :۔ مرےسی سمجھ مےں نہےں آتا تم چاہتے کےا ہو۔

حبےب :۔ ہمارے لےے تم اےک غےر معمولی ہستی تھے ارو تمہاری تصانےف ادب اور فلسفے 
کی دنےا مےں 
ہرف آخر۔ لےکن اب مےری آنکھےں کھل چکی ہےں اور مےں دےکھ سکتا ہوں کہ تما عمر 
تم ان مسائل پر لکھتے
رہے ہو جنھےں تم خود بالکل نہےں سمجھتے۔ تمہاری تما کتابےں ردی کی ٹوکری مےں 
پھےنکنے کے قابل 
ہےں تم ہمےں دھوکہ دےتے رہے۔

پروفےسر :۔ اس سخص کو خاموش کرو مےں ےہ برداشت نہےں کرسکتا۔ (اٹھتا ہے)
حبےب : مےں خاموش نہےں رہوں گا۔ (پروفےسر کا راستہ روکتے ہوئے) ٹھہرو مےں نے 
ابھی اپنی 
بات پوری نہےں کی ہے۔ تم نے مےری زندگی کا کوئی لطف نہےں اٹھاےا۔
کوئی حق ادا نہےں کےا۔ مےں نے اپنی عمر کے بہترےن سال تمہارے لےے تباہ کر دےے۔ تم 
مےرے 
بدرتےن دشمنے ہو۔

محمد شرےف :۔ ارے بھئی ےہ کےا ہورہا ہے۔ کچھ سمجھ مےں نہےں آتا کےا کےا جائے۔
پروفےسر :۔ (غصہ سے) تمہےں مجھ سے اس طرح بات کنے کا کےا حق ہے۔ اگر جاگےر 
تمہاری ہے تو اسے 
لے لو اور ےہاں سے دفع ہوجاو۔ مےں اےسے بدتمےز اور گمنام آدمی سے بات بھی نہےں 
کرنا چاہتا۔
دردانہ :۔ اف مےں پاگل ہوجاوں گی۔ مےں اب اس دوذخ مےں نہےں ٹھہر سکتی۔
حبےب :۔ مےری زندگی برباد ہوچکی ہے۔مےں ذہےن تھا۔ مجھ مےں بہت سی صلاحےتں 
تھےں۔ اگر مےں نے 
اچھی زندگی گزاری ہوتی تو شاےد مےں بھی کوئی غالب ےا اقبال ےا ٹےگور ہوتا.... اوہ 
ےہ مجھے 
کےا ہوگےا ہے۔ مےں کےسی باتےں کر رہا ہوں.......... اماں.........اماں..... مےرا سر چکرا
رہا ہے۔ مےں شاےد پاگل ہوگےا ہوں۔ اف مےں کےا کروں۔

فخرلانسائ :۔ تمہےں کلےم کے حکم کی تعمےل کرنی چاہےے
سلےمہ :۔ (جو کانپ رہی ہے۔ دوزانوں ہوجاتی ہے اور حکےمن کے گھٹنوں پر سر رکھ 
دےتی ہے)
نانی بوا...... نانی بوا۔
(92) 11

حبےب :۔ اماں مےں کےا کروں... اچھا مجھے معلوم ہو گےا کہ مجھے کےا کرنا ہے۔(پروفےسر 
سے) تم بھی ےاد 
کروگے۔ (درمےانی دراوازے سے باہر جاتا ہے۔ فخرلنسائ بےگم بھی اس کے بعد باہر جاتی 
ہےں۔)

پروفےسر :۔ ےہ شخص اپنے کو سمجھتا کےا ہے.... پاگل انسان۔ مےں اس کے ساتھ اےک 
گھر مےں نہےں رہ سکتا۔
ےا تو اسے گاوں ےا کم شاگرد پےشہ مےں بےجو نہےں تو مےں ےہاں سے جاتا ہوں۔ مےں 
اس کے 
ساتھ اےک منٹ نہےں رہ سکتا۔
دردانہ :۔ ہم آج ہی ےاں سے چلے جائےں گے۔ ہمےں فوراََ تےاری شروع کر دےنی 
چاہےے۔
پروفےسر :۔ ےہ حقےر اور گمنام انسان۔

سلےمہ :۔ (حکےمن کے زانوں سر سر اٹھا ر پروفےسر ک طرف دےکھتی ہے۔ آنسوں بھری 
آوز مےں) ابا جان 
ہم پر رحم کےجےے۔ مےں اور حبےب ماموں بہت دکھی ہےں۔ انھےں سمجھنے کی 
کوشش کےجےے اور ان پر رحم 
کےجےے......(جذبات کی شدت کو روکتے ہوئے) ےاد تو کےجےے۔ حبےب ماموں اور نانی اماں 
نے آپ کی کتنی خدمت کی ہے۔ ےہ دونوں کتنی ہی راتےں آپ کے کاغذات نقل کرنے اور 
آپ 
کی نئی کتابوں کا ترجمہ کرنے مےں گزار دےتے تھے۔ انھوں نے کتنی ہی راتےں اس طرح 
گزاری 
ہےں..... کتنی ہی راتےں ...... مےں اور حبےب ماموں دن رات کام کرتے رہے ہےں۔ ہم 
اپنے اوپر اےک پےسہ بھی خرچ کرتے ہوئے ڈرتے تھے کہ کہےں آپ کو تکلےف نہ اٹھانی 
پڑے
ہم کسی پر بار نہےں رہے ہم نے اپنے خون پسےنے کی روٹی کھائی ہے...... ےہ مےں 
کےا کہہ رہی 
ہوں۔۔۔پتہ نہےں مےں کےا کہنا چاہتی تھی۔ اباجان آپ سمجھنے کی کو کوشش 
کےجےے۔ خدا کے لےے 
ہم لوگوں پر رحم کےجےے۔

دردانہ 	: (اپنے شوہر سے پرےشانی سے) کلےم صاحب خدا کے لےے حبےب سے صلح کی کوشش 
کےجےے۔
مےں آپ سے التجا کرتی ہوں۔

پروفےسر :۔ اچھا مےں اس سے بات چےت کروںگا۔ مےں اسے کوئی الزام نہےںدے رہا۔ لےکن 
اس کا ےہ روےہ عجےب و غرےب ہے...... اچھا مےں جاتا ہوں۔

(درمےانی دروازے سے باہر جاتا ہے)

دردانہ :۔ ذرانرمی سے پےش آئےے گا اور انھےں اطمےنان دلانے کی کوشش کےجےے گا۔
(93) 12

سلےمہ : (کلےمن کی گود مےں سر رکھتے ہوئے) نانی بوا..... نانی
کلےمن :۔ مےری بچی تو کوےں پرےشان ہوتی ہے۔ ےہ لوگ چےخ چلا کر خود ہی ٹھےک 
ہوجائےں کے اور چلے جائےں گے
سلےمہ :۔ نانی .......
حکمےن :۔ ارے تم کانپ رہی ہو مےری مظلوم بچی۔ خدا بڑا رحےم و کرےم ہے۔ ےں 
ابھی تمہارے لےے چائے
بناتی ہوں۔ مرےی بچی تو کوےں پرےشان ہوتی ہے۔
(اسٹےج کے باہر سے پستول کی آواز آتی ہے اور چےخنے کی بھی آواز ساتھ ساتھ آتی 
ہے۔ سلےمہ اچھل پڑتی 
ہے)۔ (پروفےسر پرےشان حال دوڑتا ہوا اندر داخل ہوتا ہے)
دردانہ اور حبےب دروازے کے قرےب دکھائی دےتے ہےں۔ دردانہ حبےب سے پستول چھےننے 
کی 
کوشش کر رہی ہے۔

دردانہ :۔ ےہ مجھے دےدو، ےہ مجھے دےدو۔ خدا کے لےے
حبےب :۔ مجھے چھوڑو۔ جانے دو (اپنے کو اس سے چھڑا کر کرمے مےں داخل ہوتا ہے) وہ 
کہاں ہے 
(پروفےسر کو دےکھتا ہے) اچھا ےہ ہے (فائر کرتا ہے) افسوس ےہ وار بھی خالی گےا لعنت 
ہے
(رےوالور پھنےک دےتا ہے) اور اےک کرسی پر گر پڑتا ہے۔ پروفےسر گم سم چاروں طرف 
دےکھتا ہے۔ دوردانہ دےوار کا سہارا لےتی ہے۔

دردرانہ :۔ مجھے ےہاں سے لے جاو۔ مےں اےک منٹ ےہاں نہےں ٹھہر سکتی۔
سلےمہ: (آہستہ سے) نانی۔۔ پےاری نانی۔

(پردہ گرتا ہے)

6 چوتھا اےکٹ 
(حبےب کا کمرہ۔ فرنےچر بہت معمولی۔ پلنگ مےز کرسی اےک ادھ مونڈھا۔
محمد شرےف ارو حکےمن اےک طرف کام مےں مصروف ہےں۔

محد شرےف : حکمےن بوا جلدی کرو۔ وہ لوگ روانہ ہونے والے ہےں۔
حکےمن :۔ کچھ پتہ چلا وہ لوگ کہاں جارہے ہےں۔
(94) 13

محمد شرےف : ہاں وہ لوگ لکنھو جاہے ہےں۔ وہےں سکنوت اختےار کرنے کا ارادہ ہے۔
حکےمن :۔ چلو ٹھےک ہے۔ دوپہر کے ہنگامے سے مےرے تو اوسان خطا ہوگئے۔
محمد شرےف : شکر ہے بات گھر سے باہ نہےں نکلی ورنہ بڑی جگ ہنسائی ہوتی۔
حکےمن :۔ کل سے تم مےں حبےب مےاں، سلےمہ سب اپنے اپنے کام مےں لگ جائےں گے اور 
ہماری وہی پرانی 
زندگی شروع ہوگی۔ صبح چھ بجے چائے۔ پھر کام۔ بارہ بجے کھانا۔ کھانے کے بعد پھر 
کام......
سلےمہ کہاں ہے۔

محمد شرےف :۔ وہ اور ڈاکٹر صاحب ہر جگہ حبےب مےاں کو تلاش کررہے ہےں۔ انھےں 
ڈر ہے کہ رنج اور 
غصے مےں وہ کوئی اےسی وےسی حرکت نہ کر بےٹھےں۔
حکےمن :۔ (گھبرا کر) حبےب مےاں کو بندوق کہاں ہے۔
شرےف :۔ اطمےنان رکھو وہ تو مےں نے تہ خانے مےں چھپادی ہے۔
حکےمن :۔ اللاّ تےرا شکر ہے۔

(حبےب اور ڈاکٹر باغ کے دروازے سے داخل ہوتے ہےں)

حبےب : خدا کے لےے تم سب لوگ مجھے اکےلا چھوڑدو۔ مےں ےہ نگرانی برداشت نہےں 
کرسکتا
(حکمےن اور شرےف کام سمےٹ کر خاموشی سے جاتے ہےں)

حبےب :۔ (سلمان سے) اب تم بھی مجھ پر رحم کرو اور چلے جاو۔
سلمنا :۔ بڑی خوشی سے لےکن آپ نے مےری جو چےز لے لی ہے وہ مہربانی سے واپس 
کر دےجےے۔
حبےب : مےں نے تمہاری کوئی چےز نہےں لی۔
سلمان: انجان نہ بنو اور مےری چےز فوراََ دے دو
حبےب : مےرے پاس تمہاری کوئی چےز نہےں۔
سلمان :۔ اچھی طرح سوچ لو۔۔۔ ورنہ پھر مجبوراََ ہمےں تمہاری تلاشی لےنے پڑے 
گی۔
(دونوں بےٹھتے ہےں۔ وقفہ)

حبےب :۔ مےں اپنی کل کی حماقت کو کبھی معاف نہےں کرسکتا۔ دو بار مےرا انشانہ 
خطا ہوا۔ مےں دنےا مےں 
کسی کام کے قابل نہےں۔
(95) 14

سلمان :۔ اگر تمہےں نشانہ بازی کا شوق ہے تو شوق ہے تو جنگل مےں جاکر شکار کےوں 
نہےں کھےلتے۔

حبےب : (نظر انداز کرتے ہوئے) عجےب بات ہے۔ مےں نے اکے آدمی کو جان سے مارنے کی 
کوشش کی ہے لےکن کسی نے مجھے گرفتار نہےں کراےا۔ اس کا مطلب ہے کہ تم سب مجھے 
پاگل سمجھتے 
ہو۔ ہاں مےں پاگل ہوں۔ لےکن جو لوگ اپنی بےوقوفی، جہالت اور سخت دلی کو علمےت 
کے پردے 
مےں چھپاتے ہےں اور پروفےسری کا ڈھونگ رچاتے ہےں پاگل نہےں۔ وہ عورتےں جو 
بڈھوں 
سے شادی کرتی ہےں اور پھر ساری دنےا کے سامنے ان سے بے.وفائی کرتی ہےں۔ پاگل 
نہےں.....
(سلمنا سے) کل مےں نے وہ منظر اپنی آنکھوں سے دےکھ لےا۔
سلمان :۔ مجھے اس سے انکار نہےں۔ تم جلتے ہو تو جلتے رہو۔
حبےب : (اپنا چہرہ چھپاتے ہوئے) مجھے شرمندگی کا شدےد احساس ہے۔ مےں کسی کو 
اپنی صورت نہےں 
دکھا سکتا مےں کےا کروں۔ بتاو مےں اب کےا کروں۔
سلمان : جہنم مےں جاو

حبےب :۔ خدا کے لےے مجھے بتاو۔ مےں 47 سال کا ہوں اور اگر مےں 60 سال کی عرم تک 
زندہ رہا تو 
ابھی زندگی کے تےرہ سال اور باقی ہےں۔ مجھے بتاو کہ ےہ تےرہ سال کےسے گزرےں گے۔ 
ان تےرہ سالوں 
کا اےک اےک دن مےرے لےے کھٹن ہوگا (سلمان کا ہات اضطراری طور پر دباتا ہے) ہم اےک 
نئی 
زندگی کےوں نہےں شروع کرسکتے۔ ہمارا ماضی کےوں ہر جگہ ہمارا پےچھا کرتا ہے۔

سلمان :۔ (طنز سے) نئی زندگی بھائی صاحب اب خواب دےکھنا بند کرو۔ ہمارا کوئی 
مستقبل نہےں
سنتے ہو، مےرا اور تمہارا کوئی مستقبل نہےں۔

حبےب :۔ خدا کے لےے مجھے کچھ دو۔ (اپنے سےنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) مےرے 
ےہاں اےک 
آگ دہک رہی ہے۔

سلمان :۔ (غصے سے) بکواس بند کرو۔ (نرم پڑتے ہوئے) جولوگ ہم سے سوسال بعد اس 
دنےا مےں 
آئےں گے وہ شاےد اس زندگی مےں خوشی کی کوئی راہ ڈھونڈلےں۔ ہم لوگوں کو تو 
شاےد مرکر ہی 
چےن مےل۔ (آہ بھرتے ہوئے) ہاں مےرے بھائی اس قصبے مےں دوہی معقول اور مہذب 
انسان 
تھے، تم اور مےں۔ لےکن دس سلا کی اس قابل نفرت زندگی نے ہمےں تباہ کر دےا۔ اب 
ہم بھی اوروں
(96) 15

کی طرح ہےں (کچھ سوچ کر تےزی سے) لےکن مجھے باتوں مےں نہ اڑاو۔ مرےی چےز 
واپس کردو۔
حبےب :۔ مےں نے تمہاری کوئی چےز نہےں لی۔
سلمان :۔ تم نے مےرے دواوں کے تھےلے سے مارفےا کی اےک شےشی نکالی ہے۔ وہ مجھے 
فوراََ واپس کردر (وقفہ)
اگر تم مرنا چاہتے ہو تو جنگل مےں جا کر اپنے کو شوٹ کرلو۔ مجھے کےوں پھنساتے 
ہو۔ تمہارا پوسٹ مارٹم 
کرنا ہی کےا کم ہو گا کہ لوگوں کے شک کا مرکز بھی بنوں۔

(سلےمہ داخل ہوتی ہے)

حبےب :۔ مےرا پےچھا چھوڑ دو۔
سلمان :۔ سلےمہ تمہارے ماموں نے مےرے تھےلے سے مارفےا کی اےک شےشی نکال لی ہے 
اور اب ناکار کر رہے 
ہےں...... ان سے کہو..... ان سے کہو ےہ کوئی اچھا مذاق نہےں ۔ اب مرے پاس وقت 
بھی 
نہےں۔ مجھے فوراََ چلا جانا چاہےے۔
سلےمہ :۔ ماموں جان کےا ےہ ٹھےک ہے۔
سلمان :۔ مجھے ےقےن ہے کہ وہ انھےں کے پاس ہے۔
سلےمہ :۔ واپس کردےجےے۔ کےوں ہمےں پرےشان کرتے ہےں۔ واپس کر دےجےے حبےب 
ماموں۔ مےں آپ کو 
ےقےن دلاتی ہوں..... مےں بھی اپ ہی کی طرح دکھی ہوں۔ لےکن مےں نے اب تک سب 
کچھ 
برداشت کےا ہے اور کرتی رہوں گی۔ آپ کو بھی برداشت کرنا ہوگا۔ (وقفہ) (اس کا 
ہاتھ اپنے 
ہات مےں لے کر) مےر نے پےارے ماموں واپس دے دےجےے (روتی ہے) مجھے معلوم ہے آپ 
ہمےں
کتان چاہتے ہےں۔ اور ہمےں کوئی دکھ نہےں دے سکتے۔ مجھے ےقےن ہے آپ ضرور 
واپس کردےں گے۔
ماموں جان آپ کو برداشت کرنا ہی ہوگا۔
حبےب :۔ اپنے ڈسک سے اےک شےسی نکال کر سلمان کو دےتا ہے) لو۔ (سلےمہ سے) ہمےں 
اب اپنے کام مےں 
لگ جانا چہےے۔ ان تلخےوں کو بھولنے کا شاےد ےہی طرےقہ ہو۔
سلےمہ :۔ ہاں ضرور ان لوگوں کو رخصت کرتے ہی۔
سلمان : اچھا اب مجھے جانا چاہےے۔
سلےمہ :۔ حبےب ماموں ابا جان آرہے ہےں۔ ان لوگوں کے جانے سے پہلے اپ کو ان سے 
صلح کرلےنی چاہےے۔
(97) 16

(پروفےسر، دردانہ، فخرلنسا بےگم (ان کے ہاتھ مےں اےک کتاب ہے) اور محمد شرےف داخل 
ہوتے ہےں)
(حبےب پروفےسر اور سلےمہ اسٹےج کے پچھلے حصے مےں اپس مےں بات چےت 
کرتے ہےں)

پروفےسر :۔ (سامنے آتے ہوئے) اب مےں اس مسلئے پر اےک کتاب لکھ سکتا ہوں کہ زندگی 
کس طرح گزارنی 
چاہےے..... مجھے تم سے کوئی شکاےت نہےں۔ امےد ہے کہ تم بھی مجھے معاف کردوگے۔

(دونوں گلے ملتے ہےں)

حبےب :۔ آپ کو سلانہ اتنی ہی رقم ملتی رہے گی جتنی پہلے ملتی تھی۔ سب 
معاملات پہلے ہی کی طرح 
طے ہوتے رہےں گے۔

(پروفےسر فخرالنسا بےگک کو سلام کر کے رخصت چاہتا ہے)

فخرالنسا بےگم :۔ کلےم لکھنو جاکر اپنی نئی تصوےر کی کاپی ضرور بھےج دےنا۔
محمد شرےف :۔ خدا حاقظ پروفےسر صاحب، وہاں جا کر ہم غربےوں کو نہ بھول جائےےگا۔
پروفےسر :۔ (بےٹی کو گلے لگاتا ہے) خدا حافظ (ڈاکٹر سے ہات ملاتا ہے) تم سے مل کر 
مجھے بہت 
خوشی ہوئی۔ مےں تمہارے خےالات اور مقاصد کی قدر کرتا ہوں۔ لےکن اےک معرمر 
انسان کی حےثےت 
سے مجھے ےہ کہنے کی اجازت دو کہ اب تمہےں واقعی کچھ کام کرنا چاہےے۔ کوئی اہم کام 
... اچھا
خدا حافظ امےد ہے کہ آپ سب اپنے مقاصد مےں کامےابی حاصل کرےں گے (باہر جاتا ہے۔
سلےمہ اور فخرالنسائ بھی جاتی ہےں)
حبےب:۔ (دردانہ سے) خدا حافظ، اب ہم اےک دوسرے سے کبھی نہےں ملےں گے۔
دردانہ :۔ (متاثر ہے) خدا حافظ حبےب (ڈاکٹر کی طرف جاتی ہے)
ڈاکٹر :۔ کےا واقعی تمہارا جان نہےں ٹل سکتا۔
دردانہ :۔ نہےں جو کچھ کل ہوا اسے بھول جائےے (باہر جاتی ہے)
ڈاکٹر :۔ اب مجھے بھی جان چاہےے۔ حبےب بھائی تم ان لوگوں کو رخصت کرنے باہر 
نہےں جاوگے 
حبےب :۔ نےہں بھئی مجھے معاف کرو۔ مےرےا دل بہت اداس ہے اب تو شاےد کام ہی مےں 
سکون مل سکے۔

(وقفہ۔ گھوڑا گاڑی کے جانے کی آواز آتی ہے)
(98) 17

سلمان :۔ معلوم ہوتا ہے وہ لوگ روانہ ہوگئے0 اب پورفےسر ےقےناََ ےہاں کبھی نہےں آئے 
گا۔
حکےمن :۔ (اندر آتے ہوئے) وہ لوگ رخصت ہوگئے۔
سلےمہ :۔ (داخل ہوتے ہوئے) وہ لوگ چلے گئے۔ حبےب ماموں اب ہمےں کچھ کام شروع 
کرنا چاہےے۔
حبےب :۔ ہاں کام۔۔مسلسل کام۔

فخرالنسا بےگم :۔ آہستہ آہستہ داخل ہوتے ہوئے) چلے گئے (بےٹھ جاتی ہے اور پڑھنے 
مےں غرق ہوجاتی ہے)
(سلےمہ اور حبےب مےز کے گرد کام مےں مصورف ہوجاتے ہےں۔ سلےمہ کچھ بل وغےرہ 
دےتی ہے۔ حبےب 
رجسٹر مےں نوٹ کرتا ہے۔)

سلمان :۔ کتنا سکون ہے، کس قدر خاموشی ہے۔ فلم چلنے کی اواز بھی سنائی دےتی 
ہے۔ اس پر سکون 
فضا کو چھوڑ نے کو دل نہےں چاہتا۔ (دروازے پر گاڑی آنے ک آواز) تانگہ تےار ہوگے اہے
اب مھجے جانا ہی ہوگا۔
(اےک مزدور ادنر آتا ہے سلمان اسے اپنا تھےلا اور چارٹ وغےرہ پکڑاتا ہے۔ مزدور باہر 
جاتا ہے۔)
سلمان :۔ اچھا خدا حافظ۔
سلےمہ :۔ اب اپ سے کب ملاقات ہوگی۔
سلمان :۔ شاےد اگلی گرمی سے پہلے ممکن نہ ہو۔ البتہ اگر مےری ضرورت ہو تو اطلاع 
دے دےنا (حکےمن کی 
طرف جاتے ہوئے) اچھا بوا خدا حافظ (حکمےن اسے گل سے لگاتی ہے۔ ڈاکٹر باہر جاتا ہے 
سلےمہ اسے چھوڑنے دوازے تک جاتی ہے۔)
حبےب :۔ (کام مےں مصروف ہے) 28 جنواری .... 29 جنوری ...... 2 فرورای 
سلےمہ :۔ (واپس آتے ہوئے) ڈاکٹر چلے گئے۔
حبےب :۔ سلےمہ سے) مےرا دل اےک پھوڑے کی طرح دکھ رہ اہے۔ کاش کہ مےں تمہےں 
دکھا سکتا۔
سلےمہ :۔ ماموں جان ہم کےا کر سکتے ہےں۔ ہمےں زندہ رہنا ہی ہوگا..... اور ہم زندہ 
رہےں گے۔ ہماری 
زندگی مےں بہت سے تھکا دےنے والے دن اور طوےل راتےں ائےں گی۔ اور ہم پرجو 
مشکلات پرےں گی 
ہم انھےں خاموشی اور صبر سے برداشت کرےں گے اور ہم ہمےشہ دوسروں کی خدمت کرتے 
رہےں گے اور جب ہمارا وقت آئےگا تو ہم خاموشی سے اپنی جان موت کے سپرد کردےںگے
(99) 18

اور پھر اس دوسری دنےا مےں ہم بتائےں گے کہ ہم نے کتنی تکلےفےں اٹھائی ہےں اور 
ہمای 
زندگی کتنی تلخ تھی اور پھر شاےد خدا ہماری بات سمجھے گا۔ اور ہم پر تس کھائے 
گا اور پھر پےارے 
ماموں ہم بھی شاےد اےک حسےن مسرور اور پرسکون زندگی گزارنا شروع کرےں گے۔ اس 
وقت 
جب ہم اپنی اس زندگی کو ےاد کرےں گے تو اس مےں تلخی کا کوئی احساس نہےں 
ہوگا..... اور پھر
ہم آرام کرےں گے۔ مجھے ےقےن ہے ماموں جان۔ مےں اس مےں دل سے ےقےن کرتی 
ہوں....
ہم آرام کرےں گے۔

(محمد شرےف ستار بجاتا ہے)

ہم آرام کرےں گے۔ تاروں بھرے نےلے آسمان کی چھاوں مےں اےک حسےن روحانی فضا 
مےں اور 
اس نور اور مسرت کے سےلاب مے اس زندگی کی تمام برائےاں، تما رنج اور تکلےفےں 
تنکوں 
ک طرح بہہ جائےں گی اور ہمرای زندگی پر سکون خوب صورت اور پاک ہوگئی۔ 
مجھے ےقےن ہے 
مجھے ےقےن ہے۔( حبےب کے آنسو پوچھتی ہے) ماموں جان اپ رورہے ہےں۔ اپ کو 
زندگی 
مےں کوئی خوشی نہےں می۔ کوئی آرام نہےں ملا۔ ابھی اور انتظار کےجےے۔ ہمےں ضرور 
سکون ملے گا۔
ہم آرام کرےں گے۔ ( آس کے گلے مےں باہےں ڈالتی ہے)
(فخرالنسا بےگم کتاب کے حاشےہ پر پنسل سے نشان لگاتی ہے۔ حکمےن اپنی چادر مےں 
پےوند 
لگانے کے بعد ڈور اتوڑتی ہے۔)

(پردہ آسہتہ آہستہ گرتا ہے)

6 
0 
